← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

سید مارندی: ایرانی رژیم کا پالتو نمائندہ - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-04-27 • 3 min read

سیاوش شہابی

سید محمد مارندی کا ایران کی سیاست سے تعلق نمائندگی، سماجی تنظیم، جدوجہد، عوامی جوابدہی یا عوام کے ووٹوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ طاقت کے ایوانوں کے ساتھ رماندی کا تعلق خاندانی تعلقات کی وجہ سے ہے۔ سو وہ قومی ٹیلی وژن پر بیٹھ کر نہایت سکون سے کہتے ہیں:”اگر ہم چاہیں تو سعودی تیل آسانی سے بند کر سکتے ہیں۔ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو امارات اور سعودی عرب کے رہائشیوں کو عراق اور یمن کی طرف ہجرت کرنا پڑے گی۔“

یہ جملہ محض سیاسی شیخی نہیں ہے۔ یہ پوری طبقاتی، سکیورٹی مائنڈڈ اور انسانیت دشمن منطق کو اپنے اندر سمیٹ لینے والا ایک جملہ ہے۔ کوئی ایسا شخص جسے جنگ کی کوئی حقیقی قیمت نہیں چکانی پڑتی، جس کا گھر، پاسپورٹ، تعلقات، آمدنی اور حیثیت طاقتور ہونے کی وجہ سے محفوظ ہیں، وہ لاکھوں انسانوں کی جبری بے دخلی کے بارے میں ایسے بات کرتا ہے جیسے وہ نقشے پر ٹکڑے ادھر ادھر کر رہا ہو۔

اس زبان میں سعودی عرب، امارات، عراق، یمن اور ایران کے لوگ انسان نہیں رہتے۔ وہ محض ایسی آبادی میں بدل جاتے ہیں جسے بے دخل، بے گھر کیا جا سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے، شہر، ہسپتال،سکول، بندرگاہیں، ریفائنریاں اور گھر سب صرف نقشے پربنے ہوئے نقطے بن کر رہ جاتے ہیں۔پوائنٹ یہ نہیں کہ ایران کو ایک جغرافیائی حقیقت کے طور پر بیرونی حملے سے اپنے دفاع کا حق نہیں۔ اس کے برعکس کوئی بھی حقیقی امن پسند اور جنگ مخالف سیاست امریکی جنگی مشین، اسرائیلی ریاست، پابندیوں، محاصرے، بمباری اور سامراجی منطق کے خلاف کھڑا ہونے سے شروع ہوتی ہے۔

دوستوں کے لیے البتہ بہتر ہوگا کہ وہ دیکھیں کہ وہ کس طرح کے گندے اور فسطائی کرداروں کو اپنے میڈیا پلیٹ فارمز پر جگہ دے رہے ہیں۔

بیرونی جنگ کی مخالفت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک ایسی طاقت کو دھو کر سفید کر دیا جائے جس نے ایرانی معاشرے کو سیاسی طور پر مفلوج کیا، آزاد تنظیموں کو کچلا، مزدوروں کو جیلوں میں ڈالا، عورتوں کی تذلیل کی، اور عوام سے اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں اجتماعی فیصلہ سازی کی صلاحیت چھین لی۔

مارندی جیسے لوگ ایرانی عوام کے محافظ نہیں ہیں۔ وہ اسی طبقے کا حصہ ہیں جو رینٹ سیکنگ(rent seeking)، اقتدار سے قربت، میڈیا تک رسائی، سیاسی پاسپورٹس اور علامتی سرمائے پر پلتا ہے۔ بحران کے لمحات میں یہ”قوم“کے نام پر بولتے ہیں، مگر ان کے لیے قوم محض ایک انسانی ڈھال کے سوا کچھ نہیں۔

یہ لوگ”جوابی کارروائی“یا جائز دفاع کی بات نہیں کر رہے۔ برسوں سے یہ ایک تہذیبی، سکیورٹی ڈریون(security driven) اور نظریاتی جنگی منطق کو معمول بنا رہے ہیں۔ اس منطق میں ایرانی عوام سیاسی فاعل نہیں رہتے،وہ توپ کے دانے بن جاتے ہیں۔

ہم نہ تو ایران کے خلاف امریکی واسرائیلی جنگ کے ساتھ ہیں، اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ کی فوجی مہم جوئی کے ساتھ۔ایرانی عوام کو سامراجی نظام کے نام پر قربان نہیں کیا جانا چاہیے، اور سعودی عرب، امارات، عراق اور یمن کے عوام کو تہران کی سکیورٹی دھمکیوں کے نام پر قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔