شام میں آگ و خون کا نیا کھیل اور خطرات
جلبیر اشقر
حالیہ خونریز جھڑپوں کی اصل وجہ کچھ بھی ہو۔ چاہے یہ جھڑپیں وہ بشار الاسد کے بعد کے شام میں پائے جانے والے عمومی انتشار کا نتیجہ ہوں، یا اسرائیل کی طرف سے خطے میں اپنی منافقانہ مداخلت کو بڑھانے کی ایک چال ، یا یہ ہیت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کی طرف سے جنوبی شام پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش ۔ ایک بات بلا شک و شبہ واضح ہے کہ ان تمام امکانات کی راہ اسی پہلے عامل سے ہی ہموار کی گئی ،یعنی شام میں جاری انتشار نے ہی اس دھماکے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔
ان بدوؤں کو دمشق میں قائم نئی حکومت کے رویے نے حوصلہ دیا،جنہوں نے اس جھگڑے کی چنگاری بھڑکائی اور صوبہ کے ایک رہائشی پر حملہ کیا۔ یہ حکومت اقلیتوں پر توہتھیارڈالنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ مختلف سنی عرب گروہوں پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہی، بلکہ وہ ان کی مسلح حمایت کر رہی ہے، بالکل اسی طرح جیسے پچھلی حکومت نے ’شبیحہ‘ کے ذریعے کیا تھا (اگرچہ فرق فرقہ وارانہ شناخت کا ہے)۔
یہ امر چونکا دینے والا اور انتہائی خطرناک ہے کہ نئی دمشق حکومت نے دمشق اور السویداء کے درمیان سڑک پر سکیورٹی برقرار رکھنے کے بار بار مطالبوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس بدانتظامی، یا یوں کہیے کہ اس پر قابو پانے میں عدم دلچسپی نے موجودہ دھماکے کی راہ ہموار کی۔ اگر حکومت اپنے اتحادی بدو گروہوں پر قابو پانے میں اتنی ہی سنجیدگی دکھاتی ، جتنی کہ اس نے السویداء میں جھڑپوں کے بعد ’داخل ہونے‘کے موقعے کو استعمال کرنے میں دکھائی، تو شاید یہ سب کچھ روکا جا سکتا تھا۔ اس حکومتی پیش قدمی کا منظرمقامی آبادی کو آزاد کرانے سے زیادہ ’قبضے‘جیسا لگتا ہے۔جیسا کہ القدس العربی کے دمشق میں نمائندے نے گزشتہ اتوار لکھا:
’گزشتہ اپریل کے آخر میں السویداء صوبے میں شامی حکومت اور مقامی شیوخ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے مطابق صوبے کے اندر پولیس کو متحرک کیا جانا تھا، اور دمشق السویداء سڑک کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت نے لینے تھی،جو اس صوبے کے لاکھوں رہائشیوں کے لیے ایک اہم شاہراہ ہے۔ تاہم اس سڑک پر حملے جاری رہے اور حکومت کی طرف سے اسے شہری آمدورفت کے لیے محفوظ بنانے میں ناکامی نے السویداء میں سماجی تناؤ کو شدید تر کر دیا۔۔۔‘(ہبہ محمد، ’شامی السویداء: دروز اور بدوؤں کے درمیان جھڑپوں میں ہلاکتیں اور اغوا‘، القدس العربی، 13 جولائی 2025)
السویداء میں جھڑپوں کے آغاز سے قبل پچھلے جمعے کوشامی انسانی حقوق کی نگرانی کی تنظیم (ایس او ایچ آر) نے بھی ملک میں پھیلی افراتفری سے خبردار کیا:
’مختلف وجوہات کے تحت روزانہ شامی سرزمین پر انسانی جانوں کا ضیاع جاری ہے ، جن میں پرتشدد جھڑپیں، عسکری کارروائیاں، قتل، ٹارگٹ کلنگ، غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد کی زدمیں آنا، اور دیگر اسباب شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تر عام شہریوں اور ان تمام افواج کے افراد شامل ہیں جو شام کے مختلف علاقوں پر قابض ہیں۔‘
(ایس او ایچ آر،’شام کے مختلف علاقوں میں تشدد کی شدت، 72 گھنٹوں میں 35 افراد ہلاک‘، 11 جولائی 2025)
اندازہ یہی ہے کہ وہی صورتحال ان دیگر علاقوں میں بھی دہرائی جا سکتی ہے جو دمشق کی نئی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں، خاص طور پر کرد اکثریتی علاقے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ کرد مسلح افواج دروز علاقوں کی فورسز سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں ، حتیٰ کہ وہ ایچ ٹی ایس کی نئی ’سرکاری‘شکل سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔
پیر کے روز ایس او ایچ آر نے اپنی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ شائع کی، جس میں شامی حکومت کی جانب سے حلب کے کرد اکثریتی محلوں شیخ مقصود اور اشرفیہ کو 15 دن سے زائد عرصے سے تیل کی ترسیل بند کرنے کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ:
’حکام اس طریقہ کار کا استعمال کر رہے ہیں جو پہلے اسد حکومت کرتی تھی ، یعنی ایندھن، بجلی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بند کر کے اقتصادی و خدماتی دباؤ کے ذریعے خودمختار انتظامیہ سے سیاسی یا مالی رعایتیں لی جا رہی ہیں۔‘
(ایس او ایچ آر،’پچھلی حکومت کا طریقہ کار۔۔۔‘، 14 جولائی 2025)
ایسے حالات میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اسرائیل اس بدامنی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا رہے ، اور دروز برادری کا نام لے کر خود کو ان کا خیرخواہ ظاہر کرتا رہے۔ یہ وہی اسرائیل ہے جس نے 1981 میں مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کو ضم کر لیاتھا، حالانکہ مقامی دروز آبادی نے اس الحاق کو سختی سے مسترد کیا، اور ان کو دی گئی اسرائیلی شہریت لینے سے بھی انکار کیا۔ ان لوگوں نے 1982 میں پانچ ماہ طویل ہڑتال کی، جسے صہیونی ریاست نے محاصرے کے ذریعے توڑا۔
اب حالیہ السویداء جھڑپوں کو موقع بنا کر اسرائیل نے ایچ ٹی ایس کی سابقہ اسد فوج سے لی گئی عسکری مشینری کو تباہ کیا۔ ظاہر ہے کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ تشدد میں اضافہ ہو، تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر شام کے دروزوں میں موجود اس اقلیت کی پوزیشن کو تقویت دے، جو اسرائیلی سرپرستی میں ایک دروز’امارات‘ قائم کرنے کی خواہشمند ہے۔
ان حالات کے پیش نظر دو ماہ قبل راقم کی لکھی درج ذیل باتیں دہرانی ضروری ہیں:
’اس ساری تباہی کا بنیادی قصور ان پر ہے جنہوں نے اسد حکومت کے خاتمے کا سہرا صرف اپنے سر باندھا۔۔۔ایچ ٹی ایس کو اپنے محدود وسائل کا ادراک ہونا چاہیے تھا ، جو شمال مشرق میں موجود کرد فورسز سے بھی کمزور ہیں، اور اتنے نہیں کہ تمام عرب علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر سکیں، جن پر روس و ایران کی مدد سے اسد حکومت قابض تھی۔ تاہم احمد الشرع نے خود کو بشار الاسد کا جانشین سمجھنا شروع کر دیا ہے(وہ شکل میں بھی داڑھی والے اسد لگنے لگے تھے)۔ وہ ایسے برتاؤ کرنے لگے جیسے وہ سارا شام زیرنگیں لا سکتے ہیں۔۔۔‘
جیسا کہ اسد مخالف اپوزیشن کا مطالبہ تھا ، ایچ ٹی ایس کی حکومت کوایک جامع جمہوری عمل کا آغاز کرنا چاہیے تھا۔راقم نے اس وقت نتیجہ اخذ کیا تھاکہ :
’یہی وہ شرائط ہیں جن کے ذریعے شام کے حالات کو صاف کیا جا سکتا ہے اور اس کے مختلف نسلی و مذہبی گروہوں کو یقین دہانی دی جا سکتی ہے۔ایچ ٹی ایس حکومت نے مگرجو کچھ اب تک کیا ہے، وہ خطرناک حد تک حالات کو مزید الجھانے، اور ایسے تمام علاقائی شکاریوں کے لیے راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے، جو ان پر آشوب پانیوں میں شکار کرنا چاہتے ہیں۔ ان علاقائی شکاریوں میں سرفہرست صہیونی ریاست ہے۔‘(’شام: پرآشوب پانیوں میں شکار‘، القدس العربی، 6 مئی 2025)
(بشکریہ: ’دی لنکس‘، ترجمہ حارث قدیر)
