شنگھائی تعاون تنظیم: استحصالی مفادات کے رشتے
آصف رشید
دنیا کے حالات اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ تاثر عام تھا کہ اب امریکہ واحد سپر پاور کے طور پر دنیا پر حکمرانی کرے گا اور باقی ماندہ دنیا ہمیشہ امریکی پالیسیوں کے تابع رہے گی۔ لیکن تاریخ نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ طاقتوں کا توازن مستقل نہیں رہتا۔ آج مغربی سرمایہ داری کی زوال پذیری کی کیفیت میں چین اپنی معاشی ترقی اور روس اپنی عسکری قوت کے بلبوتے پر علاقائی یا نیم عالمی طاقتوں کے سٹیٹس سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں چین کی قیادت میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) بھی ایک علاقائی اتحاد سے بڑھ کر عالمی نظم و نسق میں اہم فریق بن کر ابھرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تنظیم میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران اور کچھ وسط ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ جنہیں نہ صرف عسکری بلکہ تجارتی اور سیاسی طور پر بھی مغربی سامراج کے مد مقابل ایک قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ مغربی سامراجی بلاک کی جگہ ایک نئے سامراجی بلاک کے ابھار کا عمل اتنا سادہ اور سیدھا نہیں ہے۔ یہ تضادات سے بھرپور ہے جس میں اسلحے، طاقت اور اثر و رسوخ کے مقابلے کی ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کو تاریخی تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد وسط ایشیا کے پانچ نئے ممالک (قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان) وجود میں آئے۔ اس خطے میں سوویت یونین کے ٹوٹنے سے ایک خلا پیدا ہوا اور ان نومولود ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات نے جنم لیا۔ امریکہ (نیٹو) نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان اور وسط ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ افغانستان اور چیچنیا میں خانہ جنگی اور دہشت گردی نے نئے خطرات کو جنم دیا۔ روس کو وسط ایشیا پر اپنا کنٹرول کھونے کی پریشانی لاحق ہوئی اور چین کو سنکیانگ میں علیحدگی پسند تحریک کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کیفیت میں 1996ء میں روس، چین، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان نے شنگھائی فائیو کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنایا جس کے پیچھے چین اور روس کے وسط ایشیا میں اپنے تجارتی، تذویراتی اور سیاسی مقاصد کارفرما تھے۔ بظاہر اس کا مقصد سرحدی تنازعات کو حل کرنا، فوجی تعاون بڑھانا اور دہشت گردی کو کنٹرول کرنا تھا۔ 2001ء میں ازبکستان کی شمولیت کے بعد اس کا نام شنگھائی تعاون تنظیم رکھ دیا گیا۔ 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے اور مشرقی یورپ میں نیٹو ممالک کی بڑھتی مداخلت نے روس اور چین کے اسٹرٹیجک مفادات پر کاری ضرب لگائی جس کے بعد ان کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ اب پاکستان، بھارت اور ایران کی شمولیت کے بعد یہ تنظیم خاصی وسعت اختیار کر چکی ہے۔
آج کل بائیں بازو کے کئی حلقوں میں ’SCO‘ (بالخصوص چین اور روس) کو ایک سامراج مخالف قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن غور کریں تو اس اتحاد میں شامل بیشتر ممالک اپنے ریاستی جغرافیے کے اندر اور باہر خود توسیع پسندانہ و سامراجی عزائم کے حامل ہیں اور اپنے اپنے مفادات اور ضروریات کے تحت اکٹھے ہیں۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تاریخی تنازعات اور چپقلشوں کا شکار رہے ہیں (چین بمقابلہ انڈیا، انڈیا بمقابلہ پاکستان، کسی حد تک پاکستان بمقابلہ ایران اور روس بمقابلہ چین، وغیرہ)۔ ان دو بنیادی نکات کی روشنی میں اس اتحاد کی اساس اور کردار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد پر بننے والے کسی بھی اتحاد میں قومی شاونزم کو ابھار کر محنت کش طبقے کو زیر کیا جاتا ہے۔ اسلحے کی دوڑ اور سامراجی مفادات کی تکمیل ان اتحادوں کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ ان میں شامل ریاستیں اپنے ملکوں میں محنت کشوں پر جبر کرتی اور رجعتی تضادات کو ابھارتی ہیں تاکہ اپنی حاکمیت کو برقرار رکھ سکیں۔ ان کے مقابلے میں محنت کش طبقے کا بین الاقوامی اتحاد ہی ایک پر امن مستقبل کی نوید بن سکتا ہے۔
31 اگست اور یکم ستمبر کو چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کو چین اور روس کی جانب سے امریکہ اور اس کے نیٹو اتحاد کو چتاونی دینے کے لئے استعمال کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ جبکہ جنوب ایشیا، مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ میں موجود خونریزی اور عدم استحکام پر کوئی سنجیدہ گفتگو ایجنڈے پر سرے سے ہی موجود نہیں تھی۔ یہ شنگھائی تعاون تنظیم کا اب تک کا سب سے بڑا اور چین کی میزبانی میں ہونے والا پانچواں اجلاس تھا۔
جنوب ایشیا اس وقت بدترین ماحولیاتی تباہی کے دور سے گزر رہا ہے۔ سیلابوں اور موسمیاتی تغیر نے لاکھوں لوگوں کو برباد کر دیا ہے اور کروڑوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ جبکہ ماحول کو برباد کرنے والے ممالک میں چین سرفہرست ہے۔ لیکن 24 ملکوں کے اس اجلاس میں ماحولیاتی بربادی ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں تھی۔ اس رویے سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کو ’پر امن‘ متبادل دینے والے یہ مبینہ مشرقی اتحاد بنیادی مسائل کے حوالے سے کتنے سنجیدہ ہیں۔
چین کا سارا زور امریکہ کو دھمکیاں لگانے اور شریک ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی اور مالیاتی سودوں کو آگے بڑھانے پر تھا۔ جبکہ روس اپنے تیل اور گیس کی فروخت میں زیادہ دلچسپی لیتا نظر آیا۔ اس اجلاس میں ایک نیا بینک بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے اور تجارت مقامی کرنسیوں بالخصوص یوان اور روبل میں کی جائے۔ اس کے علاوہ توانائی، سائبر سکیورٹی اور انتہا پسندی کے خلاف تعاون کے نئے منصوبے بھی منظور کیے گئے۔ اجلاس کے زیادہ تر فیصلے چین کی معاشی توسیع پسندی اور عالمی سیاست میں اپنے کردار کی وسعت کے گرد ہی گھومتے نظر آئے۔ آخری تجزیے میں یہ چین کی جانب سے طاقتوں کے توازن کو اپنے حق میں بدلنے کی ایک سعی تھا۔ جس کا مقصد مغربی سامراج کے ساتھ بارگیننگ کی بہتر پوزیشن حاصل کرنا تھا۔ ظاہر ہے ایسی وارداتوں میں چھوٹے اور غریب ممالک کی خود مختاری وغیرہ کے نعرے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ جبکہ مقصد انہیں ایک سامراجی قوت کے تسلط سے دوسری قوت کے تسلط میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ بظاہر یہ پرانے ورلڈ آڈر کو چیلنج کرنے کی باتیں لگتی ہیں۔ جن سے بہت سے لوگ دھوکہ بھی کھا جاتے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر چین نے دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی فوجی پریڈ کا انعقاد کیا۔ جس پر 5 ارب ڈالر کے اخراجات کیے گئے۔ اس عظیم پریڈ کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ چین اب صرف ایک معاشی قوت ہی نہیں بلکہ ایک بڑی عسکری طاقت بھی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے اس تقریب کی صدارت کی اور ان کے ساتھ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون بھی نمایاں تھے۔ شی نے اپنی تقریر میں امریکہ کا نام لیے بغیر ٹرمپ انتظامیہ کی چین کے خلاف عسکری دھونس کا جواب دیا: ’’چینی قوم ایک عظیم قوم ہے جو کبھی کسی بد معاش سے خوفزدہ نہیں ہوئی اور ہمیشہ آزادی کو اہمیت دیتی ہے اور اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔‘‘
پیوٹن کا شی کے ساتھ کھڑا ہونا امریکی میڈیا پر اہم موضوع بنا رہا۔ پیوٹن کے ساتھ الاسکا میں ملاقات کے تین ہفتے بعد ٹرمپ کی یوکرائن میں جنگ بندی کی کوششیں اب تک ناکام چلی آ رہی ہیں۔ ٹرمپ یوکرائن اور غزہ میں جنگ بندی کیوں اور کن شرائط پر چاہتا ہے اور اس میں کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے یہ ایک الگ موضوع ہے جس کا جائزہ ہم پچھلی کئی تحریروں میں لے چکے ہیں۔ لیکن اس نے جنگ بندی کے نعروں کے ساتھ اقتدار سنبھالتے ہی دنیا پر معاشی جنگ مسلط کر دی ہے اور کیا دوست کیا دشمن‘ سب کو ہی رگڑ دیا۔ اس کا اہم ہدف ظاہر ہے چین ہے جسے امریکہ اپنی بالا دستی کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔
اس پریڈ میں چین نے پہلی بار اپنے جدید ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر نمائش کی (ان میں جوہری صلاحیتوں کے حامل میزائل وغیرہ بھی شامل ہیں)۔ موبائل لانچ صلاحیت کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ’Dongfeng-61‘، لیزر و مائیکروویو عسکری سسٹمز، اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی، ’AI‘ سے چلنے والی روبوٹ آبدوزیں، روبوٹ زمینی جنگی مشینیں اور جدید ٹینک دنیا کو دکھائے گئے۔ ایک طرف یہ اعلان تھا کہ چین اب عسکری طور پر امریکہ اور نیٹو سے پیچھے نہیں ہے۔ دوسرا یہ چینی اسلحہ خریدنے کی دعوت بھی تھی کہ امریکہ کے متبادل سستا اسلحہ چین سے خریدا جا سکتا ہے۔ دنیا میں ہزاروں ارب ڈالر ہر سال ہتھیاروں پر خرچ ہوتے ہیں جنہیں انسانوں کی تعلیم، صحت اور سماجی بہبود پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام کی منطق یہ ہے کہ منافع خوری کے لئے ان وسائل کو جنگی صنعت پر لگایا جائے۔ اس کام میں چینی ریاست بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔
بیجنگ میں ہونے والی فوجی پریڈ یہ ظاہر کرتی ہے کہ شی جن پنگ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے پاس مغربی سامراج اور بڑھتے ہوئے جنگی خطرات کا کوئی انقلابی یا ترقی پسندانہ جواب موجود نہیں ہے۔ ایک طرف وہ امریکہ کے ساتھ اسلحے کی دوڑ میں شریک ہیں‘ دوسری طرف باہمی ترقی، امن اور کثیر قطبی دنیا کی باتیں کرتے ہیں۔ بیجنگ بار بار امریکہ پر ’سرد جنگ کی سوچ‘ اپنانے کا الزام لگا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالات ایک براہِ راست جنگ میں بھی بدل سکتے ہیں۔ معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے میدانوں میں چین کی پیش رفت امریکہ کے لئے خاصی پریشان کن ہے۔ اس لئے وہ اپنی بالا دستی کو برقرار رکھنے کے لئے فوجی طاقت پر زیادہ سے زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ چاہے اس کے نتائج تباہ کن ہی کیوں نہ ہوں۔
چین میں سرمایہ داری کی بحالی اور ایک نئی عالمی سامراجی قوت کے طور پر اس کے ابھار کی کوششیں بنیادی طور ’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘ کے فرسودہ نظرئیے کا منطقی نتیجہ ہیں۔ شی کی حالیہ تقریر بھی چینی قوم پرستی اور حب الوطنی کی بیانئے سے لبریز تھی۔ لیکن چینی کمیونسٹ پارٹی اس واحد سماجی قوت پر تکیہ کرنے سے قاصر ہے جو جنگ اور ایٹمی تباہی کی طرف دنیا کی پیش رفت کو واقعتاً روک سکتی ہے۔ یعنی عالمی محنت کش طبقہ۔ جس میں چین کا دیوہیکل پرولتاریہ بھی شامل ہے۔ شی کا ’’مارکسزم‘ لینن ازم‘‘ اور ’’چینی خصوصیات والا سوشلزم‘‘ اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی بیوروکریٹک کنٹرول میں موجود ریاستی ملکیت اور سرمایہ داری کے مکسچر پر مبنی ایک انتہائی ناپائیدار اور کرپٹ بندوبست کی بنیاد پر حکمرانی کر رہی ہے۔ جس میں نئے ابھرنے والے انتہائی امیر سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا اثر و نفوذ بڑھتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں کی ترقی نے چین میں عدم مساوات کی انتہائیں بھی پیدا کی ہیں۔ چونکہ یہ پارٹی نوجوان مزدوروں اور کسانوں کی وسیع اکثریت پر مشتمل چینی عوام پر انحصار کرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے درمیانے طبقات کی پرتوں میں رجعتی قوم پرستی کے ذریعے اپنی بنیادیں تلاش کرنے کی کو شش کر رہی ہے۔
دنیا پر جنگ کے خطرات دراصل عالمی سرمایہ داری کے بحران، پرانے سامراجی سیٹ اپ کے زوال اور قومی ریاستی نظام کی متروکیت کی وجہ سے منڈلا رہے ہیں۔ ان سنگین خطرات سے نجات چین سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کی یکجہتی اور سرمایہ داری کے خاتمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
یوکرائن جنگ نے روس کو مغرب سے مزید دور جبکہ چین، ایران و بھارت وغیرہ جیسے ایشیائی ممالک کے قریب کیا ہے۔ روس توانائی کی برآمدات کے ذریعے اب بھی عالمی معیشت اور سیاست میں اہم حیثیت کا حامل ہے۔ یورپ ایک طرف امریکہ کا اتحادی ہے۔ لیکن روسی گیس اور چینی منڈی و سرمائے کے بغیر اپنی معیشت نہیں چلا سکتا۔ یہ تضاد یورپی عوام کے لئے مہنگائی اور توانائی بحران کی شکل میں بھی سامنے آ رہا ہے۔ سرمایہ داری نے دنیا کے مختلف خطوں کو اس حد تک ایک دوسرے پر منحصر کر دیا ہے کہ یہاں سے واپسی بہت بڑے معاشی انہدام کا باعث بن سکتی ہے۔ صنعتی پیداوار، نایاب معدنیات، قابل تجدید انرجی، سولر پینلز اور لیتھیم بیٹریز وغیرہ پر چین کی اجارہ داری کی وجہ سے مغرب کا چین پر اچھا خاصا انحصار ہے۔ جسے ٹرمپ اب مصنوعی و بیہودہ قسم کے طریقوں سے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے تجارتی جنگ شدید ہوتی نظر آ رہی ہے۔
اگر ہم معاشی اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ 2024ء میں امریکہ نے شدید تجارتی تناؤ کے باوجود چین سے 438.9 ارب ڈالر کی درآمدت کیں اور محض 143.5 ارب ڈالر کی برآمدت کیں۔ جس کے نتیجے میں امریکہ کو 295.4 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا۔ اسی طرح یورپی یونین نے 2024ء میں چین سے 519 ارب یورو کی درآمدت کیں اور بدلے میں 215 ارب یورو کی برآمدت کیں۔ جس سے یورپی یونین کو 306 ارب یورو کا خسارہ ہوا۔ یوں ایک طرف مغرب چین کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف (بالخصوص اپنے نیو لبرل معاشی ماڈل کی تاریخی ناکامی کی وجہ سے) چین پر انحصار ختم کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے۔
پاکستان اور بھارت دونوں شنگھائی تنظیم کے رکن ہیں۔ لیکن ان کے آپسی تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں۔ سرحدی جھڑپیں، پانی کے تنازعات اور زہریلی پروپیگنڈا مہمات دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مدمقابل لاکھڑا کرتی ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام اور ریاستی سرمایہ داری کے ماڈل کو خیر آباد کہنے کے بعد بھارت کا جھکاؤ مغرب کی طرف بڑھتا گیا ہے۔ چین کے مقابلے میں امریکہ و بھارت ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن حالیہ کچھ عرصے سے روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ بھارت کے اختلافات بھی ابھرے ہیں۔ بھارت کی شنگھائی تنظیم میں شمولیت بھی روس نے کروائی تھی تاکہ چین کو تنظیم پر مکمل بالا دستی قائم کرنے سے باز رکھا جا سکے۔ چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات بھی سرحدی کشیدگی اور مغرب کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہیں۔ لیکن حالیہ ٹرمپ ٹیرف اور پاک بھارت تصادم کے غیر متوقع نتائج نے مودی سرکار کو مجبور کیا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائے۔ جس کے نتیجے کے طور پر مودی نے شنگھائی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کم کرنے، پروازیں شروع کرنے اور باہمی تجارت کو فروغ دینے وغیرہ جیسے معاملات پر اتفاق ہوا ہے۔ لیکن بھارت ‘ امریکہ کی ناراضگی کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مودی چین سے پہلے جاپان، جو ایشیا پیسیفک میں امریکی اتحاد کا اہم رکن ملک ہے، کا دورہ کر کے شنگھائی اجلاس میں شریک ہوا۔ بھارت ایک خود مختار ریاست ہونے کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بڑے جغرافیے، آبادی و منڈی کی وجہ سے اس کی یہ کوشش کسی قدر کامیاب بھی رہتی ہے۔ لیکن آخری تجزئیے میں یہ بالادست سامراجی طاقتوں کے دست نگرہی ہیں۔ مودی کی شنگھائی اجلاس میں شرکت امریکہ کو بھارت کی طرف اپنے رویے پر نظر ثانی کے لئے بلیک میل کرنے کی ایک نحیف سی کوشش تھی۔
پاکستان چین کا اہم اتحادی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اسے مختلف سامراجی طاقتوں کے لئے دلچسپی کا حامل بناتی ہے۔ ماضی میں امریکہ کی افغانستان میں موجودگی سے پاکستان نے کافی فوائد حاصل کیے (اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے غریب عوام ابھی تک اس کی قیمت چکا رہے ہیں)۔ لیکن پاکستان نے کبھی بھی چین کے ساتھ اپنا یارانہ نہیں توڑا۔ پاکستان چینی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں بھی پاکستان ایک کلیدی ملک ہے۔ جو چین کو وسط ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کی منڈیوں تک رسائی میں اہم کردار ادا کرتا یا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف بھارت کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی پاکستان اور چین ایک دوسرے کے لئے اہم ہیں۔ حالیہ پاک بھارت لڑائی میں چین کی پاکستان کو بھرپور فوجی مدد اس کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان کی اس اجلاس میں موجودگی سی پیک کے منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی اہم تھی۔ پاکستانی مقتدرہ نے تاریخی طور پر امریکہ کا مطیع ہونے کے باوجود امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں ایک مخصوص توازن قائم کیے رکھا ہے۔ لیکن حالیہ سالوں میں اس کا انحصار چین پر بڑھا ہے۔ چین نے سی پیک کے کچھ منصوبوں پر دوبارہ کام شروع کرنے اور نئے قرضے دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ چین اپنی مصنوعات اور جنگی ساز و سامان بھی فروخت کرے گا۔ ریاستوں کے درمیان یہ ساری وارداتیں حکمران طبقات کے مفادات کی غماز ہی ہوتی ہیں۔ جنگیں جیتنا اور اس پر بڑھکیں مارنا بڑا خوش کن معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس سارے کھیل کی بھیانک قیمت پھر محنت کش طبقہ ہی چکاتا ہے۔
فلسطین میں جاری نسل کشی اور یوکرائن میں بڑے پیمانے کی بربادی اس سامراجی کھیل کے مکروہ اور عوام دشمن کردار کو بالکل واضح کرتے ہیں۔ فلسطینی عوام دہائیوں سے قبضے اور بربریت کا شکار ہیں جبکہ یوکرائن کی جنگ نے لاکھوں انسانوں کو قتل اور بے گھر کر دیا ہے۔ ان جنگوں نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ اجناس اور توانائی کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ جس سے دنیا بھر میں عام لوگوں کی بدحالی میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن حکمران طبقات کے لئے یہ جنگیں وسائل اور منڈیوں پر بالادستی کی کشمکش کا حصہ ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں نہ تو فلسطین اور نہ ہی یوکرائن جنگ پر کوئی بات کی گئی۔ یہ کیسا سامراج مخالف اتحاد ہے؟ ایسے گٹھ جوڑ ایک وحشت کے مقابلے میں دوسری وحشت کی پرورش کے مترادف ہی ہوتے ہے۔
ہم مارکس وادی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بنتی بگڑتی ساجھے داریاں عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات کا اظہار ہیں۔ نہ تو سرمایہ دارانہ نظام‘ نہ ہی اس کی طاقتوں کے اتحاد مظلوم اور محنت کش عوام کے لئے کسی آسودگی اور نجات کا باعث بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اتحادوں سے امیدیں وابستہ کرنا سراسر حماقت کے زمرے میں آتا ہے۔ سرمایہ داری اپنی بقا کے لئے عسکریت پر انحصار کرتی ہے۔ لیکن اس کا بوجھ مالی اور جانی طور پر محنت کش طبقے پر ڈالا جاتا ہے۔ عوام دنیا بھر میں غربت، مہنگائی اور بیروزگاری کا شکار ہیں جبکہ حکمران طبقات اپنے سامراجی کھیل‘ کھیل رہے ہیں۔ اس خونی کھیل کی بساط عالمی سوشلسٹ نظام قائم کر کے ہی لپیٹی جا سکتی ہے۔