← Back to Newsroom OS خبریں

شہر ظلمات کو ثبات نہیں

By جدوجہد • 2024-11-16 • 6 min read

حبیب جالب

اے نظام کہن کے فرزندو
اے شب تار کے جگر بندو
یہ شب تار جاوداں تو نہیں
یہ شب تار جانے والی ہے
تا بہ کے تیرگی کے افسانے
صبح نو مسکرانے والی ہے
اے شب تار کے جگر گوشو
اے سحر دشمنو ستم گوشو
صبح کا آفتاب چمکے گا
ٹوٹ جائے گا جہل کا جادو
پھیل جائے گی ان دیاروں میں
علم و دانش کی روشنی ہر سو
اے شب تار کے نگہبانو
شمع عہد زیاں کے پروانو
شہر ظلمات کے ثنا خوانو
شہر ظلمات کو ثبات نہیں
اور کچھ دیر صبح پر ہنس لو
اور کچھ دیر کوئی بات نہیں