شیمپین پرابلمز: سیزنل سینما اور ایموشنل فاسٹ فوڈ
علی ارقم
عید میلاد المسیح (Christmas) اور سرمائی تعطیلات کے حوالے سے مختلف مصنوعات کارڈز، تحائف کیلئے معروف امریکی کمپنی ہالمارک (Hallmark) نے اپنے کیبل ٹی وی کے ذریعے کرسمس کے موقع پر مخصوص قسم کی فلموں کی روایت کو پروان چڑھایا جسے دیگر چینلز اور بڑی کمپنیوں جیسے نیٹ فلکس اور ایمیزون نے بھی اپنایا ہے۔ یہ فلمیں سردی کے موسم، برفباری، تعطیلات، گھر واپسی، فیملی ری یونینز، مخصوص جذباتی ماحول اور کیفیات کی عکاسی کرتی ہیں، جنہیں دیکھ کر آڈینس (audience) چونکتی نہیں، ذہن میں سوال نہیں ابھرتے، کوئی فکری اضطراب جنم نہیں لیتا، بلکہ خوشگوار یعنی (feel good) قسم کے رومانوی جذبات محسوس ہوتے ہیں اور جذباتی تسکین میسر آتی ہے۔
ایسے سنیما کو فلمی تبصرہ نگار سیزنل سینما(Seasonal Cinema) یا کمفرٹ ویونگ(Comfort Viewing) کے زمرے میں رکھتے ہیں، ان فلموں کی قدر و قیمت ان کے جمالیاتی یا فکری تجربے سے زیادہ ان کے جذباتی استعمال سے جڑی ہوتی ہے۔
اس سال نیٹ فلکس پر پیش کی جانے والی فلم شیمپین پرابلمز (Champagne Problems) بھی اسی روایت کا تسلسل ہے، جسے محبت، جذباتی وابستگی، خاندانی تعلقات اور ان میں در آنے والے فاصلوں، کرسمس کے موقع پر رنگوں اور روشنیوں میں نہائے ہوئے پیرس شہر کی رومانوی عکاسی جیسے عناصر کے امتزاج سے تشکیل دیا گیا ہے۔
فلم کا نام ہی کہانی کا عکاس ہے، جو کلٹ فالوونگ رکھنے والی امریکی خاتون گلوکار ٹیلر سوئفٹ (Taylor Swift) کے ایک مشہور رومانوی گانے سے مستعار ہے، جو نوعمر اور نوخیز نوجوانوں کے کالج رومانس اور پریمیوں کے بیچ در آنے والی چھوٹی چھوٹی ناراضگیوں کے متعلق ہے، جنہیں وہ شیمپین پرابلمز کا عنوان دیتی ہے۔
اس فلم کے پلاٹ میں کوئی غیر متوقع موڑ یا گہرا اخلاقی تصادم نہیں؛ ابتدا ہی سے یہ بات واضح ہے کہ کہانی ہلکے پھلکے اتار چڑھاؤ، چھوٹی سی غلط فہمی اور اس کے ازالے کے بعد جذباتی طمانیت اور رومانوی احساسات کی تسکین پر خوشگوار انجام (Happy Ending) پائے گی۔ ایسی کہانیوں کو تبصرہ نگار لو سٹیک نیریٹیو (Low-Stakes Narrative) کہتے ہیں، جو اس طرز کی فلموں کا بنیادی وصف ہے، دیکھنے والا حیران ہونے کی نیت سے اسے نہیں دیکھتا، بس وہ کہانی کی پیشکش اور فلمنگ پروسیس سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
فلم کے کرداروں کا جائزہ لیں تو وہ بھی خاص فارمولے کے تابع نظر آتے ہیں۔ کارپوریٹ کلچر اور مردانہ بالادستی کے ماحول میں خود کو منوانے کی جستجو کرنے والی امریکی خاتون سڈنی پرائس کا مرکزی کردار (جسے منکا کیلی نے نبھایا ہے) بظاہر پریکٹیکل دکھایا گیا ہے، جس کی زندگی میں رومانس اور تعطیلات کی گنجائش نہیں ہے وہ کرسمس کی عید کے ماحول میں بھی پیرس ایک بزنس ڈیل کیلئے جارہی ہے اور جسے اس کی بہن یاد دلاتی ہے کہ شہر بھی دیکھ لینا، گھوم پھر لینا، کیا پتا دل لگ جائے کہیں۔
فلم میں پیرس شہر کی عکاسی بہت ہی لگے بندھے سے یعنی (Curated) انداز میں کی گئی ہے۔ کردار شہر میں کہیں بھی جارہا ہو، کچھ بھی کر رہا ہو، پس منظر میں ایفل ٹاور ہی نظر آتا ہے، یعنی شہر ایک جیتے جاگتے سماجی وجود کی بجائے ایک دلکش منظر، ایک فینٹسی لینڈ ہے، روشنیوں، کیفے، شراب، کرسمس کے موقع پر خصوصی طور پر سجائے گئے بازاروں اور موسیقی سے بھرپور۔
یہ ایسا ہی پیرس ہے، جیسا چھوٹے سے امریکی گھر کے لاؤنج میں کاؤچ پر براجمان امریکی نگاہ اسے دیکھنا چاہتی ہے: رومانس، دھیمی رفتار، لذیذ اور ذائقے دار اور جذباتی طور پر تسکین آور۔ اسی تناظر میں فرانسیسی شراب، خصوصاً شیمپین (Champagne) کو بھی جشن منانے اور سیلبریٹ کرنے کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ فرانس کی روزمرہ ثقافتی زندگی کا مرکزی جزو نہیں ہے۔ شیمپین کو سیلبریشن کلچر(Celebration Culture)کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنے کا تصور دراصل امریکی مارکیٹنگ کا نتیجہ ہے، جس نے اسے ایک عالمی برانڈ میں تبدیل کر دیا۔ پیرس کی شراب یا شراب سازی کی عکاسی خالص فرانسیسی روایت کی بجائے امریکی کنزیومر امیجینیشن کے زیادہ قریب ہے، وائن یہاں زمین، موسم اور نسلوں پر محیط محنت کی علامت نہیں رہتی، بلکہ ایک (lifestyle product)کے طور پر پیش کی گئی ہے (ہمارے ہاں بھی اس کی نقالی کرتے ہوئے مقامی مصنوعات کو شیشے کی بوتل اور قلعی چڑھا کر اس کی نقالی کی جاتی ہے، ظاہر ہے اس گاہک کیلئے جو شراب کو حرام یا ناقابل دسترس سمجھتا ہو)۔
روشنی، رنگوں اور شراب کے بعد پیرس کی عکاسی کا ایک اور عنصر (predictably) ایک قدیم فرانسیسی کتابوں کی خوبصورت دکان ہے، جہاں فلم کی مرکزی کردار خاتون کی مرکزی مرد کردار سے ملاقات کرائی جانی ہے۔ مرد کردار ہنری کاسیل (جسے ٹام وزنچیکا نے نبھایا ہے) کے سکرین پر ابھرتے ہی دیکھنے والا جان لیتا ہے کہ اس کا لڑکی سے رومانوی تعلق بننا کہانی کے گرینڈ ڈیزائن کا حصہ ہے، سیلف ہیلپ کی کتابوں (کوئی ناول، کوئی شاعری نہیں، آخر کو امریکی سٹیریو ٹائپ ہے) کیلئے دکان کی بالائی منزل کی سیڑھیوں پر فرانسیسی فلسفی اور فیمینسٹ خاتون ادیب سیمون دی بووار (Simone de Beauvoir) کا قول لکھا ہوا ہے، سڈنی کے استفسار پر ہنری اسے پڑھتا اور انگریزی میں ترجمہ کرکے بتاتا ہے:
J’accepte la grande aventure d’être moi.
یعنی کہ میں اپنے وجود کے عظیم سفر کو قبول کرتی ہوں
اوپر کی منزل پر ایک لوکل بینڈ وہاں گانا گا رہا ہے، کتابیں، موسیقی اور خاتون کردار اپنے فیوچر لو انٹرسٹ کے ساتھ، زندگی کیلئے اور کیا چاہیے، پر ہماری امریکی خاتون ہیرو تو اپنی بہن کیلئے سیلف ہیلپ کی کتاب لینے آئی ہیں، کتنا ان رومینٹک ہے نا!!
ایک طرف پیرس ہے یعنی یورپی فکری روایت کی علامتیں، دوسری طرف امریکی ثقافت کی (self-optimization) سطحی فکر یہ دکان علم و دانش کی علامت نہیں رہتی، بلکہ ایک سوشل میڈیا ایستھیٹک میں بدل جاتی ہے (دکان کے اس مکالمے کی کلپ فیس بک ریلز میں دیکھ کر ہی میں اس فلم کی طرف متوجہ ہوا تھا، پر واللہ مجھے ہرگز یہ علم نہ تھا کہ خاتون اتنی شاندار دکان میں سیلف ہیلپ کی کتاب لینے آئی ہیں)
یہاں ہنری کاسیل (کہانی کے مرد مرکزی کردار کو) اپنے فرانسیسی سٹیریو ٹائپ کی عکاسی کرتے ہوئے رومانوی دلچسپی، ایک حد تک ماورائی، ثقافتی طور پر نفیس اور جذباتی دانائی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جو کتابوں کی ایسی دکان کھولنا چاہتا ہے، جو پنکج اداس کی گائی ہوئی غزل
اک ایسا گھر چاہیے مجھ کو جس کی فضا مستانہ ہو
ایک کونے میں غزل کی محفل، ایک کونے میں میخانہ ہو
کی عکاسی کرتی ہو۔ ہاؤ رومینٹک، خاتون کے پاس بچنے کا کوئی چانس نہیں۔۔۔ خاص طور پر جب ہنری (فرانسیسی سٹیریوٹائپ کے مطابق) دل پھینک بھی ہے اور تیر نظر کا گھائل ہوچکا ہے، پھر سڈنی صاحبہ کو شہر گھمانے کی آفر بھی کرچکا ہے، خیر (میں بچی کھچی کہانی کو مزید سپوائل نہیں کرنا چاہتا)
امریکی اور فرانسیسی سٹیریو ٹائپ کے ساتھ ساتھ فلم میں جرمن کاروباری نوجوان کردار کو مزاحیہ انداز میں یک رخا، سطحی یا جذباتی خشکی کی علامت کے طور پر دکھایا گیا ہے، تاکہ امریکی جذباتیت اور فرانسیسی رومان کے بیچ ایک واضح تضاد پیدا کیا جا سکے۔ ایسے کلیشے فلم کی کہانی کو آسان اور جذباتی طور پر قابل قبول بناتے ہیں، مگر کلچرل پیچیدگی کو قربان کر دیتے ہیں۔
سڈنی پرائس یہاں ایک امریکی کمپنی کی نمائندہ بن کر اپنی سرمایہ کاری سے ایک ڈوبتی ہوئی شراب سازی کے صدیوں پرانے روایتی خاندانی کاروبار کو خریدنے آئی ہیں، یعنی کلاسیکی سرمایہ دارانہ منطق، جس میں ”بچانے“کا مطلب کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ چھوٹے، غیر موثر اور جذباتی طور پر جڑے ہوئے کاروبار کو جدید، موثر (efficient) اور منافع بخش (profitable) بنانے کا وعدہ دراصل اس کے فیصلوں، سمت اور شناخت کو اپنے ہاتھ میں لینے کا جواز بنتا ہے۔
لیکن دل کے معاملات آڑے آجاتے ہیں، وہ ہنری کو دل دے بیٹھی ہے اس لیے اپنی ہی کمپنی کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتی، یہاں ہنری اور اس کے باپ کے بیچ جذباتی دوری ہے، جسے ہماری خاتون ہیرو نے دور کرنا ہے تاکہ گلشن کا کاروبار چلے۔۔۔
اپنے کاروباری معاملات کے بیچ محبت کے آڑے آجانے کو وہ شیمپین پرابلمز کہتی ہے۔۔۔۔
مجموعی طور پر فلم کا فیل گڈ موڈ اچھا ہے، اس کی مثال ویسی ہی ہے، جسے بعض فلمی تبصرہ نگار و ناقدین ایموشنل فاسٹ فوڈ (Emotional Fast Food) کہتے ہیں، یعنی فوری تسکین، کم فکری غذائیت، مگر بھرپور مانگ۔
آجکل کے معاشی غیر یقینی اور سماجی تھکن کے ماحول میں ایسی فلمیں وقتی جذباتی فرار (Escapism) فراہم کرتی ہیں، اس کی گرمجوشی اور اسی شعوری سادگی میں ان کی مقبولیت کا راز پوشیدہ ہے۔ اگر آپ کسی شام اکیلے بیٹھ کر (کسی کی رفاقت میسر ہو تو کیا کہنے) ہلکی پھلکی رومانی فلم دیکھنا چاہتے ہیں تو ضرور دیکھیں۔
بھئی مجھے تو بہت پسند آئی…
