← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

صدر ٹرمپ کی ٹیرف وار کے باوجود چین کاتجارتی سرپلس پہلی بار ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا

By جدوجہد • 2025-12-08 • 8 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)چین کا سالانہ تجارتی سرپلس پہلی مرتبہ ایک ٹریلین ڈالر سے بڑھ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد بھاری ٹیرف کے باعث امریکہ کو برآمدات میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی، لیکن اس گراوٹ کو دیگر عالمی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی برآمدات نے پورا کر دیا۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق چین کے کسٹمز کے جنرل ایڈمنسٹریشن کی پیر کو جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 11ماہ میں ملک کا تجارتی سرپلس 1.08 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ صرف نومبر میں برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.9 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ اکتوبر میں 1.1 فیصد کی کمی کے بعد سامنے آیا ہے۔

تاہم امریکہ کو چینی برآمدات بدستور شدید متاثر رہیں اور نومبر میں 28.6 فیصد کمی کے ساتھ صرف 33.8 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری ٹیرف وار نے تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اگرچہ اکتوبر میں جنوبی کوریا میں دونوں ملکوں کے صدور کی ملاقات کے دوران کشیدگی میں کمی پر اتفاق ہوا تھا۔

کیپیٹل اکنامکس کے ماہر ژچن ہوانگ نے نوٹ میں لکھا کہ رواں سال چین کا تجارتی سرپلس پہلے ہی گزشتہ سال سے تجاوز کر چکا ہے اور آئندہ سال مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کو برآمدات کی کمزوری کو دیگر ممالک کو بھیجے گئے سامان نے مکمل طور پر پورا کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق قیمتوں میں مسلسل کمی (ڈیفلیشن) کے باعث چین کا حقیقی موثر ایکسچینج ریٹ کم ہوا ہے، جس نے چینی مصنوعات کو مزید مسابقتی بنا دیا ہے۔ چینی برآمدات اس وقت ملک کی کمزور گھریلو کھپت اور جائیداد کے شعبے کے قرض بحران کے دوران معیشت کو سہارا دینے کا بڑا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔

دوسری جانب چین کے بڑے تجارتی سرپلس نے مغربی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے حالیہ دورہ چین کے بعد ایک انٹرویو میں خبردار کیا کہ اگر تجارتی عدم توازن کم نہ ہوا تو یورپ بھی امریکہ کی طرز پر بیجنگ کے خلاف ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔

کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ چین کی یورپی یونین کو برآمدات میں سالانہ 14.8 فیصد، آسٹریلیا کو 35.8 فیصد اور تیزی سے ترقی کرتی جنوب مشرقی ایشیائی معیشتوں کو 8.2 فیصد اضافہ ہوا۔

ان بڑھتی برآمدات کی بنیاد پر چین کا تجارتی سرپلس نومبر میں بڑھ کر 111.68 ارب ڈالر ہو گیا، جو جون کے بعد سب سے زیادہ ہے اور ماہرین کی 100.2 ارب ڈالر کی پیش گوئی سے زیادہ ہے۔

پن پوائنٹ ایسیٹ مینجمنٹ کے ماہر معاشیات ژی وی ژانگ نے لکھا کہ نومبر میں برآمدات کا اضافہ گھریلو طلب میں کمی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ ملک میں جائیداد کے شعبے کی کمزوری اور مجموعی معاشی سست روی کھپت پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

چین کی گھریلو کھپت کی کمزوری کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ نومبر میں درآمدات صرف 1.9 فیصد بڑھی ہیں، جو ماہرین کی توقعات سے کم ہیں۔