ظہران ممدانی کی شناخت نہیں، سوشلسٹ ہونا اہم ہے
حارث قدیر
نیویارک سٹی کی ڈیموکریٹک پرائمری میں 33 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہران ممدانی کی حیران کن فتح صرف ایک انتخابی اپ سیٹ نہیں، بلکہ امریکی بائیں بازو کے لیے ایک نئی امید اور مستقبل کی جھلک ہے۔ سابق گورنر اینڈریو کومو جیسے قدآور اور دولت مند امیدوار کو شکست دے کر ممدانی نے امریکی سیاست میں وہ مقام حاصل کیا ہے جس کا خواب کئی دہائیوں سے سوشلسٹ حلقے دیکھتے آئے ہیں۔اس انتخابی فتح پر بھارت و پاکستان میں بھی میڈیا پر ظہران ممدانی کو کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ تاہم کہیں ان کے ایشیائی یا بھارتی نژاد ہونے کو اہمیت دی جا رہی ہے، تو کہیں ان کے مسلم بیک گراؤنڈ کی وجہ سے پذیرائی مل رہی ہے۔ جس سوچ، نظریے اور فکر کی بنیاد پر انہوں نے یہ انتخابی فتح حاصل کی ہے، اس کا روایتی میڈیا پر ذکر کم ہی ملتا ہے۔ عالمی اور امریکی میڈیا پر البتہ ان کے سوشلسٹ پروگرام کوکسی حد تک اہمیت دی جا رہی ہے۔
ظہران ممدانی نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کو مہنگائی، رہائش، ٹرانسپورٹ، چائلڈ کیئر اور روزمرہ ضروریات پر مرکوز رکھا۔ ان کا منشور ’محنت کشوں کی زندگی کو قابل برداشت بنانا‘ تھا۔ مفت بسیں، سرکاری ملکیت کے گروسری اسٹورز، اور عوامی سرمایہ کاری جیسے ان کے مطالبات کو روایتی سیاست دانوں نے غیر حقیقی قرار دیا، مگر نیویارک کے ووٹرز نے اسے ایک قابل عمل وژن کے طور پر قبول کیا۔
کئی بار انہیں ’مسلمان سوشلسٹ‘یا اسرائیل مخالف قرار دے کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن انہوں نے سادگی اور دلیل سے ان حملوں کا جواب دیا۔ کومو نے اپنی انتخابی مہم میں اربوں روپے کے اشتہارات، بلومبرگ جیسے ارب پتی حمایتیوں، اور ادارہ جاتی حمایت پر انحصار کیا۔ اس کے برعکس ممدانی نے عوامی رضاکاروں اور بائیں بازو کے کارکنوں کے ذریعے ایک گراس روٹ مہم چلائی، جس میں سوشل میڈیا پر مہارت کے ساتھ پیغامات عام کیے گئے۔ ان کی ایک وائرل ویڈیواس مہم کا نکتہ عروج بن گئی، جس میں وہ ٹرمپ کو ووٹ دینے والے نیویارکرز سے بات کرتے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر ووٹنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایک چوتھائی ووٹروں نے پہلی بار نیویارک کے انتخابات میں حصہ لیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کی مہم نے نئی سیاسی توانائی پیدا کی ہے۔
ظہران کون ہیں؟
ظہران ممدانی کا پس منظر ان کے سیاسی وژن کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ وہ 18 اکتوبر 1991 کو یوگنڈا کے شہر کامپالا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پروفیسر محمود ممدانی یوگنڈا کے مشہور سیاسی مفکر اور تاریخ دان ہیں، جن کی تحریریں نوآبادیات، نسل، اور افریقی سیاست کے موضوعات پر عالمی سطح پر پڑھائی جاتی ہیں۔ محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی امریکہ، اور یوگنڈا کی مکیررے یونیورسٹی سے وابستہ رہے ہیں۔
ان کی والدہ میرا نائر بھارت سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ فلم ساز ہیں، جنہوں نے’سلام بمبے‘، ’مون سون ویڈنگ‘، اور ’دی نیم سیک‘ جیسی فلمیں بنائیں۔ ان کے فن میں مہاجرت، شناخت، اور سماجی ناہمواری جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔ ان دونوں والدین نے ممدانی کو ایک ایسے ماحول میں پرورش دی جہاں فکری تنوع، سامراج دشمنی اور ثقافتی حساسیت روزمرہ کی باتیں تھیں۔
ظہران ممدانی کے مداح انہیں برنی سینڈرز کے نقش قدم پر چلتا دیکھتے ہیں، جنہوں نے برلنگٹن، ورمونٹ میں سوشلسٹ بلدیاتی حکومت کا کامیاب ماڈل پیش کیا تھا۔ تاہم اگر وہ حکومت میں آتے ہیں تو ان کے سامنے کئی رکاوٹیں ہوں گی، بشمول کارپوریٹ اسٹیبلشمنٹ اور وہ لبرل این جی اوز جنہوں نے حالیہ انتخابات میں بارہا عوامی نبض کو غلط سمجھا۔ ممدانی کو نہ صرف ان رکاوٹوں سے نمٹنا ہو گا، بلکہ اپنی آزادانہ سیاسی سوچ کو بھی برقرار رکھنا ہو گا۔
پرائمری سے آگے
اگرچہ ممدانی نے پرائمری میں زبردست فتح حاصل کی ہے، مگر نومبر میں ہونے والے جنرل الیکشن میں انہیں نیویارک کے موجودہ میئر ایرک ایڈمز اور ممکنہ طور پر ایک بار پھر اینڈریو کومو کا سامنا ہو گا۔ ایرک ایڈمز اس بار ’EndAntisemitism‘کے نام سے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔ امکان ہے کہ اسرائیل نواز لابی، رئیل اسٹیٹ مفادات، اور دیگر کارپوریٹ حلقے ممدانی کے خلاف شدید سرمایہ کاری کریں گے۔یہ صرف انتخابی مقابلہ نہیں ہو گا، بلکہ اسے عوامی وسائل اور نظریاتی مستقبل پر ایک سیاسی ریفرنڈم قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایک فتح، ایک چیلنج اور ایک امید
منگل کی رات نیویارک میں بائیں بازو کی سیاست نے ایک نئی کروٹ لی۔ ظہران ممدانی نے صرف ایک انتخاب نہیں جیتا،بلکہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی دیوار میں دراڑ ڈال دی۔تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخاب جیتنا آسان ہے، لیکن حکومت کرنا مشکل ہے۔اب ممدانی پر لازم ہے کہ وہ اپنی سیاسی قوت کو عملی نتائج میں ڈھالیں، تاکہ وہ محنت کشوں، مہاجرین، اقلیتوں اور ان تمام طبقات کی امیدوں پر پورا اتر سکیں جنہوں نے اس بار کچھ ’نیا، سچا، اور مختلف‘ چنا ہے۔
