← Back to Newsroom OS کالم

عاطف توقیر کو معیشت نیو لبرل، ٹی وی مگر سوشلسٹ چاہیے

By جدوجہد • 2025-09-01 • 9 min read

فاروق سلہریا


عاطف توقیر سوشل میڈیا انفلوئنزر اور ایک اچھے شاعر ہیں۔ گذشتہ کچھ دنوں سے ان کی مندرجہ بالا پوسٹ لوگ شیئر کر رہے تھے تو مجھے ان سے ہونے والی ایک سرسری سی ملاقات یاد آ گئی۔


وہ ایک مشترکہ دوست،طلعت بٹ،کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے سویڈن آئے تھے۔ میں بھی اس تقریب میں شریک تھا۔تقریب سا لگرہ کی ہی کیوں نہ ہو، سیاسی کارکن جمع ہوں گے تو بات سیاست پر ہی ہو گی۔ حسب معمول بات سیاست کی طرف گئی تو معلوم ہوا عاطف توقیر صاحب سوشلزم کے شدید ناقد ہیں۔ سوشلزم تو دور کی بات، بھٹو کی ہلکی پھلکی ریفارم ازم بھی انہیں قبول نہ تھی۔ ان کے نزدیک پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ بھٹو کی نیشنلائزیشن ہے۔


ان کی مندرجہ بالا پوسٹ دیکھی تو مجھے وہ پرانی ملاقات یاد آ گئی۔مصیبت یہ ہے کہ جب آپ معیشت میں نیو لبرلزم کے قائل ہوں گے تو میڈیا بھی نیو لبرل ہی ہو گا۔ جب ٹیلی ویژن کا مقصد منافع کمانا ہو گا تو پھر سکرین پر بھی ارشاد بھٹی، عارف حمید بھٹی، طارق جمیل،حامد میر، ماریہ بی وغیرہ نظر آئیں گے۔


عقل اور علم کی بات کرنے کے لیے طویل وقت درکار ہوتا ہے۔ کمرشل ٹی وی کے پاس علم اور عقل کی بات کے لیے وقت نہیں ہوتا۔انہیں جلدی سے بریک لینا ہوتا ہے کیونکہ کمرشل نشریات کا مقصد ہی زیادہ سے زیادہ کمرشل بریک لینا ہوتے ہیں۔ جب چینل کے پاس وقت نہیں ہوتا تو انہیں ایسے مسخرے چاہیے ہوتے ہیں جو ہر سنجیدہ بات کو جگت بازی،فحش بات،گالم گلوچ،یا مار پیٹ کے ذریعے ناظرین تک پہنچا سکیں۔ ناظرین کو بھی گالی،جگت، یامکے بازی دیکھ کر ذہنی مشقت نہیں کرنی پڑتی(جیسا کہ کمرشل فلموں میں بھی ہوتا ہے)۔


کمرشل ٹیلی ویژن کی اس منطق کی سمجھ آ جائے تو ہم (ایک حد تک)یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستانی مڈل کلاس میں عمران خان کو مقبولیت کیوں ملی؟


یہ بات بھی اہم ہے کہ:کسی بھی ملک کا میڈیا وہاں کے سماج کا عکس ہوتا ہے۔ جس طرح کی معیشت اور سیاست ہو گی، ویسا ہی میڈیا ہو گا۔ مزید یہ کہ صرف پاکستان میں ٹی وی سکرین پر احمق قابض نہیں ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی نیو لبرل ازم کے تحت ایئر ویوز کی نج کاری ہوئی، یہی کچھ ہوا۔ پڑوسی ملک بھارت کو دیکھ لیں۔ 30سال پہلے تک،بھارتی اخبارات اور صحافی دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اس کے برعکس،ان کے نیوز چینلز نے جس طرح مئی میں ہونے والی پاک بھارت جھڑپوں کو کور کیا، اس پر دنیا بھر میں ان کا مذاق اڑایا گیا۔


ذیل میں دیے گئے گراف سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گلوبل ساؤتھ کی چار نام نہاد میڈیا پاورز جو پچھلے 20، 30 سال میں سب امپیریل ازم (subimperialism) کے طور پر ابھری ہیں (ان کے ہاں میڈیا کی لبرلائزیشن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک طرف صحافت ڈیزاسٹر جرنلزم بن گئی ہے،جس کی تفصیلات میں نے اپنی کتاب ’میڈیا امپیریلزم اِن انڈیا اینڈ پاکستان‘ میں بیان کی ہیں) ان ممالک میں آزادی اظہار کا گراف نیچے جا رہا ہے۔ بہ الفاظ دیگر نیو لبرل معیشت کے پجاریوں کو کمرشل میڈیا کی مذمت کرتے ہوئے تھوڑی بہت بنیادی میڈیا لٹریسی کے سبق لے لینے چاہئیں۔


[مندرجہ ذیل گراف رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز کے سالانہ انڈیکس کی بنیاد پر تیار کیا گیا۔ گراف میں ہر پانچ سال کے بعد متعلقہ ملک کی رینکنگ دکھائی گئی ہے۔ سب سے بری حالت بھارت میں دکھائی دیتی ہے۔]

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔