عالمی عدم مساوات: 60 ہزار افراد کے پاس 4 ارب آبادی کی کل دولت سے تین گنا زیادہ دولت
لاہور(جدوجہد رپورٹ)ورلڈ ان ایکویلٹی رپورٹ2026کے مطابق دنیا کی کل آبادی کے محض60ہزار سے بھی کم افراد، جو0.001فیصد بنتے ہیں، کے پاس دنیا کی غریب ترین نصف آبادی کے مقابلے میں تین گنازیادہ دولت موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی عدم مساوات اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
’گارڈین‘ کے مطابق عالمی عدم مساوات سے متعلق یہ رپورٹ200ماہرین کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے 10 فیصد افراد کی آمدنی باقی 90 فیصد کی مجموعی آمدنی سے زیادہ ہے، جبکہ سب سے غریب نصف آبادی کو کل عالمی آمدنی کا صرف 10 فیصد سے بھی کم حصہ ملتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دولت ، یعنی لوگوں کے اثاثوں کی قیمت ، آمدنی یا محنت اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی کمائی سے بھی زیادہ یکطرفہ ہے، کیونکہ دنیا کے امیر ترین 10 فیصد افراد کے پاس کل دولت کا 75 فیصد ہے، جبکہ نچلے نصف کے پاس صرف 2 فیصد۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً ہر خطے میں اوپر کے 1 فیصد افراد کے پاس نچلے 90 فیصد افراد سے زیادہ دولت موجود ہے، اور دنیا بھر میں دولت کی عدم مساوات تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مصنفین کی قیادت پیرس اسکول آف اکنامکس کے ریکارڈو گومیز کیریرا کر رہے ہیں۔ مصنفین نے لکھاکہ’’نتیجہ یہ ہے کہ ایک بہت ہی چھوٹی اقلیت کے پاس بے مثال مالی طاقت ہے، جبکہ اربوں لوگ بنیادی اقتصادی استحکام سے بھی محروم ہیں۔‘‘
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی دولت میں سب سے اوپر کے 0.001 فیصد افراد کی حصہ داری 1995 میں تقریباً 4 فیصد تھی ،جو اب بڑھ کر 6 فیصد سے زائد ہو چکی ہے، جبکہ 1990 کی دہائی سے ملٹی ملینیئرز کی دولت سالانہ تقریباً 8 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے ، جو کہ نچلے 50 فیصد کی شرح سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔
رپورٹ کے ایک مصنف اور مشہور فرانسیسی ماہر معیشت تھامس پیکٹی نے کہا کہ اگرچہ عدم مساوات لمبے عرصے سے عالمی معیشت کی ایک نمایاں خصوصیت رہی ہے، لیکن 2025 تک یہایسے درجے پر پہنچ چکی ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدم مساوات کو کم کرنا صرف انصاف کی بات نہیں بلکہ معیشتوں کی مضبوطی، جمہوریتوں کے استحکام، اور ہمارے سیارے کی بقا کے لیے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی شدید تفریقیں اب معاشروں یا ماحولیاتی نظام کے لیے قابل برداشت نہیں رہیں۔
یہ رپورٹ ہر چار سال بعد اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے تعاون سے شائع کی جاتی ہے، اور عالمی اقتصادی عدم مساوات کے سب سے بڑے اوپن ایکسیس ڈیٹا بیس پر مبنی ہے، جسے عالمی سطح پر اس مسئلے پر بحث و مباحثے کی تشکیل میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
اقتصادی عدم مساوات سے آگے بڑھ کر رپورٹ نے بتایا کہ مواقع کی عدم مساوات بھی نتائج کی عدم مساوات کو بڑھاتی ہے۔ مثلاً یورپ اور شمالی امریکہ میں ہر بچے کی تعلیم پر خرچ سب سہارا افریقہ کے مقابلے میں 40 گنا سے زیادہ ہے ، جو کہ فی کس جی ڈی پی کے فرق سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
رپورٹ کہتی ہے کہ ایسی تفریق نے مواقع فراہم کرنے کا امکان کم دیا ہے، اور اگر دنیا کے ایک لاکھ سے بھی کم سینٹی ملینیئرز اور بلینیئرز پر 3 فیصد عالمی ٹیکس لگایا جائے تو یہ سالانہ 750 ارب ڈالر جمع کرے گا ، جو کہ کم اور درمیانے آمدنی والے ممالک کے تعلیمی بجٹ کے برابر ہے۔
عالمی مالیاتی نظام بھی عدم مساوات کو بڑھاوا دیتا ہے، کیونکہ یہ امیر ممالک کے حق میں بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ معیشتیں سستے قرضے لے کر بیرون ملک زیادہ منافع بخش سرمایہ کاری کرتی ہیں، جس سے وہ’’مالی کرایہ دار‘‘ بن جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہر سال عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 1 فیصد غریب ممالک سے امیر ممالک کی طرف نیٹ آمدنی کی منتقلی کی صورت میں جاتا ہے، جو عالمی ترقیاتی امداد سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صنفی تنخواہوں کا فرق تمام خطوں میں موجود ہے۔ بغیر معاوضہ کام کو شامل کیے بغیر خواتین کام کے ہر گھنٹے کے لیے مردوں کی اوسط آمدنی کا صرف 61 فیصد کماتی ہیں۔ اگر بغیر معاوضہ کام کو بھی شامل کیا جائے تو یہ فیصد 32 تک گر جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرمایہ داری کی ملکیت کی وجہ سے کاربن کے اخراج میں بھی عدم مساوات ہے۔ امیر افراد اپنی سرمایہ کاری کے ذریعے ماحولیاتی بحران کو اپنے طرز زندگی اور کھپت سے بھی زیادہ بڑھاتے ہیں۔
عالمی ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی غریب ترین نصف آبادی صرف 3 فیصد کاربن اخراج کی ذمہ دار ہے، جبکہ امیر ترین 10 فیصد افراد تقریباً 77 فیصد اخراج کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق’’یہ فرق ناانصافی کی بات ہے۔ جو کم اخراج کرتے ہیں، یعنی زیادہ تر کم آمدنی والے ممالک کی آبادی، وہ ماحولیاتی صدموں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں، جبکہ جو سب سے زیادہ اخراج کرتے ہیں وہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نسبتاً محفوظ ہیں۔‘‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شواہد بتاتے ہیں کہ عدم مساوات کو کم کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر تعلیم اور صحت میں عوامی سرمایہ کاری، موثر ٹیکس نظام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سے ممالک میں بہت امیر افراد ٹیکس سے بچ جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’’زیادہ تر آبادی کے لیے آمدنی پر ٹیکس کی شرح بتدریج بڑھتی ہے، لیکن ارب پتیوں اور سینٹی ملینیئرز کے لیے اچانک کم ہو جاتی ہے۔‘‘ تناسب کے لحاظ سے’’یہ اشرافیہ زیادہ تر کم آمدنی والے گھروں سے کم ٹیکس ادا کرتی ہے۔‘‘
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ عدم مساوات کو کم کرنا ایک سیاسی انتخاب ہے۔ آلات موجود ہیں، چیلنج سیاسی ارادے کا ہے۔