عالمی یومِ مزدور اور جموں کشمیر کی فراموش کی گئی مزدور تحریک
عمیر خورشید
یکم مئی کو دنیا بھر کے محنت کش عالمی یومِ مزدور مناتے ہیں، جو منصفانہ اجرت، انسانی حالاتِ کار، اور محنت کی عظمت کے لیے جدوجہد کی طویل تاریخ کی علامت ہے۔ اگرچہ شکاگو کے ہے مارکیٹ شہداء کو اس دن کی علامتی بنیاد سمجھا جاتا ہے، مگر محنت کشوں کی مزاحمت کی اصل تاریخ عالمی اور متنوع ہے،اور اکثر نظر انداز کی گئی ہے۔
مزدوروں کی تاریخ کے مرکزی بیانیے سے بڑی حد تک مٹا دیا جانے والا، ایسا ہی ایک لمحہ29اپریل1865کو جموں کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں رونما ہوا، یعنی آج کے یوم مئی سے صرف دو دن پہلے۔دہائیوں کے استحصال سے تنگ ہزاروں کشمیری شال باف ڈوگرہ بادشاہت کے ظالمانہ ٹیکس نظام کے خلاف ایک پرامن لیکن جرأتمندانہ احتجاج میں شریک ہوئے۔ درجنوں مارے گئے، قائدین کو قید اور اذیت دی گئی۔ اس کے باوجود ان کی بغاوت صنعتی مزدوروں کی ابتدائی اور بڑی ہڑتالوں میں سے ایک شمار ہوتی ہے۔یہ عالمی مزدور تحریک کو جنم دینے والی امریکہ کی اُس مشہور مزدور تحریک سے پورے 21 سال پہلے رونما ہوئی۔
18ویں اور19ویں صدی کے دوران’چانگ تھنگی بکریوں (بلند پہاڑی علاقوں میں پائی جانے والی خاص قسم کی بکری، جو تبت کے چانگ تھنگ علاقے میں پائے جانے کی وجہ سے چانگ تھنگی بکری کہلاتی ہے)کے نہایت باریک اندرونی اون(پشم) سے تیار کی جانے والی کشمیری شالیں دنیا کی سب سے قیمتی اشیاء میں شمار ہوتی تھیں۔ فرانس، روس، عثمانی سلطنت، اور برطانیہ میں یہ شالیں اعلیٰ ذوق کی علامت تھیں۔ تاہم ان کی خوبصورتی اُن کی پیداوار کے حالات اور محنت کے استحصال پر پردہ ڈالتی تھی۔
1846کے معاہدہ امرتسر کے تحت گلاب سنگھ نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے کشمیرسمیت جموں کشمیر کے کچھ دیگر علاقوں کو75لاکھ نانک شاہی (سکہ رائج الوقت) میں خریدا تھا۔ اس معاہدے کے تحت وجود میں آنے والی ڈوگرہ حکومت نے جموں کشمیر کی معیشت کو ریاست اور اس کے نوآبادیاتی سرپرستوں کے مفاد میں ڈھالا۔ معاہدے کی شق نمبر 10 کے تحت برطانوی تاج کو ہر سال ایک گھوڑا، 12 شال بافی میں کام آنے والی بکریاں (6 نر،6 مادہ)، اور تین جوڑے کشمیری شالیں پیش کرنا لازمی قرار پایا۔ چونکہ شال بافی سب سے منافع بخش صنعت تھی،اس لیے اس پر سخت مالیاتی نگرانی اور ضوابط عائد کیے گئے۔
ڈوگرہ انتظامیہ نے شال کی تجارت پر مختلف اقسام کے ٹیکس اور پرمٹ عائد کیے۔ بنائی، رنگائی اور کتائی کرنے والوں کو ایک اجارہ دارانہ نظام کے تحت کام کرنے پر مجبور کیا گیا، جسے ’داغ شال ڈیپارٹمنٹ‘چلاتا تھا، اور ہر مرحلے پر آمدنی وصول کرتا تھا۔ ایک مزدور جو 7 یا 8 روپے کماتا تھا، اُس میں سے 5 روپے ٹیکس اور جبری محصول میں چلے جاتے تھے، اور وہ تقریباً فاقہ کشی پر آ جاتا۔ بچے 5سال کی عمر سے کام کرتے، اور لڑکیاں 10سال کی عمر میں محنت میں شامل ہو جاتی تھیں۔ بنائی کرنے والوں کو نہ نقل مکانی کی اجازت تھی، نہ ہی کسی اور آجر کے ساتھ کام کرنے کی، حتیٰ کہ وہ وادی (کشمیر)سے باہر بھی نہیں جا سکتے تھے۔ نیویارک ٹائمز نے ان کے کام کی جگہوں کو ’افلاس سے بھرے ہوئے عذاب کے کمرے‘ قرار دیا تھا۔
یورپ میں ٹیکسٹائل کی انڈسٹرئیلائزیشن کے ابھار نے ان استحصالی ڈھانچوں کو مزید بگاڑ دیا۔ 19ویں صدی کے وسط تک اسکاٹ لینڈ کے شہر پیسلے میں جیکوارڈ لومز سے بننے والی شالوں نے عالمی منڈی کو سستی نقلی مصنوعات سے بھر دیا، اور کشمیری ہاتھ سے بنی شالوں کی مانگ میں شدید کمی آئی۔ مہاراجہ نے اس مقابلے سے نمٹنے کے لیے خود بھی جیکوارڈ لومز درآمد کیے۔
کشمیر کی اجارہ داریکو توڑنے کی دیگر کوششیں بھی ہوئیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک مہم جو ولیم مورکرافت نے چانگ تھنگی بکریاں انگلینڈ بھیجنے کی کوشش کی۔ مگر ایک المیہ نما مضحکہ خیز انتظامی غلطی کے سبب نر اور مادہ بکریوں کو الگ الگ جہازوں پر بھیجا گیا۔ اگرچہ وہ برطانوی موسم سے ہم آہنگ ہو گئیں، لیکن پشمینہ شال کے لیے اصلی پشم پیدا نہ کر سکیں۔
فرانسیسی صنعت کاروں کو تھوڑی زیادہ کامیابی ملی۔ ولیم لوئس ٹرناؤ اور ژاں بابتست دکریتو جیسے تاجروں نے 150 پشمینہ بکریاں درآمد کیں، جن سے ’کشمیرز‘ یا ’ٹرناؤ‘ شالوں کی ایک مشہور قسم بنائی۔ تاہم ان میں سے اکثر بکریاں یورپی موسم سے مطابقت نہ رکھ سکیں اور مر گئیں۔ایک بار پھر ثابت ہوا کہ کشمیر کا ماحول اور لیبر ایکالوجی ناقابل تقلید ہے۔
اگرچہ یورپ میں بکریوں کی افزائش ناکام رہی، لیکن سستی نقلی مصنوعات کی آمد نے کشمیری شالوں کی مانگ ختم کر دی۔ کشمیر میں خریداری کی قیمت واپس حاصل کرنے کے دباؤ کا شکار ڈوگرہ حکومت نے جواباً شال انڈسٹری پر ٹیکسوں کو اور سخت کر دیا، جس پر شال بافوں نے مزاحمت کی۔پہلا قابل ذکر احتجاج 6 جون 1847 کو ہوا، جب تقریباً 4 ہزارشال بافوں نے سری نگر میں مظاہرہ کیا اور ظلم سے نجات کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ یہ احتجاج دبایا گیا، مگر وادی میں مزدور طبقے کی منظم مزاحمت کی ابتدا ہو گئی۔
اس سے بھی اہم اور خونی بغاوت 18 سال بعد 29 اپریل 1865 کو ہوئی۔ اس کی وجہ داغ شال ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ راج کاک دھر کا رویہ تھا، جو مبینہ طور پر محنت کشوں کی تقریباً ساری آمدنی جبری محصولات کے ذریعے لوٹ لیتا تھا۔ ہزاروں شال باف سری نگر کے نواحی مزدور علاقے زالداگر میں جمع ہوئے۔ حکومت نے شدید طاقت سے جواب دیا۔ سپاہیوں نے نہ صرف گولیاں چلائیں بلکہ مظاہرین کو کٹا کول میں دھکیل دیا، جو دریائے جہلم سے نکلنے والی نہر تھی۔ نہر سے کم از کم 28 لاشیں برآمد ہوئیں۔
تحریک کے قائدین ابلی بابا، شیخ رسول، قدہ لالہ اور سونا بھٹ کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالا گیا اور اذیت ناک سزائیں دی گئیں۔ ان میں سے دو دورانِ حراست مارے گئے، باقی کو جموں کے باہو قلعہ میں منتقل کر دیا گیا۔ مہاراجہ نے ابتدا میں کوئی رعایت نہ دی، مگر چند ماہ بعد جزوی ٹیکس معافی کا اعلان کیا۔ تاہم یہ ٹیکس بعد میں دوبارہ نافذ ہو گئے کیونکہ 1870 کی فرانکو پرشین جنگ نے کشمیر کی یورپی برآمدات کا 80 فیصد تباہ کر دیاتھا۔
عظیم کساد بازاری اور پہلی عالمی جنگ کے بعد طویل معاشی جمود نے شال اور ریشم کی صنعتوں کو مزید غیر مستحکم کر دیا۔ 20ویں صدی کے آغاز تک کشمیری محنت کش، جو اب صرف شال سازی تک محدود نہیں تھے، منظم ہونا شروع ہو گئے۔
1924 میں ریشم فیکٹری کے مزدوروں نے بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا۔ انہیں صرف 4.5 آنے یومیہ ملتے تھے۔اس احتجاج میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جس کے نتیجے میں فوج نے عارضی طور پر سری نگر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اگرچہ اجرت میں معمولی اضافہ ہوا، مگر ایک بڑی کامیابی یہ تھی کہ منظم مزاحمت کی طاقت کا شعور پیدا ہوا۔
1930 کی دہائی کے وسط تک قالین بننے والوں، تانگہ چلانے والوں، موٹر آپریٹرز اور کشتی بانوں سمیت مختلف صنعتوں کے مزدوروں کی یونینیں ’مزدورسبھا‘ کے بینر تلے متحد ہو گئیں۔ مزدور سبھا1937میں قائم ہوئی، اس کے صدر جی ایم صادق اور سیکرٹری پریم ناتھ بزاز تھے۔
4 اکتوبر 1937 کو مزدور سبھا نے ایک تاریخی جلوس نکالا۔ محنت کشوں اور کسانوں کے اس مشترکہ احتجاج میں 5 سے 7 ہزارافراد شامل تھے، جن میں 3 ہزارریشم فیکٹری مزدور بھی تھے۔ اس مظاہرے کی انفرادیت اس کی علامتی جدت تھی۔ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار سرخ جھنڈے عوامی طور پر لہرائے گئے۔
مظاہرین کے نعروں میں بنیادی سماجی اور اقتصادی نابرابریوں کو چیلنج کیا گیا۔معروف نعروں میں ’ہم اس نظام کو بدلیں گے جو مزدور کو انسان نہیں سمجھتا‘، ’ہمیں روٹی چاہیے‘، ’ایک فرد روزانہ 17 ہزارکماتا ہے، اورمزدور کو صرف ایک پیسہ ملتا ہے‘، جیسے نعرے شامل تھے۔
یہ مظاہرہ ایک ثقافتی اور سیاسی موڑ کا سبب بنا۔ کمیونسٹ علامات اور خصوصاً سرخ جھنڈا کشمیری مزدور تحریکوں کی مستقل علامت بن گئے۔
29 اپریل 1865 کی ہڑتال کو یاد رکھا جانا چاہیے۔ ایسا صرف اس قتل عام کو یاد کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس دن کو اس لیے یاد رکھا جانا چاہیے کہ یہ ایک منظم معاشی ظلم کے خلاف مزدور طبقے کی اولین اور واضح مزاحمت تھی۔ یہ ہے مارکیٹ واقعے اور وسکونسن کی مزدور تحریک سے پہلے کی بات ہے۔ اس میں فن اور دکھ، عالمی تجارت اور مقامی فاقہ کشی آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
