← Back to Newsroom OS پاکستان

عام ہڑتال، انٹرنیٹ شٹ ڈاون کا 15 واں دن

By Roznama Jeddojehad • 2026-06-23 • 3 min read

مجیب اکبر

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں انٹرنیٹ بلیک آوٹ اور دھرنوں کو آج پندرہ روز ہو چکے ہیں. اس سارے عرصے میں پورا خطہ مفلوج ہے۔ بڑے شہروں میں کرفیو نافذ ہے۔ اطلاعات ہیں کہ راولاکوٹ کے مساجد میں پچھلے دونوں جمعہ کے اجتماع تک کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس ساری صورتحال میں میں پاکستان کا مین سٹریم میڈیا اس تحریک کے متعلق غلط پروپیگنڈے میں مصروف ہے. پاکستانی میڈیا، سیاستدان اور بااثر حلقے اس تحریک کو طاقت کے زور پر کچلنے اور جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان کو گرفتاریاں دینے کا مطالبہ دھمکی کی صورت میں دے رہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ایک سو پچاس سیاسی کارکنوں کو فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا ہے۔ مختلف کارکنوں کے گھروں میں چھاپوں اور گرفتاریاں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے سابق وزیراعظم اور مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد، مسلم لیگ (نواز) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور ایک خاتون وزیر نے سنیچر کے روز اسلام آباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی۔انہوں نے ریاست میں جاری موجودہ تحریک کے قائدین کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے مسلم کانفرنس پر الزام ہے کہ گزشتہ لانگ مارچ میں مظفرآباد میں ایک ریلی پر انکے کارکنان نے فائزنگ کی تھی۔

اظہار لاتعلقی کے مشکوک بیان

سنیچر کی رات ہی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیگل ایڈوائزر اور کور کمیٹی کے رکن، ایڈوکیٹ امجد علی خان، کا ایک ویڈیو پیغام انکے فیس بک پر پوسٹ ہوا۔ اس پیغام میں انہوں نے جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ انکے بارے میں پانچ جون کو گرفتاری کی اطلاعات آئی تھیں جس پر انہوں نے ایک مختصر ویڈیو پیغام میں اس خبر کی تردید کی تھی۔ تاہم اس تردیدکے بعد،جب ان سے کسی کا کوئی رابطہ نہ ہو سکا تو ان کے بیان نے کئی خدشات کو جنم دیا۔ سوشل میڈیا پر قیاس ۤرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کیا انہوں نے یہ بیان خود دیا ہے یا یہ بیان دلوایا گیا ہے۔

امجد ایڈوکیٹ کے متعلق ایک یہ تاثر بھی رہا ہے کہ مہاجرین کی سیٹوں کا مطالبہ انہوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل کیا تھا، وہ. لمبے عرصے سے ان سیٹوں کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔ 2018 میں انہوں نے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی سپریم کورٹ میں ان سیٹوں کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔ ان مخصوص نشستوں کو بعد میں اس وقت کی وزیر اعظم فاروق حیدر کی حکومت نے آئینی تحفظ دیا تھا. انہی مہاجرین کی نشستوں کا مطالبہ تھا جس پر حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کی طرف سے انکے اس بیان پر ابھی تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ اسی اثنا میں انجم زمان اعوان، رکن کور کمیٹی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، کا بیان بھی سامنے ۤیا ہے۔ انہوں نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں کمیٹی سے اظہار لاتعلقی کیا ہے۔

خواتین اور بچوں کے مظاہرے

اتوار کے روز پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں خواتین اور بچوں نے جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حق میں احتجاج کیے اور ریاست سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لے، گرفتار کارکنوں کو رہا کرے اور انٹرنیٹ بلیک آوٹ کو ختم کرتے ہوئے اشیاء خورد نوش کی ترسیل کو بحال کرے۔ دریں اثنا، راولا کوٹ کی سرحد پر جاری پر امن مرکزی دھرنا اپنی جگہ موجود رہا۔