عسکری انقلابی کمیٹی
(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
جولائی کے آخر سے مزاج میں تبدیلی کے آغاز کے باوجود سارے اگست کے دوران پیٹروگراڈ گیریزن پر سوشل انقلابی اور منشویک حاوی رہے۔ پرولتاریہ غیرمسلح تھا؛ سرخ محافظوں کے پاس چند ہزار رائفلیں ہی تھیں۔ اِس حقیقت کے باوجود کہ عوام ایک بار پھر بالشویکوں کی طرف آ رہے تھے، اِن حالات میں سرکشی شاید بے رحم شکست پر منتج ہوتی۔
تاہم ستمبر کے دوران صورتحال بتدریج تبدیلی ہوتی گئی۔ جرنیلوں کی بغاوت کے بعد گیریزن میں مصالحت پسندوں کی حمایت تیزی سے کم ہوئی۔ بالشویکوں پر شک کی جگہ ہمدردی یا کم از کم ایک محتاط غیرجانبداری نے لے لی۔ لیکن یہ ہمدردی متحرک نہیں تھی۔ سیاسی لحاظ سے گیریزن انتہائی متزلزل اور (جیسا کہ کسان ہوتے ہیں) مشکوک رہا۔ بالشویک ہمیں دھوکہ تو نہیں دیں گے؟ کیا وہ واقعی ہمیں امن اور زمین دیں گے؟ ابھی تک سپاہیوں کی اکثریت کو اِن مقاصد کے لئے بالشویکوں کے پرچم تلے لڑنے کا کوئی خیال نہیں آیا تھا۔ اور چونکہ گیریزن میں ابھی تک ایک تقریباً ناحل پذیر اقلیت (پانچ یا چھ ہزار جنکر، تین کاسک رجمنٹیں، سائیکل بٹالین اور ایک بکتر بند گاڑی ڈویژن) بالشویکوں کی مخالف تھی، لہٰذا ستمبر میں ایک تصادم کا نتیجہ غیریقینی تھا۔ تاہم واقعات کی روش ایک اور معروضی سبق اپنے ساتھ لائی، جس سے پیٹروگراڈ کے سپاہیوں کا مقدر، انقلاب اور بالشویکوں کے مقدر سے ناقابل علیحدگی ثابت ہوا۔
مسلح افراد کے جتھوں کو کنٹرول کرنے کااختیار ایک ریاستی اقتدار کا بنیادی اختیار ہوتا ہے۔ مجلس عاملہ کی جانب سے عوام پر مسلط کی گئی عبوری حکومت نے ضمانت دی تھی کہ پیٹروگراڈ سے اُن فوجی یونٹوں کو نہیں ہٹائے گی جنہوں نے فروری انقلاب میں حصہ لیا تھا۔ یہ عسکری دوہرے پن کا باقاعدہ آغاز تھا، جو دوہری حاکمیت سے ناقابل علیحدگی تھا۔آنے والے مہینوں کے ہر بڑے سیاسی ہنگامے ( اپریل کا مظاہرہ، جولائی کے دن، کورنیلوف کی سرکشی کی تیاری اور اُس کا خاتمہ) کا سامنا ناگزیر طور پر پیٹروگراڈ گیریزن کی ماتحتی کے سوال سے ہوا۔ لیکن اِس مسئلے پر مصالحت پسندوں اور حکومت کے تنازعات آخر کار اُن کا آپسی معاملہ تھے اور دوستانہ انداز میں اپنے انجام کو پہنچے۔ گیریزن کی ’بالشیوائزیشن‘ کے ساتھ معاملات نے ایک مختلف رُخ اختیار کیا۔ اب سپاہی خود سے وہ ضمانت یاد کرنے لگے جو مارچ میں حکومت نے مجلس عاملہ کو دی تھی اور پھردغابازی سے اس کی خلاف ورزی کی۔ 8 ستمبر کو سوویت کے سپاہیوں والے حصے نے مطالبہ کیا کہ جولائی کے واقعات کے حوالے سے محاذ پر منتقل کی جانے والی رجمنٹوں کو واپس پیٹروگراڈ لایا جائے۔ اِسی دوران مخلوط حکومت کے اراکین اپنے سرکھجا رہے تھے کہ باقی کی رجمنٹوں سے کیسے جان چھڑائی جائے۔
کئی صوبائی شہروں میں بھی دارالحکومت والی کیفیت موجود تھی۔ جولائی اور اگست کے دوران مقامی گیریزن ایک حب الوطن تعمیر نو کے عمل سے گزرے؛ اگست اور ستمبر کے دوران یہ نو تعمیر شدہ گیریزن بالشیوائزیشن کے عمل سے گزرے۔ یوں [حکومت اور مصالحت پسندوں کے لئے] ایک بار پھر تبادلے اور تعمیر نو ضروری ہو گئی۔ حکومت نے پیٹروگراڈ پر ضرب لگانے کی تیاری کا آغاز صوبوں سے کیا۔ سیاسی مقاصد کو بڑی احتیاط سے فوجی حکمت عملی کے حیلے بہانوں میں چھپایا گیا۔ 27 ستمبر کو ریوال کی سوویتوں کے مشترکہ اجلاس میں گیریزنوں کی تبدیلوں کے سوال پر یہ قرارداد منظور کی گئی: افواج کی ازسرنو گروہ بندی صرف اِسی صورت میں قابل قبول ہے جب متعلقہ سوویتیں اِ س سے پیشگی متفق ہوں۔ ولادیمیر سوویت کے رہنماؤں نے ماسکو والوں سے پوچھا آیا سارے گیریزن کی منتقلی کے کیرنسکی کے احکامات کی اطاعت کی جائے۔ ماسکو میں بالشویکوں کے علاقائی بیورو نے بیان کیا کہ ’’انقلابی مزاج رکھنے والے گیریزنوں کے بارے میں اِس طرح کے احکامات باقاعدگی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔‘‘
پیٹروگراڈ گیریزن کی تنظیم نو اشد ضروری ہوتی جا رہی تھی کیونکہ سوویتوں کی آنے والی کانگریس نے کسی نہ کسی طرح اقتدار کی جدوجہد کا کوئی فیصلہ کرنا تھا۔ کیڈٹ جریدے ’ریخ‘ کی قیادت میں بورژوا پریس ہر روز زور دے رہی تھی کہ ہمیں ’’بالشویکوں کو خانہ جنگی کے اعلان کے لئے اِس وقت کا فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہئے۔‘‘ اِس کا مطلب تھا: ہمیں بالشویکوں پر ایک بروقت ضرب لگانی چاہئے۔ گیریزن میں طاقتوں کے توازن میں پیشگی تبدیلی کی کوشش اِسی تمہید کا ناگزیر نتیجہ تھی۔ سقوطِ ریگا اور مونسنڈ کے جزیروں کے نقصان کے بعد تذویراتی نقطہ نظر سے یہ دلائل بہت متاثر کن نظر آتے تھے۔ علاقائی صدر دفتر نے حملے کی تیاری کے لئے پیٹروگراڈ کے یونٹوں کی تنظیم نو کا حکم جاری کر دیا۔ عین اِسی وقت مصالحت پسندوں نے معاملے کو سوویت کے سپاہیوں والے حصے میں اٹھایا۔ یہاں دشمن کا منصوبہ کچھ برا نہیں تھا: بالشویکوں سے فوجی حمایت چھیننے کے لئے سوویت کے سامنے [دستوں کی پیٹروگراڈ سے محاذ پر منتقلی کا] فیصلہ کن تذویراتی مطالبہ رکھا جائے، اگر سوویت مزاحمت کرے تو پیٹروگراڈ گیریزن اور محاذ، جسے کمک کی ضرورت تھی، کے درمیان گہرے تصادم کو ہوا دی جائے۔
اپنے خلاف بچھائے گئے جال سے بخوبی آگاہ سوویت کے رہنماؤں [۱] نے کوئی ناقابل واپسی قدم اٹھانے سے پہلے صورتحال کا گہرا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ کھلا انکار صرف اِسی صورت میں ممکن تھا اگر یقینی ہوتا ہے کہ انکار کے مقاصد کو محاذ والے درست طور پر سمجھ جائیں گے۔ بصورت دیگر مورچوں والوں کے اتفاق رائے سے گیریزن کے کچھ یونٹوں کو محاذ کے ایسے انقلابی یونٹوں سے تبدیل کرنا زیادہ فائدہ مند ہوتا جنہیں آرام کی ضرورت تھی۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بتایا ہے کہ ریوال سوویت نے بھی یہی بات کی تھی۔
سپاہیوں نے سوال کو زیادہ اکھڑ انداز سے لیا۔ اب موسم خزاں کے وسط میں محاذ پر حملہ شروع کر دیں؟ خود کو اِس نئی موسم سرما کی مہم پر راضی کر لیں؟ نہیں، اُن کے دماغ میں اِس خیال کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ حب الوطن پریس نے فوراً اپنی توپوں کا رخ گیریزن کی طرف کر دیا: بیکاری میں موٹی ہو چکی پیٹروگراڈ کی رجمنٹیں محاذ سے غداری کر رہی ہیں۔ مزدوروں نے سپاہیوں کا ساتھ دیا۔ رجمنٹوں کی منتقلی کے خلاف سب سے پہلے پیوٹیلوف فیکٹری کے مزدوروں نے احتجاج کیا۔ اس وقت کے بعد سے یہ سوال بیرک اور فیکٹری کی روز مرہ کی کاروائی کے ایجنڈے سے نکالا نہیں گیا۔ اِس سے سویت کے دونوں حصے ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ رجمنٹیں بھرپور تندہی سے اِس مطالبے کی حمایت کرنے لگیں کہ مزدوروں کو مسلح کیا جائے۔
پیٹروگراڈ کے سقوط کے خطرے سے ڈرا کر عوام کی حب الوطنی کو بھڑکانے کے لئے مصالحت پسندوں نے 9 اکتوبر کو سوویت میں ’’انقلابی دفاعی کمیٹی‘‘ تشکیل دینے کی تجویز پیش کی، جس کا مجوزہ فریضہ مزدوروں کی متحرک معاونت سے دارالحکومت کا دفاع تھا۔ ’’عبوری حکومت کی نام نہاد عسکری حکمت عملی اور بالخصوص پیٹروگراڈ سے دستوں کو ہٹانے‘‘ کی ذمہ داری قبول کرنے سے صاف انکار کرنے کے باوجود سوویت نے سپاہیوں کو ہٹانے کے حکم کے متن پر ردِ عمل ظاہر کرنے میں کوئی جلدی نہ کی، بلکہ اِس کے پس پردہ مقاصد اور اِس کی بنیاد بننے والے حقائق کو پرکھنے کا فیصلہ کیا۔ منشویکوں نے احتجاج کیا: فوجی قیادت کے نافذ العمل احکامات میں مداخلت ممنوع ہے۔ لیکن صرف ڈیڑھ ماہ قبل وہ یہی بات کورنیلوف کے سازشی احکامات کے بارے میں بھی کر رہے تھے۔ اُنہیں یہ حقیقت یاد بھی دلائی گئی۔ سپاہیوں کی منتقلی کے مقاصد سیاسی تھے یا عسکری، اِس سوال کو پرکھنے کے لئے ایک اہل ادارے کی ضرورت تھی۔ مصالحت پسند حیران رہ گئے جب بالشویکوں نے ’’دفاعی کمیٹی‘‘ کی تجویز منظور کر لی۔ اِس کمیٹی کو دارالحکومت کے دفاع سے متعلقہ تمام مواد جمع کرنا تھا۔ یہ ایک اہم قدم تھا۔ دشمن کے ہاتھ سے یہ خطرناک ہتھیار چھین لینے کے بعد سوویت اب بھی اِس قابل تھی کہ دستے ہٹانے کے فیصلے کو حالات کے مطابق جس طرف چاہے موڑ دے، لیکن اِسے بہرصورت حکومت اور مصالحت پسندوں کے خلاف موڑا جانا تھا۔
بالشویکوں نے بالکل فطری طور پر ’عسکری کمیٹی‘ کے اِس منشویک منصوبے پر اِس لئے قبضہ کر لیاکہ اُن کی اپنی صفوں میں آنے والی سرکشی کی قیادت کے لئے ایک با اختیار سوویت کمیٹی کی بروقت تشکیل کی ضرورت کی باتیں اکثر و بیشتر ہوتی تھیں۔ پارٹی کی فوجی تنظیم میں ایسے ادارے کے لئے منصوبہ بندی بھی کی گئی تھی۔ لیکن ایک مشکل جس پر وہ قابو نہیں پا سکے تھے وہ سرکشی کے ایک اوزار کی ایک انتخابی اور کھلے عام کام کرنے والی سوویت سے مطابقت قائم کرنا تھی۔ مزید برآں سوویت کی نشستوں پر مخالف پارٹیوں کے نمائندگان بھی بیٹھتے ہوتے تھے۔ اِس لئے منشویکوں کی یہ حب الوطن تجویز انتہائی برقت تھی اور اُس انقلابی صدر دفتر کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوئی جسے جلد ہی ’’عسکری انقلابی کمیٹی‘‘ کا نیا نام دیا جانا تھا اور جس نے انقلاب کا کلیدی اوزار بننا تھا۔
مذکورہ بالا واقعات کے دو سال بعد اِس کتاب کے مصنف نے اکتوبر انقلاب کے لئے وقف ایک مضمون میں لکھا: ’’جیسے ہی پیٹروگراڈ سوویت کی مجلس عاملہ کو فوج کے صدر دفتر سے دستے ہٹانے کا حکم موصول ہوا… یہ واضح ہو گیا کہ اپنے آگے کے ارتقا میں یہ سوال ایک فیصلہ کن سیاسی اہمیت کا حامل ہو گا۔‘‘ اِسی لمحے سے سرکشی کا خیال تشکیل پانے لگا۔ مستقبل کی کمیٹی کا حقیقی مقصد اُسی وقت واضح ہو گیا تھا جب اِسی اجلاس میں ٹراٹسکی نے بالشویکوں کی عبوری پارلیمنٹ سے علیحدگی کی رپورٹ اِس نعرے پر ختم کی تھی: ’’سارے ملک میں انقلابی اقتدار کی کھلی اور براہِ راست جدوجہد زندہ باد!‘‘ یہ سوویت قانونیت کی زبان میں اِس نعرے کا ترجمہ تھا: ’’مسلح سرکشی زندہ باد!‘‘
اگلے دن 10 تاریخ کو بالشویکوں کی مرکزی کمیٹی نے خفیہ اجلاس میں لینن کی قرارداد منظور کی، جس میں مسلح سرکشی کو آنے والے دنوں کا عملی فریضہ قرار دیا گیا تھا۔ اِس وقت کے بعد سے پارٹی نے ایک واضح اور لازمی ساخت اختیار کر لی۔ اقتدار کی براہِ راست جدوجہد کے منصوبوں میں دفاعی کمیٹی کو شامل کر لیا گیا۔
حکومت اور اِس کے اتحادیوں نے گیریزن کو ہم مرکز حلقوں سے گھیر لیا۔ 11 تاریخ کو شمالی محاذ کے کمانڈر جنرل چیری میسوف نے وزیر جنگ سے مطالبہ کیا کہ محاذ کے تھکے ہارے یونٹوں کو عقب سے پیٹروگراڈ کے یونٹوں سے تبدیل کیا جائے۔ اِس معاملے میں صدر دفتر کا کردار فوجی کمیٹیوں کے مصالحت پسندوں اور اُن کے پیٹروگراڈ کے رہنماؤں کے درمیان رابطے کے وسیلے کا تھا جو کیرنسکی کے منصوبوں کے لئے وسیع آڑ تخلیق کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔مخلوط حکومت کی پریس بھی حب الوطن ہذیان کی دُھن کیساتھ گھیرا ڈالنے کی اِس کاروائی میں شامل تھی۔ تاہم رجمنٹوں اور فیکٹریوں کے روزانہ کے اجلاسوں نے ثابت کیا کہ حکمران حلقوں کی یہ موسیقی نیچے کی صفوں پر بالکل بھی اثرانداز نہیں ہو رہی تھی۔ 12 تاریخ کو دارالحکومت کی سب سے انقلابی فیکٹریوں میں سے ایک (اولڈ پرویائینن ) کے مزدوروں نے بورژوازی کے حملوں کا یہ جواب دیا: ’’ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں جب بھی مناسب لگا ہم سڑک پر جائیں گے۔ ہم آنے والی جدوجہد سے خوفزدہ نہیں ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم فتحیاب ہوں گے۔‘‘
’’دفاعی کمیٹی‘‘ کے ضابطے مرتب کرنے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیتے ہوئے پیٹروگراڈ سوویت کی مجلس عاملہ نے مستقبل کے اِس عسکری ادارے کے لئے اِن فرائض کا تعین کیا: شمالی محاذ، پیٹروگراڈ ڈسٹرکٹ کے صدر دفتر، سینٹروبالٹ اور فن لینڈ کی علاقائی سوویت سے رابطہ استوار کرنا، تاکہ عسکری صورتحال کا پتا لگایا جا سکے اور ضروری اقدامات اٹھائے جا سکیں؛ پیٹروگراڈ گیریزن کی افرادی ترکیب اور اسلحے اور فوجی رسد کی محصول شماری کرنا؛ مزدور اور سپاہی عوام میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے اقدامات کرنا۔ یہ کلیہ ہر چیز کا مرکب بھی تھا اور ساتھ ہی ساتھ مبہم بھی: سب کچھ دارالحکومت کے دفاع اور مسلح سرکشی کے درمیان ایک باریک لکیر پر کھڑا تھا۔تاہم یہ دونوں فرائض، جو قبل ازیں ایک دوسرے سے ناقابل مصالحت تھے، اب یکجا ہوتے جا رہے تھے۔ اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سوویت کو پیٹروگراڈ کا عسکری دفاع کرنا تھا۔ اس لئے دفاعی بہروپ کا عنصر زبردستی شامل نہیں کیا گیا تھا بلکہ کسی حد تک سرکشی سے پہلے کے حالات میں سے برآمد ہوا تھا۔
بہروپ کے اِسی مقصد کے لئے ’’دفاعی کمیٹی‘‘ کا سربراہ ایک بالشویک کو نہیں بلکہ ایک سوشل انقلابی کو بنایا گیا۔ یہ ایک نوجوان اور شریف لیفٹنٹ لازیمیر تھا، جو بائیں بازو کے اُن سوشل انقلابیوں میں سے تھا جو سرکشی سے قبل ہی بالشویکوں کے ساتھ چل رہے تھے، اگرچہ ہمیشہ پیش بینی نہیں کر سکتے تھے کہ یہ راستہ کدھر لے جائے گا۔ لازیمیر کے ابتدائی مسودے کی تدوین ٹراٹسکی نے دو پہلوؤں سے کی: گیریزن کو جیتنے کے عملی مقاصد کا تعین زیادہ واضح طور پر کیا گیا، عمومی انقلابی مقصد کو اور بھی پوشیدہ کر دیا گیا۔ دو منشویکوں کے احتجاج کے خلاف مجلس عاملہ سے منظور شدہ اِس مسودے نے عسکری انقلابی کمیٹی کے عملے میں سوویت اور سپاہیوں والے حصے کی صدارتی انتظامیہ اور بحری بیڑے، فن لینڈ کی علاقائی کمیٹی، ریلوے یونینوں، فیکٹری کمیٹیوں، ٹریڈ یونینوں، پارٹی کی فوجی تنظیموں اور سرخ محافظوں کے نمائندگان کو بھی شامل کیا۔ تنظیمی بنیاد دوسری کئی صورتوں والی ہی تھی، لیکن کمیٹی کی افرادی ترکیب کا تعین اِس کے نئے فرائض نے کیا تھا۔ یہ فرض کیا گیا کہ اِن تنظیموں کی جانب سے عسکری معاملات سے واقفیت یا گیریزن سے قربت رکھنے والے نمائندگان بھیجے جائیں گے۔ ایک اوزار کا کردار اِس کے کام سے مشروط ہونا چاہئے۔
اِس عرصے کی ایک اور تشکیل بھی کچھ اہم نہیں تھی۔ عسکری انقلابی کمیٹی کی ہدایت کے تحت ’گیریزن کی مستقل مجلس مشاورت‘ تشکیل دی گئی۔ سوویت کا سپاہیوں والا حصہ گیریزن کی نمائندگی سیاسی طور پرکرتا تھا۔اِس کے نمائندے پارٹی ناموں کے تحت منتخب کئے گئے تھے۔ تاہم گیریزن کی مجلس مشاورت کو اُن رجمنٹ کمیٹیوں پر مشتمل ہونا تھا جو اپنے یونٹوں کی روز مرہ کی بنیادوں پر رہنمائی کرتی تھی اور یوں زیادہ فوری اور عملی ’’گلڈ‘‘ نمائندگی پر مبنی تھیں۔ رجمنٹ اور فیکٹری کمیٹیوں میں مشابہت واضح ہے۔ سوویت کے مزدور حصے کی وساطت سے بالشویک اِس قابل تھے کہ بڑے سیاسی سوالات پر پورے وثوق سے مزدوروں پر انحصار کر سکیں۔ لیکن فیکٹریوں میں مختارِ کُل بننے کے لئے ضروری تھا کہ فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں کو جیتا جائے۔ اِسی طرح سپاہیوں والے حصے کی ترکیب بالشویکوں کو گیریزن کی اکثریت کی سیاسی ہمدردی کی ضمانت دیتی تھی۔ لیکن فوجی یونٹوں کا عملی اختیار حاصل کرنے کے لئے رجمنٹ کمیٹیوں پر براہِ راست انحصار کرنا ضروری تھا۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ کیوں سرکشی سے پہلے کے عرصے میں گیریزن کی مجلس مشاورت نے سپاہیوں والے حصے کی جگہ لے لی اور سٹیج کے مرکز میں آگئی۔ویسے سپاہیوں والے حصے کے زیادہ نمایاں نمائندے بھی مجلس مشاورت کے رکن تھے۔
اِن دنوں سے کچھ ہی عرصہ قبل لکھے گئے ایک مضمون ’’بحران پک کر تیار ہو چکا ہے‘‘ میں لینن نے ڈانٹتے ہوئے پوچھا تھا: ’’سپاہیوں کے مزاج کو جانچنے کے لئے پارٹی نے کیا کیا ہے… ؟ بالشویکوں کی فوجی تنظیم کے انتھک کام کے باوجود لینن کی ڈانٹ جائز تھی۔ پارٹی کے لئے قوتوں اور لوازمات کا خالصتاً عسکری معائنہ کرنا مشکل تھا:اس کے لیے درکار مہارت اور نقطہ نظر دونوں ہی نہیں تھے۔ گیریزن کی مجلس مشاورت کے منظر عام پر آنے سے صورتحال بدل گئی۔ اِس کے بعد سے نہ صرف دارالحکومت کے گیریزن بلکہ اِس کے ارد گرد موجود عسکری حلقے کا سارا منظر رہنماؤں کی نظروں کے سامنے سے گزرنے لگا۔
12 تاریخ کو مجلس عاملہ نے لازیمیر کے کمیشن کے مرتب کردہ ضابطوں پر غور کیا۔ اجلاس کے خفیہ ہونے کے باوجود بحث کسی حد تک مبہم زبان میں کی گئی۔ سوخانوف غلط نہیں لکھتا کہ ’’وہ کہتے کچھ تھے اور مطلب کچھ اور ہی ہوتا تھا۔‘‘ اِن ضابطوں نے دفاعی شعبہ جات کی کمیٹی کے تحت رسد، مواصلات اور جاسوسی وغیرہ کو یقینی بنایا؛ یہ درحقیقت ایک صدر دفتر یا مخالف دفتر کی تشکیل تھی۔ مجلس مشاورت کا مقصد گیریزن کی لڑاکا صلاحیت میں اضافہ قرار دیا گیا: یہ بالکل درست تھا، لیکن لڑاکا صلاحیت کو کئی طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ منشویک بے بس طیش سے دیکھ رہے تھے کہ اُن کی جانب سے حب الوطن مقاصد کے لئے پیش کئے گئے خیال کو سرکشی کی تیاری کی ایک آڑ میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ یہ بہروپ کسی صورت بھی ناقابل فہم نہیں تھا، ہر کوئی جانتا تھا کہ کیا بات ہو رہی تھی، لیکن عین اِسی وقت اِسے توڑا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ کیا مصالحت پسندوں نے بھی ماضی کے نازک لمحات میں گیریزن کو اپنے گرد مجتمع کرتے ہوئے اور حکومت کے متوازی مقتدر ادارے بناتے ہوئے ایسے ہی طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کیا تھا؟ بالشویک تو دوہرے اقتدار کی اِنہی روایات کی پیروی کر رہے تھے۔ لیکن وہ ان پرانی صورتوں میں نیا مافیہ لا رہے تھے۔ جو کچھ پہلے مصالحت کے لئے استعمال ہوتا رہا تھا اب خانہ جنگی کی طرف لے جا رہا تھا۔ منشویکوں نے مطالبہ کیا کہ ریکارڈ میں درج کیا جائے کہ وہ مجموعی طور پر اِس مہم کے خلاف تھے۔ اِس بے ضرر دراخواست کو منظور کر لیا گیا۔
اگلے دِن عسکری انقلابی کمیٹی اور گیریزن کی مجلس مشاورت کے سوال پر سوویت کے سپاہیوں والے حصے نے غور کیا، جو کچھ ہی وقت پہلے تک مصالحت پسندوں کی زندگی بچایا کرتا تھا۔ اِس انتہائی اہم اجلاس میں کلیدی مقام سینٹروبالٹ کے صدر، جہازی ڈائبنکو کو حاصل تھا، جو ایک داڑھی والا دیو تھا، ایک ایسا آدمی جسے الفاظ تلاش کرنے میں کبھی دشواری نہیں ہوتی تھی۔ گیریزن کے حبس زدہ ماحول میں ہلسنگفورس کے اِس مہمان کی تقریر تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی۔ ڈائبنکو نے بحری بیڑے کی حکومت سے حتمی علیحدگی اور کمان کی طرف اُس کے نئے رویوں کی بات کی۔ اُس نے کہا کہ تازہ بحری کاروائیوں کے شروع ہونے سے پہلے ایڈمرل نے جہازیوں کی اُس وقت جاری کانگریس سے سوال پوچھا تھا: کیا آپ عسکری احکامات پر عمل درآمد کریں گے؟ ہم نے جواب دیا: ’’ہم کریں گے۔ لیکن … اگر ہم نے دیکھا کہ بحری بیڑے کو تباہی کا خطرہ لاحق ہے تو سب سے پہلے افسروں کو جہازوں کے کھمبوں سے لٹکایا جائے گا۔‘‘ پیٹروگراڈ گیریزن کے لئے یہ ایک نئی زبان تھی۔ حتیٰ کہ بیڑے میں بھی اِس کا استعمال پچھلے کچھ دنوں سے ہی شروع ہوا تھا۔ یہ سرکشی کی زبان تھی۔ منشویکوں کا چھوٹا سا گروہ ایک کونے میں بدحواسی سے بڑبڑا رہا تھا۔ مجلس صدارت نے کچھ تشویش سے سرمئی کوٹوں میں ملبوس سپاہیوں کے ہجوم کی طرف دیکھا۔ کوئی ایک بھی احتجاجی آواز بلند نہ ہوئی۔ اُن کے جذباتی چہروں پر آنکھیں انگاروں کی طرح سلگ رہی تھیں۔ جرات کا جذبہ غالب تھا۔
ہر طرف سے ملنے والی ہمدردی سے جوش پکڑ کر ڈائبنکو اعتماد سے پکار اٹھا: ’’پیٹروگراڈکے راستوں، بالخصوص ریوال کے دفاع کے لئے پیٹروگراڈ گیریزن کو لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اِس پر بالکل یقین نہ کرو۔ ریوال کا دفاع ہم خود کر لیں گے۔ یہاں پیٹروگراڈ میں ہی رہو اور انقلاب کے مفادات کا دفاع کرو… جب ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت ہوئی تو خود کہہ دیں گے اور مجھے پورا اعتماد ہے کہ تم ہماری مدد کرو گے۔‘‘ اِس چیلنج، جو سپاہیوں کے مزاج کے بالکل مطابق تھا، نے مخلص جوش و جذبے کے ایسے گرد باد کو للکارا جس میں چند ایک منشویکوں کے احتجاج بالکل غائب ہو گئے۔اِس وقت کے بعد سے رجمنٹوں کو ہٹانے کے سوال کا فیصلہ ہو گیا۔
لازیمیر کے مجوزہ ضابطوں کو 1 کے خلاف 283 کی اکثریت نے منظور کر لیا، 23 افراد نے ووٹ نہیں دیا۔ یہ اعداد و شمار، جو بالشویکوں کے لئے بھی غیرمتوقع تھے، انقلابی عوام کے دباؤ کا پتا دے رہے تھے۔ اِس ووٹ کا مطلب تھا کہ سپاہیوں والے حصے نے کھلے عام اور باضابطہ طور پر گیریزن کا انتظام صدر دفتر سے عسکری انقلابی کمیٹی کو منتقل کر دیا تھا۔ آنے والے دن ثابت کریں گے کہ ایسا محض علامتی طور پر نہیں تھا۔
اُسی دن پیٹروگراڈ سوویت کی مجلس عاملہ نے اپنی نگرانی میں سرخ محافظوں کے خصوصی شعبے کی تشکیل کا اعلانِ عام کیا۔ مزدوروں کو مسلح کرنے کا معاملہ، جسے مصالحت پسندوں نے نہ صرف نظرانداز بلکہ مسدود کیا تھا، بالشویک سوویت کے سب سے اہم فرائض میں شامل ہو چکا تھا۔ سرخ محافظوں کی طرف سپاہیوں کا شک پر مبنی رویہ اب قصہ ماضی بن چکا تھا۔ اِس کے برعکس رجمنٹوں کی تقریباً تمام قراردادوں میں مزدوروں کو مسلح کرنے کا مطالبہ موجود تھا۔ اب کے بعد سے سرخ محافظ اور گیریزن شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے۔ جلد ہی وہ عسکری انقلابی کمیٹی کی مشترکہ اطاعت میں زیادہ قریب آ جائیں گے۔
حکومت پریشان تھی۔ 14 تاریخ کی صبح کیرنسکی کے دفتر میں وزرا کے ایک اجلاس نے اُس ’’میدان میں آنے‘‘ کے خلاف صدر دفتر کے اقدامات کی توثیق کر دی جس کی تیاریاں جاری تھیں۔ حکمران اندازے لگا رہے تھے: اب کی بار یہ ایک مسلح مظاہرے تک ہی محدود ہو گا یا سرکشی کی نہج تک پہنچ جائے گا؟ ڈسٹرکٹ کمانڈر نے پریس کے نمائندگان کو کہا: ’’بہر صورت ہم تیار ہیں۔‘‘ ہلاکت جن کا مقدر بن جائے وہ اکثر اپنے انجام سے بالکل قبل زندگی کی قوت کا میلان محسوس کرتے ہیں۔
مجالس عاملہ کے مشترکہ اجلاس میں ڈین نے سریتیلی، جو اب قفقاز میں پناہ لے چکا تھا، کے جون والے لہجے کی نقالی کرتے ہوئے بالشویکوں سے اِس سوال کے جواب کا مطالبہ کیا: کیا وہ ’میدان میں آنے‘ کا ارادہ رکھتے ہیں، اگر رکھتے ہیں تو کب؟ ریازانوف کے جواب سے منشویک بوگڈانوف نے غلط نتیجہ نہیں نکالا کہ بالشویک ایک سرکشی کی تیاری کر رہے تھے اور اِس کی قیادت کریں گے۔ منشویک پرچے نے لکھا: ’’ بالشویک ’اقتدار پر قبضے‘ کے اپنے منصوبوں کے لئے واضح طور پر یہاں موجود گیریزن پر بھروسہ کر رہے ہیں۔‘‘ لیکن اِس تبصرے میں ’’اقتدار پر قبضے‘‘ کے الفاظ واوین میں تھے۔ مصالحت پسند وں کو ابھی تک سنجیدگی سے کسی خطرے پر یقین نہیں تھا۔ اُنہیں بالشویکوں کی فتح سے زیادہ خانہ جنگی کے نئے تصادموں کے نتیجے میں ردِ انقلاب کی جیت کا خوف تھا۔
مزدوروں کو مسلح کرنے کا بیڑا اٹھانے کے بعد سوویت کو ہتھیاروں کا بندوبست کرنا تھا۔ یہ یک دم نہیں ہوا۔ یہاں بھی ہر عملی قدم عوام کے مشورے سے اٹھایا گیا۔ اُن کے مشوروں کو توجہ سے سننا ہی کا فی تھی۔ اِس واقعے کے چار سال بعد اکتوبر انقلاب کی یادداشتوں کے لئے وقف ایک شام ٹراٹسکی نے یہ قصہ سنایا: ’’جب مزدوروں کا ایک وفد میرے پاس آیا اور کہا کہ اُنہیں ہتھیار چاہئے تھے تو میں نے جواب دیا: ’لیکن آپ جانتے ہیں اسلحہ خانے ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔‘ اُنہوں نے جواب دیا: ’ہم سیسٹروریٹسک اسلحہ ساز فیکٹری گئے تھے۔‘ ’اچھا پھر؟‘ ’اُنہوں نے کہا کہ اگر سوویت حکم دے تو وہ ہتھیار فراہم کر دیں گے۔‘ میں نے پانچ ہزار رائفلوں کا حکم جاری کر دیا اور اُنہیں وہ اُسی دن ہی مل گئیں۔ یہ پہلا تجربہ تھا۔‘‘ دشمن پریس نے جیل سے ضمانت پر ہونے والے ریاست سے غداری کے ایک ملزم کے حکم پر حکومتی فیکٹری کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی پر فوراً شور مچانا شروع کر دیا۔ حکومت خاموش رہی، لیکن جمہوریت کا سب سے اعلیٰ ادارہ ایک سخت حکم کے ساتھ سامنے آیا: سوویتوں کی مرکزی مجلس عاملہ کی اجازت کے بغیر کسی کو ہتھیار نہیں دئیے جا سکتے۔ ہتھیاروں کی فراہمی کے سوال پر ڈین اور گوٹز کو منع کرنے کا اُتنا ہی اختیار حاصل تھا جتنا ٹراٹسکی کواجازت یا حکم دینے کا۔ فیکٹریوں اور اسلحہ خانوں کو حکومتی انتظامیہ کے اختیار میں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن سرکاری حکام کو تمام نازک لمحات میں نظر انداز کرنا مرکزی مجلس عاملہ کی روایت بن گئی تھی اور خود حکومت کے معمول میں بھی شامل ہو چکی تھی۔ تاہم اِس روایت اور معمول کی خلاف ورزی ایک مختلف سمت سے ہوئی۔ مرکزی مجلس عاملہ کی کڑک اور کیرنسکی کی گرج میں اب فرق نہ کرنے والے مزدوروں اور سپاہیوں نے دونوں کو نظرانداز کر دیا۔
پیٹروگراڈ کی رجمنٹوں کو عقب کے دفاتر کی بجائے محاذ کے نام پر منتقل کرنا زیادہ مناسب تھا۔ اِنہی وجوہات کی بنا پر کیرنسکی نے پیٹروگراڈ گیریزن کو شمالی محاذ کے سپہ سالار چیری میسوف کے ماتحت کر دیا۔ دارالحکومت کو عسکری لحاظ سے بطور سربراہِ حکومت اپنی عملداری میں سے خارج کر نے والا کیرنسکی اِس خیال سے مطمئن تھا کہ وہ بطور سپہ سالار اعلیٰ اِسے اپنے تابع کر لے گا۔ دوسری طرف جنرل چیزی میسوف، جو بہت اکھڑ ثابت ہونے والا تھا، نے کمیساروں ا ور کمیٹی والوں سے مدد مانگی۔ اُن کی مشترکہ محنت سے مستقبل کی کاروائیوں کا ایک منصوبہ تیار کیا گیا۔ 7 تاریخ کو محاذ کے صدر دفتر اور فوجی تنظیموں نے پیٹروگراڈ سوویت کے نمائندگان کو پسکوف طلب کرنا تھا تاکہ مورچوں والوں کی موجودگی میں اُن کے سامنے [پیٹروگراڈ گیریزن کو محاذ پر بھیجنے کا] سخت مطالبہ رکھا جائے۔
پیٹروگراڈ سوویت کے پاس چیلنج کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ 16 تاریخ کے اجلاس میں نامزد کردہ وفد (تقریباً نصف سوویت کے اراکین جبکہ نصف رجمنٹوں کے نمائندگان) کی قیادت مزدور حصے کا صدر فیوڈوروف اور سپاہیوں والے حصے اور بالشویکوں کی فوجی تنظیم کے رہنما لاشیوچ، سیڈووسکی، میخونوشن، ڈاشکیوچ اور دوسرے کر رہے تھے۔ وفد میں شامل کئے جانے والے چند ایک بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں اور منشویک انٹرنیشنلسٹوں نے وعدہ کیا کہ سوویت کی پالیسی کا دفاع کریں گے۔ روانگی سے قبل اِن مندوبین کے ایک اجلاس میں سویڈلوف کے مجوزہ اعلامیے کو منظور کیا گیا۔
سوویت کے اِسی اجلاس میں عسکری انقلابی کمیٹی کے ضابطے زیر بحث آئے۔ یہ ادارہ ابھی معرض وجود میں آیا ہی تھا کہ دشمن کی نظروں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نفرت انگیز بنتا چلا گیا۔ حزب اختلاف کا ایک مقرر چلّایا، ’’بالشویک اِس سیدھے سوال کا کوئی جواب نہیں دیتے ہیں: کیا وہ ایک حملے کی تیاری کر رہے ہیں؟ یا تو یہ بزدلی ہے یا پھر اپنی قوتوں پر عدم اعتماد۔‘‘ اجلاس نے اِس تبصرے پر دل کھول کر قہقہہ لگایا: حکومتی پارٹی کا نمائندہ مطالبہ کر رہا تھا کہ سرکشی کی پارٹی اُس کے سامنے اپنے دل کے راز افشاں کر دے۔ مقرر نے اپنی بات جاری رکھی کہ نئی کمیٹی ’’اقتدار پر قبضے کے انقلابی صدر دفتر کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘ منشویک اِس میں شامل نہیں ہوں گے۔ نشستوں سے آواز آئی، ’’تم لوگ ہو ہی کتنے؟‘‘: درحقیقت چند ہی منشویک تھے، کُل ملا کے پچاس۔ تاہم اُنہیں پورا یقین تھا کہ ’’عوام میدان میں آنے کے حق میں نہیں ہیں۔‘‘ اپنے جواب میں ٹراٹسکی نے انکار نہیں کیا کہ بالشویک اقتدار پر قبضے کی تیاری کر رہے تھے: ’’ہم اِسے چھپاتے نہیں ہیں۔‘‘ لیکن اُس نے کہا کہ فی الوقت سوال یہ نہیں ہے۔ حکومت نے پیٹروگراڈ سے انقلابی دستے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے اور اِس کا ’’جواب ہمیں ہاں یا ناں میں دینا ہے۔‘‘ لازیمیر کے مجوزہ ضابطوں کو وسیع اکثریت نے منظور کر لیا۔ صدر نے عسکری انقلابی کمیٹی کو اگلے ہی دن کام شروع کرنے کی سفارش کی۔ یوں ایک اور قدم اٹھایا گیا۔
ڈسٹرکٹ کمانڈر پولکوونیکوف نے اُس دن ایک بار پھر حکومت کو اطلاع دی تھی کہ بالشویک ایک کاروائی کی تیاری کر رہے تھے۔ اطلاع بے باک زبان میں لپٹی تھی: سارا گیریزن حکومت کے ساتھ ہے؛ افسران کے سکولوں کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آبادی کے نام ایک استدعا میں پولکوونیکوف نے وعدہ کیا کہ بوقت ضروری ’’انتہائی اقدامات‘‘ اٹھائے جائیں گے۔ صدرِ بلدیہ شرائیڈر، جو ایک سوشل انقلابی تھا، نے اپنی طرف سے دُعا بھی شامل کردی کہ ’’انتشار کو ہوا نہ ملے تا کہ دارالحکومت میں ایک حقیقی قحط سے بچا جا سکے۔‘‘ اِسی دوران کبھی دھمکاتی تو کبھی واسطے دیتی، کبھی بے باک تو کبھی بزدل انداز اپناتی پریس کی آواز بلند سے بلند تر ہوتی چلی جا رہی تھی۔
پیٹروگراڈ سوویت کے مندوبین کو مرعوب کرنے کے لئے پسکوف میں ڈرامائی انداز کا عسکری ماحول پیدا کیا گیا تھا۔ صدر دفتر میں مرعوب کن نقشوں سے ڈھکے میزوں کے گرد معروف جرنیل، اعلیٰ کمیسار اور فوجی کمیٹیوں کے نمائندے کھڑے تھے۔ مختلف شعبوں کے سربراہان نے بحری اور بری عسکری صورتحال پر رپورٹیں پیش کیں۔ تمام رپورٹوں کا نتیجہ ایک ہے تھا: دارالحکومت تک جانے والے راستوں کے دفاع کے لئے پیٹروگراڈ گیریزن کو فوری نکالنا ضروری ہے۔ کمیساروں اور کمیٹی والوں نے پوشیدہ سیاسی مقاصد کے تمام شکوک کو مسترد کیا: اُن کا کہنا تھا کہ ساری کاروائی صرف عسکری حکمت عملی کی ضرورت کے تحت کی جا رہی تھی۔ مندوبین کے پاس اِس کے خلاف کوئی براہِ راست ثبوت نہیں تھے: اِس طرح کی وارداتوں کے ثبوت اتنے عام نہیں ہوتے۔ لیکن ساری صورتحال ہی ایک تردید تھی۔ محاذ کے پاس آدمیوں کی کمی نہیں تھی۔ کمی تھی تو لڑنے کے عزم کی۔ پیٹروگراڈ گیریزن کا مزاج کسی طور بھی اتنے لرزے ہوئے محاذ کو مستحکم کرنے کا نہیں تھا۔ مزید برآں کورنیلوف کے دنوں کے اسباق ابھی تک سب کو یاد تھے۔ اپنی سچائی پر پوری طرح سے قائل وفد نے باآسانی صدردفتر کے حملے کا مقابلہ کیا اور پہلے سے کہیں زیادہ یک رائے ہو کر پیٹروگراڈ پہنچا۔
براہِ راست ثبوت، جو اُس وقت شرکا کے پاس نہیں تھے، اب تاریخ دان کے پاس ہیں۔ خفیہ فوجی خط و کتابت ثابت کرتی ہے کہ محاذ نے پیٹروگراڈ سے رجمنٹوں کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ کیرنسکی اُنہیں محاذ پر مسلط کر رہا تھا۔ وزیر جنگ کے ایک تار کا جواب شمالی محاذ کے سپہ سالار نے براہ راست تار پر دیا: ’’خفیہ۔17۔X۔ پیٹروگراڈ گیریزن کے دستے محاذ پر بھیجنے کی ہدایت میری نہیں تمہاری تھی…جب واضح ہو گیا کہ پیٹروگراڈ گیریزن محاذ پر نہیں جانا چاہتا، یعنی وہ لڑنے کے قابل نہیں ہے تو میں نے تمہارے نمائندہ افسر سے نجی گفتگو میں کہا کہ… ہمارے پاس پہلے ہی محاذ پر ایسے دستوں کی بہتات ہے؛ لیکن اُنہیں محاذ پر بھیجنے کی تمہاری خواہش کے پیش نظر میں نے اُنہیں انکار نہیں کیا اور اب بھی نہیں کر رہا، اگر پہلے کی طرح تم اب بھی پیٹروگراڈ سے اُن کی منتقلی کو ضروری سمجھتے ہو۔‘‘ اِس تار کے نیم جھگڑالو لہجے کی وضاحت اِس حقیقت سے ہوتی ہے کہ اعلیٰ سیاست کا ذوق رکھنے والے جنرل چیری میسوف کو زار کی فوج میں ’’سرخ‘‘ سمجھا جاتا تھا اور ملیوکوف کے الفاظ میں بعد ازاں ’’انقلابی جمہوریت کا پسندیدہ‘‘ بن جانے کے بعد وہ اِس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اچھے وقتوں میں ہی حکومت اور اُس کے بالشویکوں سے تصادم سے الگ ہو جانا بہتر تھا۔ انقلاب کے دنوں میں چیری میسوف کا طرز عمل اِس مفروضے کی مکمل تصدیق کرتا ہے۔
گیریزن سے متعلقہ جدوجہد سوویت کانگریس کی جدوجہد سے جڑ گئی ۔ تاریخ کے اعلان میں چار یا پانچ دن بچے تھے۔ کانگریس کے ساتھ ہی ’’میدان میں آنا‘‘ متوقع تھا۔ گمان کیا جا رہا تھا کہ جولائی کے دنوں کی طرح تحریک سڑکوں پر لڑائی کے ساتھ ایک مسلح عوامی مظاہرے کی شکل میں آگے بڑھے گی۔ دائیں بازو کے منشویک پوٹریسوف نے خفیہ پولیس یا فرانسیسی جنگی مشن (جو جعلی دستاویزات کی تیاری میں ہمیشہ بے شرم ہوتا تھا) کے فراہم کردہ مواد کی روشنی میں بورژوا پریس میں اُس بالشویک کاروائی کا منصوبہ بیان کیا جو 17 اکتوبر کو ہونا تھی۔ اِس منصوبے کے ہوشیار مصنفین یہ پیش بینی کرنا نہیں بھولے کہ شہر کے ایک دروازے پر بالشویکوں نے ’’سیاہ عناصر‘‘ سے ملنا تھا۔ محافظ فوج کی رجمنٹوں کے سپاہیوں نے ہومر کے خداؤں کی طرح قہقہے لگائے۔ جب سوویت کے ایک اجلاس میں پوٹریسوف کا یہ مضمون پڑھا گیا تو قہقہوں کی بوچھاڑ سے سمولنی کے ستون اور فانوس ہلنے لگے۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہونے والے واقعات کو بھی دیکھنے سے قاصر، عقل ِکُل حکومت اِس بھدی من گھڑت کہانی سے ڈر گئی اور رات دو بجے اِن ’’سیاہ عناصر‘‘ کو قابو کرنے کے لئے مل بیٹھی۔ کیرنسکی اور عسکری حکام کے درمیان تازہ ملاقاتوں کے بعد ضروری اقدامات اٹھائے گئے۔ سرما محل اور سٹیٹ بینک کا پہرہ بڑھا دیا گیا؛ اورانین بام سے فوج کے دو تربیتی سکولوں اور رومانیہ کے محاذ سے ایک بکتر بند ٹرین بھی بلا لی گئی۔ ملیوکوف لکھتا ہے، ’’بالشویکوں نے بالکل آخر لمحے اپنی تیاریاں منسوخ کر دیں۔یہ واضح نہیں ہے کہ اُنہوں نے ایسا کیوں کیا۔‘‘ واقعے کے کئی سال بعد بھی یہ باخبر تاریخ دان ایسی اختراع پر یقین کرنے کو ترجیح دیتا ہے جس کے اندر ہی اُس کی تردید موجود تھی۔
حکام نے پولیس کو ہدایت کی کہ شہر کے مضافات میں ’میدان میں آنے‘ کی کسی بھی تیاری کی علامات کی تفتیش کی جائی۔ پولیس کی رپورٹیں براہ راست مشاہدات اور پولیس کی روایتی حماقت کے امتزاج پر مبنی تھیں۔ کئی بڑی فیکٹریوں والے الیگزینڈرو – نیوسکی کے علاقے میں تفتیش کاروں کو بالکل امن و امان نظر آیا۔ وائبورگ کے علاقے میں حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت کی تبلیغ سرعام کی جا رہی تھی، لیکن ’’بظاہر‘‘ سب کچھ پرسکون تھا۔ ویسلی-اوسٹروف کے علاقے میں مزاج انتہاپسندانہ تھا، لیکن یہاں بھی کسی کاروائی کی ’’ظاہری‘‘ علامات نہیں دیکھی گئیں۔ ناروا والی طرف کاروائی کے حق میں دوہری ایجی ٹیشن جاری تھی، لیکن کسی سے بھی اِس سوا ل کا جواب حاصل کرنا ناممکن تھا کہ کاروائی کب ہوگی۔ یا تو دن اور وقت کو سختی سے خفیہ رکھا جا رہا تھا یا پھر واقعی کسی کو اس بارے علم نہیں تھا۔ فیصلہ: مضافات میں گشت کرنے والے دستے بڑھا دئیے جائیں اور پولیس کے کمیسار زیادہ کثرت سے سنتری چوکیوں کا معائنہ کریں۔
پولیس کی اِن رپورٹوں میں ماسکو کی لبرل پریس کی کچھ خط و کتابت بھی برا اضافہ نہیں ہے: ’’مضافات، پیٹرزبرگ کی فیکٹریوں میں اور شاہراہوں پر میدان میں آنے کے حق میں بالشویکوں کی ایجی ٹیشن ہر طرف جاری ہے۔ مزدور کسی بھی وقت متحرک ہو جانے کی کیفیت میں ہیں۔ حالیہ دنوں میں پیٹروگراڈ میں بھگوڑوں کی پہلے کبھی نہ دیکھی گئی آمد دیکھی گئی ہے… وارسا سٹیشن پر مشکوک شکلوں اور بھڑکتی آنکھوں والے سپاہیوں کی وجہ سے گزرنا محال ہے… پیٹروگراڈ میں چوروں کے ایسے پورے پورے جتھوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں جو اپنے شکار کی بو سونگھ رہے ہیں۔ سیاہ قوتیں منظم ہو رہی ہیں اور خفیہ ٹھکانے اور ریستوران اُن سے بھرے پڑے ہیں… ‘‘ تنگ نظر خوف اور پولیس کی افواہیں یہاں کچھ درشت حقائق میں گھل مل گئیں۔ اپنے عروج پر پہنچتی ہوئی انقلابی پکاروں نے سماج کی گہرائیوں کو لرزا دیا۔قریب آتے ہوئے زلزلے کی دھمک نے بھگوڑوں، ڈکیتوں کے جتھوں اور برائی کے ٹھکانوں کو واقعی بیدار کر دیا تھا۔ سماج کے انداتا اپنے ہی نظام کی بے لگام ہو جانے والی قوتوں، اُس کے ناسوروں اور لعنتوں کو دیکھ کر لرز رہے تھے۔ انقلاب نے اُنہیں پیدا نہیں بلکہ صرف بے نقاب کیا تھا۔
گیریزن کا اجلاس 18 تاریخ کو بلایا گیا۔ فوجی یونٹوں کو بھیجے گئے ٹیلی فونوگرام میں اُنہیں کہا گیا کہ اپنے تئیں کاروائیاں کرنے سے پرہیز کریں اور صدر دفتر کے صرف اُنہی احکامات پر عمل درآمد کریں جن کی توثیق سوویت کا سپاہیوں والا حصہ کرے۔ اِس طرح سے سوویت، گیریزن کا کنٹرول حاصل کرنے کی فیصلہ کن اور کھلی کوشش کر رہی تھی۔ یہ ٹیلی فونوگرام درحقیقت موجودہ حکام کو اکھاڑ پھینکنے کی استدعا کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ لیکن خواہش کے تحت اِس کی تشریح دوہرے اقتدار کے نظام میں مصالحت پسندوں کو بالشویکوں سے تبدیل کرنے کے پرامن عمل کے طور پر کی جا سکتی تھی۔عملی طور پر یہ ایک ہی بات تھی، لیکن لچکدار تشریح سے غلط فہمیوں کی گنجائش پیدا ہو گئی۔ مرکزی مجلس عاملہ کی صدارتی انتظامیہ نے خود کو سمولنی کا آقا سمجھتے ہوئے اِس ٹیلی فونوگرام کو رکوانے کی کوشش کی۔ اِس نے ایک بار پھر خود کو رسوا ہی کیا۔ پیٹروگراڈ کی رجمنٹ اور کمپنی کمیٹیوں کے نمائندگان کا اجلاس مقررہ وقت پر ہوا اور غیرمعمولی طور پر بڑا تھا۔
دشمن کے پیدا کردہ ماحول کی بدولت گیریزن کے اجلاس کے شرکا کی رپورٹیں خود بخود متوقع ’’میدان میں آنے‘‘ کے سوال پر مرکوز تھیں۔ پیٹرہاف کا فوجی سکول اور نویں گھڑ سوار رجمنٹ کاروائی کے خلاف تھے۔ محافظ فوج کے گھڑ سواروں کے سکواڈرن غیرجانبداری کی طرف مائل تھے۔ اورانین بام کا فوجی سکول صرف مرکزی مجلس عاملہ کا حکم مانے گا۔ مخالف یا غیرجانبدار آوازیں یہاں ختم ہو گئیں۔ پیٹروگراڈ سوویت کی کال پر میدان میں آنے پر آمادگی کا اعلان کرنے والے یہ تھے: اگرسکی، ماسکو، وولائنسکی، پیولووسکی، کیکسگولمسکی، سیمینووسکی، ازمائلووسکی، پہلی نشانچی اور تیسری ریزرو رجمنٹیں، دوسرے بالٹک بیڑے کا عملہ، محافظ فوج کی الیکٹرو تکنیکی بٹالین اور توپخانہ ڈویژن۔ بم بردار رجمنٹ صرف سوویتوں کی کانگریس کے کہنے پر میدان میں آئے گی۔ یہ کافی تھا۔ کم اہم یونٹوں نے اکثریت کی پیروی کی۔کچھ ہی عرصہ قبل تک پیٹروگراڈ گیریزن کو بجا طور پر اپنی طاقت کا ماخذ گرداننے والی مرکزی مجلس عاملہ کے نمائندگان کو اب کم و بیش متفقہ طور پر بات کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا گیا۔ خصی اشتعال کے عالم میں وہ اِس ’’ناجائز‘‘ اجلاس سے چلے گئے جس نے بعد ازاں صدر کی تجویز پر فوراً اعلان کیا: سوویت کی توثیق کے بغیر کوئی بھی حکم معقول نہیں ہے۔
جو کچھ پچھلے کئی مہینوں اور بالخصوص ہفتوں سے گیریزن کے دماغوں میں پنپ رہا تھا، اب عملی شکل اختیار کر رہا تھا۔ حکومت سوچ سے بھی زیادہ غیراہم ثابت ہوئی۔ جس وقت پورے شہر میں ’میدان میں آنے‘ اور خونریز لڑائیوں کی افواہیں بھنبھنا رہی تھیں، بالشویکوں کا غیرمعمولی غلبہ ظاہر کرنے والے رجمنٹ کمیٹیوں کے اِس اجلاس نے مظاہروں اور بڑی لڑائیوں، دونوں کو بنیادی طور پر غیرضروری بنا دیا۔ گیریزن پراعتماد انداز سے انقلاب کی طرف بڑھ رہا تھا اور اِسے ایک سرکشی کے طور پر نہیں بلکہ ملک کے مقدر کا فیصلہ کرنے کے سوویت کے ناقابل تنسیخ اختیار کی عمل پذیری کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ اِس تحریک میں ایک بے نظیر طاقت تھی، لیکن ساتھ ہی ایک مخصوص وزن بھی تھا۔ پارٹی مجبور تھی کہ کچھ مہارت سے اپنی سرگرمی کو رجمنٹوں کی سیاسی تیز قدمی سے ہم آہنگ کرے، جن کی اکثریت پیٹروگراڈ سوویت کی ہدایات کی منتظر تھی۔
حملے کی تکمیل میں کوئی عارضی رخنہ بھی نہ پڑے، یہ خطرہ دور کرنے کے لئے اُس ایک سوال کا جواب دینا ضروری تھا جو نہ صرف دشمنوں بلکہ دوستوں کو بھی پریشان کر رہا تھا: کیا ایک سرکشی کسی بھی دن خود بخود نہیں پھوٹ پڑے گی؟ ٹرام گاڑیوں میں، سڑکوں پر، دکانوں میں صرف ’میدان میں آنے‘ کے امکانات کی بات ہی ہو رہی تھی۔ سرما محل کے سامنے پیلس اسکوائر پر لمبی قطاروں میں افسران حکومت کو اپنی خدمات پیش کر رہے تھے اور بدلے میں ریوالور حاصل کر رہے تھے: خطرے کی گھڑیوں میں یہ ریوالور اور اِن کے مالکان ایک سیکنڈ کے لئے بھی نمودار نہیں ہوں گے۔ تمام اخبارات میں ادارتی مضامین سرکشی کے سوال کے لئے وقف تھے۔ گورکی نے بالشویکوں سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ ’’مشتعل ہجوم کے ہاتھوں میں بے بس کھلونے‘‘ نہیں ہیں تو اُنہیں اِن افواہوں کی تردید کرنی چاہئے۔ غیر یقینی کیفیت کی تشویش مزدوروں کے کچھ حصوں اور اِس سے بڑھ کر رجمنٹوں میں بھی سرایت کر گئی۔ اُنہیں بھی یہ محسوس ہونے لگا جیسے میدان میں آنے کی تیاری اُن کے بغیر ہی کی جا رہی تھی۔ لیکن کس کی جانب سے؟ سمولنی خاموش کیوں تھا؟ ایک عوامی پارلیمان اور ساتھ ہی ساتھ ایک انقلابی صدر دفتر کے طور پر سوویت کی متضاد صورتحال نے اِن آخری لمحات میں بہت مشکلات پیدا کیں۔ مزید خاموش رہنا ناممکن ہو گیا۔
سوویت کے ایک شام کے اجلاس کے آخر میں ٹراٹسکی نے اعلان کیا، ’’پچھلے کچھ دنوں کے دوران اخبارات ایک قریب آتی ہوئی کاروائی کے بارے میں مراسلوں، افواہوں اور مضامین سے بھرے پڑے ہیں… پیٹروگراڈ سوویت کے فیصلے شائع کئے جاتے ہیں اور ہر کسی کے علم میں لائے جاتے ہیں۔ سوویت ایک منتخب ادارہ ہے اور مزدوروں اور سپاہیوں کے علم میں لائے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا… میں سوویت کی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ ہم نے کسی مسلح کاروائی کا فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن واقعات کے تحت اگر سوویت نے میدان میں آنے کی تاریخ مقرر کرنا ضروری سمجھی تو تمام مزدور اور سپاہی اِس کی کال پر نکلیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ میں نے پانچ ہزار رائفلوں کے حکم نامے پر دستخط کئے ہیں… ہاں، میں نے کئے ہیں… مزدور محافظوں کو مسلح کرنے کا عمل سوویت جاری رکھے گی۔‘‘ مندوبین سمجھ گئے: لڑائی قریب تھی، لیکن اُن کے بغیر اور اُن سے بالا کوئی اشارہ نہیں دیا جائے گا۔
تاہم ایک تسلی بخش وضاحت کے ساتھ ساتھ عوام کو ایک واضح انقلابی تناظر دینا ضروری تھا۔ اِس مقصد کے لئے مقرر نے گیریزن کو ہٹانے اور آنے والی سوویتوں کی کانگریس کے دو سوالوں کو یکجا کر دیا۔’’ہم ایک ایسے سوال پر حکومت سے متصادم ہیں جو بہت تیزدھار بن سکتا ہے… ہم اُنہیں پیٹروگراڈ کو اِس کے انقلابی گیریزن سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘ یہ تصادم ایک دوسرے تصادم کے تابع ہے جو قریب آ رہا ہے۔ ’’بورژوازی کو معلوم ہے کہ سوویتوں کی کانگریس کے سامنے پیٹروگراڈ سوویت یہ تجویز پیش کرنے والی ہے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لیں… اور ایک ناگزیر لڑائی کو پہلے سے بھانپتے ہوئے بورژوا طبقات پیٹروگراڈ کو غیرمسلح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انقلاب کے سیاسی انتظام کی مکمل وضاحت سب سے پہلے اِسی تقریر میں کی گئی: ہم اقتدار پر قبضے کا ارادہ رکھتے ہیں، ہمیں گیریزن کی ضرورت ہے اور ہم اِس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ’’ردِ انقلاب نے سوویتوں کی کانگریس کو توڑنے کی کوشش کی تو ہم ایسا جوابی حملہ کریں گے جو بے رحم ہو گا اور جسے ہم منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔‘‘ یہاں بھی ایک فیصلہ کن سیاسی حملے کا اعلان عسکری دفاع کے کلیے کی آڑ میں کیا گیا۔
سوخانوف، جو سوویت کو گورکی کی پچاسویں سالگرہ کے جشن میں شامل کرنے کا بیکار منصوبہ لے کر اِس اجلاس میں آیا تھا، نے بعد ازاں اُس انقلابی گانٹھ پر ایک معقول تبصرہ کیا جو وہاں باندھی گئی تھی۔اُس نے کہا کہ سمولنی کے لئے گیریزن کا سوال سرکشی کا سوال تھا؛ سپاہیوں کے لئے یہ اُن کے اپنے مقدر کا سوال تھا۔ ’’اُن دنوں کی حکمت عملی کے لئے اِس سے زیادہ خوش قسمت نقطہ آغاز کا گمان کرنا مشکل ہو گا۔‘‘ تاہم اِس کے باوجود بھی سوخانوف نے بالشویکوں کی حکمت عملی کو بحیثیت مجموعی تباہ کن ہی قرار دیا۔ گورکی اور ہزاروں دوسرے ریڈیکل دانشوروں کی طرح اُسے بھی نام نہاد ’’مشتعل ہجوم‘‘ کا ڈر تھا، جو روز بروز اپنے حملے کو کمال تامل سے آگے بڑھا رہا تھا۔
سوویت اتنی طاقتور تھی کہ نہ صرف اپنے ریاستی انقلاب کے منصوبے کا اعلان کھلے عام کرسکتی تھی بلکہ تاریخ بھی مقرر کر سکتی تھی۔لیکن عین اسی وقت سوویت ہزاروں چھوٹے بڑے معاملات میں بے بس بھی تھی۔ سیاسی طور پر صفر ہو جانے کے باجود کیرنسکی ابھی تک سرما محل میں فرمان جاری کر رہا تھا۔عوام کی اِس بے نظیر تحریک کا روح رواں لینن روپوش تھا اور وزیر انصاف ملیانٹووچ نے اُن دنوں ڈسٹرکٹ اٹارنی کو دوبارہ لینن کی گرفتاری کی ہدایات جاری کی تھیں۔ حتیٰ کہ سمولنی میں، مختارِ کل پیٹروگراڈ سوویت کی اِن اپنی حدود میں بھی یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ صرف حکام کی نوازش کی وجہ سے ہی رہ رہی تھی۔ عمارت، خزانے، ترسیل کاری کے کمرے، موٹر گاڑیوں اور ٹیلیفونوں کا سارا انتظام ابھی تک مرکزی مجلس عاملہ کے ہاتھوں میں تھا، جو خود صرف جانشینی کے مجرد حق کے دھاگے سے لٹکی ہوئی تھی۔
سوخانوف بتاتا ہے کہ کیسے وہ اجلا س کے بعد بارش میں بھیگی رات کی تاریکی میں سمولنی اسکوائر پر آیا۔ مندوبین کا سارا ہجوم دو دھواں چھوڑنے والی بدبودار موٹر گاڑیوں میں سوار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، جو مرکزی مجلس عاملہ کے متمول گیراج میں سے بالشویک سوویت کو جاری کی گئی تھیں۔ ’’سوویت کا صدر ٹراٹسکی موٹرگاڑی تک پہنچنے ہی والا تھا کہ رُک گیا، کچھ دیر تماشا دیکھنے کے بعد بے ساختہ ہنسا اور سڑک پر کھڑے پانی میں سے چھینٹے اڑاتا ہوا تاریکی میں غائب ہو گیا۔‘‘ ٹرام گاڑی کے پلیٹ فارم پر سوخانوف کو چھوٹی سی سیاہ داڑھی اور خاکسار شکل و شباہت والا ایک نامعلوم دبلا پتلا آدمی ملا۔ اِس نامعلوم آدمی نے طویل سفر کی تمام بے آرامیوں میں سوخانوف کی دلجوئی کی۔ ’’یہ کون ہے؟‘‘ سوخانوف نے اپنے اِس بالشویک رفیق کے بارے میں پوچھا۔ ’’پارٹی کا ایک پرانا کارکن، سویڈلوف۔‘‘ دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں یہ چھوٹی سی سیاہ داڑھی والا دبلا پتلا آدمی سوویت جمہوریہ کے سب سے بالا ادارے ’مرکزی مجلس عاملہ‘ کا صدر ہو گا۔ شاید سویڈلوف نے تشکر کے جذبات کے تحت اپنے اِس ہم سفر کی دلجوئی کی تھی: اِس سے آٹھ دن قبل سوخانوف کے گھر میں (یقینا اُس کے علم میں لائے بغیر) بالشویک مرکزی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں مسلح سرکشی کو ایجنڈے پر رکھا گیا تھا۔
اگلی صبح مرکزی مجلس عاملہ نے واقعات کا پہیہ واپس گھمانے کی کوشش کی۔ مجلس صدارت نے گیریزن کا ’’جائز‘‘ اجلاس بلایا اور اِس میں اُن پسماندہ کمیٹیوں کو بھی شامل کیا جنہیں بہت عرصہ قبل ہی دوبارہ منتخب کیا جانا چاہئے تھا اور جو ایک دِن قبل موجود نہیں تھیں۔ گیریزن کے اِس اضافی امتحان نے کچھ نیا دینے کے ساتھ ساتھ کل کے منظر کی تصدیق زیادہ واضح طور پر کر دی۔ اب کی بار میدان میں آنے کی مخالفت کرنے والوں میں پیٹر اور پال کے قلعے میں موجود دستوں کی کمیٹیوں کی اکثریت اور بکتربند گاڑی ڈویژن کی کمیٹیاں شامل تھیں۔ اِن دونوں نے مرکزی مجلس عاملہ کی اطاعت کا اعلان کیا۔ اِن حقائق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
شہر کے مرکز اور دو بیرونی علاقوں کے درمیان دریائے نیوا اور اِس کی نہر کے بیچ واقع یہ قلعہ قریبی پلوں پر حاوی تھا اور سرما محل، جہاں حکومت کی نشست تھی، کی حفاظت کرتا تھا۔ بڑے پیمانے کی کاروائیوں میں کسی عسکری اہمیت سے عاری ہونے کے باوجود گلیوں میں ہونے والی لڑائی میں یہ قلعہ بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ مزید برآں بھرا ہوا کرونورکسکی اسلحہ خانہ اِسی قلعے سے متصل تھا۔ مزدوروں کو رائفلوں کی ضرورت تھی اور زیادہ انقلابی رجمنٹیں بھی کم و بیش غیرمسلح تھیں۔ سڑک کی لڑائی میں بکتر بند گاڑیوں کی اہمیت بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے وہ کئی بے ثمر قربانیوں کا موجب بن سکتی تھیں؛ سرکشی کی طرف سے وہ فتح تک کا سفر مختصر کر دیتیں۔ آنے والے دنوں میں بالشویکوں کو اِس قلعے اور بکتر بند گاڑی ڈویژن کو خصوصی توجہ دینا تھی۔ اِس سے ہٹ کر اِس نئے اجلاس میں طاقتوں کا وہی توازن سامنے آیا جو پچھلے دِن تھا۔ مرکزی مجلس عاملہ کی جانب سے اُس کی اپنی انتہائی محتاط قرارداد کو منظور کروانے کی کوشش کو وسیع اکثریت نے جھٹک دیا۔ اِس طرف توجہ مبذول کروائی گئی کہ پیٹروگراڈ سوویت کی طرف سے نہ بلایا جانے والا اجلاس خود کو فیصلے کرنے کا اہل نہیں سمجھتا۔ مصالحت پسند رہنماؤں نے چہرے پر اضافی تھپڑ کا تقاضا خود ہی کیا تھا۔
نیچے رجمنٹوں تک رسائی نہ پاتے ہوئے مرکزی مجلس عاملہ نے گیریزن کو اوپر سے قابو کرنے کی کوشش کی۔ فوجی قیادت کی رضامندی سے اُنہوں نے ایک سوشل انقلابی، کپتان مالیوسکی کو سارے فوجی ڈسٹرکٹ کا اعلیٰ کمیسار تعینات کر دیا اور سوویت کے کمیساروں کو صرف اِسی شرط پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا کہ وہ اِس اعلیٰ کمیسار کے تابع ہوں۔ اِس کپتان، جسے کوئی نہیں جانتا تھا، کے ذریعے بالشویک گیریزن کو قابو کرنے کی یہ کوشش صریحاً مایوس کن تھی۔ سوویت نے اِسے مسترد کر کے مذاکرات منقطع کر دئیے۔
پوٹریسوف کی جانب سے بے نقاب کی گئی سرکشی رونما نہیں ہوئی۔ دشمن نے اب پورے اعتماد سے ایک نئی تاریخ دے دی: 20 اکتوبر۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سوویتوں کی کانگریس کو دراصل اُس دن شروع ہونا تھا اور سرکشی اِس کانگریس کے ساتھ اِس کے اپنے سائے کی طرح پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ کانگریس تو یقینا پانچ دِن موخر ہو چکی تھی۔ جسم آگے چلا گیا تھا لیکن سایہ وہیں موجود رہا۔ اب کی بار بھی ’’میدان میں آنے‘‘ کو روکنے کے لئے حکومت نے تمام ضروری اقدامات کئے۔ مضافات میں زیادہ مضبوط سنتری چوکیاں قائم کی گئیں؛ کاسکوں کے دستے مزدور علاقوں میں ساری رات گشت کرتے رہے؛ شہر بھر میں مختلف جگہوں پر گھڑسوار ریزرو دستے چھپائے گئے؛ پولیس کو کاروائی کے لئے تیار کیا گیا۔ سرما محل کے نزدیک بکتر بند گاڑیاں، ہلکا توپخانہ اور مشین گنیں نصب کی گئی تھیں۔ محل تک جانے والے راستوں کی حفاظت گشت کرنے والے دستے کر رہے تھے۔
ایک بار پھر سرکشی، جس کی تیاری کوئی نہیں کر رہا تھا اور جس کے لئے کسی نے کال نہیں دی تھی، نہیں ہوئی۔ یہ دن کئی دوسرے دنوں کی نسبت زیادہ پرامن انداز سے گزر گیا؛ فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام بند نہیں ہوا۔ ڈین کی ادارت میں ’ازوستیا‘ نے بالشویکوں پر اِس فتح کی شیخی بگھاری: ’’پیٹروگراڈ میں اُن کی مسلح مظاہروں کی مہم تقریباً ختم ہو چکی ہے۔‘‘ بالشویکوں کو محض متحدہ جمہوریت کے غصے نے ہی کچل دیا ہے: ’’وہ پہلے ہی ہتھیار ڈال رہے ہیں۔‘‘ واقعتا کہا جا سکتا ہے کہ دشمن عقل سے پیدل ہو چکے تھے اور دانستہ طور پر بے وقتی خوف اور اِس سے بھی زیادہ بے وقتی فتح کے شادیانوں سے ’’رائے عامہ‘‘ کو بھٹکانے اور بالشویکوں کے حقیقی منصوبوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔
عسکری انقلابی کمیٹی کی تشکیل کی تجویز، جو پہلی بار 9 تاریخ کو پیش کی گئی تھی، صرف ایک ہفتے بعد ہی سوویت کے مکمل اجلاس میں منظورکر لی گئی تھی۔ سوویت کوئی پارٹی نہیں تھی؛ اِس کی مشینری بھاری تھی۔ کمیٹی کی تشکیل کے لئے مزید چار دِن درکار تھے۔ تاہم یہ دس دن ضائع نہیں گئے: گیریزن کو جیتنے کا عمل زور و شور سے جاری تھا، رجمنٹ کمیٹیوں کے اجلاس نے نتیجہ خیزی واضح کر دی تھی، مزدوروں کو مسلح کرنے کا عمل آگے بڑھ رہا تھا۔ یوں عسکری انقلابی کمیٹی نے اگرچہ کام کا آغاز 20 تاریخ کو سرکشی سے پانچ دن پہلے کیا، تاہم اِسے پہلے سے تیار شدہ کافی منظم اقتدار حاصل ہوا۔ مصالحت پسندوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے کمیٹی کے عملے میں صرف بالشویک اور بائیں بازو کے سوشل انقلابی شامل تھے: اِس سے کام سادہ اور آسان ہو گیا۔ سوشل انقلابیوں میں سے لازیمیر نے ہی کوئی کام کیا اور اُسے بیورو کا سربراہ بنایا گیا تاکہ واضح کیا جا سکے کہ کمیٹی پارٹی کا نہیں بلکہ سوویت کا ادارہ تھی۔ درحقیقت کمیٹی، جس کا صدر ٹراٹسکی اور کلیدی کارکن پوڈووئسکی، اینٹونوف، لاشیوچ، سیڈووسکی اور میخونوشن تھے، صرف بالشویکوں پر منحصر تھی۔ سوویت کے مکمل اجلاس میں کمیٹی بمشکل ایک بار ہی اُن تمام اداروں کے مندوبین سے ملی جو اِس کے ضابطوں میں درج تھے۔ سارا کام بیورو کے ذریعے صدر کی رہنمائی میں کیا گیا اور تمام اہم امور میں سویڈلوف کو بھی شامل کیا گیا۔ یہی سرکشی کی قیادت تھی۔
کمیٹی کا بلیٹن یوں خاکساری سے اپنے پہلے قدم کا اندراج کرتا ہے: گیریزن کے تمام لڑاکا یونٹوں اور کچھ اداروں اور گوداموں میں ’’نگرانی اور قیادت کے لئے‘‘ کمیسار تعینات کئے گئے تھے۔ اِس کا مطلب تھا کہ گیریزن کو سیاسی طور پر جیتنے کے بعد سوویت اب اُس کا تنظیمی کنٹرول حاصل کر رہی تھی۔ اِن کمیساروں کے انتخاب میں کلیدی کردار بالشویکوں کی فوجی تنظیم نے ادا کیا۔پیٹروگراڈ میں اِس کے تقریباً ایک ہزار اراکین میں پرعزم سپاہیوں اور انقلاب کے لئے مکمل طور پر وقف نوجوان افسروں کی کمی نہیں تھی، جو جولائی کے دنوں کے بعد سے کیرنسکی کی جیلوں میں تپ تپ کر فولاد بن چکے تھے۔اِس میں سے بھرتی کئے گئے کمیساروں کو گیریزن کے دستوں میں تیار زمین ملی۔ گیریزن اُنہیں اپنا سمجھتا تھا اور مکمل آمادگی سے اُن کے احکامات کی اطاعت کرتا تھا۔
اداروں کو قبضے میں لینے کا آغاز زیادہ تر نیچے سے ہوا۔ پیٹر اور پال کے قلعے سے متصل اسلحہ خانے کے مزدوروں اور دفتری ملازمین نے خود ہی ہتھیاروں کی فراہمی کا اختیار حاصل کرنے کا سوال اٹھایا۔ وہاں بھیجے گئے ایک کمیسار نے جنکروں کو مزید ہتھیاروں کی فراہمی کامیابی سے منقطع کی اور ڈان کے علاقے کی طرف بھیجی گئی 10 ہزار رائفلوں اور مشکوک تنظیموں اور افراد کو ہتھیاروں کی منتقلی کو روک دیا۔ یہ کنٹرول جلد ہی دوسرے اسلحہ خانوں اور ہتھیاروں کے نجی ڈیلروں تک بھی پھیل گیا۔ کسی بھی ادارے یا گودام کے سپاہیوں، مزدوروں یا دفتری ملازمین کی کمیٹی سے استدعا کرنا ہی کافی ہوتا تھا اور انتظامیہ کی مزاحمت فوراً توڑ دی جاتی تھی۔ اِس کے بعد سے ہتھیار صرف کمیساروں کے حکم پر ہی دئیے جاتے تھے۔
طباعت کے مزدوروں نے اپنی یونین کے ذریعے کمیٹی کی توجہ بلیک ہنڈرڈ کے لیف لیٹوں اور اشتہاروں میں اضافے کی طرف مبذول کروائی۔ فیصلہ کیا گیا کہ تمام مشکوک معاملات میں چھپائی کرنے والوں کی یونین عسکری انقلابی کمیٹی سے ہدایات لے۔ردِ انقلاب کی اشاعتی ایجی ٹیشن کی روک تھام کی تمام شکلوں میں سے طباعت کے مزدوروں کے ذریعے کی جانے والی یہ روک تھام سب سے موثر تھی۔
سرکشی کی افواہوں کی باقاعدہ تردید پر اکتفا نہ کرتے ہوئے سوویت نے کھلے عام اتوار 22 تاریخ کو اپنی قوتوں کے پرامن معائنے کا دن قرار دے دیا، سڑک پر جلوسوں کے ذریعے نہیں بلکہ فیکٹریوں، بیرکوں اور پیٹروگراڈ کے تمام بڑے اداروں میں جلسوں کے ذریعے۔ خونریز تصادم کو ہوا دینے کے لئے کچھ پراسرار پجاریوں نے یہی دن دارالحکومت کی سڑکوں پر مذہبی جلوس کے لئے مقرر کر لیا۔ کچھ نامعلوم کاسکوں کے نام سے دی گئی اُن کی کال میں شہریوں کو ’’1812ء میں ماسکو کی دشمن سے آزادی کی یاد میں‘‘ مذہبی جلوس میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی تھی۔ یہ تاریخی عذر کچھ زیادہ درست نہ تھا، تاہم اِس سے بھی بڑھ کر اِن تنظیموں نے خداوند سے التجا کی ’’روسی سرزمین کی دشمنوں سے حفاظت کرنے والے‘‘ کاسک ہتھیاروں پر اپنی رحمت برسائے، یہ التجا سال 1917ء سے ہی متعلقہ تھی۔
ایک سنجیدہ ردِ انقلابی مظاہرے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ پیٹروگراڈ کے عوام میں پادریوں کی کوئی بنیاد نہیں تھی؛ وہ سوویت کے خلاف صرف بلیک ہنڈرڈ جتھوں کی ذلیل و خوار باقیات کو ہی کلیسا کے پرچموں تلے ابھار سکتے تھے۔ تاہم خفیہ پولیس اور کاسک افسروں کے تجربہ کار تخریب کاروں کی معاونت سے خونریز تصادم خارج از امکان نہیں تھے۔ احتیاطی تدبیر کے طور پر عسکری انقلابی کمیٹی نے سب سے پہلے کاسک رجمنٹوں پر اپنا اثرورسوخ مضبوط کرنے کی کوشش کی؛ انقلابی قیادت کے زیر استعمال عمارت میں بھی زیادہ سخت انتظام متعارف کروایا گیا۔ جان ریڈ لکھتا ہے، ’’سمولنی میں داخل ہونا اب آسان نہیں تھا۔ ہر کچھ گھنٹوں بعداجازت نامے کا نظام (Pass System) تبدیل کر دیا جاتا تھا، کیونکہ جاسوس مسلسل گھسنے کی کوشش کرتے تھے۔‘‘ 21 تاریخ کو گیریزن کی مجلس مشاورت کا ایک اجلاس ہوا، جو آنے والے کل کے ’یومِ سوویت‘ پر بحث کے لئے وقف تھا۔ ترجمان نے سڑکوں پر ممکنہ جھڑپوں سے بچنے کے لئے کئی اقدامات تجویز کئے۔ چوتھی کاسک رجمنٹ، جو سب سے بائیں طرف کھڑی تھی، نے اپنے مندوبین کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ مذہبی جلوس میں حصہ نہیں لے گی۔ چودھویں کاسک رجمنٹ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی تمام قوت سے ردِ انقلاب کی کوششوں کے خلاف لڑے گی، لیکن ساتھ ہی وہ اقتدار پر قبضے کے لئے میدان میں آنے کو ’’قبل از وقت‘‘ سمجھتی ہے۔ کُل تین کاسک رجمنٹوں میں سے صرف ایک غیرحاضر تھی، یورالسکی رجمنٹ، جو سب سے پسماندہ تھی اور جسے جولائی میں بالشویکوں کو کچلنے کے لئے پیٹروگراڈ لایا گیا تھا۔
ٹراٹسکی کی تجویز پر مجلس مشاورت نے تین مختصر قراردادیں منظور کیں:
(1) پیٹروگراڈ گیریزن اور اِس کے مضافات عسکری انقلابی کمیٹی کے تمام اقدامات کی مدد و حمایت کا وعدہ کرتے ہیں۔
(2) 22 تاریخ قوتوں کے پرامن معائنے کا دن ہو گا۔ گیریزن کاسکوں سے استدعا کرتا ہے: ’’ہم آپ کو اپنے کل کے جلسے میں مدعو کرتے ہیں۔ ہمارے کاسک بھائیو، خوش آمدید!‘‘
(3) ’’سوویتوں کی کُل روس کانگریس اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے اور عوام کو امن، زمین اور روٹی کی ضمانت فراہم کرے۔‘‘ گیریزن اپنی تمام قوتوں کو سوویت کانگریس کے اختیار میں دینے کا پکا وعدہ کرتا ہے۔ ’’سپاہیوں، مزدوروں اور کسانوں کے مصدقہ نمائندو، ہم پر بھروسہ کرو۔ ہم جیتنے یا مرنے کے لئے اپنے جگہوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔‘‘
سرکشی پر مہر ثبت کرنے والی اِس قرارداد کے حق میں سینکڑوں ہاتھ کھڑے ہوئے۔ ستاون آدمیوں نے ووٹ نہیں دیا۔ یہ ’’غیرجانبدار‘‘ تھے، یعنی متذبذب دشمن تھے۔ قرارداد کے خلاف کوئی ہاتھ کھڑا نہیں ہوا۔ فروری کے نظام حکومت کی گردن کے گرد تسلی بخش پھندا کسا جا رہا تھا۔
دن کے دوران معلوم ہوا کہ مذہبی جلوس کے پراسرار محرکین نے ’’ڈسٹرکٹ کے سپہ سالار کی تجویز پر‘‘ اپنا مظاہرہ منسوخ کر دیا تھا۔ اِس سنجیدہ اخلاقی فتح، جو گیریزن کی مجلس مشاورت کے سماجی دباؤ کی شاندار پیمائش تھی، نے اِس پراعتماد پیش گوئی کو ممکن بنایا کہ اگلے دن دشمن سڑک پر آنے کی جرات نہیں کرے گا۔
عسکری انقلابی کمیٹی نے علاقائی صدر دفتر میں تین کمیساروں کو تعینات کیا، سیڈووسکی، میخونوشن اور لازیمیز۔ کمانڈر کے احکامات اِن تینوں میں سے کسی ایک کی توثیق کے بعد ہی قابل عمل ہو سکتے تھے۔ سمولنی سے ایک ٹیلی فون کال پر فوجی قیادت نے وفد کے لئے ایک موٹر گاڑی بھیجی (دوہرے اقتدار کے طور طریقے ابھی تک لاگو تھے) لیکن توقعات کے برعکس فوجی قیادت کی اِس انتہائی شائستگی کا مطلب رعایات دینے پر آمادگی نہیں تھا۔
سیڈووسکی کا اعلامیہ سننے کے بعد ڈسٹرکٹ کمانڈر پولکوونیکوف نے کہا کہ وہ کسی کمیسار کو نہیں مانتا اور اُسے کسی سرپرستی کی ضرورت نہیں ہے۔ وفد نے جب اشارہ کیا کہ اِس راستے پر صدر دفتر کو شاید سپاہیوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنے پڑے گاتو پولکوونیکوف نے روکھے انداز میں جواب دیا کہ گیریزن اُس کے قابو میں ہے اور یقینا اطاعت کرے گا۔ میخونوشن اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے، ’’اُس کی یقین دہانی مخلص تھی۔ہم نے اُس میں کوئی بناوٹ محسوس نہیں کی۔‘‘ سمولنی واپسی کے لئے مندوبین کو کوئی سرکاری موٹر گاڑی نہیں ملی۔
مجلس مشاورت کے ایک خصوصی اجلاس، جس میں ٹراٹسکی اور سویڈلوف کو بھی بلایا گیا تھا، نے فیصلہ کیا: صدر دفتر سے قطع تعلق کو ایک مکمل حقیقت سمجھا جائے اور اِسے آگے کے حملے کا نقطہ آغاز بنایا جائے۔ کامیابی کی پہلی شرط: علاقوں کو جدوجہد کے تمام مراحل اور واقعات سے باخبر رکھا جائے۔ دشمن کو اجازت نہ دی جائے کہ وہ عوام کو بے خبری میں دبوچ لے۔ علاقائی سوویتوں اور پارٹی کی کمیٹیوں کے ذریعے یہ معلومات شہر کے تمام حصوں میں بھیج دی گئیں۔ جو کچھ ہوا تھا اس بارے میں رجمنٹوں کو فوراً آگاہ کر دیا گیا۔ ہدایات کو مستحکم کیا گیا: صرف اُنہی احکامات پر عملدرآمد کرو جن کی توثیق کمیسار کریں۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ گشت کے لئے صرف انتہائی قابل اعتماد سپاہیوں کو ہی بھیجا جائے۔
لیکن صدر دفتر نے بھی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے مصالحت پسند اتحادیوں کے اکسانے پر پولکوونیکوف نے دوپہر دو بجے گیریزن کا اپنا اجلاس بلا لیا، جس میں مرکزی مجلس عاملہ کے نمائندے بھی موجود تھے۔ دشمن کی اِس چال کو بھانپتے ہوئے عسکری انقلابی کمیٹی نے گیارہ بجے رجمنٹ کمیٹیوں کا ہنگامی اجلاس بلایا، جس میں صدر دفتر سے باضابطہ قطع تعلق کا فیصلہ کیا گیا۔ اِس اجلاس میں پیٹروگراڈ اور مضافات کے فوجی دستوں سے کی جانے والی استدعا اعلانِ جنگ کی زبان بول رہی تھی۔ ’’دارالحکومت کے منظم گیریزن سے قطع تعلق کے بعد صدر دفتر ردِ انقلابی قوتوں کا براہ راست آلہ کار بن چکا ہے۔‘‘ عسکری انقلابی کمیٹی، صدر دفتر کی تمام سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے اور گیریزن کی قیادت سنبھالتے ہوئے ’’ردِ انقلاب کی کوششوں کے خلاف انقلاب کے دفاع‘‘ کا بیڑا اٹھاتی ہے۔
سرکشی کے راستے پر یہ ایک فیصلہ کن قدم تھا۔ یا شاید یہ اُس دوہرے اقتدار کی میکانیات میں صرف اگلا تصادم تھا جو تصادموں سے بھرپور تھا؟ بہرحال، اُن یونٹوں کے نمائندگان سے صلاح مشورے کے بعد جنہیں عسکری انقلابی کمیٹی کی ہدایات بروقت نہیں ملی تھیں، صدر دفتر نے اپنی تسلی کے لئے اِس کی تشریح یونہی کرنے کی کوشش کی۔ بالشویک حوالدار ڈاشکیوچ کی قیادت میں سمولنی سے بھیجے گئے ایک وفد نے صدر دفتر کو گیریزن کی مجلس مشاورت کی قرارداد سے مختصراً آگاہ کیا۔ وہاں موجود دستوں کے چند ایک نمائندگان نے سوویت سے اپنی وفاداری کی دوبارہ یقین دہائی کروائی، لیکن کوئی فیصلہ لینے سے انکار کیا اور منتشر ہو گئے۔ پریس نے صدر دفتر کے الفاظ کچھ یوں نقل کئے، ’’طویل تبادلہ خیال کے بعد کوئی واضح فیصلہ نہیں ہو سکا؛ ضروری سمجھا گیا ہے کہ مرکزی مجلس عاملہ اور پیٹروگراڈ سوویت کے درمیان تنازعے کے حل کا انتظار کیا جائے۔‘‘ یوں صدر دفتر اپنے زوال کو اِس بات پر دو سوویت اداروں کی لڑائی تصور کر رہا تھا کہ کس نے اُس کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنا تھا۔ اس رضاکارانہ اندھے پن کی حکمت عملی کا یہ فائدہ تھا کہ یہ اُنہیں سمولنی کے خلاف اُس جنگ کے اعلان کی ضرورت سے آزاد کر رہی تھی جس کے لئے حکمرانوں کے پاس کافی قوتیں موجود نہیں تھیں۔ یوں پھٹ پڑنے کی نہج تک پہنچے ہوئے انقلابی تصادم کو ایک بار پھر حکومتی اداروں کی مدد سے دوہرے اقتدار کے قانونی ڈھانچے میں مقید کر دیا گیا۔ صدر دفتر حقیقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے ڈرتے ہوئے، زیادہ وفاداری سے سرکشی کو چھپانے میں معاونت کرنے لگا۔ لیکن طاقتوں کا یہ غیر سنجیدہ طرز عمل کیا اُن کے اپنے حقیقی مقصد کو چھپانے کے لئے نہیں تھا؟ کیا صدر دفتر کا ارادہ نہیں تھا کہ اِس افسر شاہانہ بھولے پن کی آڑ میں عسکری انقلابی کمیٹی پر غیرمتوقع ضرب لگائے؟ عبوری حکومت کے مخبوط الحواس اور مایوس اداروں کی جانب سے ایسی کسی کوشش کو سمولنی میں بعید از قیاس سمجھا جا رہا تھا۔ پھر بھی عسکری انقلابی کمیٹی نے انتہائی سادہ احتیاطی تدابیر کیں: قریبی بیرکوں میں کمپنیوں کو چوبیس گھنٹے عسکری طور پر مستعد اور خطرے کی پہلی گھنٹی پر سمولنی کی مدد کو آنے کے لئے تیار رکھا جا رہا تھا۔
مذہبی جلوس کی منسوخی کے باوجود بورژوا پریس اتوار کو خونریزی کی پیش بینی کر رہی تھی۔ مصالحت پسند اخبار نے اپنے صبح کے شمارے میں اعلان کیا: ’’آج حکام کو ’میدان میں آنے‘ کی توقع 20 تاریخ سے بھی زیادہ ہے۔‘‘ یوں ایک ہفتے میں تیسری بار (17 تاریخ، 20 تاریخ، 22 تاریخ) یہ شرارتی بچہ لوگوں کو ’’شیر آیا!‘‘ کی جھوٹی چیخ و پکار سے دھوکہ دے رہا تھا۔ اگر ہم پرانی حکایت پر یقین کریں تو چوتھی بار یہ لڑکا شیر کے جبڑوں میں ہو گا۔ بالشویک پریس نے لوگوں سے جلسوں میں شمولیت کی استدعا کرتے ہوئے سوویتوں کی کانگریس سے قبل انقلابی قوتوں کے پرامن معائنے کی بات کی۔ یہ عسکری انقلابی کمیٹی کے منصوبے کے بالکل مطابق تھا: تصادموں کے بغیر، ہتھیار استعمال کئے بغیر، حتیٰ کہ اُنہیں دکھائے بغیر اپنی قوتوں کا دیوہیکل معائنہ کیا جائے۔ وہ عوام کو اُن کی اپنی تعداد، اُن کی اپنی قوت، اُن کا اپنا عزم دکھانا چاہتے تھے۔ وہ یکجا تعداد سے دشمن کو چھپ جانے، غائب ہو جانے، گھروں میں دبک جانے پر مجبور کر دینا چاہتے تھے۔ عوام کے سامنے بورژوازی کا خصی پن آشکار کرکے وہ مزدوروں اور سپاہیوں کے شعور سے جولائی کے دنوں کی آخری رکاوٹی یادداشتیں بھی کھرچ دینا چاہتے تھے، تاکہ خود اپنے آپ کو دیکھ لینے کے بعد عوام کہہ اٹھیں: کوئی طاقت اب ہمیں روک نہیں سکتی۔
ملیوکوف نے پانچ سال بعد لکھا، ’’خوفزدہ آبادی گھروں میں رہی یا ایک طرف کھڑی رہی۔‘‘ یہ بورژوازی تھی جو گھروں میں رہی اور اُنہیں اُن کی اپنی پریس نے خوفزدہ کیا تھا۔ باقی تمام آبادی صبح سویرے سے رات تک بڑی تعداد میں جلسوں میں شامل ہوئی، نوجوان اور بوڑھے، عورتیں اور مرد، لڑکے اور لڑکیاں، بچے اپنے بازوؤں میں اٹھائے مائیں… پورے انقلاب میں ایسے جلسے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ صرف بالائی طبقات کے علاوہ سارا پیٹروگراڈ ایک جلسے میں یکجا ہو چکا تھا۔ آڈیٹوریم دروازوں تک بھرے ہوئے تھے، جن میں سامعین چند ہی گھنٹوں میں نیا جنم لے رہے تھے۔ مزدوروں ، سپاہیوں اور جہازیوں کی نئی لہریں عمارات کو بھرتی چلی جا رہی تھیں۔ شہر کی پیٹی بورژوازی بھی اِن لہروں اور اُن تنبیہوں، جو اُنہیں ڈرانے کے لئے کی جا رہی تھیں، سے بیدار ہو کر جوش کھانے لگی تھی۔ دسیوں ہزار لوگوں نے ’دارالعوام‘ کے نام سے مشہور وسیع و عریض عمارت کو بھر دیا۔ ٹھوس، جذباتی مگر ساتھ ہی ساتھ منظم ہجوم سے سارے تھیٹر، تھیڑوں کے سارے آڈیٹوریم، اُن کے تمباکو نوشی کے کمرے، بوفے اور دالان بھر گئے۔ آہنی ستونوں اور بالائی منزلوں کی کھڑکیوں سے گجروں اور گچھوں میں انسانی سر، ٹانگیں اور بازو لٹک رہے تھے۔ فضا میں ایک برقی تناؤ تھا جو آنے والے ڈسچارج کی پیش گوئی کر رہا تھا۔ کیرنسکی مردہ باد! جنگ مردہ باد! اقتدار سوویتوں کے پاس! اِن سلگتے ہوئے ہجوموں کے سامنے دلائل اور تنبیہوں کے ساتھ نمودار ہونے کی جرات کسی مصالحت پسند میں نہیں تھی۔ بالشویک ہی بات کر سکتے تھے۔ کانگریس کے لئے صوبوں سے آنے والے مندوبین سمیت پارٹی کی تمام خطیبانہ قوتوں کو متحرک کیا گیا۔بعض بائیں بازو کے سوشل انقلابی اور کچھ جگہوں پر انارکسٹ بھی تقریر کرتے تھے، لیکن دونوں کی کوشش تھی کہ اُن میں اور بالشویکوں میں فرق کم سے کم ہو۔
تارتار کوٹوں یا سرمئی وردیوں میں ملبوس، سروں پر ٹوپیاں یا بھاری شالیں اوڑھے، سڑکوں کے کیچڑ میں لت پت جوتے پہنے اور گلوں میں موسم خزاں کی کھانسی لئے جھونپڑ پٹیوں ، چوباروں اور تہہ خانوں کے باسی تمام وقت بت بنے کھڑے ہیں… کندھے سے کندھا جوڑے ساتھ ساتھ کھڑے ہیں اور مزید لوگوں کی جگہ بنانے کے لئے، سب لوگوں کی جگہ بنانے کے لئے اور بھی قریب دبتے چلے جا رہے ہیں۔ انتھک انداز سے بھوکوں کی طرح، پورے اشتیاق اور طلب سے سن رہے ہیں کہ جو کچھ سمجھنا، اپنے اندر سمونا اور کرنا ضروری ہے کہیں اُس کا ایک بھی لفظ رہ نہ جائے! یوں محسوس ہوتا تھا کہ پچھلے مہینوں، ہفتوں اور کم از کم پچھلے کچھ دنوں کے دوران ساری باتیں کہہ دی گئی تھیں۔ لیکن نہیں! آج اُن باتوں کی تاثیر ہی کچھ اور ہے۔آج وہ عوام کے لئے کوئی خطبہ نہیں بلکہ جدوجہد کا قول و قرار ہیں۔ اِن غربت زدہ مرد و خواتین کی گہری یادداشت میں سے جنگ، انقلاب اور تلخ زندگی کی بھاری جدوجہد کا تجربہ ابھر رہا ہے اور سادہ اور بے باک خیالات میں اپنا اظہار کر رہا ہے: اِس راستے پر ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے، ہمیں مستقبل کا نیا راستہ تراشنا ہو گا!
مذکورہ واقعات میں حصہ لینے والے تمام لوگوں نے بعد ازاں انقلاب کے پس منظر میں اِس جھلملاتے دن کو یاد کیا ہے۔ اِس پرجوش لیکن اپنی ناقابل تسخیر قوت کے باوجود تھمے ہوئے انسانی سیلاب کی یاد اِسے دیکھنے والوں کی یادداشت میں نقش ہو چکی ہے۔ بائیں بازو کا سوشل انقلابی مسٹسلاوسکی لکھتا ہے، ’’پیٹروگراڈ سوویت کا دن بے شمار جلسوں میں بے انتہا جو ش و جذبے سے منایا گیا۔‘‘ بالشویک ٹیٹووسکی، جس نے ویسلی-اوسٹروف کے علاقے کی دو فیکٹریوں میں تقریر کی، کہتا ہے: ’’ہم عوام سے اقتدار پر قبضے کے بارے میں بے تکلفی سے بات کر رہے تھے اور صرف حوصلہ افزا باتیں ہی سن رہے تھے۔‘‘ دارالعوام میں جلسے کے بارے میں سوخانوف لکھتا ہے، ’’میرے ارد گرد مزاج بے خودی کے بہت قریب تھا… ٹراٹسکی نے کوئی مختصر عمومی قرارداد پیش کی تھی… اُس کے حق میں ہزار ہا لوگوں نے یکجا ہو کر ہاتھ کھڑے کئے۔ میں نے آدمیوں، عورتوں، لڑکوں، مزدوروں، سپاہیوں ، کسانوں اور مخصوص پیٹی بورژوا شخصیات کے بھی اٹھے ہوئے ہاتھ اور سلگتی ہوئی آنکھیں دیکھیں… ٹراٹسکی بولتا رہا۔ ہجوم نے اپنے ہاتھ ہوا میں بلند رکھے۔ ٹراٹسکی کا ہر لفظ کاٹ دار تھا: اپنے اِسی ووٹ کو اپنا حلف بننے دو… ہجوم نے ہاتھ اور بھی بلند کر لئے۔ وہ متفق تھے۔ اُنہوں نے حلف اٹھایا۔‘‘ عوام کے اٹھائے گئے مستانہ وار حلف کے بارے میں بالشویک پوپوف بتایا ہے: ’’سوویت کے پہلے حکم پر میدان میں آئیں گے۔‘‘ مسٹسلاوسکی ایک بھڑکے ہوئے ہجوم کے سوویتوں سے وفاداری کے حلف کے بارے میں بتاتا ہے۔یہی منظر چھوٹے پیمانے پر مرکز سے مضافات تک، شہر کے تمام حصوں میں دیکھا گیا۔ لاکھوں افراد نے بیک وقت اپنے ہاتھ اٹھائے اور جدوجہد کو انجام تک پہنچانے کا عزم کیا۔ سوویت، سپاہیوں والے حصے، گیریزن کی مجلس مشاورت اور فیکٹری و کارخانہ کمیٹیوں کے ہر روز ہونے والے اجلاسوں نے رہنماؤں کے ایک بڑے گروہ کو داخلی یکجہتی عطا کر دی تھی؛ علیحدہ عوامی جلسوں نے فیکٹریوں اور رجمنٹوں کو متحد کر دیا تھا؛ لیکن 22 اکتوبر کے دن نے حقیقی عوام کو بلند درجہ حرارت پر ایک دیوہیکل کڑاھے میں یکجا کر دیا۔ عوام نے خود کو اور اپنے رہنماؤں کو دیکھا؛ رہنماؤں نے عوام کو دیکھا اور سنا۔ دونوں اطراف ایک دوسرے سے مطمئن تھیں۔ رہنما قائل تھے: ہم مزید تاخیر نہیں کر سکتے! عوام نے خود سے کہا: اب کی بار کام مکمل ہو جائے گا!
بالشویکوں کی جانب سے اتوار کے روز قوتوں کے اِس معائنے کی کامیابی نے پولکوونیکوف اور اُس کی بالائی کمان کی خود اعتمادی کو چکنا چور کر دیا۔ حکومت اور مرکزی مجلس عاملہ کے اتفاق رائے سے صدر دفتر نے سمولنی سے مفاہمت کی کوشش کی۔ کیوں نہ رابطے کی پرانی دوستانہ روایات اور مصالحت کو پھر سے بحال کیا جائے؟ عسکری انقلابی کمیٹی نے بھی تبادلہ خیال کے لئے اپنے سفارت کار بھیجنے سے انکار نہیں کیا: صورتحال کے جائزے کے اِس سے بہتر موقع کی خواہش بمشکل ہی کی جا سکتی تھی۔سیڈووسکی یاد کرتا ہے، ’’مذاکرات مختصر تھے۔ صدر دفتر کے نمائندگان نے سوویت کی تمام شرائط پیشگی تسلیم کر لیں، جس کے بدلے میں عسکری انقلابی کمیٹی کا 22 اکتوبر کا فرمان منسوخ کیا جانا تھا۔‘‘ اِس سے مراد وہ دستاویز تھی جس میں صدر دفتر کو ردِ انقلابی قوتوں کا آلہ کار قرار دیا گیا تھا۔ عسکری انقلابی کمیٹی کے اُنہی سفارت کاروں، جنہیں پولکوونیکوف نے دو دن پہلے بڑی بدتمیزی سے واپس بھیجا تھا، کو اب سمولنی کو دینے کے لئے معاہدے کا ابتدائی مسودہ پیش کیا گیا، جس پرصدر دفتر کی مہر ثبت تھی۔ ہفتے تک توشکست تسلیم کرنے کے اِس نیم قابل احترام معاہدے کی شرائط تسلیم کر لی جاتیں۔ لیکن آج سوموار کو بہت دیر ہو چکی تھی۔ صدر دفتر جواب کا منتظر رہا۔کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
عسکری انقلابی کمیٹی نے پیٹروگراڈ کی آبادی کے نام ایک اعلانِ عام جاری کیا، جس میں فوجی یونٹوں اور دارالحکومت اور اِس کے مضافات میں کمیساروں کی تعیناتی کی وضاحت کی گئی۔ ’’سوویت کے نمائندوں کے طور پر یہ کمیسار ناقابل خلاف ورزی ہیں۔ کمیساروں کی مخالفت کا مطلب مزدوروں اور سپاہیوں کے نمائندگان کی سوویت کی مخالفت ہے۔‘‘ شہریوں سے کہا گیا کہ کسی گڑبڑ کی صورت میں مسلح افواج کو بلانے کے لئے قریب ترین کمیسار سے استدعا کریں۔ تاہم ابھی تک کمیٹی نے کھلی سرکشی کا اشارہ نہیں دیا۔ سوخانوف پوچھتا ہے: ’’سمولنی حماقت کر رہا ہے یا پھر سرما محل کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیل کر ایک حملے پر اکسانے کی کوشش کر رہا ہے؟‘‘ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ کمیٹی عوام کے دباؤ اور گیریزن کے وزن سے حکومت کی جگہ لے رہی تھی۔وہ گولی چلائے بغیر آگے بڑھ رہی تھی اور اپنی فوج کو یکجا اور مضبوط کر رہی تھی۔ وہ اپنے دباؤ سے دشمن کی مزاحمتی طاقت کا اندازہ لگا رہی تھی اور ایک لمحے کے لئے بھی اپنی نظریں دشمن سے نہیں ہٹا رہی تھی۔ آگے کی جانب ہر نیا قدم قوتوں کے مزاج کو سمولنی کے حق میں بدل رہا تھا۔ گیریزن اور مزدور ایک سرکشی کے لئے تیار ہو رہے تھے۔ اب یہ محض چند گھنٹوں کا سوال تھا۔ اگر آخری لمحے پر حکومت ہمت یا مایوسی سے لڑائی کااشارہ کرتی ہے تو اِس کی ذمہ داری سرما محل پر عائد ہو گی۔ تاہم سمولنی نے آغاز تو کر دیا تھا۔ 23 اکتوبر کے اعلان کا مطلب ہی حکومت کے خاتمے سے پہلے اُس کی طاقت کا خاتمہ تھا۔ دشمن کے سر پر ضرب لگانے سے پہلے عسکری انقلابی کمیٹی اس کے ہاتھ اور پیر باندھ رہی تھی۔ ’’پرامن نفوذ‘‘ کی اس تدبیر کا استعمال ، دشمن کی ہڈیوں کو قانونی طور پر توڑنا اور اُس کے عزم کی باقیات کو تنویمی طور پر (Hypnotically) مفلوج کرنا صرف اِس وجہ سے ممکن ہو سکا کہ کمیٹی کی قوتوں کی برتری مسلمہ تھی اور اُن میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔
کمیٹی ہر روز اپنے سامنے کھلے گیریزن کے نقشے کا مطالعہ کر رہی تھی۔ اُسے ہر رجمنٹ کا درجہ حرارت معلوم تھا اور بیرکوں کی ہمدردیوں اور خیالات میں ہر تبدیلی سے باخبر تھی۔ اِس طرف سے کوئی خلاف توقع بات ناممکن تھی۔ تاہم نقشے پر کچھ سیاہ پرچھائیاں ابھی تک موجود تھیں۔ اُن کے خاتمے یا کم از کم کمی کی کوشش لازم تھی۔ 19 تاریخ کو واضح ہو گیا تھا کہ پیٹر اور پال کے قلعے کی اکثریتی کمیٹیوں کا رجحان مخالفانہ یا کم از کم مشکوک تھا۔ اب جبکہ سارا گیزیزن کمیٹی کے ساتھ ہے اور قلعہ درمیان میں گھرا ہوا ہے تو یہ اُسے فتح کرنے کا وقت ہے۔ قلعے میں تعینات کئے جانے والے کمیسار، دفعدار بلاگنراووف کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ قلعے کے حکومتی کمانڈر نے اِس بالشویک نگرانی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا؛ حتیٰ کہ ایسی افواہیں بھی تھیں کہ وہ نوجوان نگران کو گرفتار کر لے گا۔ کچھ کرنا اور جلد کرنا ضروری تھا۔ اینٹونوف نے پیولووسکی رجمنٹ کی ایک قابل اعتماد بٹالین کو قلعے میں لے جا کر مخالف یونٹوں کو غیر مسلح کرنے کی پیش کش کی۔ لیکن یہ ایک سخت کاروائی تھی، جسے خونریزی اور گیریزن کی یکجہتی توڑنے کے لئے افسران استعمال کر سکتے تھے۔ کیا ایسے سخت اقدامات کرنا واقعی ضروری تھا؟ اپنی یادداشتوں میں اینٹونوف کہتا ہے: ’’سوال پر غور کرنے کے لئے ٹراٹسکی کو بلایا گیا… اُ س وقت ٹراٹسکی ایک فیصلہ کن کردار ادا کر رہا تھا۔ اُس نے جو مشورہ دیا وہ اُس کے انقلابی ادراک کی پیداوار تھا: ہم قلعے پر اندر سے قبضہ کریں۔ اُس نے کہا، ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہاں موجود دستے ہمدرد نہ ہوں۔‘ وہ درست تھا۔ٹراٹسکی اور لاشیوچ قلعے کے ایک جلسے میں گئے۔‘‘ پرخطر معلوم ہونے والی اِس کارجوئی کے نتائج کا انتظار سمولنی میں انتہائی بے چینی سے کیا جا رہا تھا۔ ٹراٹسکی نے بعد ازاں لکھا: ’’23 تاریخ کو میں دوپہر تقریباً دو بجے قلعے میں گیا۔ صحن میں ایک جلسہ جاری تھا۔ دائیں بازو کے مقررین انتہائی محتاط تھے اور گول مول باتیں کر رہے تھے… سپاہیوں نے ہماری بات سنی اور ہمارے ساتھ مل گئے۔‘‘ جب ٹیلیفون نے یہ خوشخبری سنائی تو سمولنی کی تیسری منزل والوں نے سکون کا سانس لیا: پیٹر اور پال کے گیریزن نے آئندہ صرف عسکری انقلابی کمیٹی کے احکامات ماننے کا پکا وعدہ کیا ہے۔
قلعے کے دستوں کے مزاج میں یہ تبدیلی یقینا ایک یا دو تقاریر کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ پہلے سے پک کر تیار ہو چکی تھی۔ سپاہی اپنی کمیٹیوں سے کہیں زیادہ بائیں طرف نکلے۔ یہ صرف پرانے ڈسپلن کا دراڑ زدہ خول تھا جو شہر کی بیرکوں کی نسبت قلعے کے دیواروں میں کچھ زیادہ دیر تک قائم رہا۔ اِسے توڑنے کے لئے ایک ہی ضرب کافی تھی۔
بلاگنراووف اب پورے اعتماد سے قلعے میں خود کو مستحکم کر سکتا تھا، اپنا چھوٹا سا صدر دفتر قائم کر سکتا تھا اور متصل علاقے کی سوویت اور قریبی بیرکوں کی کمیٹیوں سے روابط استوار کر سکتا تھا۔ اِسی دوران فیکٹریوں اور فوجی یونٹوں سے مندوبین یہ دیکھنے کے لئے آ رہے تھے کہ ہتھیاروں کے حصول کے بارے میں وہ کیا کر سکتے ہیں۔ قلعے میں ایک ناقابل بیان سرگرمی کا دور دورہ تھا۔ ’’ٹیلی فون مسلسل بج رہا تھا اور عوامی جلسوں اور اجتماعات میں نئی کامیابیوں کی خبریں دے رہا تھا۔‘‘ بعض اوقات کوئی اجنبی آواز کسی ریلوے سٹیشن پر محاذ سے تعزیری دستوں کی آمد کی اطلاع دیتی تھی۔ فوری تفتیش واضح کر دیتی تھی کہ یہ دشمن کی پھیلائی گئی افواہ ہے۔
اُس دن سوویت کا شام کا اجلاس غیرمعمولی تعداد اور بلند مزاج کی وجہ سے ممتاز تھا۔ پیٹر اور پال پر قبضہ اور ایک لاکھ رائفلوں والے کرونورکسکی اسلحہ خانے کی فتح، یہ کامیابی کی کوئی چھوٹی ضمانت نہیں تھی۔ عسکری انقلابی کمیٹی کا ترجمان اینٹونوف تھا۔ اُس نے حکومتی اداروں کی جگہ بتدریج عسکری انقلابی کمیٹی کے کارندوں کی جانب سے لینے کی تصویر کھینچی۔ اُس نے کہا کہ کارندوں کو ہر جگہ عام حکام کی طرح ہی لیا جا رہا ہے؛ اُن کی اطاعت خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ اصول کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ ’’ہر طرف سے کمیساروں کی تعیناتی کی خبریں آ رہی ہیں۔‘‘ پسماندہ یونٹ فوراً ہراول یونٹوں سے ملنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پریوبرازنسکی رجمنٹ، جو جولائی میں سب سے پہلے جرمن پیسے کی بہتان تراشی کا شکار ہوئی تھی، نے اب اپنے کمیسار چڈنووسکی کے ذریعے اِس افواہ کے خلاف پرزور احتجاج کیا کہ پریوبرازنسکی والے حکومت کے ساتھ ہیں۔ یہ خیال ہی ایک خبیث گالی سمجھا جانے لگا تھا! اینٹونوف نے بتایا کہ گشت کی روایتی ڈیوٹیاں بلاشبہ ابھی تک انجام دی جا رہی ہیں، لیکن ایسا کمیٹی کی منظوری سے کیا جا رہا ہے۔ ہتھیاروں اور موٹر گاڑیوں کی فراہمی کے صدر دفتر کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ یوں صدر دفتر کے پاس یہ جاننے کے وسیع مواقع تھے کہ دارالحکومت کا حاکم کون تھا۔
ایک سوال کہ ’’کیا محاذ اور قریبی علاقوں سے حکومتی دستوں کی نقل و حرکت سے کمیٹی آگاہ ہے اور اِس کے خلاف کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟‘‘ کا جواب ترجمان نے کچھ یوں دیا: ’’رومانیہ کے محاذ سے گھڑسوار یونٹ بھیجے گئے تھے لیکن اُنہیں پسکوف میں روک لیا گیا ہے؛ 17ویں پیادہ ڈویژن نے یہ جاننے کے بعد کہ اُنہیں کہاں اور کیوں بھیجا جا رہا ہے، جانے سے انکار کر دیا ہے؛ ونڈن میں دو رجمنٹوں نے خود کو پیٹروگراڈ کے خلاف بھیجے جانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے؛ ہمیں ابھی تک کاسکوں اور جنکروں کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے، جنہیں کیف سے بھیجا جانا تھا، یا پھر وہ یلغاری دستے جنہیں زارسکوئی سیلو سے بلایا گیا ہے۔ وہ عسکری انقلابی کمیٹی پر ہاتھ ڈالنے کی جرات کرتے ہیں نہ کریں گے۔‘‘ سمولنی کے سفید ہال میں یہ الفاظ بہت شاندار معلوم ہو رہے تھے۔ جس وقت اینٹونوف اپنی رپورٹ پڑھ رہا تھا، ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سرکشی کا صدر دفتر دروازے کھول کے کام کر رہا تھا۔ درحقیقت سمولنی کے پاس چھپانے کو کچھ تھا بھی نہیں۔ انقلاب کا سیاسی بندوبست اِتنا موزوں تھا کہ خود بے تکلفی بھی ایک طرح کا بہروپ بن گئی تھی: کیا سرکشی ایسے ہی کی جاتی ہے؟ تاہم کسی بھی رہنما نے ’’سرکشی‘‘ کا لفظ نہیں بولا۔ یہ کوئی احتیاطی تدبیر نہیں تھی، بلکہ اُن کی نظر میں یہ اصطلاح حقیقی صورتحال پر پوری نہیں اترتی تھی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ سرکشی کا کام تو اب کیرنسکی کی حکومت پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ ’ازوستیا‘ کی تحریر میں کہا گیا ہے کہ 23 تاریخ کے اجلاس میں ٹراٹسکی نے پہلی بار تسلیم کیا کہ عسکری انقلابی کمیٹی کا مقصد اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔یہ بالکل درست ہے کہ پرانا موقف، جب کمیٹی کا مقصد چیری میسوف کے تذویراتی دلائل کو جانچنا بیان کیا گیا تھا، بہت عرصہ پہلے ترک کیا جا چکا تھا۔ رجمنٹوں کی منتقلی کا معاملہ تقریباً فراموش ہو چکا تھا۔ لیکن 23 تاریخ کو بات ابھی تک سرکشی سے متعلق نہیں بلکہ سوویتوں کی آنے والی کانگریس کے ’’دفاع‘‘ کے بارے میں تھی ۔ اینٹونوف کی رپورٹ پر اِسی روح سے قرارداد منظور کی گئی۔
حکومت کے بالائی حلقوں میں اِن واقعات کا حساب کیسے لگایا جا رہا تھا؟ عسکری انقلابی کمیٹی کی جانب سے رجمنٹوں کو کمان سے دور کرنے کی کوشش کی خبر 22 تاریخ کی رات کو صدر دفتر کے عملے کے سربراہ ڈخونن کو دیتے ہوئے کیرنسکی نے کہا: ’’میرے خیال میں ہم اِس سے باآسانی نبٹ سکتے ہیں۔‘‘ اُس نے کہا کہ محاذ کے صدر دفتر کے لئے اُس کی روانگی میں تاخیر کسی سرکشی کے خوف کی وجہ سے بالکل بھی نہیں ہوئی: ’’معاملہ میرے بغیر بھی ٹھیک کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ہر چیز منظم ہے۔‘‘ اپنے پریشان وزرا کو حوصلہ دیتے ہوئے کیرنسکی نے کہا کہ اُن کے برعکس وہ بالشویکوں کے متوقع حملے پر بہت خوش تھا، کیونکہ یہ اُسے ’’ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بالشویکوں سے حساب چکتا کرنے‘‘ کا موقع دے گا۔ اکثر سرما محل کا مہمان بننے والے کیڈٹ نابوکوف سے حکومت کے اِس سربراہ نے کہا، ’’میں تو دعا کرتا ہوں کہ ایسا کوئی حملہ ہو۔‘‘ ’’لیکن کیا تمہیں یقین ہے کہ تم اِس سے نبٹ لو گے؟‘‘ ’’میرے پاس ضرورت سے زیادہ قوتیں ہیں۔ بالشویک ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہو جائیں گے۔‘‘
بعد ازاں کیرنسکی کی اِس رجائیت بھری لا پرواہی کا تمسخر اڑاتے ہوئے کیڈٹ کچھ بھول جاتے ہیں۔ درحقیقت کیرنسکی تمام واقعات کو اُن ہی کی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ 21 تاریخ کو ملیوکوف کے پرچے نے لکھا کہ گہرے داخلی بحران سے دوچار بالشویکوں نے اگر باہر نکلنے کی جرات کی تو اُنہیں فوراً اور باآسانی کچل دیا جائے گا۔ ایک اور کیڈٹ پرچہ لکھتا ہے: ’’ایک طوفان آ رہا ہے، لیکن یہ شاید فضا کو صاف کر دے گا۔‘‘ ڈین تصدیق کرتا ہے کہ عبوری پارلیمنٹ کی نشستوں پر کیڈٹ اور اُن کے حواری باآواز بلند خواہش کرتے تھے کہ بالشویک جلد از جلد باہر نکلیں: ’’ایک کھلی لڑائی میں اُن کا ایک بھی بندہ نہیں بچے گا۔‘‘ نمایاں کیڈٹوں نے جان ریڈ سے کہا: سرکشی میں شکست کھانے کے بعد بالشویک آئین ساز اسمبلی میں سر اٹھانے کی جرات نہیں کریں گے ۔
22 اور 23 تاریخ کو کیرنسکی کبھی مرکزی مجلس عاملہ کے رہنماؤں تو کبھی صدر دفتر سے مشورہ کر رہا تھا: کیا عسکری انقلابی کمیٹی کو گرفتار کرنا مناسب نہیں ہو گا؟ مصالحت پسندوں نے یہ مشورہ نہیں دیا: کمیساروں کا معاملہ وہ خود ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے۔ پولکوونیکوف کا بھی یہی خیال تھا کہ گرفتاریوں میں جلدبازی کی کوئی ضرورت نہیں: بوقت ضرورت حکومت کی فوجی قوتیں ’’کافی زیادہ‘‘ ہوں گی۔ کیرنسکی پولکوونیکوف کی بات سن رہا تھا، لیکن اُس سے بھی زیادہ وہ اپنے مصالحت پسند دوستوں کی بات سن رہا تھا۔ وہ پورے اعتماد سے حساب لگا رہا تھا کہ خطرے کی صورت میں تمام تر خاندانی غلط فہمیوں کے باوجود مرکزی مجلس عاملہ اُس کی مدد کو آئے گی۔ جولائی اور اگست میں ایسا ہی تھا۔ تو اب ایسا کیسے نہیں ہو گا؟
لیکن اب جولائی یا اگست نہیں ہے۔ یہ اکتوبر ہے۔ پیٹروگراڈ کی سڑکوں اور چوراہوں میں کرونسٹٹ کی طرف سے آنے والی بالٹک کی سرد اور مرطوب ہوائیں چل رہی ہیں۔ ایڑیوں تک لمبے کوٹوں میں ملبوس جنکر سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں، اپنی پریشانی کو فتح کے گیتوں میں چھپا رہے ہیں۔ گھڑ سوار پولیس بالکل نئے ہولسٹروں میں ریوالور لئے اِدھر اُدھر گھوڑے دوڑا رہی ہے۔ حکومت تو ابھی تک بہت رعب دار معلوم ہوتی ہے! یا شاید یہ صرف نظر کا دھوکہ ہے؟ معصوم اور چمکدار آنکھوں والا ایک امریکی، جان ریڈ، نیوسکی شاہراہ کے ایک کونے پر لینن کا کتابچہ خریدتا ہے، جس کا عنوان ہے کہ ’کیا بالشویک ریاستی اقتدار کو سنبھال سکیں گے؟‘ اِس کی قیمت وہ اُن ڈاک کی ٹکٹوں سے ادا کرتا ہے جو اَب پیسے کی جگہ گردش کر رہی ہیں۔
*****
[۱] یاد رہے کہ اِس وقت تک پیٹروگراڈ سوویت میں بالشویکوں کی اکثریت قائم ہو چکی تھی۔ لہٰذا سوویت کے رہنماؤں سے مراد بالشویک ہیں۔