← Back to Newsroom OS سیاست

علی وزیر نے دادو جیل میں 48 گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع کر دی

By جدوجہد • 2026-04-18 • 10 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)پشتون حقوق کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف ڈسٹرکٹ جیل دادو میں 48 گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ ’وائس پی کے ‘ کے مطابق یہ بات ان کے وکیل امداد حیدر سولنگی نے جمعرات کوگفتگو میں بتائی۔

سولنگی کے مطابق انہوں نے جمعرات کو جیل میں علی وزیر سے ملاقات کی اور انہیں ضروری ادویات خود پہنچائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 14 اپریل کو وزیر کی طبی حالت خراب ہوئی اور بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ گیا، مگر اس کے باوجود جیل حکام نے بارہا درخواست کے باوجود کوئی طبی امداد فراہم نہ کی۔

علی وزیر نے اپنے تحریری بیان میں لکھا کہ ’’14 اپریل کو میری صحت شدید بگڑنے کے باوجود مجھے ضروری طبی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ حکام کا یہ رویہ انسانی وقار کی توہین اور آئینی و قانونی ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف ہے۔‘‘ اپنے وکیل کے ذریعے جاری کیے گئے تحریری بیان میں علی وزیر نے بھوک ہڑتال کو’’غیر انسانی سلوک اور بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی‘‘کے خلاف ایک پرامن احتجاج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گرفتاری سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہے اور وہ ہمیشہ اپنے لوگوں کے آئینی حقوق کی جدوجہد کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے توجہ دلائی کہ سندھ کی عدالتیں پہلے ہی ان کے خلاف قائم پچھلے مقدمات میں انہیں بری کر چکی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’میرے خلاف سابقہ تمام مقدمات کو سندھ کی معزز عدالتوں نے بے بنیاد قرار دے کر نمٹا دیا، لیکن ہر بار رہائی کے فوراً بعد نئے مقدمات بنا دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ مجھے میرے سیاسی خیالات کی سزا دی جا رہی ہے۔‘‘

علی وزیر نے سندھ کی عدلیہ سے انصاف کو’’اس کی حقیقی روح کے مطابق یقینی بنانے‘‘کی اپیل بھی کی اور کہا کہ دباؤ اور جبر انہیں پسماندہ طبقات کے حق میں آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتے۔ علی وزیر 16 مارچ سے حراست میں ہیں ۔ اسی روز سندھ ہائی کورٹ نے سکھر سینٹرل جیل سے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ ان کے وکیلوں کے مطابق وہ اسی شام اہل خانہ کے ساتھ گھر واپس جا رہے تھے کہ سرکاری گاڑیوں میں آئے پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے انہیں زبردستی حراست میں لے لیا، موبائل فون ضبط کیے اور اہل خانہ کو عدالت جانے سے روکنے کی دھمکیاں دیں۔

دو روز تک ان کی کوئی معلومات نہ تھی۔ 18 مارچ کو ڈسٹرکٹ جج سکھر کے سامنے پٹیشن دائر کی گئی اور اگلے روز سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست بھی جمع کرائی گئی۔ 19 مارچ کو انہیں اچانک انسداد دہشت گردی کی عدالت نوشہرو فیروز میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر دادو جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران ان پر تین نئے مقدمات بھی قائم کیے گئے جنہیں ان کی قانونی ٹیم’’جعلی، بے بنیاد اور گھڑے ہوئے‘‘قرار دیتی ہے۔

2024 سے علی وزیر مختلف اضلاع میں دہشت گردی، بغاوت اور ایم پی او کے تحت متعدد بار حراست میں لیے جا چکے ہیں۔ ہر بار جب عدالت نے انہیں ضمانت یا رہائی دی، چند ہی دنوں میں کسی اور ضلع سے نیا مقدمہ یا نیا نظربندی آرڈر سامنے آ جاتا۔

عدالتیں بارہا علی وزیر کے موقف کے حق میں فیصلے دے چکی ہیں۔سکھر کی اے ٹی سی نے 2025 میں دہشت گردی کے دو مقدمات میں انہیں بری کیا۔نوشہرو فیروز کے ایک اور مقدمے کو عدالت نے’’دہشت گردی کا عنصر ہی موجود نہیں‘‘قرار دے کر کالعدم کر دیا۔پیکاکے تحت دائر کیس میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے مارچ 2026 میں اپنی رپورٹ میں لکھا کہ علی وزیر کے خلاف جرم کا کوئی ثبوت نہیں۔سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ نے 10 مارچ 2026 کو ان کی رہائی کا حکم دیا، مگر 6 دن بعد ہی ایک نیا مقدمہ بنا کر انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

تیسرے مقدمے ( ایف آئی آر نمبر 85/2026، تھانہ جامشورو ) کی سماعت جمعرات کو سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ ریاض رسول میمن کی عدالت میں ہوئی۔ تفتیشی افسر بغیر اطلاع غیر حاضر رہا، جس پر عدالت نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور اگلی سماعت پر تمام ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا۔ سماعت کی اگلی تاریخ 23 اپریل مقرر کی گئی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ کے جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور جسٹس ریاضت علی سحر پر مشتمل آئینی بینچ نے علی وزیر کی جانب سے دادو کی دو ایف آئی آرز چیلنج کرنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی ہے۔ فریقین ، جن میں صوبے کے اعلیٰ سرکاری و پولیس حکام شامل ہیں، کو 22 اپریل تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مزید مقدمات کی روک تھام کی جائے اور تفتیشی افسران کو پابند کیا جائے کہ حتمی چالان جمع نہ کرائیں جب تک درخواست پر فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ اپنے بیان میں علی وزیر نے کہا کہ ’’ملک کے سیاسی استحکام کی بنیاد جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کے احترام پر ہے۔ ان اصولوں سے انحراف ہماری اجتماعی مستقبل کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔‘‘