عوام میں تبدیلیاں
(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
اپنے وجود کے چوتھے مہینے میں ہی فروری حکومت کا دم اس کے اپنے تضادات سے گھٹنے لگا تھا۔ جون کا آغاز ’سوویتوں کی کُل روس کانگریس‘ سے ہوا، جس کا مقصد محاذ پر پیش قدمی کے لئے سیاسی لبادہ تیار کرنا تھا۔محاذ پر پیش قدمی کے آغاز کے ساتھ ہی مصالحت پسندوں کی جانب سے پیٹروگراڈ میں بالشویکوں کے خلاف مزدوروں اور سپاہیوں کا ایک بڑا مظاہرہ منعقد کیا گیا، جو مصالحت پسندوں کے خلاف ایک بالشویک مظاہرہ بن گیا۔ عوام میں بڑھتا ہوا غیض و غضب دو ہفتے بعد ایک اور مظاہرے پر منتج ہوا، جو اوپر سے کسی کال کے بغیر پھوٹ پڑا تھا، اس کے نتیجے میں خونریز تصادم ہوئے اور تاریخ میں اِسے ’’جولائی کے دنوں‘‘ (The July Days) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ فروری اور اکتوبر کے انقلابات کے عین درمیان میں رونما ہونے والی جولائی کی نیم سرکشی نے فروری انقلاب کا خاتمہ کیا اور یہ ایک طرح سے اکتوبر انقلاب کی ’ڈریس ریہرسل‘ تھی۔ ہم اِس جلد کا اختتام جولائی کے دنوں کی ابتدا پر کریں گے، لیکن اُن واقعات تک جانے سے پہلے جن کا میدان جون میں پیٹروگراڈ تھا، اُن مخصوص عوامل پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جو عوام میں جاری تھے۔
کسی لبرل نے مئی کے آغاز میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت جتنی بائیں طرف جاتی ہے، ملک اتنا ہے دائیں طرف جاتا ہے، ظاہر ہے ’’ملک‘‘ سے اُس کی مراد ’’صاحب جائیداد طبقات‘‘ تھے، لینن نے اُسے جواب دیا: ’’میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ مزدوروں، غریبوں اور غریب ترین کسانوں کا ’ملک‘ چرنوف اور سریتیلی جیسوں سے ہزار ہا گنا اور ہم بالشویکوں سے سو گنا بائیں طرف ہے۔ تھوڑے دن اور دیکھ لو، تمہیں پتا چل جائے گا۔‘‘ لینن نے حساب لگایا کہ مزدور اور کسان، بالشویکوں سے بھی ’’سو گنا‘‘ بائیں طرف تھے۔ یہ شاید تھوڑا بے سروپا لگے: مزدور اور کسان تو ابھی تک مصالحت پسندوں کی حمایت کر رہے تھے، اُن کی اکثریت تو بالشویکوں کے خلاف تھی۔ لیکن لینن زیادہ گہرائی میں دیکھ رہا تھا۔ عوام کے سماجی مفادات، اُن کی نفرت اور اُن کی امیدیں ابھی تک صرف اپنے اظہار کا ذریعہ ڈھونڈ رہی تھیں۔ مصالحت پسندوں کی حکمت عملی اُن کے لئے پہلا مرحلہ تھی۔ عوام چرنوف اور سریتیلی جیسوں سے بے انتہا بائیں طرف تھے، لیکن وہ خود اپنی انقلابیت سے آگاہ نہیں تھے۔ لینن یہ کہنے میں بھی درست تھا کہ عوام بالشویکوں سے بھی بائیں طرف تھے، کیونکہ پارٹی کی وسیع اکثریت نے ابھی تک اُن انقلابی امنگوں کا ادراک حاصل نہیں کیا تھا جو بیدار ہوتے ہوئے لوگوں کی گہرائیوں میں مچل رہی تھیں۔جنگ کی طوالت، معاشی تباہی اور حکومت کی خبیث بے عملی سے عوام کے غیض و غضب میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔
یہ لامحدود یورپی-ایشائی خطہ صرف ریلوے لائنوں کی وجہ سے ایک ملک بنا تھا۔ جنگ نے اِن ریلوے لائنوں پر سب سے بھاری ضرب لگائی۔ ٹرانسپورٹ مسلسل تباہ حالی کا شکار تھی؛ کچھ راستوں پر بیکار ہو جانے والے ریلوے انجنوں کی شرح 50 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔ صدر دفتر میں ماہر انجینئروں نے پیش گوئی کی کہ چھ ماہ کے اندر اندر ریلوے کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گا۔ اس حساب کتاب میں شعوری طور پر کچھ خوف پھیلایا گیا تھا۔ لیکن ٹرانسپورٹ کی تباہ حالی واقعی ایک خطرناک حد تک پہنچ چکی تھی۔ اِس نے راستوں میں رکاوٹیں پیدا کر دی تھیں، اشیا کے تبادلے میں خلل کو شدید کر دیا تھا اور مصارفِ زندگی کی پہلے سے بلند قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔
شہروں میں خوراک کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی تھی۔ 43 صوبوں میں زرعی تحریک نے اپنے مراکز تشکیل دے دئیے تھے۔ فوج اور شہروں کو اناج کی رسد میں خطرناک حد تک کمی آ رہی تھی۔ زیادہ زرخیز خطوں میں اضافی اناج کے دسیوں ہزار پوڈ[۱]یقینا پڑے ہوئے تھے،لیکن مقرر کردہ قیمتوں پر خریداری نے انتہائی غیراطمینان بخش نتائج دئیے: مزید برآں ٹرانسپورٹ کی تباہ حالی کی وجہ سے تیار اناج کو شہری مراکز تک پہنچانا مشکل تھا۔ 1916ء کی خزاں کے بعد سے محاذ پر رسد لانے والی متوقع ٹرینوں کا نصف ہی پہنچ پا رہا تھا۔ پیٹروگراڈ، ماسکو اور دوسرے صنعتی مراکز کو اپنی ضرورت کے دس فیصد سے زیادہ نہیں مل پا رہا تھا۔ تقریباً کوئی ذخائر نہیں بچے تھے۔ شہری عوام کا معیارِ زندگی غذائی قلت اور بھوک کے درمیان جھول رہا تھا۔ مخلوط حکومت کی آمد کے ساتھ ہی سفید روٹی پکانے پر پابندی کا جمہوری حکم جاری کیا گیا ۔ اس کے کئی سال بعد ہی دارالحکومت میں ’’فرانسیسی رول‘‘ (French Roll)دوبارہ نمودار ہوا۔ مکھن کی ضروری مقدار ہی مہیا نہ تھی۔ جون میں پورے ملک میں سخت راشن بندی کر کے چینی کا استعمال نصف کر دیا گیا۔
جنگ سے ٹوٹ جانے والے منڈی کے میکانیے کی جگہ ریاستی ریگولیشن نہیں کی گئی تھی، جو ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ حکومتوں کو کرنا پڑی تھی اور جس کی وجہ سے جنگ کے پورے چار سال جرمنی برداشت کر پایا۔
کلیدی پلانٹ ابھی تک جنگ کے لئے ہی چل رہے تھے۔ اگلے دو سے تین سال کے آرڈر دئیے جا چکے تھے۔ لیکن مزدور یہ یقین کرنے کو تیار نہیں تھے کہ جنگ جاری رہے گی۔ جنگی منافعوں کے ہولناک اعداد و شمار کو اخبارات شائع کر رہے تھے۔ ضروریات زندگی کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔ مزدور ایک تبدیلی کے منتظر تھے۔ فیکٹریوں کے تکنیکی اور انتظامی ملازمین یونینوں میں متحد ہو رہے تھے اور مطالبات پیش کر رہے تھے۔ اس معاملے میں سوشل انقلابی اور منشویک حاوی تھے۔ فیکٹریوں کا انتظام ٹوٹ کر بکھر رہا تھا۔ تمام جوڑ کمزور پڑ رہے تھے۔ جنگ اور قومی معیشت کے تناظر دھندلا رہے تھے اور جائیداد کے حقوق ناقابل اعتماد ہو رہے تھے۔ منافعے گر رہے تھے، خطرات بڑھ رہے تھے اور انقلاب کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات میں پیداوار کرنے کا ذوق مالکان کھو رہے تھے۔ بورژوازی بحیثیت مجموعی معاشی شکست خوردگی کی حکمت عملی پر کاربند ہو رہی تھی۔ وقتی نقصان اور خسارے اُن کی نظر میں اُس انقلاب کے خلاف جدوجہد کے اضافی اخراجات تھے جو ’’تہذیب‘‘ کی بنیادوں کے لئے خطرہ بن رہا تھا۔ عین اسی وقت نیکو کار پریس روز مرہ کی بنیاد پر کینہ پروری سے صنعت کو سبوتاژ کرنے، خام مال کی چوری اور کام روکنے کی نیت سے غیرضروری طور پر ایندھن جلانے کا الزام مزدوروں پر لگا رہی تھی۔ اِن الزامات میں جھوٹ تمام حدود پار کر چکا تھا، چونکہ یہ ایک ایسی پارٹی کی پریس تھی جو مخلوط اقتدار کی قیادت کر رہی تھی، اس لئے مزدوروں کے غصے کا رخ فطری طور پر عبوری حکومت کی طرف ہو گیا۔
صنعتکار 1905ء کا تجربہ نہیں بھولے تھے، جب حکومت کی فعال حمایت سے درست طور پر منظم شدہ تالا بندی نے نہ صرف آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے لئے مزدوروں کی جدوجہد کو توڑ دیا تھا بلکہ انقلاب کو کچلنے میں بادشاہت کو انمول مدد بھی فراہم کی تھی۔
تالا بندی کا سوال اب ایک بار پھر ’صنعت و تجارت کی کانگریسوں‘ کی ایک مجلس میں بحث کے لئے اٹھایا گیا، سرمایہ داروں کے ٹرسٹوں اورانجمنوں کی لڑائی لڑنے والے اِس ادارے کا انہوں نے یہی معصوم سا نام رکھا تھا۔ صنعتکاروں کے ایک رہنما انجینئر آورباخ نے بعد ازاں اپنی یادداشتوں میں وضاحت کی کہ تالابندی کا خیال کیوں مسترد کر دیا گیا تھا: ’’یہ فوج کے عقب پر ایک طرح کا حملہ لگتا… حکومت کی حمایت کی عدم موجودگی میں اس طرح کے اقدام کے مضمرات اکثریت کو بہت خطرناک لگ رہے تھے۔‘‘ ساری بدقسمتی ’’حقیقی‘‘ حکومت کی عدم موجودگی میں مضمر تھی۔ سوویت کی وجہ سے عبوری حکومت مفلوج تھی؛ سوویت کے رہنماؤں کو عوام نے مفلوج کر رکھا تھا؛ فیکٹریوں میں مزدور مسلح تھے؛ مزیدبرآں تقریباً ہر فیکٹری کے پاس ایک ہمدرد رجمنٹ یا بٹالین تھی۔ اِن حالات میں تالا بندی کو یہ معزز صنعتکار ’’قومی لحاظ سے معیوب‘‘ سمجھ رہے تھے۔لیکن اُنہوں نے کسی طور بھی ایک حملے کے خیال کو ترک نہیں کیا، بلکہ اسے فوری کی بجائے بتدریج کردار دے کر حالات کے مطابق ڈھال لیا۔آورباخ کے سفارتی بیان کے مطابق صنعتکار ’’آخر اِس نتیجے پر پہنچے کہ فیکٹریوں کی بتدریج بندش سے زندگی خود ہی عملی سبق سکھا دے گی…‘‘ دوسرے الفاظ میں ’’بھاری ذمہ داری‘‘ عائد کرنے والی کھلے عام تالا بندی کی بجائے اِس ’متحدہ صنعتوں کی کونسل‘ نے اپنے اراکین کو مشورہ دیا کہ وہ کوئی معقول بہانہ ڈھونڈ کر ایک وقت میں ایک فیکٹری بند کریں۔
رفتہ رفتہ تالا بندی کے اِس منصوبے پر غیرمعمولی نظم سے عمل کیا گیا۔ زار کے وزیر اعظم وِٹّ کی کابینہ میں وزیر رہنے والے کیڈٹ کٹلر جیسے سرمائے کے رہنماؤں نے جنگ کے تین سالوں کی بجائے انقلاب کے تین مہینوں پر سارا الزام تھونپتے ہوئے صنعت کی تباہی کی رپورٹیں پیش کیں۔کیڈٹوں کے بے صبرے اخبار ’ریخ‘ نے پیش گوئی کی کہ ’’دو سے تین ہفتوں کے عرصے میں کارخانے اور فیکٹریاں ایک ایک کر کے بند ہونے لگیں گے۔‘‘ یہاں ایک پیش گوئی کے لبادے میں ایک دھمکی دی گئی تھی۔ انجینئروں، پروفیسروں اور صحافیوں نے عمومی اور خصوصی پریس میں ایک مہم شروع کر دی، جس میں مزدوروں کو لگام دینے کو نجات کی بنیادی شرط کے طور پر پیش کیا گیا۔ وزیر اور صنعتکار کونووالوف نے حکومت سے سرعام علیحدگی سے پہلے 17 مئی کو اعلان کیا: ’’اگر غبار آلود دماغوں کو درست نہیں کیا جاتا… تو ہم دسیوں اور سینکڑوں پلانٹوں کی بندش دیکھیں گے۔‘‘
جون کے وسط میں صنعت و تجارت کی ایک کانگریس نے عبوری حکومت سے ’’انقلاب کو بڑھاوا دینے سے یکسر باز آنے‘‘ کا مطالبہ کیا۔ ہم جرنیلوں کی جانب سے یہ مطالبہ پہلے ہی سن چکے ہیں: ’’انقلاب کو روکو۔‘‘ لیکن صنعتکاروں نے اسے زیادہ جامع کر دیا: ’’فساد کی جڑ صرف بالشویک ہی نہیں بلکہ ساری سوشلسٹ پارٹیاں ہیں۔ صرف ایک مضبوط آہنی ہاتھ ہی روس کو بچا سکتا ہے۔‘‘
سیاسی ترکیب کی تیاری کے بعد صنعتکار قول سے فعل کی طرف آنے لگے۔ مارچ اور اپریل کے دوران 9000 مزدوروں پر مشتمل 129 چھوٹے پلانٹ بند کر دئیے گئے؛ مئی میں مزدوروں کی تقریباً اتنی ہی تعداد پر مشتمل 108 پلانٹ بند کئے گئے؛ جون میں 38000 مزدوروں پر مشتمل 125 پلانٹ بند کئے گئے؛ جولائی میں 206 پلانٹوں سے 48000 مزدوروں کو سڑک پر پھینک دیا گیا۔ تالابندی انتہائی تیزی سے بڑھنے لگی۔ لیکن یہ تو صرف آغاز تھا۔ پیٹروگراڈ کے بعد ٹیکسٹائل کی صنعت والے ماسکو اور ماسکو کے بعد صوبوں میں یہ کام شروع ہو گیا۔صنعتکار ایندھن،خام مال، لوازمات اور قرضوں کی عدم موجودگی کا عذر پیش کرتے تھے۔ فیکٹری کمیٹیاں معاملے میں مداخلت کرتی تھیں اور اُنہوں نے کئی مرتبہ یہ بات بالکل صاف ثابت کی مزدوروں پر دباؤ ڈالنے یا حکومت سے زبر دستی امداد (Subsidy) حاصل کرنے کے لیے بد نیتی سے صنعتوں میں گڑ بڑ پیدا کی جا رہی ہے ۔ اپنے سفارت خانوں کے ذریعے کاروائی کرنے والے غیرملکی سرمایہ دار خاص طور سے ڈھیٹ تھے۔ کئی صورتوں میں سبوتاژ اتنا واضح تھا کہ کارخانہ کمیٹیوں کی جانب سے بے نقاب کئے جانے پر صنعتکاروں کو فیکٹریاں دوبارہ کھولنا پڑتی تھیں، یوں ایک کے بعد دوسرا تضاد آشکار ہو رہا تھا۔ انقلاب جلد ہی سب سے کلیدی تضاد تک پہنچ گیا: صنعت کے سماجی کردار اور اس کے سامان اور اوزاروں کی نجی ملکیت کا تضاد۔ مزدوروں پر غلبہ پانے کے لئے مالک اس طرح سے فیکٹری کو بند کر رہا تھا جیسے یہ پوری قوم کی زندگی کے لئے ضروری ادارے کی بجائے نسوار کی ڈبیہ ہو۔
’قرضہ ء آزادی‘ کا کامیاب بائیکاٹ کرنے کے بعد بینکوں نے بڑے سرمائے میں [ریاست کی] بے جا مالیاتی مداخلت کے خلاف لڑاکا رویہ اختیار کیا۔ وزارت ِخزانہ کے نام ایک خط میں بینکاروں نے ریڈیکل مالیاتی اصلاحات کی صورت میں سرمائے کے بیرونِ ملک بہاؤ اور کاغذات کی تجوریوں میں منتقلی کی ’’پیش گوئی‘‘ کی۔ دوسرے الفاظ میں حب الوطن بینکاروں نے صنعتی تالا بندی کی بچی کھچی کسر پوری کرنے کے لئے ایک مالیاتی تالا بندی کی دھمکی دے دی۔ حکومت فوراً راضی ہو گئی: آخر کار اِس سبوتاژ کے منتظمین تو معزز لوگ تھے، جو جنگ اور انقلاب کے نتیجے میں اپنا سرمائے کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہوئے تھے، وہ کوئی کرونسٹٹ کے جہازی تھوڑی تھے جنہوں نے بس اپنی جانیں ہی خطرے میں ڈالی تھیں!
مجلس عاملہ یہ سمجھنے سے عاری نہ تھی کہ بالخصوص حکومت میں سوشلسٹوں کی کھلے عام شمولیت کے بعد ملک کے معاشی انجام کی ذمہ داری عوام کی نظروں میں حکمران سوویت اکثریت پر عائد ہو گی۔ مجلس عاملہ کے معاشی شعبے نے معاشی زندگی کی ریاستی ریگولیشن کا ایک وسیع پروگرام مرتب کیا تھا۔ خطرناک صورتحال کے دباؤ میں بڑی معتدل معاشی تجاویز بھی اپنے مصنفین سے زیادہ ریڈیکل ثابت ہوئیں۔ اس پروگرام میں درج تھا، ’’صنعت کی کئی شاخوں میں تجارت پر ریاست کی اجارہ داری کے لئے وقت بالکل مناسب ہے (روٹی، گوشت، نمک، چمڑہ)؛ دوسری شاخوں میں ریگولیشن کے ریاستی ٹرسٹوں کی تشکیل کے حالات پیدا ہو چکے ہیں (کوئلہ، تیل، دھاتیں، چینی، کاغذ)؛ آخر میں صنعت کی تقریباً تمام شاخوں میں موجودہ حالات خام مال اور تیار اشیا کی تقسیم اور قیمتوں کے تعین کے لئے بھی ریاست کی مداخلت کے متقاضی ہیں… اس کے ساتھ ہی تمام قرضہ دینے والے اداروں کو بھی ریاست کے کنٹرول میں لانا ضروری ہے۔‘‘
16 مئی کو اپنی ششدر سیاسی قیادت کے ساتھ کسی بحث کے بغیر معیشت دانوں کی تجاویز کو منظور کر لیا گیا اور حکومت کے نام ایک انوکھی تنبیہ میں ان تجاویز کی حمایت کی گئی: حکومت کو ’’قومی صنعت اور محنت کے منصوبہ بند انتظام کی ذمہ داری‘‘ اٹھانی چاہئے، یہ یاد رکھتے ہوئے کہ اس ذمہ داری کی عدم ادائیگی کے نتیجے میں ہی ’’پرانی حکومت گری تھی اور عبوری حکومت کی تنظیم نو ضروری ہو گئی تھی۔‘‘ اپنی ہمت بڑھانے کے لئے مصالحت پسند خود کو ہی ڈرا رہے تھے۔
لینن نے لکھا، ’’پروگرام انتہائی شاندار ہے، ٹرٹسٹوں پر کنٹرول اور انہیں حکومتی تحویل میں لینا، سٹہ بازی کے خلاف جدوجہد اور محنت کی ذمہ داری اٹھانا بھی… ’خوفناک‘ بالشویزم کے اِس پروگرام کو تسلیم کرنا ضروری ہے، کیونکہ خوفناک انہدام کے حقیقی خطرے سے نجات کا کوئی دوسرا راستہ اور کوئی دوسرا پروگرام نہیں مل سکتا…‘‘ تاہم بنیادی سوال یہ تھا: اس انتہائی شاندار پروگرام پر عمل درآمد کون کرے گا؟ کیا مخلوط حکومت کرے گی؟ جواب فوراً مل گیا۔ مجلس عاملہ کی جانب سے معاشی پروگرام کی منظوری کے اگلے ہی دن تجارت اور صنعت کے وزیر کونووالوف نے استعفیٰ دے دیا اور دروازہ پٹخ کے باہر نکل گیا۔ اُس کی جگہ عارضی طور پر انجینئر پالچنسکی نے لے لی، جو سرمایہ داروں کا اُس سے کم وفادار نہیں تھا، بلکہ اُن کا زیادہ مستعد نمائندہ تھا۔ وزیر سوشلسٹوں نے اپنے اس لبرل ساتھی کے سامنے مجلس عاملہ کا پروگرام سنجیدگی سے رکھنے کی جرات بھی نہ کی۔
آپ کو یاد ہو گا کہ چرنوف زمینوں کی فروخت کاری پر حکومت کی پابندی لگوانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ دوسری طرف اپنی بڑھتی ہوئی مشکلات کے جواب میں حکومت نے پیٹروگراڈ سے انخلا، یعنی کارخانوں اور فیکٹریوں کو ملک کے اندرونی علاقوں میں منتقل کرنے کا پروگرام پیش کیا۔ اس پروگرام کے محرکات عسکری تھے: یہ خطرہ تھا کہ دارالحکومت پر جرمن قبضہ کر سکتے ہیں، اور معاشی بھی: تیل اور خام مال کے ذرائع سے پیٹروگراڈ بہت دور تھا۔ انخلا کا مطلب کئی مہینوں اور سالوں کے لئے پیٹروگراڈ کی صنعتوں کا خاتمہ ہوتا۔ اِس کا سیاسی مقصد پرولتاریہ کی ہراول پرتوں کو پورے ملک میں منتشر کردینا تھا۔ اس کے ساتھ ہی فوجی قیادت نے انقلابی فوجی یونٹوں کو پیٹروگراڈ سے نکالنے کا ایک کے بعد ایک جواز پیش کیا۔
پالچنسکی نے سوویت کے مزدور حصے کو انخلا کے فائدوں پر قائل کرنے کی پوری کوشش کی۔ مزدوروں کی مرضی کے بغیر یہ ناممکن تھا۔ لیکن مزدور راضی نہیں ہوئے۔ انخلا کا یہ منصوبہ بھی صنعت کی ریگولیشن کی طرح آگے نہ بڑھ سکا۔ بگاڑ گہرا ہو رہا تھا۔ قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔ خاموش تالا بندی کے ساتھ بیروزگاری بھی وسیع ہو رہی تھی۔ حکومت بس وقت گزار رہی تھی۔ ملیوکوف نے بعد میں لکھا: ’’حکومت بس دھارے کے ساتھ بہہ رہی تھی اور دھارا بالشویک دریا میں گر رہا تھا۔‘‘ جی ہاں، دھارا بالشویک دریا میں ہی گر رہا تھا۔
٭٭٭٭٭
انقلاب کی کلیدی قوت محرکہ پرولتاریہ تھا۔ عین اسی وقت انقلاب پرولتاریہ کو ڈھال کر ایک شکل بھی دے رہا تھا۔ پرولتاریہ کو اس کی سخت ضرورت بھی تھی۔
ہم نے فروری کے دنوں میں پیٹروگراڈ کے مزدوروں کے فیصلہ کن کردار کا جائزہ لیا ہے۔ بالشویکوں نے سب سے لڑاکا مقام حاصل کیا تھا۔ تاہم زار شاہی کے دھڑن تختے کے فوراً بعدبالشویک پس منظر میں چلے گئے تھے۔ سیاسی چبوترے پر مصالحت پسند پارٹیاں سامنے آ گئی تھیں۔ اُنہوں نے اقتدار لبرل بورژوازی کے حوالے کر دیا تھا۔حب الوطنی اس اتحاد کا عَلم تھا۔اِس کا حملہ اتنا شدید تھا کہ بالشویک پارٹی کے کم از کم آدھے رہنماؤں نے اس کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ لینن کی آمد کے بعد پارٹی کی روش یکایک بدل گئی اور بعد ازاں اس کے اثرورسوخ میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اپریل کے مسلح مظاہرے میں مزدوروں اور سپاہیوں کی ہراول صفیں پہلے ہی مصالحت پسندوں کی زنجیریں توڑنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ لیکن پہلی کوشش کے بعد وہ پسپا ہوگئیں۔ مسند اقتدار پر مصالحت پسند براجمان رہے۔
بعد ازاں اکتوبر انقلاب کے بعد ایسا بہت کچھ لکھا گیا کہ بالشویکوں کی فتح کسانوں پر مشتمل فوج کی مرہون منت تھی، جو جنگ سے تھک چکی تھی۔ یہ بہت سطحی وضاحت ہے۔ اس کا الٹ بیان سچ کے زیادہ قریب ہوگا: اگر مصالحت پسندوں نے فروری انقلاب میں ایک حاوی مقام حاصل کیا تھا تو اس کی سب سے بڑی وجہ وہ غیر معمولی جگہ تھی جو ملک کی زندگی میں کسانوں پر مشتمل فوج نے حاصل کر لی تھی۔ اگر پرامن حالات میں انقلاب برپا ہوتا تو شروع سے ہی پرولتاریہ کا رہنما کردار کہیں زیادہ واضح کردار کا حامل ہوتا۔ جنگ کے بغیر انقلابی فتح دیر سے حاصل ہوتی اور اگر آپ جنگ میں ہلاک ہونے والوں کو شمار نہ کریں تو اس انقلابی فتح کی قیمت نسبتاً زیادہ ہوتی۔ لیکن اِس نے مصالحت پسندانہ حب الوطن مزاجوں کی گنجائش نہیں چھوڑنا تھی۔ بہرحال جن روسی مارکسسٹوں نے اِن واقعات سے بہت پہلے بورژوا انقلاب میں پرولتاریہ کی فتح کی پیش گوئی کی تھی، انہوں نے فوج کے مزاج کو نہیں بلکہ روسی سماج کے طبقاتی ڈھانچے کو اپنا نقطہ آغاز بنایا تھا۔ یہ پیش گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔لیکن جنگ کے دوران طبقات کا باہمی تعلق بدل چکا تھا اور فوج، جو اپنے طبقے سے کٹے ہوئے اور مسلح کسانوں کی ایک تنظیم تھی، کے دباؤ میں یہ وقتی طور پر اپنی جگہ سے ہل چکا تھا ۔ یہی مصنوعی سماجی تشکیل تھی جس نے پیٹی بورژوا مصالحت پسندانہ حکمت عملی کا تسلط غیرمعمولی طور پر مضبوط کر دیا تھا اور ملک اور انقلاب کو کمزور کرنے والے آٹھ ماہ کے تجربات کو ممکن بنایا تھا۔
لیکن صرف کسان فوج کا حوالہ دے کر مصالحت پسندی کی بنیادوں کا سوال ختم نہیں ہو جاتا ہے۔ خود پرولتاریہ میں، اس کی ساخت میں اور اس کے سیاسی معیار میں ہمیں منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کی عارضی مورچہ بندی کی ضمنی وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ جنگ نے محنت کش طبقے کی ساخت اور مزاج میں بڑی تبدیلیاں پیدا کی تھیں۔ اگر جنگ سے پہلے کے سال انقلابی رجحان کا وقت تھا تو جنگ نے اس عمل کو تیزی سے کاٹ دیا تھا۔ جنگ کے لئے بھرتی باقاعدہ سوچ سمجھ کر کی گئی تھی اور نہ صرف عسکری بلکہ اس سے بڑھ کر جبر برقرار رکھنے کے نقطہ نظر سے کی گئی تھی۔ حکومت نے صنعتی علاقوں سے مزدوروں کے زیادہ متحرک اور بے چین گروہوں کو نکالنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔ ہم اسے تسلیم شدہ کہہ سکتے ہیں کہ جنگ کے پہلے مہینوں میں بھرتی نے 40 فیصد تک مزدوروں کو صنعتوں سے اکھاڑ لیا تھا، جن میں زیادہ تر ہنرمند مزدور تھے۔ جنگی صنعتوں سے بلند منافعے کمائے جا رہے تھے، چنانچہ پیداوار کی روش پر بہت تباہ کن اثرات مرتب کرنے والی اِن مزدوروں کی غیرموجودگی کے خلاف صنعتکاروں نے شدید احتجاج کیا۔ یوں تجربہ کار مزدوروں کی مزید تباہی روک دی گئی۔ صنعتوں کے لئے ناگزیر مزدور فوجی ڈیوٹی پر معمور رہے۔فوجی بھرتیوں سے پیدا ہونے والے خلا کو دیہاتوں سے آنے والے مہاجرین، قصبوں کے لوگوں، غیرہنرمند مزدوروں، خواتین اور بچوں نے پر کیا۔ صنعت میں خواتین کی شرح 32 سے بڑھ کر 40 فیصد ہوگئی۔
دارالحکومت میں پرولتاریہ کی تجدید اور ترقیق کا عمل اپنی انتہاؤں کو پہنچ گیا۔ جنگ کے سالوں کے دوران 500 سے زیادہ مزدوروں سے کام لینے والے بڑے صنعتی اداروں کی تعداد صوبہ پیٹروگراڈ میں تقریباً دو گنا ہو گئی۔ پولینڈ اور خاص کر بالٹک ریاستوں میں پلانٹوں اور فیکٹریوں کے خاتمے اور اس سے بھی بڑھ کر جنگی صنعتوں کی عمومی نمو کے نتیجے میں 1917ء تک پیٹروگراڈ میں پلانٹوں اور صنعتوں میں تقریباً 400000 مزدور مجتمع ہو چکے تھے۔ان میں 335000 مزدور ایک سو چالیس بڑے پلانٹوں میں تھے۔ پیٹروگراڈ کے پرولتاریہ کے زیادہ لڑاکا عناصر نے فوج کے انقلابی مزاجوں کو شکل دینے میں کچھ کم کردار ادا نہیں کیا۔ لیکن اُن کی جگہ لینے والے دیہات کے مہاجرین، جو اکثر محاذ سے چھپنے والے خوشحال کسان اور دکاندار، خواتین اور بچے ہوتے تھے، تجربہ کار مزدوروں سے کہیں زیادہ اطاعت شعار تھے۔ ہم مزید بتاتے چلیں کہ جن لاکھوں ہنرمند مزدوروں کو فوجی ڈیوٹی پر تعینات کر دیا گیا تھا وہ محاذ پر پھینکے جانے کے خوف کی وجہ سے انتہائی احتیاط سے کام لیتے تھے۔ یہی اُس حب الوطن مزاج کی سماجی بنیادیں تھیں جو زار کے تحت بھی مزدوروں کے ایک حصے پر غالب تھا۔ لیکن اِس حب الوطنی میں کوئی استحکام نہیں تھا۔ فوج اور پولیس کے بے رحم تشدد، دوہرے استحصال، محاذ پر شکستوں اور صنعتی تباہی نے مزدوروں کو جدوجہد کی طرف دھکیل دیا۔ تاہم جنگ کے دوران ہڑتالیں اپنے کردار میں زیادہ تر معاشی تھیں اور جنگ سے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ اعتدال پسندی کا شکار تھیں۔ اپنی پارٹی کی کمزوری کی وجہ سے طبقے کی کمزوری بڑھ گئی تھی۔ بالشویک اراکینِ دوما کی گرفتاری اور جلاوطنی کے بعد پہلے سے تیار کردہ جاسوسوں کے نظام کے ذریعے بالشویک تنظیموں پر ضرب کاری کی گئی، جس سے پارٹی فروری انقلاب تک بحال نہ ہو سکی۔ اس سے قبل کہ جزوی معاشی ہڑتالیں اور بھوکی خواتین کے مظاہرے فروری 1917ء میں عام ہڑتال کو جنم دیتے اور سرکشی میں فوج کو کھینچ لاتے، 1915ء اور 1916ء کے دوران رقیق شدہ (Diluted) محنت کش طبقے کو جدوجہد کی ابتدائی درس گاہ میں سے گزرنا تھا۔
یوں فروری انقلاب میں داخل ہوتے وقت پیٹروگراڈ کا پرولتاریہ ایک یکساں ترکیب میں نہیں تھا، اِس نے اپنے اجزا کو ملا کر ایک یکساں آمیزہ نہیں بنایا تھا بلکہ اِس کی ہراول پرتوں کا سیاسی معیار بھی کم ہو چکا تھا۔ صوبوں میں صورتحال اِس سے بھی بدتر تھی۔ جنگ کی وجہ سے پرولتاریہ میں سیاسی ناخواندگی اور نیم خواندگی کا احیا ہی تھا جس نے مصالحت پسندانہ پارٹیوں کے عارضی غلبے کی دوسری شرط پوری کی۔
ایک انقلاب سکھاتا ہے اور بہت تیزی سے سکھاتا ہے۔یہی اس کی طاقت ہوتی ہے۔ ہر ہفتہ عوام کے لئے کچھ نیا لے کر آتا ہے۔ ہر دو مہینے ایک عہد کی تخلیق کرتے ہیں۔ فروری کے آخر میں سرکشی۔ اپریل کے آخر میں مسلح مزدوروں اور سپاہیوں کا پیٹروگراڈ میں مظاہرہ۔ جولائی کے آغاز میں [مزدوروں اور سپاہیوں کا] ایک نیا حملہ، جو وسعت میں کہیں زیادہ کشادہ تھا اور زیادہ پرعزم نعروں کے ساتھ تھا۔ اگست کے آخر میں کورنیلوف کی جانب سے دھڑن تختے کی کوشش، جسے عوام نے شکست دی۔ اکتوبر کے آخر میں اقتدار پر بالشویکوں کا قبضہ۔ ان واقعات کے نیچے، جو اپنے آہنگ میں انتہائی حیرت انگیزتھے، سالماتی عوامل جاری تھے اور محنت کش طبقے کے غیر متجانس حصوں کو ایک سیاسی کُل (Whole) میں جوڑ رہے تھے۔ اس میں بھی کلیدی کردار ایک بار پھر ہڑتال نے ادا کیا۔
اپنے جنگی منافعوں کی بدمست محفل پر انقلابی بجلی گرنے کے خوف سے صنعتکاروں نے پہلے ہفتوں میں مزدوروں کو کچھ رعایات دی تھیں۔ پیٹروگراڈ کے فیکٹری مالکان تو کچھ شرائط اور استثناؤں کے ساتھ آٹھ گھنٹے کے اوقات کار پر بھی راضی ہو گئے۔ لیکن اِس سے خاموشی نہیں ہوئی، کیونکہ معیارِ زندگی مسلسل گر رہا تھا۔ مئی میں مجلس عاملہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی کہ ضروریات زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مزدوروں کی حالت ’’کئی زمروں میں دائمی فاقہ کشی کی حدوں کو چھو رہی ہے۔‘‘مزدور علاقوں میں مزاج زیادہ سے زیادہ اضطراب اور تناؤ کا شکار ہو رہا تھا۔ اُن کے لئے تناظر کی عدم موجودگی سب سے زیادہ پریشان کن تھی۔ عوام بھاری سے بھاری محرومیاں بھی برداشت کرنے کے قابل ہوتے ہیں ،جب اُنہیں پتا ہو کہ وہ کس لئے برداشت کر رہے ہیں، لیکن نئی حکومت اُن کے سامنے اُنہی پرانے رشتوں کے بہروپ کے طور پر زیادہ سے زیادہ بے نقاب ہو رہی تھی جن کے خلاف انہوں نے فروری میں بغاوت کی تھی۔ یہ بات وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
مزدوروں کے زیادہ پسماندہ اور استحصال زدہ گروہوں میں ہڑتالیں خاص طور پر طوفانی تھیں۔ دھوبی گھروں کے مزدور، رنگ ساز، ٹین مرمت کرنے والے، تجارت اور صنعت کے کلرک، تعمیرات کے مزدور، کانسی کا کام کرنے والے مزدور، غیرہنر مند مزدور، جوتا ساز، کاغذ کے ڈبے بنانے والے، ساسیج بنانے والے اور فرنیچر کے مزدور ہڑتال کر رہے تھے۔ جون کے پورے مہینے میں ایک کے بعد ایک پرت ہڑتال کر رہی تھی ۔ اس کے برعکس دھاتکاری کے مزدور رکاوٹ ڈالنے کا کردار ادا کرنے لگے تھے۔ زیادہ باشعور مزدوروں کے سامنے یہ زیادہ سے زیادہ واضح ہو رہا تھا کہ جنگ، تباہ حالی اور افراط زر کے حالات میں انفرادی معاشی ہڑتالیں کوئی سنجیدہ بہتری نہیں لا سکتیں اور بنیادی تبدیلی ہونی چاہئے۔ تالابندی نے نہ صرف مزدوروں کو صنعت پر کنٹرول کے مطالبے کا حامی بنا دیا بلکہ فیکٹریوں کو ریاست کے ہاتھ میں لینے کی ضرورت کے خیال کی طرف بھی دھکیل دیا۔ یہ استدلال زیادہ سے زیادہ فطری معلوم ہونے لگا کیونکہ نجی فیکٹریوں کی اکثریت جنگ کے لئے کام کر رہی تھی اور اُن کے ساتھ ہی اسی قسم کے ریاستی صنعتی ادارے بھی تھے۔ 1917ء کے موسم گرما میں ہی روس کے دور دراز علاقوں سے دارالحکومت میں مزدوروں اور کلرکوں کے مندوبین اس موقف کے ساتھ آنے لگے کہ فیکٹریوں کو وزارتِ خزانہ اپنے قبضے میں لے ، کیونکہ حصہ داروں نے ان میں سرمایہ کاری بند کر دی ہے۔ لیکن حکومت نے نہیں سنا؛ چنانچہ حکومت کو تبدیل کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ مصالحت پسندوں نے اِس کی مخالفت کی۔ مزدور اپنا محاذ مصالحت پسندوں کے خلاف منتقل کرنے لگے۔ انقلا ب کے پہلے مہینوں میں پیوٹیلوف فیکٹری اپنے 40000 مزدوروں کے ساتھ سوشل انقلابیوں کا گڑھ تھی۔ لیکن اس کا گیریزن بھی زیادہ دیر تک اسے بالشویکوں سے نہیں بچا سکا۔ بالشویک حملے کی قیادت میں اکثر اوقات وولوڈارسکیدیکھا جاتا تھا، جو ماضی میں ایک درزی تھا۔ امریکہ میں کچھ سال گزارنے والا ایک یہودی اور اچھی انگریزی بولنے والا وولوڈارسکی ایک منطقی، ہوشیار، بے باک اور شاندار عوامی مقرر تھا ۔کئی ہزار لوگوں کے جلسوں میں اختصار کے ساتھ گونجنے والی اُس کی گونج دار آواز کو اُس کا مخصوص امریکی لہجہ ایک انوکھی صراحت عطا کرتا تھا۔ مزدور منی چیفکہتا ہے، ’’ ناروا کے علاقے میں اُس کی آمد کے وقت کے بعد سے پیوٹیلوف فیکٹری میں سوشل انقلابی معززین کے پیروں تلے سے زمین سرکنے لگی تھی، کم و بیش دو ماہ کے عرصے میں پیوٹیلوف فیکٹری کے مزدور بالشویکوں کے ساتھ مل چکے تھے۔‘‘
ہڑتالوں اور عمومی طور پر طبقاتی جدوجہد میں اضافے نے خودبخود بالشویکوں کا اثرو رسوخ بڑھا دیا تھا۔ تمام صورتوں میں جہاں بھی حقیقی مفادات کا سوال ہوتا تھا تو مزدور قائل ہو جاتے تھے کہ بالشویکوں کے کوئی درپردہ مقاصد نہیں تھے، وہ کچھ چھپا نہیں رہے تھے اور اُن پر بھروسہ کیا جاسکتا تھا۔ تصادم کے وقت کسی پارٹی سے غیروابستہ مزدور، سوشل انقلابی، منشویک، غرضیکہ سب کے سب مزدوروں کا رجحان بالشویکوں کی طرف ہو جاتا تھا۔ اِس کی وضاحت اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ انتظامیہ اور مالکان کے سبوتاژ کے خلاف اپنی فیکٹریوں کی بقا کی جدوجہد کرنے والی فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیاں، سوویت سے بہت پہلے بالشویکوں کے ساتھ مل گئیں۔ جون میں پیٹروگراڈ اور اس کے نواحی علاقوں کی فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں کے ایک اجلاس میں بالشویک قرارداد کو 421میں سے 335 ووٹ ملے۔ اس حقیقت پر بڑے اخبارات نے بالکل توجہ نہ دی۔ اس کا مطلب تھا کہ پیٹروگراڈ کے پرولتاریہ نے ابھی تک مصالحت پسندوں کو چھوڑا نہیں تھا، تاہم معاشی زندگی کے بنیادی سوالات میں وہ درحقیقت بالشویکوں کے ساتھ مل چکا تھا۔
ٹریڈ یونینوں کے جون میں ہونے والے اجلاس میں پتا چلا کہ پیٹروگراڈ میں کم از کم 250000 اراکین پر مشتمل 50 سے زائد یونینیں تھیں۔ دھاتکاری کے مزدوروں کی یونین میں 190000 مزدور تھے؛ مئی کے ایک مہینے کے دوران اِس کی رکنیت دوگنا ہو گئی تھی۔ یونین میں مزدوروں کا اثرورسوخ اِس سے بھی تیزی سے بڑھا تھا۔ سوویتوں کے تمام ضمنی انتخابات نے بالشویکوں کی فتح ظاہر کی۔ یکم جون تک ماسکو سوویت میں 176 منشویکوں اور 110 سوشل انقلابیوں کے مقابلے میں 206 بالشویک ہو چکے تھے۔ صرف تھوڑی سست روی سے یہی تبدیلی صوبوں میں رونما ہوئی۔ پارٹی کی رکنیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اپریل کے آخر میں پیٹروگراڈ کی تنظیم میں 15000 اراکین تھے۔ جون کے آخر تک 82000 سے زیادہ ہو چکے تھے۔
اس وقت تک پیٹروگراڈ سوویت کے مزدور حصے میں پہلے ہی بالشویک اکثریت قائم ہو چکی تھی۔ لیکن دونوں حصوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں سپاہی مندوبین کا وزن بالشویکوں سے زیادہ تھا۔بالشویک جریدہ ’پراودا‘ زیادہ سے زیادہ اصرار کے ساتھ عام انتخابات کا مطالبہ کر رہا تھا: ’’سوویت میں پیٹروگراڈ کے 500000 مزدوروں کے مندوبین کی تعداد پیٹروگراڈ گیریزن کے 150000 سپاہیوں سے چار گنا کم ہے۔‘‘
سوویتوں کی جون کانگریس میں لینن نے صنعتکاروں اور بینکاروں کی جانب سے تالابندیوں، لوٹ مار اور معاشی زندگی میں منظم توڑ پھوڑ کے خلاف سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا۔’’سرمایہ دار معززین کے منافعے منظر عام پر لائے جائیں، پچاس یا سو بڑے کروڑ پتیوں کو گرفتار کیا جائے۔ ڈوریاں، پرفریب جوڑ توڑ، غلاظت اور خودغرضی آشکار کرنے پر اُنہیں مجبور کرنے کے سادہ سے مقصد کے تحت انہیں چند مہینوں کے لئے گرفتار رکھنا ہی کافی ہوگا، حتیٰ کہ اُن مراعت یافتہ شرائط پر بھی جن پر نکولس رومانوف کو گرفتار رکھا گیا ہے۔‘‘ سوویت کے رہنماؤں کے لئے لینن کی تجویز وحشت ناک تھی: ’’تمہارا خیال ہے کہ کچھ سرمایہ داروں کے خلاف پرتشدد اقدامات کے ذریعے تم معاشی زندگی کے قوانین تبدیل کر سکتے ہو؟‘‘ یعنی اِن قوانین کو ملک کے خلاف سازش کے ذریعے تبدیل کرنے کا حق صرف صنعتکاروں کو ہی حاصل تھا! [سرمایہ داروں کی گرفتاری کے مطالبے پر] گرجدار غصے سے لینن پر پل پڑنے والا کیرنسکی ایک مہینے بعد اُن ہزاروں مزدوروں کو گرفتار کرنے سے نہیں ہچکچایا جن کی’’معاشی زندگی کے قوانین‘‘ کی سمجھ بوجھ صنعتکاروں سے مختلف تھی۔
معیاشیات اور سیاسیات کے درمیان تعلق واضح ہو رہا تھا۔ ایک پراسرار عنصر کی خاصیت کے ساتھ نمودار ہونے کی عادی ریاست اب زیادہ سے زیادہ اپنی قدیم شکل میں، یعنی مسلح افراد کے جتھوں کی شکل میں عمل کرنے لگی تھی ۔ ملک کے مختلف حصوں میں رعایات دینے یا پھر مذاکرات کرنے سے بھی انکاری مالکان کو مزدور کبھی سوویت کے سامنے زبردستی پیش کر رہے تھے تو کبھی گھروں میں نظر بند کر رہے تھے۔ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ ملکیتی طبقات کی خصوصی نفرت کا نشانہ مزدور ملیشیا بن گئی۔
دس فیصد مزدوروں کو مسلح کرنے کے مجلس عاملہ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا تھا۔ لیکن اِس کے باوجود بھی مزدور جزوی طور پر مسلح ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے، مزید برآں زیادہ متحرک عناصر ملیشیا کی صفوں میں شامل ہو گئے۔ مزدور ملیشیا کی قیادت فیکٹری کمیٹیوں کے ہاتھوں میں مجتمع تھی اور فیکٹری کمیٹیوں کی قیادت اب زیادہ سے زیادہ بالشویکوں کے ہاتھوں میں آنے لگی تھی۔ ماسکو فیکٹری کا ایک مزدور پوسٹاوشچک بتاتا ہے: ’’یکم جون کو جیسے ہی بالشویک اکثریت سے نئی فیکٹری کمیٹی منتخب ہوئی… 80 آدمیوں کا ایک دستہ تشکیل دیا گیا، جس نے ہتھیاروں کی غیرموجودگی میں ڈنڈوں کے ساتھ ایک بوڑھے سپاہی لیواکوف کی قیادت میں مشق کی۔‘‘
پریس نے مزدور ملیشیا پر پرتشدد اقدامات، قبضوں اور غیرقانونی گرفتاریوں کا الزام لگایا۔ یہ بالکل درست ہے کہ ملیشیا نے تشدد کا استعمال کیا: یہ اسی لئے تو بنائی گئی تھی۔ تاہم اِس کا جرم اُس طبقے کے نمائندوں کے خلاف تشدد تھا جو تشدد کا نشانہ بننے کا عادی نہیں تھا اور نہ ہی عادی بننا چاہتا تھا۔
زیادہ اجرتوں کی جدوجہد میں رہنما کردار ادا کرنے والی پیوٹیلوف فیکٹری میں 23 جون کو ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں ’فیکٹری اور کارخانہ کمیٹیوں کی مرکزی کونسل‘، ’ٹریڈ یونینوں کے مرکزی بیورو‘ اور 73 پلانٹوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ بالشویکوں کے زیر اثر اس اجلاس نے اعتراف کیا کہ موجودہ حالات میں ایک فیکٹری میں ہڑتال ’’پیٹروگراڈ کے مزدوروں کی غیر منظم سیاسی جدوجہد‘‘ کو جنم دے سکتی ہے، لہٰذا پیوٹیلوف کے مزدوروں کو سفارش کی گئی کہ ’’اپنے جائز غصے کو قابو میں رکھیں اور مجموعی حملے کے لئے اپنی قوتیں تیار کریں۔‘‘
اس اہم اجلاس سے قبل بالشویک دھڑے نے مجلس عاملہ کو تنبیہ کی تھی: ’’40000 کا ہجوم کسی بھی دن ہڑتال کر کے سڑک پر آ سکتا ہے۔ اگر ہماری پارٹی نے روکا نہ ہوتا تو یہ ایسا کر چکا ہوتا۔ مزیدبرآں کوئی ضمانت نہیں ہے کہ مستقبل میں ہم اُسے روک سکیں گے۔ لیکن اگر پیوٹیلوف کے مزدور باہر آگئے تو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ مزدوروں اور سپاہیوں کی اکثریت عمل پر اتر آئے گی۔‘‘
مجلس عاملہ کے رہنماؤں نے اپنا سکوت برقرار رکھتے ہوئے اِن تنبیہوں کو سیاسی بیان بازی سمجھا، یا پھر انہیں ایک کان سے سن کے دوسرے سے نکال دیا۔ انہوں نے خود فیکٹریوں اور بیرکوں کے دورے تقریباً بند کر دئیے تھے کیونکہ وہ مزدوروں اور سپاہیوں کی نظروں میں خود کو نفرت انگیز بنانے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ صرف بالشویکوں کی اتنی ساکھ اور عملداری تھی کہ وہ مزدوروں اور سپاہیوں کو بکھرے ہوئے عمل سے روک سکتے تھے۔ لیکن عوام کی بے صبری کا رخ ابھی سے ہی بعض اوقات بالشویکوں کی طرف ہو جاتا تھا۔
فیکٹریوں اور بیڑے میں انارکسٹ نمودار ہوئے۔ ہمیشہ کی طرح عظیم واقعات اور عظیم عوام کے سامنے اُنہوں نے اپنا نامیاتی دیوالیہ پن ظاہر کیا۔ اُن کے لئے ریاستی اقتدار کو مسترد کرنا زیادہ آسان تھا، کیونکہ وہ نئی ریاست کے اداروں کے طور پر سوویتوں کی اہمیت کو سمجھنے میں بالکل ناکام تھے۔ مزیدبرآں انقلاب سے ششدر ہو کر وہ زیادہ تر ریاست کے موضوع پر خاموش رہتے تھے۔ چھوٹے موٹے غل غپاڑوں کی حوصلہ افزائی کر کے وہ اپنا دیوالیہ پن ظاہر کرتے تھے۔ معیشت کی اندھی گھاٹی اور پیٹروگراڈ کے مزدوروں کی بڑھتی ہوئی تلخی نے انارکسٹوں کو کچھ حمایت فراہم کی۔وہ قومی سطح پر طاقتوں کے توازن کی سنجیدہ پرکھ کرنے سے معذور تھے اور نیچے سے لگنے والے ہر چھوٹے موٹے دھکے کو نجات کی آخری ضرب قرار دینے پر تیار رہتے تھے، بعض اوقات تو وہ بالشویکوں پر بھی بے استقلالی اور مصالحت پسندی تک کا الزام لگا دیتے تھے۔ لیکن عام طور پر وہ شکوے شکایتوں سے آگے نہیں جاتے تھے۔ انارکسٹوں کے عمل پر عوام کا ردعمل بعض اوقات بالشویکوں کے لئے انقلاب کی بھاپ کے دباؤ کو ناپنے والے پیمانے کا کام کرتا تھا۔
٭٭٭٭٭
لینن کو فن لینڈ سٹیشن پر ملنے والے جہازیوں نے تمام اطراف سے حب الوطن دباؤ کے تحت دو ہفتے بعد اعلان کیا تھا: ’’اگر ہمیں پتا ہوتا کہ وہ کن راستوں سے ہم تک پہنچا تھا تو بے خودی سے ’آہا!‘ کے نعرے لگانے کی بجائے ہم طیش بھرے نعرے لگاتے: ’تم مردہ باد! جس ملک کے راستے آئے ہو وہاں واپس چلے جاؤ۔‘ ‘‘ کرائمیا میں سپاہیوں کی سوویتوں نے لینن کے اس حب الوطن جزیرہ نما خطے میں داخلے کو اسلحے کے زور پر روکنے کی دھمکی دی تھی جہاں جانے کا اُس کا کوئی ارادہ بھی نہیں تھا۔ 27 فروری کے دن رہنما کردار ادا کرنے والی وولائنسکی رجمنٹ نے فرطِ جذبات میں لینن کو گرفتار تک کرنے کا ارادہ کیا تھا، نتیجتاً ایسے کسی متوقع واقعے کے خلاف مجلس عاملہ کو اپنے اقدامات پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ جون کے حملے تک اس طرح کے جذبات ختم نہیں ہوئے تھے اور وہ جولائی کے دنوں کے بعد تیزی سے دوبارہ بھڑک اٹھے۔ عین اسی وقت دور دراز کے محاذوں اور محاذ کے سب سے دور دراز حصوں میں سپاہی زیادہ سے زیادہ جرات سے بالشویزم کی زبان بولنے لگے تھے، اکثر تو وہ لاشعوری طور پر ایسا کرتے تھے۔ رجمنٹوں میں بالشویک اکیلے افراد ہوتے تھے لیکن بالشویک نعرے زیادہ گہرائی میں سرایت کر رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ ملک کے تمام حصوں میں بے ساختہ نمودار ہو رہے ہیں۔ لبرل تجزیہ نگاروں کو اِس میں سوائے جہالت اور انتشار کے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ’ریخ‘ نے لکھا: ’’ہمارا وطن سچ مچ ایک ایسے پاگل خانے میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں پاگل لوگ عمل اور قیادت میں ہیں اور جن میں ابھی عقل باقی ہے وہ ایک طرف کھڑے ہیں اور دیواروں کے ساتھ چمٹ رہے ہیں۔‘‘ بالکل اِنہی الفاظ میں ’’اعتدال پسندوں‘‘ نے تمام انقلابات میں اپنے اندر کے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ مصالحت پسندوں کی پریس خود کو تسلی دے رہی تھی کہ تمام تر غلط فہمیوں کے باوجود بالشویکوں کے ساتھ سپاہی کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ اِسی دوران ارتقا کی منطق کا اظہار کر تے ہوئے عوام کا لاشعوری بالشویزم لینن کی پارٹی کی ناقابل تسخیر قوت تشکیل دے رہا تھا۔
سپاہی پیریکوبتاتا ہے کہ کیسے محاذ پر سوویتوں کے کانگریس کے انتخابات میں تین دن کی بحث کے بعد صرف سوشل انقلابی منتخب ہوئے۔ لیکن اس کے بالکل بعد رہنماؤں کے احتجاج کے باوجود سپاہیوں نے آئین ساز اسمبلی کا انتظار کئے بغیر ہے زمینداروں سے زمین لینے کے حق میں قرارداد منظور کر لی۔ ’’بالعموم ایسے سوالوں پر جنہیں سپاہی سمجھتے تھے، وہ انتہائی شدت پسند بالشویکوں سے بھی بائیں طرف تھے۔‘‘ لینن کے دماغ میں بالکل یہی تھا جب وہ کہہ رہا تھا کہ عوام ’’ہم سے سو گنا بائیں طرف ہیں۔‘‘
صوبہ ٹاؤرائڈ میں کسی موٹر سائیکلوں کے کارخانے کا کلرک بتاتا ہے کہ کیسے اکثر اوقات بورژوا اخبارات پڑھنے کے بعد بالشویک نام کی کسی نامعلوم مخلوق کو سپاہی گالیاں دیتے تھے اور پھر فوراً ہی جنگ کے خاتمے اور زمینداروں کی زمین پر قبضے کی ضرورت کی باتیں شروع کر دیتے تھے۔ یہ بالکل وہی حب الوطن تھے جنہوں نے لینن کو کرائمیا میں داخل نہ ہونے دینے کی قسم کھائی تھی۔ دیوہیکل عقب کے گیریزنوں میں سپاہی مضطرب تھے۔اپنے مقدر میں تبدیلی کا بے تابی سے انتظار کرنے والے فارغ لوگوں کے وسیع اجتماع نے ایک ایسی مضطرب کیفیت پیدا کر دی تھی جو اپنی بے چینی کو سڑک پر لے آنے پر ہر وقت آمادگی، ٹرام گاڑیوں پر تھَوک کے حساب سے سواری اور کسی وبا کی طرح سورج مکھی کے بیج چبانے میں اپنا اظہار کر رہی تھی [۲]۔ اپنے کندھوں پر برساتی کوٹ ڈالے بیج چباتا سپاہی بورژوا پریس کے لئے سب سے قابل نفرت تصویر بن گیا۔ یہ آدمی جس کے گُن وہ جنگ کے وقت گاتے نہیں تھکتے تھے اور اُسے کسی سورما سے کم قرار نہیں دیتے تھے ( اگرچہ یہ چیز محاذ پر اِسی سورما کو کَوڑے لگانے سے اُنہیں روکتی نہیں تھی)، یہی آدمی اب اچانک ایک بدمعاش، ایک غدار، ایک بندوقچی ، ایک جرمن ایجنٹ بن گیا۔ واقعی ایسی کوئی غلاظت نہیں تھی جو بورژوا پریس نے روسی سپاہیوں اور جہازیوں پر نہیں اچھالی۔
مجلس عاملہ بس اپنی صفائیاں پیش کرتی رہی، انتشار کے خلاف جدوجہد،سرکش اقدامات کی روک تھام اور خوفزدہ سوال ناموں اور ہدایات کا اجرا کرتی رہی۔ ’انارکو بالشویزم‘ کا گڑھ سمجھے جانے والے شہر زارٹسائن میں سوویت کے صدر نے صورتحال کے بارے میں مرکز سے بھیجے جانے والے سوا ل نامے کا جواب دوٹوک جملے سے دیا: ’’گیریزن جتنا بائیں طرف جاتا ہے، عام آدمی [۳] اتنا ہی دائیں طرف جاتا ہے۔‘‘زارٹسائن کے اس کلیے کو آپ پورے ملک تک پھیلا سکتے ہیں۔ سپاہی بائیں طرف جا رہا تھا، بورژوا دائیں طرف۔
ہر سپاہی جو باقیوں کی نسبت زیادہ جرات سے جذبات کا اظہار کرتا تھا، اُسے اوپر والے اتنی ڈھٹائی سے بالشویک قرار دیتے تھے کہ آخر کار وہ خود بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ امن اور زمین کے سوالوں سے کسانوں کے خیالات اقتدار کے سوال کی طرف جانے لگے۔ بالشویزم کے بکھرے ہوئے نعروں کا جواب بالشویک پارٹی سے شعوری ہمدردی میں تبدیل ہو گیا۔ وولائنسکی رجمنٹ ، جو اپریل میں لینن کو گرفتار کرنا چاہتی تھی، دو مہینوں کے اندر اندر بالشویکوں کے حق میں جذبات کی حامل ہوگئی۔ اگرسکی اور لیٹووسکی رجمنٹوں میں بھی یہی ہوا۔ لیٹویائی نشانچیوں (Sharpshooters) کو مطلق العنانیت نے تخلیق کیا تھا تاکہ چھوٹے کسانوں اور کھیت مزدوروں کی نفر ت کو جنگی مفادات کے تحت بالٹک کے نوابوں کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔ یہ رجمنٹیں شاندار انداز میں لڑیں۔ لیکن طبقاتی نفرت کے جس جذبے پر بادشاہت نے انحصار کرنے کی کوشش کی تھی، اُسے اپنا راستہ مل گیا۔ لیٹویائی نشانچی اُن پہلے سپاہیوں میں شامل تھے جنہوں نے بادشاہت اور بعد ازاں مصالحت پسندوں سے بھی علیحدگی اختیار کی۔ 17 مئی کو ہی آٹھ لیٹویائی رجمنٹوں کے نمائندوں نے تقریباً متفقہ طور پر بالشویک نعرہ اپنا لیا: ’’سارا اقتدار سوویتوں کے پاس۔‘‘ انقلاب کے باقی عرصے میں انہوں نے زور آور کردار ادا کیا۔
ایک نامعلوم سپاہی محاذ سے لکھتا ہے: ’’آج 3 جون کو صدر دفتر میں ہمارا چھوٹا سا اجلاس ہوا۔ زیادہ تر سپاہی لینن کے حمایتی تھے لیکن افسروں نے کہا کہ لینن بڑا ’مکار‘ ہے۔‘‘
حملے کی ناکامی کے بعد کیرنسکی کا نام فوج میں انتہائی قابل نفرت بن گیا۔ 21 جون کو فوجی طلبہ نے بینر وں اور پلے کارڈوں کے ساتھ پیٹروگراڈ کی سڑکوں پر مارچ کیا: ’’جاسوس مردہ باد‘‘، ’’کیرنسکی اور بروسیلوف زندہ باد۔‘‘ ظاہر ہے کہ فوجی طلبہ خود ہی بروسیلوف کی نمائندگی کر رہے تھے۔ چوتھی بٹالین کے سپاہیوں نے فوجی طلبہ پر حملہ کر دیا، اُنہیں مارا پیٹا اور مظاہرے کو منتشر کر دیا۔ کیرنسکی کے حق میں پلے کارڈ نے سپاہیوں کو سب سے زیادہ مشتعل کیا تھا۔
جون کے مظاہرے نے فوج کی سیاسی بڑھوتری کو بہت تیز کر دیا۔ بالشویک وہ واحد پارٹی تھے جس نے حملے کے خلاف پہلے سے آواز بلند کی تھی، اُن کی مقبولیت غیرمعمولی رفتار سے بڑھنے لگی۔ یہ درست ہے کہ بالشویک پرچے انتہائی مشکل سے ہی فوج تک پہنچ پاتے تھے۔ لبرل اور حب الوطن پرچوں کے مقابلے میں بالشویک پرچوں کی سرکولیشن انتہائی کم تھی۔ ایک سپاہی کا بھدا ہاتھ ماسکو [میں بالشویکوں] کو لکھتا ہے: ’’تمہارا ایک بھی پرچہ کہیں نظر نہیں آتا اور ہم صرف تمہارے پرچوں کی خبروں پر ہی گزارا کرتے ہیں۔ یہاں ہم پر بورژوا پرچوں کی بارش کی جا تی ہے، جن کی گانٹھوں کی گانٹھیں محاذ پر لائی جاتی ہیں۔‘‘ لیکن یہ حب الوطن اخبار ہی تھے جنہوں نے بالشویکوں کو بے نظیر مقبولیت دی۔ محکوموں کے مظاہرے، زمین پر قبضے اور قابل نفرت افسروں کے ساتھ حساب چکتا کرنے کے ہر واقعے کو یہ پرچے بالشویکوں سے منسوب کر دیتے تھے۔ یوں سپاہیوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ بالشویک ہی ٹھیک لوگ ہیں۔
جولائی کے آغاز میں 12ویں فوج کا کمیسار، کیرنسکی کو سپاہیوں کے مزاج کے بارے میں اطلاع دیتا ہے: ’’ہر چیز کا الزام آخر کار بورژوا وزیروں اور اس سوویت پر لگا دیا جاتا ہے جو بورژوازی کے ہاتھوں بِک چکی ہے۔ لیکن وسیع تر سپاہیوں پر دھندلا اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ میں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوش نہیں ہوں کہ ا ب تو اخبار بھی بہت کم پڑھے جاتے ہیں؛ اخباروں پر مکمل عدم اعتماد ہے۔ [ بورژوا اور مصالحت پسند اخباروں کے بارے میں سپاہی کہتے ہیں کہ] ’وہ لکھتے خوبصورت ہیں، لمبی چوڑی باتیں کرنے میں بڑے ماہر ہیں۔‘‘‘ پہلے مہینوں میں حب الوطن کمیساروں کی رپورٹیں عام طور پر انقلابی فوج، اس کے شعور اور اس کے نظم و ضبط کی حمد و ثنا پر مبنی ہوتی تھیں۔ پھر چار ماہ کی مسلسل مایوسیوں کے بعد جب حکومتی مقرریں اور صحافیوں میں فوج اپنا اعتماد کھو چکی تواِنہی کمیساروں کو اس میں دھندلے اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
گیریزن جتنا بائیں طرف جاتا ہے، عام آدمی اتنا دائیں طرف جاتا ہے۔ حملے سے جوش پکڑ کر ردِ انقلابی یونینیں اس طرح سے پیٹروگراڈ میں ابھریں جیسے بارش کے بعد کھمبیاں اگتی ہیں۔ اُنہوں نے خود کو ایک سے بڑھ کر ایک گونج دار نام دیا: ’مادرِ وطن کے وقار کی یونین‘، ’عسکری ذمہ داری کی یونین‘، ’آزادی کی بٹالین‘،’جذبے کی تنظیم‘، وغیرہ۔ ان شاندار اشتہاری تختوں میں اشرافیہ، افسران، سرکار، افسرشاہی اور بورژوازی کی واردات اور ہوس پوشیدہ تھی۔ ان میں سے ملٹری لیگ، ’سینٹ جارج کے گھڑسواروں کی یونین‘ یا ’رضاکار ڈویژن‘ جیسی کچھ تنظیمیں ایک فوجی سازشی منصوبے کا تیار مرکزہ تھیں۔ بھڑکتے ہوئے حب الوطنوں کے طور پر سامنے آ نے والے ’’وقار‘‘ اور ’’جذبے‘‘ کے اِن سورماؤں کو نہ صرف اتحادی ممالک کے سفارتکاروں تک آسان رسائی ملی، بلکہ بعض اوقات وہ حکومتی امداد بھی ملی جو سوویت کو ’’نجی تنظیم‘‘ قرار دے کر دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اخباروں کے ایک بڑے سرمایہ دار سووورن (Suvorin) کے خاندان کے ایک فرد نے ان دنوں ’چھوٹا اخبار‘ کی اشاعت شروع کی، جس نے ’’آزاد سوشلزم‘‘ کے جریدے کے طور آہنی آمریت کی وکالت شروع کر دی۔اِس آمریت کا امیدوار ایڈمرل کولچاک تھا۔ زیادہ سنجیدہ پریس نے یہ بات فی الوقت زیادہ واضح انداز میں کئے بغیر ہر طرح سے کولچاک کو مقبول بنانے کی کوشش کی۔ اِس ایڈمرل کا آگے کا کیرئیر اس بات کا گواہ ہے کہ 1917ء کے موسم گرما میں ہی اُس کے نام کے ساتھ ایک وسیع منصوبہ منسلک کر دیا گیا تھا اور سووورن کی پشت پناہی با اثر حلقے کر رہے تھے [۴]۔
سادہ سے تذویراتی حساب کتاب کے مطابق اور کچھ مخصوص انفرادی دھماکوں سے قطع نظر، رجعت یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہ صرف لینن اسٹوں پر ضرب لگا رہی تھی۔ لفظ ’’بالشویک‘‘ کسی شیطانی ماخذ کا مترادف بن گیا تھا۔ جیسے انقلاب سے پہلے زار کے کمانڈروں نے اپنی حماقت سمیت ساری بدبختیوں کی ذمہ داری جرمن جاسوسوں اور خاص کر یہودیوں پر عائد کر دی تھی، اسی طرح اب جون کے حملے کی ناکامی کے بعد شکست کا الزام مسلسل بالشویکوں پر ڈالا جا رہا تھا۔ اس معاملے میں کیرنسکی اور سریتیلی جیسے جمہوریت پسند نہ صرف ملیوکوف جیسے لبرلوں بلکہ جنرل ڈینیکن جیسے بڑبولے جاگیرداروں سے بھی قطعاً مختلف نہ تھے۔
جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے کہ تضادات اپنی آخری حدوں کو چھو رہے ہوتے ہیں لیکن دھماکے کا وقت ابھی آیا نہیں ہوتا۔ سیاسی قوتوں کی گروہ بندی اپنا اظہار زیادہ بے تکلف اور واضح انداز میں بنیادی سوالوں میں نہیں بلکہ حادثاتی ثانوی معاملات میں کر رہی تھی۔ ان دنوں سیاسی امنگوں کا رخ پھیرنے والی ایک نوری سلاخ کرونسٹٹ تھا۔ اِس پرانے قلعے، جو شاہی دارالحکومت کے سمندری دروازوں کا وفادار سنتری رہا تھا، نے ماضی میں ایک سے زیادہ مرتبہ بغاوت کا علم بلند کیا تھا۔ بے رحم انتقامی کاروائیوں کے باوجود بھی کرونسٹٹ میں بغاوت کے شعلے نہیں بجھے۔ انقلاب کے بعد یہ خوفناک انداز میں بھڑک اٹھا۔ اس بحری قلعے کا نام جلد ہی حب الوطن اخباروں کے صفحات پر انقلاب کے سب سے بدترین پہلو، یعنی بالشویزم کا ہم معنی بن گیا۔ درحقیقت کرونسٹٹ کی سوویت ابھی تک بالشویک نہیں تھی۔ مئی میں اس میں 107 بالشویک، 112 سوشل انقلابی، 30 منشویک اور 97کسی پارٹی سے غیروابستہ افراد تھے۔ لیکن یہ کرونسٹٹ کے سوشل انقلابی اور کسی پارٹی سے غیروابستہ افراد تھے جو انتہائی دباؤ میں رہ رہے تھے: اہم سوالوں پر اُن کی اکثریت بالشویکوں کی پیروی کرتی تھی۔
کرونسٹٹ کے جہازی سیاسی میدان میں نہ تو چالبازی اور نہ ہی سفارت کاری کی طرف مائل تھے۔ اُن کا اپنا اصول تھا: فوری عملدرآمد۔ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ غیرحقیقی حکومت کے معاملے میں وہ عمل کے انتہائی سادہ طریقے کی طرف مائل ہوئے۔ 13 مئی کو کرونسٹٹ کی سوویت نے قرارداد منظور کی: ’’مزدوروں اور سپاہیوں کے نمائندوں کی سوویت ہی کرونسٹٹ میں واحد طاقت ہے۔‘‘ چھکڑے کے پانچویں پہیّے جیسے حکومتی کمیسار کیڈٹ پیپلائیف کی برطرفی پر قلعے میں کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ کامل نظم و ضبط قائم کیا گیا۔ شہر میں تاش کھیلنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ تمام قحبہ خانے بند کر دئیے گئے اور اُن کے مکینوں کو شہربدر کر دیا گیا۔ ’’جائیداد کی ضبطی اور محاذ پر شہر بدری‘‘ کے ڈراوے کے تحت سوویت نے سڑکوں پر شراب خوری کو ممنوع قرار دے دیا۔ اس ڈراوے پر ایک سے زیادہ مرتبہ عمل بھی کیا گیا۔
زارشاہی کے بحری بیڑے اور بحری قلعے کے خوفناک نظام میں پک کر فولاد بننے والے، سخت کام، قربانیوں اور ساتھ ہی طیش کے بھی عادی اِن جہازیوں کے سامنے اب ایک نئی زندگی پر سے پردہ اٹھ رہا تھا، ایک ایسی زندگی جس میں وہ خود کو بااختیار بنتا ہوا محسوس کر رہے تھے، ایسے میں خود کو انقلاب کا اہل ثابت کرنے کے لئے انہوں نے اپنے پٹھے تان لئے۔ وہ بے پناہ آرزو کے ساتھ پیٹروگراڈ میں دوستوں اور دشمنوں، دونوں پر پَل پڑے اور انہیں تقریباً زبردستی گھسیٹ کر کرونسٹٹ لے آئے تاکہ اُنہیں دکھا سکیں کہ انقلابی جہازی عمل میں کیسے ہوتے ہیں۔ یہ اخلاقی تناؤ اگرچہ ہمیشہ قائم نہیں رہ سکا، لیکن پھر بھی طویل عرصے تک قائم رہا۔ کرونسٹٹ کے جہازی ایک طرح سے انقلاب کے لڑاکا مجاہد بن گئے۔ لیکن کون سا انقلاب؟ وہ والا تو کسی صورت نہیں جس کی مجسم شکل سریتیلی اور اُس کا کمیسار پیپلائیف تھا۔ کرونسٹٹ تو قریب آتے ہوئے دوسرے انقلاب کے پیامبر کی طرح وہاں کھڑا تھا۔ اسی لئے وہ سب اُس سے نفرت کرتے تھے جو پہلے انقلاب میں ذلیل و خوار ہو چکے تھے۔
پیپلائیف کی پرامن اور توجہ سے عاری برطرفی کو مروجہ پریس میں ریاست کی یکجہتی کے خلاف کم و بیش مسلح سرکشی سے تعبیر کر دیا گیا۔ حکومت نے سوویت سے شکایت کی۔ سوویت نے دباؤ ڈالنے کے لئے فوراً ایک وفد تعینات کیا۔ دوہری حاکمیت کی مشین ایک چڑچڑاہٹ کے ساتھ چالو ہو گئی۔ 24 مئی کو سریتیلی اور سکوبیلیف کی موجودگی میں بالشویکوں کے اصرار پر کرونسٹٹ سوویت یہ ماننے پر راضی ہو گئی کہ سوویتوں کے اقتدار کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لئے یہ عملی طور پر پابند تھی کہ پورے ملک میں سوویتوں کا اقتدار قائم ہونے تک عبوری حکومت کے اقتدار کو تسلیم کرے۔ تاہم اگلے دن اس اطاعت پر برہم جہازیوں کے دباؤ کے تحت سوویت نے اعلان کیا کہ وزیروں کے سامنے سوویت کے اُس موقف کی ’’وضاحت‘‘ پیش کی گئی تھی جو تبدیل نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک واضح تدبیری غلطی تھی، لیکن ایک ایسی غلطی جس کے پیچھے انقلابی جذبے کے سوا کچھ پوشیدہ نہ تھا۔
اوپر والوں نے فیصلہ کیا کہ اس خوش نصیب موقع کو استعمال کرتے ہوئے کرونسٹٹ والوں کو سبق سکھایا جائے اور ساتھ ہی اُنہیں اُن کے ماضی کے گناہوں کی بھی سزا دی جائے۔ ظاہر ہے کہ سرکاری وکیل سریتیلی کو بنایا گیا۔ اپنی قید کے دنوں کے دل شکن حوالے دیتے ہوئے سریتیلی کرونسٹٹ والوں پر 80 افسروں کو قلعے کی جیل میں ڈالنے پر خوب برسا۔ ساری نیکوکار پریس نے اُس کی پشت پناہی کی۔ تاہم مصالحت پسندوں کے پرچوں کو بھی ماننا پڑا یہ ’’براہ راست غبن‘‘ کا معاملہ تھا اور اُن ’’آدمیوں کا معاملہ جو جابرانہ اقتدار کو وحشت کی حد تک لے گئے تھے۔‘‘سر یتیلی کے اپنے پرچے ’ازوستیا‘ کے مطابق، ’’جہازی گواہان نے (گرفتار شدہ افسران کی جانب سے) 1906ء کی سرکشی کو کچلنے، بڑے پیمانے پر لوگوں کو گولیوں سے اڑانے، قتل کئے جانے والے آدمیوں کی لاشوں سے بھری کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے اور دوسری وحشتوں کی تصدیق کی ہے… اور اِن ساری چیزوں کا ذکر اِس انداز میں کرتے ہیں جیسے یہ معمول کے واقعات ہوں۔‘‘
کرونسٹٹ والوں نے گرفتار شدگان کو اُس حکومت کے حوالے کرنے سے سختی سے انکار کر دیا جسے 1906ء اور دوسرے سالوں کے تشدد زدہ جہازیوں سے کہیں زیادہ عزیز یہ جلّاد اور اشرافیہ کے خاندانوں کے غبن کرنے والے افسران تھے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا کہ وزیر انصاف پیریورزیف، جسے سوخانوف بڑی نرمی سے ’’عبوری حکومت کی مشکوک ترین شخصیات میں سے ایک‘‘ قرار دیتا ہے، نے پیٹر اور پال کے قلعے سے زار کی سیاسی پولیس کے کمینے ترین ایجنٹوں کو بڑی منصوبہ بندی سے رہا کروایا تھا۔ یہ جمہوری نودولتیے سب سے بڑھ کر اپنی شریف النفسی کا لوہا اِس رجعتی افسر شاہی سے منوانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔
سریتیلی کی جانب سے عائد کی جانے والی فردِ جرم کا جواب کرونسٹٹ والوں نے اپنی استدعا میں دیا: ’’انقلاب کے دنوں میں ہماری طرف سے گرفتار کئے جانے والے افسران، فوجی پولیس والوں اور پولیس والوں نے حکومت کے نمائندگان کو خود بتایا ہے کہ اُنہیں جیل انتظامیہ کے برتاؤ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ کرونسٹٹ کے قید خانوں کی عمارات خوفناک ہیں، لیکن یہی وہ عمارات ہیں جنہیں زارشاہی نے ہمارے لئے تعمیر کیا تھا۔ ہمارے پاس کوئی دوسری عمارات نہیں ہیں۔ اور ہم عوام دشمنوں کو کسی انتقام کی وجہ سے نہیں بلکہ انقلابی خودحفاظتی کی سوچ کے تحت اِن جیلوں میں رکھ رہے ہیں۔‘‘
27 مئی کو پیٹروگراڈ سوویت نے کرونسٹٹ والوں پر مقدمہ چلایا۔ اُن کے دفاع میں نمودار ہو نے والے ٹراٹسکی نے سریتیلی کو تنبیہ کی کہ ’’جب کسی ردِ انقلابی جرنیل نے انقلاب کے گلے میں پھندا ڈالنے کی کوشش کی تو کیڈٹ اس رسّے کو کسیں گے، جبکہ کرونسٹٹ کے یہ جہازی ہی ہوں گے جو ہمارے شانہ بشانہ لڑنے اور مرنے کے لئے آئیں گے۔‘‘ یہ تنبیہ تین مہینے بعد غیر متوقع طور پر حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی: جب جنرل کورنیلوف نے بغاوت کی اور دارالحکومت کے خلاف فوجی دستے لے کر آیا تو کیرنسکی، سریتیلی اور سکوبیلیف نے سرما محل کا دفاع کرنے کے لئے کرونسٹٹ کے جہازیوں کو بلایا۔ لیکن اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ جون میں تو یہ جمہوری معززین انتشارکے خلاف نظم و نسق کا دفاع کر رہے تھے اور کوئی دلائل یا پیش بینی اُن پر اثر نہیں کرتی تھی۔ 162 کے خلاف 580 ووٹوں کی اکثریت سے انقلابی جمہوریت سے ’’انارکسٹ‘‘ کرونسٹٹ کے ’’انحراف‘‘ کی مذمت کی ایک قرارداد کو سریتیلی نے پیٹروگراڈ سوویت سے منظور کروا لیا۔ قطع تعلقی کے اِس فرمان کی خبر مارینسکی محل پہنچتے ہی حکومت نے فوراً کرونسٹٹ کے قلعے اور دارالحکومت کے درمیان ٹیلی فون کے رابطے کو نجی افراد کے لئے منقطع کر دیا تاکہ بالشویک مرکز کو کرونسٹٹ والوں پر اثر انداز ہونے سے روکا جا سکے۔ تمام جہازوں کو کرونسٹٹ کے پانیوں سے نکل جانے کا حکم جاری کیا گیا اور اس کی سوویت سے ’’غیر مشروط اطاعت‘‘ کا مطالبہ کیا گیا۔ کسان نمائندوں کی کانگریس، جس کا اجلاس اس وقت جاری تھا، نے ’’کرونسٹٹ کو خوراک کی فراہمی روکنے‘‘ کی دھمکی جاری کر دی۔ مصالحت پسندوں کی پشت پیچھے کھڑی رجعت ایک فیصلہ کن اور ہر ممکن حد تک خونریز انتقام کی خواہشمند تھی۔
ایک نوجوان تاریخ دان یوگوف لکھتا ہے، ’’کرونسٹٹ سوویت کے غیرمحتاط اقدام کے شاید کچھ ناپسندیدہ مضمرات مرتب ہوئے تھے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے مناسب راستہ تلاش کرنا ضروری تھا۔ اس مقصد کے ساتھ ٹراٹسکی کرونسٹٹ گیا، جہاں اُس نے سوویت سے خطاب کیا اور ایک قرارداد لکھی جسے سوویت نے متفقہ طور پر منظور کر لیا اور بعد ازاں اس پر عملدرآمد کیا۔‘‘ کرونسٹٹ والوں نے اپنا اصولی موقف برقرار رکھتے ہوئے صرف عملی وجوہات کی بنا پر پسپائی اختیار کر لی۔
تنازعے کے پرامن تصفیے نے بورژوا پریس کو آگ بگولا کر دیا: قلعے میں انتشار پھیلا ہوا ہے؛ کرونسٹٹ والے اپنی کرنسی چھاپ رہے ہیں ( اس کے جعلی نمونوں کی نقول بھی اخبارات میں شائع کی گئیں)؛ وہ ریاستی املاک کو لوٹ رہے ہیں، خواتین کو نیشنلائز کر لیا گیا ہے، ڈاکے اور شراب پی کر رنگ رلیاں جاری ہیں۔ اپنے سخت ڈسپلن پر خوب فخر کرنے والے جہازی یہ اخبارات پڑھ کر مٹھیاں بھینچ رہے تھے جن کی دسیوں لاکھ نقول پورے روس میں اُن کے خلاف بیہودہ افواہیں پھیلا رہی تھیں۔
کرونسٹٹ کے افسروں کو بازیاب کروانے کے بعد پیریورزیف کے عدالتی اداروں نے ایک ایک کر کے اُنہیں رہا کر دیا۔ یہ جاننا بہت سبق آموز ہو گا کہ کیسے ان میں سے بیشتر نے بعد ازاں خانہ جنگی میں حصہ لیا اور کیسے کئی جہازیوں، سپاہیوں، مزدوروں اور کسانوں کو انہوں نے گولی سے اڑایا اور سولی پر لٹکایا۔ بدقسمتی سے ہم یہ سبق آموز مردم شماری یہاں نہیں کر سکتے۔
حکومت کی عملداری بچا لی گئی۔ لیکن جہازیوں کی تشفّی جلد ہی ہونے لگی۔ ملک کے تمام کونوں سے سرخ کرونسٹٹ کو مبارکبار کی قراردادیں موصول ہونے لگیں: کئی بائیں بازو کی سوویتوں، فیکٹریوں، رجمنٹوں اور عوامی جلسوں کی طرف سے۔ ’’عبوری حکومت پر عدم اعتماد کا سخت رویہ اپنانے پر‘‘ کرونسٹٹ والوں کی عزت افزائی کے لئے پہلی مشین گن رجمنٹ نے پیٹروگراڈ کی سڑکوں پر مظاہرہ کیا۔
تاہم کرونسٹٹ ایک زیادہ معنی خیز انتقام کی تیاری کر رہا تھا۔ بورژوا پریس کی لعن طعن نے اسے کل قومی اہمیت کا حامل عنصر بنا دیا تھا۔ ملیوکوف لکھتا ہے، ’’بالشویزم نے خود کو کرونسٹٹ میں قلعہ بند کر کے مناسب طور پر تربیت یافتہ ایجی ٹیٹروں کی مددسے پورے روس پر پراپیگنڈا کا جال پھینک دیا۔ کرونسٹٹ کے قاصدوں کو محاذ پر بھی بھیجا گیا جہاں اُنہوں نے ڈسپلن کو کمزور کیا، عقب میں اُنہیں دیہاتوں میں بھیجا گیا جہاں اُنہوں نے جاگیروں پر قبضوں کی ترغیب دی۔ کرونسٹٹ کی سوویت نے اِن قاصدوں کو خصوصی اختیارات دئیے تھے: ’ن-ن کو ملک، ضلع اور دیہاتی کمیٹیوں میں فیصلے کے ووٹ کے اختیار کے ساتھ اُس کے صوبے میں بھیجا گیا ہے، وہ جہاں کہیں چاہے اُسے جلسوں میں بولنے اور جلسے منعقد کرنے اور ہتھیار کے ساتھ تمام ٹرینوں اور جہازوں میں بلارکاوٹ اور مفت سفر کے اختیار حاصل ہیں۔‘ اِس کے علاوہ ’ مذکورہ ایجی ٹیٹر کے واجب التعظیم ہونے کی ضامن کرونسٹٹ شہر کی سوویت ہے۔‘‘‘
بالٹک کے اِن جہازیوں کے بیخ کنی کے کام کو بے نقاب کرتے ہوئے ملیوکوف بس یہ بتانا بھول جاتا ہے کیسے اور کیوں باخبر حکام، اداروں اور اخبارات کی موجودگی میں کرونسٹٹ سوویت کے انوکھے اختیارات سے مسلح اِن تنہا جہازیوں نے کسی رکاوٹ کے بغیر پورے ملک کا سفر کیا، اُنہیں ہر جگہ خوراک اور رہائش ملی، تمام عوامی جلسوں میں شامل کیا گیا، ہر جگہ پوری توجہ سے سنا گیا اور اُنہوں نے تاریخی واقعات پر ایک جہازی کے ہاتھ کا نقش ثبت کیا۔ لبرل سیاسیات کا خدمت گزار یہ تاریخ دان یہ سادہ سا سوال خود سے نہیں پوچھتا ہے۔ لیکن کرونسٹٹ کا معجزہ قابل غور صرف اس لئے تھا کہ بڑے ذہین پروفیسروں کی نسبت یہ جہازی کہیں زیادہ گہرائی سے تاریخی ارتقا کے تقاضوں کا اظہار کر رہے تھے۔ ہیگل (Hegel) کے الفاظ میں یہ نیم خواندہ اختیار اِس لئے حقیقی تھا کیونکہ یہ معقول تھا، جبکہ موضوعی طور پر انتہائی ذہین منصوبے اِس لئے غیرحقیقی تھے کیونکہ تاریخ کی منطق میں اُن کی رتی بھر گنجائش نہ تھی۔
٭٭٭٭٭
سوویتیں، کارخانہ کمیٹیوں سے پیچھے چل رہی تھیں۔ کارخانہ کمیٹیاں، عوام سے پیچھے چل رہی تھیں۔ سپاہی، مزدوروں سے پیچھے چل رہے تھے۔ اس سے بڑھ کر صوبے، دارالحکومت سے پیچھے چل رہے تھے۔ انقلابی عمل کی ناگزیر حرکیات ایسی ہی ہوتی ہیں، جو حادثاتی اور اتفاقی طور پر ہزاروں تضادات پیدا کر دیتا ہے، اُنہیں حل کرتا ہے اور فوراً ہی نئے تضادات پیدا کر دیتا ہے۔ پارٹی بھی انقلابی حرکت سے پیچھے چل رہی تھی، حالانکہ یہ ایسی تنظیم ہوتی ہے جس کے پاس بالخصوص انقلاب کے وقتوں میں پیچھے رہ جانے کا حق سب سے کم ہوتا ہے ۔ ایکاٹیرن برگ، پرم، تولا، نزھنی نووگوروڈ، سورمووو، کولومنا اور یازووکا جیسے مزدور مراکز میں بالشویک مئی کے آخر میں جا کر ہی منشویکوں سے الگ ہوئے۔ اوڈیسا، نکولائیف، الیساویٹ گراڈ، پولٹاوا اور یوکرائن کے دوسرے علاقوں میں جون کے وسط تک بھی بالشویکوں کے پاس علیحدہ تنظیمیں نہیں تھیں۔ باکو، زلاٹیوسٹ، بیزہیٹسک اور کوستروما میں بالشویک جون کے آخر میں کہیں جا کر منشویکوں سے الگ ہوئے۔اگر آپ ذہن میں رکھیں کہ اگلے چار مہینوں میں یہی بالشویک اقتدار پر قبضہ کرنے والے تھے تو یہ حقائق انتہائی حیران کن لگتے ہیں۔ جنگ کے دوران عوام میں جاری سالماتی عمل سے پارٹی کتنا پیچھے رہ گئی تھی اور دیوہیکل تاریخی فرائض سے کامینیف اور سٹالن کی مارچ کی قیادت کس قدر پیچھے تھی! اِس وقت تک کی انسانی تاریخ کی سب سے انقلابی پارٹی کو بھی تاریخ کے واقعات نے بے خبری میں آن پکڑا تھا۔ پارٹی نے واقعات کی آگ میں اپنی تعمیر نو کی اور واقعات کے دھاوے میں اپنی صفوں کو سیدھا کیا۔ فیصلہ کن موڑ پر عوام انتہائی بائیں بازو کی پارٹی سے بھی ’’سو گنا‘‘ بائیں طرف تھے۔ایک تاریخی عمل کے زور پر بالشویک اثرورسوخ میں ہونے والا اضافہ ایک باریک مشاہدے سے اپنے تذبذب اور اتار چڑھاؤ ظاہر کر دیتا ہے۔ عوام یکساں ترکیب کے حامل نہیں ہوتے، مزید برآں وہ اپنے ہاتھ جلا کر اور دور ہٹ کر ہی انقلاب کی آگ کا استعمال سیکھتے ہیں۔ بالشویک صرف عوام کی تربیت کا عمل ہی تیز کر سکتے تھے۔ اُنہوں نے صبر کے ساتھ وضاحت کی۔ اور اِس بار تاریخ نے اُن کے صبر کے ساتھ نا انصافی نہیں کی۔
جب بالشویک عزم و استقلال کے ساتھ کارخانوں، فیکٹریوں اور رجمنٹوں کو جیت رہے تھے، جمہوری دوماؤں کے انتخابات نے مصالحت پسندوں کو بہت بڑی اور بظاہر بڑھتی ہوئی برتری دی۔ یہ انقلاب کے دقیق ترین اور شدید ترین تضادات میں سے ایک تھا۔ وائبورگ کے خالصتاً پرولتاری علاقے کی دوما نے یقینا بالشویک اکثریت کا اعزاز حاصل کیا ۔ لیکن یہ ایک استثنا تھا۔ جون میں ماسکو کے شہری انتخابات میں سوشل انقلابیوں نے 60 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ وہ خود بھی اس ہندسے پر حیران رہ گئے کیونکہ وہ تو محسوس کر رہے تھے کہ اُن کا اثرورسوخ کم ہو رہا تھا۔ انقلاب کے حقیقی ارتقا اور جمہوریت کے شیشوں میں اس کے عکس کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لئے ماسکو کے یہ انتخابات غیرمعمولی دلچسپی کے حامل ہیں۔ مزدوروں اور سپاہیوں کی وسیع پرتیں پہلے ہی تیزی سے اپنی مصالحت پسندانہ خوش فہمیوں کو جھٹک رہی تھیں۔ اسی دوران عام شہری لوگوں کی وسیع تر پرتوں میں بھی ہل چل شروع ہو چکی تھی۔اِن بکھرے ہوئے عوام کے لئے یہ جمہوری انتخابات اپنے سیاسی اظہار کا پہلا اور ہر لحاظ سے انتہائی نایاب موقع تھے۔ کل تک منشویک یا سوشل انقلابی رہنے والے مزدور نے تو بالشویک پارٹی کو ووٹ دیااور سپاہی کو بھی اپنے ساتھ لے آیا، لیکن اِسی دوران کوچوان،پھیری والے، جمعدار، منڈی کی عورت، دکاندار، اُس کے معاون اور استاد نے سوشل انقلابیوں کو ووٹ دینے کا معرکہ مار کے پہلی بار سیاسی عدم وجود میں سے اپنا اظہار کیا۔ پیٹی بورژوا پرتوں نے تاخیر سے کیرنسکی کو ووٹ دیا کیونکہ اُن کی نظروں میں وہ اُس فروری انقلاب کی مجسم شکل تھاجو رِستے رِستے اُن تک آن پہنچا تھا۔ 60 فیصد سوشل انقلابی اکثریت کے ساتھ ماسکو دوما مرتی ہوئی روشنی کے ساتھ آخری بار جگمگائی۔جمہوری خود انتظامی کے دوسرے تمام اداروں کی بھی یہی کیفیت تھی۔ معرض وجود میں آتے وقت ہی وہ تاخیرزدگی کے خصی پن کا شکار تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ انقلاب کی روش کا انحصار مزدوروں اور سپاہیوں پر تھا، نہ کہ اُس انسانی گرد و غبار پر جو ٹھوکر سے اڑا تھا اور انقلاب کے گردباد میں ناچ رہا تھا۔
محکوم طبقات کی انقلابی بیداری کی گہری اور عین اسی وقت سادہ جدلیات ایسی ہی ہوتی ہے۔ انقلاب کی سب سے خطرناک غلط فہمی تب پیدا ہوتی ہے جب گزرے ہوئے کل، آج اور آنے والے کل کو جمہوریت کا میکانکی کھاتہ دار ایک کالم میں متوازن کرتا ہے اور یوں رسمی جمہوریت پسند، انقلاب کا سر وہاں تلاش کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جہاں درحقیقت اُس کی دُم ہوتی ہے۔ لینن نے اپنی پارٹی کو سر اور دم میں فرق کرنا سکھایا تھا۔
*****
[۱] وزن کی پیمائش کی ایک روسی اکائی۔ ایک پوڈ میں 16.38 کلوگرام یا 36.11 پونڈ ہوتے ہیں۔
[۲] روسی اسی طرح سورج مکھی کے بیج چباتے ہیں جیسے امریکی چیونگم چباتے ہیں۔
[۳] یہاں ’عام آدمی‘ سے مراد بورژوا یا پیٹی بورژوا لوگ ہیں۔ یہ جس روسی لفظ کا ترجمہ ہے اُس کے معانی ’پیٹی بورژوا‘، ’بورژوا‘، ’روز مرہ کا آدمی‘ اور ’شہری آدمی‘ وغیرہ کے ہیں۔
[۴] بالشویکوں کے اقتدار پر قبضے کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی میں ردِ انقلابی سفید فوج کا رہنما ایڈمرل کولچاک تھا۔وہ بعد ازاں گرفتار ہوا اور بالشویکوں نے اُسے گولی مار دی۔