عورت کی آزادی: ایک افغان لڑکی کی کہانی، ایک عالمی سچائی
آزادہ امید
جب بھی میں یہ سنتی ہوں کہ طالبان نے خواتین کو’حجاب نہ پہننے‘یا’نافرمانی‘جیسی وجوہات کی بنا پر گرفتار کیا ہے تو میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ جب میں گھر سے نکلتی ہوں تو لازمی حجاب صرف میرے جسم کو نہیں ڈھانپ رہا ہوتا بلکہ یہ میری گردن اور دماغ کے گرد زنجیر کی طرح جکڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ گھر کے اندر بھی تحفظ کا کوئی مطلب نہیں۔ شام کی خاموشی اس خیال سے ٹوٹ جاتی ہے کہ’شاید کل میری باری ہو۔‘
یہ ڈراؤنا خواب ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ آج افغانستان کی لاکھوں خواتین اسی خوف اور جبر کو برداشت کر رہی ہیں۔ ہم ایک ایسے جال میں پھنسے ہیں جس سے نہ کوئی راستہ نکلتا ہے اور نہ ہی سہنے کی ہمت ملتی ہے۔ تاہم مجھے کہنا ہے کہ یہ جہنم صرف طالبان نے نہیں بنایا۔ یہ براہ راست امریکا، نیٹو، پاکستان، ایران، سعودی عرب، قطر، روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں کی سودے بازیوں کا نتیجہ ہے۔ ان سب نے ہمارے ملک کو اپنے معاشی اور فوجی مفادات کی شطرنج کی بساط میں بدل دیا ہے۔ ایک ایسی بساط جہاں عورتوں کی زندگیاں اور آزادی محض ایک بے وقعت مہرہ ہیں۔
یہ المیہ صرف افغانستان کی کہانی نہیں۔ فاشزم چاہے کسی بھی شکل یا زبان میں ہو، عورتوں کی آزادی اور برابری کا دشمن ہے۔ چاہے وہ کابل میں مذہبی انتہاپسندوں کی صورت میں ہو یا واشنگٹن ڈی سی میں نئے حکمرانوں کی شکل میں، جو نفرت اور امتیاز کی زبان استعمال کر کے تشدد اور ناہمواری کو راستہ دیتے ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ کا ابھار محض ایک داخلی بحران نہیں بلکہ ایک عالمی خطرے کی گھنٹی تھا۔ جب کسی عورت سے اپنے جسم پر اختیار چھین لیا جاتا ہے تو اس شکست کی بازگشت افغانستان، ایران، فلسطین، شام اور دیگر خطوں تک جا پہنچتی ہے۔
عورتوں کی جدوجہد کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ فاشزم اور آمریت صرف تبھی پنپتے ہیں جب خاموشی اور شراکت داری ان کا سہارا بن جاتی ہے۔ یہ خاموشی چاہے قوموں کی بے حسی کی صورت میں ہو یا حکمرانوں کی مفاہمت کی صورت میں،یہ وہ آکسیجن ہے جو آمریت کی آگ کو زندہ رکھتی ہے۔ امریکہ، ایران، فلسطین، کردستان، ترکی، یوکرین، روس، چلی، سپین، جنوبی افریقہ، افغانستان اور دنیا کے بے شمار حصوں کی عورتوں نے جدوجہد اور مزاحمت سے یہ واضح ہوتاہے کہ آزادی اوپر سے عطا نہیں ہوتی۔ آزادی نیچے سے آتی ہے، گلی کوچوں سے، عورتوں کی آوازوں سے، اور ہمت و یکجہتی سے آتی ہے۔
میں اب بھی یہاں ہوں، ایک ایسے ملک میں جو مجھے خاموش کر دینا چاہتا ہے اور مجھے بھلانا چاہتا ہے۔ تاہم ہر دن، چاہے کوئی میری آواز نہ بھی سنے، میرے اندر ایک شعلہ جلتا ہے جو کہتا ہے’نہیں‘۔یہ’نہیں‘صرف طالبان کے لیے نہیں بلکہ ہر اس نظام کے خلاف ہے جو عورت کو حاشیے پر دھکیلتا ہے، چاہے وہ مذہب کے نام پر ہو یا جعلی جمہوریت کے پردے میں۔
ہماری آزادی ہماری اپنی تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لینے سے جڑی ہے۔ کوئی بھی بیرونی طاقت ہمیں آزاد نہیں کرے گی، چاہے وہ آزادی کا دعویٰ ہی کیوں نہ کرے۔ جیسے فاشزم کی کوئی سرحد نہیں،ویسے ہی ہماری جدوجہد بھی عالمی ہونی چاہیے ۔ عورتوں اور مردوں کا ایک ایسا نیٹ ورک قائم کیا جانا چاہیے ،جو دنیا کے ہر حصے میں جبر، ناہمواری اور تشدد کے خلاف اٹھ کھڑا ہو۔
میں ایک افغان لڑکی ہوں، لیکن میری کہانی دراصل ان سب عورتوں کی کہانی ہے جو آج کی دنیا میں سانس لینے، فیصلے کرنے اور جینے کے حق کے لیے لڑ رہی ہیں۔ جب تک یہ جدوجہد جاری ہے، فاشزم کبھی بھی دائمی نہیں ہو سکتا۔
(بشکریہ: ’انٹرنیشنل ویو پوائنٹ‘، ترجمہ: حارث قدیر)