غریدہ فاروقی کے نام مہ رنگ بلوچ کا خط
فاروق سلہریا
ڈئیر غریدہ فاروقی صاحبہ !
امید ہیں آپ خیریت سے ہوں گی۔ جیل میں میرے پاس انٹرنیٹ ہے نہ موبائل فون کی سہولت۔ اس لئے سوشل میڈیا پر آپ کی پوسٹ نہیں دیکھ پاتی مگر مجھے پوری امید ہے کہ آپ نے پوری شد و مد سے مجھے ملنے والی عمر قید کی بھر پور مذمت کر دی ہو گی۔
ایک ملاقاتی نے مجھے بتایا کہ پیر کے دن سے، جس دن مجھے اور میرے محترم ساتھی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا ہوئی ہے، میرے ساتھ آپ کے اُس انٹرویو کی ویڈیو پھر سے وائرل ہے جس میں آپ بضد ہیں کہ میں نہ صرف بی ایل اے کی مذمت کروں بلکہ ان پنجابی مزدوروں کے لئے لانگ مارچ کروں جوآپ کے بقول بلوچستان میں ہلاک کئے گئے۔
جب آپ کے ساتھ میرا انٹرویو وائرل ہوا، تب بھی میں نے سوچا تھا آپ کو خط لکھوں گی۔ مصروفیت آڑے آتی رہی۔ اب فرصت ملی اور ویڈیو پھر سے وائرل ہوئی تو سوچا پرانا ادھار اتار ہی دوں۔
شائد آپ کو یاد ہو، جب آپ مجھ سے بی ایل اے کی مذمت کا مطالبہ کر رہی تھیں، غزہ میں جینو سائڈ کا آغاز ہوا تھا۔اہلِ فلسطین اور اُن کے حامی مغرب کے مین اسٹریم میڈیا میں اس جینوسائڈ پر بات کرنے کے لئے منہ کھولتے تو ان سے پوچھنے کے بہانے مطالبہ کیا جاتا : ’’کیا آپ 7 اکتوبر کے اقدام پر حماس کی مذمت کرتے ہیں؟‘‘۔
میری نظر میں یہ سوال ہی غلط ہے کہ حماس کے 7 اکتوبر والے اقدام کی حمایت کرنی ہے یا مذمت۔ مسئلہ حماس یا7 اکتوبر نہیں ہیں۔ حماس اور 7 اکتوبر مسئلے کی علامت ہیں۔ مسئلہ اسرائیل کا فلسطین پر کلونیل قبضہ ہے۔حماس اس مسئلے کی پیداوار،متشدد اظہار اور علامت ہے۔یہی بات بی ایل اے پر بھی صادق آتی ہے۔
بات 7 اکتوبر کو ہلاک ہونے والے اسرائیلی شہریوں کی ہو یا بلوچستان میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی، کلونیل سیاق و سباق کے بغیر دونوں باتیں ادھوری رہتی ہیں۔ سیاق و سباق کے علاوہ موازنہ بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
میری گزارش صرف اتنی ہے کہ 7 اکتوبر کو اگر مغرب کا سرمایہ دار میڈیا یا اسرائیل کی صیہونی ریاست محض مسئلے کا اظہار اور علامت نہ بھی مانیں پھر بھی 7 اکتوبر کا مقابلہ و موازنہ اُس جینوسائڈ سے نہیں کیا جا سکتا جو نیتن یاہو کی قیادت میں، مغربی سامراج کی سر پرستی میں، تل ابیب نے غزہ میں ڈھائی سال تک کیا۔مجھے یقین ہے آپ میری بات سے پورا اتفاق کریں گی۔ گرفتاری سے پہلے میں آپ کو سوشل میڈیا پر فالو کیا کرتی تھی۔ آپ فلسطین کی بہت بڑی حامی ہیں۔ میں بھی ہوں۔ ہم بلوچ ترقی پسند ہر محکوم قوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مجھے لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مین اسٹریم یا میٹروپولیٹن پاکستان میں جو دلیل اور منطق فلسطین کے لئے درست مانی جاتی ہے، وہ بلوچستان یاپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر پہنچ کر دم کیوں توڑ دیتی ہے؟
آپ صحافی ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ صحافی بہت کتابیں پڑھتے ہیں۔ اسرائیل اور حماس کے معروف مارکس وادی عرب ناقد، جلبیر اشقر، کی کتابیں اور تحریریں آپ نے پڑھی ہوں گی ۔
ان کی کسی کتاب میں نرگسی ہمدردی کا تصور پڑھا تھا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اکثر لوگ اظہار ہمدردی کے لئے اپنا وِکٹم منتخب کرتے ہیں۔اس انتخاب کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ جس کے ساتھ آپ identify کرتے ہیں،وہ تو آپ کو مظلوم دکھائی دیتا ہے مگر جو مظلوم رنگ،مذہب،قوم، لسانیت وغیرہ کی بنیاد پر مختلف ہوں ۔۔۔ان پر ہونے والا ظلم و جبر آپ کو زیادتی معلوم نہیں ہوتا۔ گویا آپ عالمگیر اخلاقیات کی بنیاد پر ظلم کے خلاف نہیں(بلکہ آپ ظلم کے خلاف ہیں ہی نہیں)،آپ اس وقت ہی ظلم کے خلاف ہیں جب آپ خود اس کا شکار ہوں۔
یہ اسی نرگسی ہمدردی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ طلعت حسین فلوٹیلا پر سوار فلسطین تو پہنچ جاتے ہیں لیکن رینجرز کی گولیوں سے راولا کوٹ میں شہید ہونے والے کشمیری انہیں بھارت کے ایجنٹ دکھائی دیتے ہیں یا ابصار عالم کو اپنے پیٹ میں لگنے والی گولی تو آمرانہ محسوس ہوتی ہے لیکن بلوچ ،پشتون یا کشمیری کے سینے میں اترنے والی وہی گولی محب وطن محسوس ہوتی ہے۔
اور ہاں!غزہ میں جینوسائڈ سے یاد آیا ،ایک جینو سائڈ 1971 میں بھی تو ہوا تھا۔مین اسٹریم اور میٹروپولیٹن پاکستان میں اِس جنیو سائڈ پر بنگلہ دیش سے معافی مانگنے کی بجائے ،رواج یہ پایا جاتا ہے کہ اسرائیل کی طرح ، مکتی باہنی کے بہانے اس کا جواز فراہم کیا جاتا ہے۔اس کو جسٹیفائی کیا جائے۔
جس طرح ،اسرائیل غزہ میں اپنے جینوسائڈ کو جینو سائڈ تسلیم کرنے کی بجائے حماس کے7 اکتوبر والے حملے کو جواز بنا کر اپنا دفاع کرتا ہے اور غزہ میں لاکھوں اموات کا موازنہ7 اکتوبر کو ہونے والی لگ بھگ ایک ہزار اموات سے کرتا ہے عین اسی طرح مطالعہ پاکستان کی کتابوں سے لے کر جاوید جبار وں کی بنائی ہوئی دستاویزی فلموں تک ، مشرقی پاکستان میں ہونے والے قتل عام اور ماس ریپ کا جواز یہ کہہ کر فراہم کیا جاتا ہے کہ’’ بھارت کی تربیت یافتہ ‘‘مکتی باہنی نے پنجابی اور بہاری لوگوں کو قتل کیا۔
میں نے آپ کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی کہا تھا کہ میری بی ایل اے کی مذمت کر دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اگر لاپتہ بلوچ بی ایل اے کی مذمت کر دیتے سے اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے تو میں مینارِ پاکستان پر کھڑی ہو کر مذمت کرنے کو تیار ہوں۔ جس طرح مسئلہ غزہ میں نہیں تل ابیب میں ہے ،عین اسی طرح مسئلہ بلوچستان میں نہیں اسلام آباد اور لاہور میں ہے۔
ماضی میں بھی مسئلہ ڈھاکہ میں نہیں، لاہور اور اسلام آباد میں تھا۔ جس طرح مسئلہ مکتی باہنی یا حماس نہیں ویسے ہی اصل مسئلہ بی ایل اے نہیں۔ یہ بات اس وقت تک سمجھ میں نہیں آئے گی جب تک مین اسٹریم اور میٹروپولیٹن پاکستان نرگسی ہمدردی میں مبتلا رہے گا۔
میں یہ خط طعنے دینے کے لئے نہیں لکھ رہی ۔ میری جس ماحول میں سیاسی تربیت ہوئی، اس میں گالی اور طعنوں کی بجائے سنجیدگی اور دلیل کی تربیت دی جاتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں مین اسٹریم ،میٹرو پولیٹن پاکستان کے حکمران اور حکمرانوں سے زیادہ وہاں کے آپ جیسے متمول و با ثر باسی بھی گالی اور گولی کی بجائے دلیل اور سنجیدگی کو اپنائیں۔
منطق اور سنجیدگی کا تقاضہ ہے کہ جس جوش و خروش سے آپ نے میرا انٹرویو کیا تھا، اُسی انداز میں انسداد دہشت گردی والی عدالت کے جج کا انٹرویو بھی نشر کریں جس نے مجھے عمر قید کی سزا دی ہے۔
آپ نے جج سے یہ نہیں پوچھنا کہ عمر قید کیوں کیا، پھانسی کیوں نہیں دی۔۔۔ پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا سے کچھ بعید نہیں۔
جج سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ کس ثبوت کی بنیاد پر ہمیں عمر قید دی گئی ہے۔ جج کی مذمت مت کیجئے گا۔ مذمت سے ہمارے منصف ٹھیک نہیں ہو ں گے۔ مسئلہ ہمارے منصف نہیں، عدالتیں بھی نہیں۔ یہ صرف مسئلے کی خونی اور شرمناک علامتیں ہیں جس کا شکار میں بنی ہوں ، علی وزیر بنا ہوا ہے۔ لاکھوں اور لوگ بنے ہوئے ہیں۔مسئلہ وہ لوگ اور ان کا نظام ہے جن سے کینڈڈ انٹرویو کرنے کی بجائے آپ کا مین اسٹریم میڈیا گھبراتا ہے۔
خط طویل ہو گیا۔ اب اجازت چاہتی ہوں۔
خیر اندیش۔
مہ رنگ بلوچ۔