← Back to Newsroom OS خبریں

غزہ میں صحافیوں کے قتل پر رائٹرز کی پالیسی کے خلاف فوٹو جرنلسٹ کا استعفیٰ

By جدوجہد • 2025-08-27 • 8 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)کینیڈین فوٹو جرنلسٹ ویلیری زنک نے ’رائٹرز‘کے ساتھ 8سالہ تعلق ختم کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خبر رساں ایجنسی کی غزہ کے حوالے سے پالیسی ’صحافیوں سے غداری‘اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 245 صحافیوں کے قتل کو ’جواز فراہم کرنے اور اسے ممکن بنانے‘کے مترادف ہے۔

زنک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘پر اپنے بیان میں کہاکہ ’اب میرے لیے رائٹرز کے ساتھ کسی تعلق کو برقرار رکھنا ناممکن ہو گیا ہے کیونکہ یہ ادارہ غزہ میں 245 صحافیوں کے منظم قتل کو جواز فراہم کرنے اور اسے ممکن بنانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ 8سال تک رائٹرز کے لیے بطور فری لانس کام کرتی رہیں اور ان کی تصاویر دنیا کے بڑے اخبارات اور اداروں، بشمول نیو یارک ٹائمز اور الجزیرہ میں شائع ہوئیں۔

فوٹو جرنلسٹ نے رائٹرز کی رپورٹنگ پر شدید تنقید کی، خصوصاً اس وقت جب اگست میں غزہ سٹی میں اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے رپورٹر انس الشریف اور پوری ٹیم کو قتل کر دیا گیا۔ زنک کے مطابق رائٹرز نے اسرائیل کے اس بے بنیاد دعوے کو شائع کیا کہ انس الشریف حماس کے کارکن تھے۔ انہوں نے کہا’یہ ان بے شمار جھوٹوں میں سے ایک تھا، جنہیں اسرائیل گھڑتا ہے اور رائٹرز جیسے میڈیا ادارے انہیں دہراتے اور عزت بخشتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہاکہ ’میں نے پچھلے 8برس میں رائٹرز کے لیے اپنی محنت کو اہم سمجھا، مگر اب میں اس پریس کارڈ کو سوائے شرمندگی اور غم کے کسی اور جذبے کے ساتھ پہننے کا تصور نہیں کر سکتی۔ ‘

زنک نے زور دیا کہ اسرائیلی پروپیگنڈا دہرانے سے رائٹرز اور دیگر مغربی میڈیا اپنے ہی رپورٹرز کو بھی اسرائیلی نسل کشی سے نہیں بچا سکے۔ انہوں نے رائٹرز کے اپنے کیمرہ مین حسام المصری سمیت 6مزید صحافیوں کے قتل کا حوالہ دیا جو اسرائیل کے حالیہ ناصر اسپتال پر ’ڈبل ٹیپ‘حملے میں مارے گئے۔ ان کے مطابق یہ وہ طریقہ ہے جس میں اسرائیلی فوج پہلے کسی اسکول یا اسپتال جیسے سول ہدف پر بمباری کرتی ہے، پھر جب امدادی ٹیمیں اور صحافی پہنچتے ہیں تو دوبارہ حملہ کر دیتی ہے۔

زنک نے کہا کہ مغربی میڈیا نے اسرائیلی جنگی جرائم کو چھپانے اور متاثرین کو غیرانسانی ثابت کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امریکی صحافی جرمی سکیہل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیو یارک ٹائمز سے رائٹرز تک بڑے ادارے اسرائیلی پروپیگنڈا کے کنویئر بیلٹ بن گئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مغربی میڈیا نے اسرائیل کے نسل کشی پر مبنی جھوٹ بغیر کسی تصدیق کے دہرا کر صحافت کی بنیادی ذمہ داریوں کو ترک کیا ہے اور یوں ایسی فضا قائم کی ہے جس میں صرف دو برس میں غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتیں دنیا کے بڑے تنازعات میں مجموعی طور پر ہونے والی ہلاکتوں سے بھی بڑھ گئیں۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینی صحافیوں کی تعداد 246 تک پہنچ گئی ہے۔