← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

غزہ: کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل

By جدوجہد • 2025-06-06 • 14 min read

بابر پطرس

ہر گزرتے دن کے ساتھ غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی‘ بربریت کی نئی داستانیں رقم کر رہی ہے۔ صیہونی ریاست کی مسلسل بمباری‘ غزہ میں ملبے کے ڈھیروں کو اب سنگ ریزوں میں بدل رہی ہے۔ بے کفن لاشیں‘ انسانیت کا منہ چڑا رہی ہیں۔ ملبے کے نیچے دبے پھول ایسے نازک بچوں کے جسم… بہتے خون کے دھاروں میں جانیں بچاتے بوڑھوں، بچوں، معصوموں کی دھاڑیں… زخموں سے چور انسانوں کی فلک شگاف صدائیں… یہ بلاشبہ عہد جدید کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ یہ مناظر سرمایہ دارانہ ”تہذیب“ کے گالوں پر ایسا زور دار طمانچہ رسید کرتے ہیں جس کا نشان اس مکروہ نظام کے بدنماں چہرے پر ہمیشہ کے لئے ثبت ہو چکا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے کم و بیش تین ماہ سے زائد عرصہ پر محیط خوراک کی ترسیل کے راستوں کی بندش اور ناک بندی ایک اضافی المیے کو جنم دے رہی ہے۔ ایسی کون سی قیامت باقی رہ گئی ہے جو فلسطینیوں پر ٹوٹ نہیں پڑی۔

دنیا بھر میں عوام نے ہزاروں جلوس نکالے، مذمت کی قراردادیں پاس کیں، اقوام متحدہ جیسے اداروں کو خطوط لکھے۔ سکولوں، کالجوں سے لے کر کھیل کے میدانوں تک میں احتجاج ریکارڈ کروائے۔ انصاف کی عالمی عدالت نے اسی عوامی دباؤ کے نتیجے میں غزہ میں جاری غارت گری کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیا۔ لیکن فلسطین کی آزادی و نجات کا خواب تو کیا ہی شرمندہ تعبیر ہوتا کہ اب تو چیتھڑوں سے تن کی عریانی، بے سروسامانی اور بھوک کی اذیت ہر حد سے آگے بڑھ رہی ہے۔ غزہ میں سامراجی ریشہ دوانیوں نے قحط برپا کر دیا ہے۔ غزہ کا المیہ وہ سانحہ ہے جس نے سرمایہ داری کے تمام قومی و مذہبی رشتوں کے فریب کو عریاں کر کے طبقاتی مفادات کو عیاں کیا ہے۔ اس نسل کشی نے ثابت کر دیا ہے کہ قوم اور مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے حکمران اپنے اقتدار کے دوام کے لئے سامراجی طاقتوں کی قدم بوسی میں کس پاتال میں گر سکتے ہیں۔ اس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ظلم کے خلاف جڑت، یکجہتی اور اتحاد کے لئے کسی ایک قوم، رنگ، نسل، مذہب، زبان یا خطے سے تعلق ہونا کوئی بنیادی شرط نہیں ہے۔ بلکہ طبقاتی تعلق و پس منظر اور انسانی درد مندی کے جذبات کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ اس قتل عام نے بورژوا سیاست و ریاست کے مکروہ کھیل کی گھناؤنی چالوں کو اس طرح ننگا کر دیا ہے کہ اس کی مثال ملنا محال ہے۔ امہ کی رہنما و نجات دہندہ ہونے کی دعویدار عرب بادشاہتیں غزہ کے قاتلوں اور ان کے حمایتوں کے استقبال میں چاپلوسی کی انتہاؤں پہ جاتی نظر آئی ہیں۔ روایتی و منافقانہ قسم کی مذمت بھی دور کی بات، ٹرمپ جیسے سامراجی آقاؤں کو مہنگے اور نایاب ترین تحائف پیش کیے گئے ہیں اور کھربوں ڈالروں کے باہمی معاہدے طے پائے ہیں۔ گویا ان مطلق العنان قیادتوں کی جانب سے غزہ کی بربادی کے ذمہ داران کو تقویت دی گئی ہے اور غزہ کو جلانے کے لئے مزید ایندھن فراہم کیا گیا ہے۔ عرب دنیا کے ان حکمرانوں کے لئے حماس جیسی تنظیمیں بھی سامراجی کھیل کے مہروں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ سرمائے کے اس کھیل میں انسانی خون ارزاں ہو جاتا ہے اور مسند پر بیٹھے رہنے کی ہوس انسان کو اس کے منصب سے گرا کر درندہ بنا دیتی ہے۔ اسی درندگی کا بھیانک ناچ آج ساری دنیا میں نظر آ رہا ہے۔

سپین کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف اسرائیل سے تجارت نہیں کرے گی۔ اٹلی نے بھی کچھ اسی طرح کی بیان بازی کی ہے۔ فرانس جون میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں فلسطین کو بطور آزاد ملک تسلیم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ جرمنی بھی، جس کا یہود دشمن ماضی آج کے اسرائیل کی فلسطین دشمنی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے اور جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے صیہونیت کا بڑا حمایتی رہا ہے‘ اسرائیل کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا، آئرلینڈ اور سویڈن سمیت بیشتر مغربی ممالک اسرائیل کی طرف سرد مہری کا رویہ اپناتے نظر آ رہے ہیں۔ مارکسی تجزئیے اور طریقہ کار سے نابلد کوئی بھی انسان ایسے اقدامات کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار ہو کر سمجھ سکتا ہے کہ یہ حکومتیں اچانک ”انسان دوست“ ہو گئی ہیں۔ ایسی غلط فہمیاں سرمایہ دارانہ نظام کی اساس اور حرکیات سے ناواقفیت کا لازمی نتیجہ ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوری طرزِ حکمرانی سمیت سرمایہ دارانہ نظام کی تمام گماشتہ حکومتیں اس وقت تک ایک دوسرے کی مخالفت نہیں کرتیں جب تک ان کے اپنے طبقاتی نظام اور استحصالی کاروبار کو کوئی سنجیدہ خطرہ لاحق نہ ہو جائے۔ اس نظام میں حکمران طبقات کی جانب سے انسانی حقوق، جمہوری اقدار، امن و سلامتی وغیرہ کی باتیں فریب اور دھوکہ ہوتی ہیں۔ اپنے مفادات کے تحت ضرورت پڑنے پر یہ کبھی بھی ان قوانین، روایات اور اقدار کو روند دیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ غزہ میں جاری بے لگام اسرائیلی بربریت اب خود ان کے لئے مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ سرمایہ داری نظام کی ساکھ پوری دنیا میں تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ خود مغربی معاشروں کے عوام میں غزہ کے حالات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صیہونیت اندر سے کھوکھلی ہوتی جا رہی ہے۔ صیہونی ریاست کی بدمعاشی دوسرے حوالوں سے بھی سامراجی آرڈر کے لئے خطرہ بن رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی سامراجی اسٹیبلشمنٹ کے اہم حصے بھی اب اسرائیل کو لگام دینا چاہتے ہیں۔ ایسے میں وہ اپنے پرانے اور قابل اعتماد قصائی نیتن یاہو کو بھی بلی کا بکرا بنا کر قربان کر سکتے ہیں۔ نیتن یاہو کا ٹولہ جنگ اور بربادی کو جن انتہاؤں پر لے جا رہا ہے اس کے خلاف خود اسرائیل کے صیہونی حلقوں سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہے۔ مثلاً اسرائیلی حزب مخالف کے رہنما کا یہ بیان کہ غزہ میں بچوں کو مارنا نیتن یاہو کا مشغلہ ہے۔ یہ بیانات اور مذمتیں سیاسی چال بازی ہی سہی لیکن ان کے پیچھے عوام کا شدید دباؤ اور نظام کے استحکام کی فکر کارفرما ہے۔

دوسری طرف عالمی سطح پر سرمایہ داروں کو پہلے سے منافعوں میں گراوٹ کا سامنا ہے۔ ان حالات میں اسرائیل سے جڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بائیکاٹ کی عالمی مہم بھی جاری ہے۔ محنت کش عوام ان کمپنیوں کو بھی غزہ میں جاری نسل کشی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ چنانچہ بہت سے سامراجی ممالک کو اسرائیل کی طرف اپنا رویہ نسبتاً سخت کرنا پڑ رہا ہے۔ ورنہ یہ وہی حکومتیں ہیں جو غزہ کے حق میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف جرمانے اور انتقامی کاروائیاں کرنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ اسرائیل کا وجود ان کی حمایت اور امداد کا مرہون منت ہے۔ مثلاً برطانیہ کی لیبر حکومت نے اسرائیل کو اسلحہ فروخت کر کے ریکارڈ منافعوں کا حصول ممکن بنایا ہے۔ 13 مئی 2025ء کو لندن کی ایک عدالت میں ایف 35 جنگی جہاز کے پرزے اسرائیل کو بیچے جانے کے خلاف چل رہے ایک کیس میں حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے ان پرزوں کی سپلائی روکنے سے ایک دوست ملک (اسرائیل) کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے! برطانیہ نے اکتوبر تا دسمبر 2024ء کے محض تین مہینوں میں اسرائیل کو 170 ملین ڈالر کا دفاعی ساز و سامان فروخت کیا ہے۔

یہاں ان ”درد مندوں“ پر بات کرنا بھی ضروری ہے جو فلسطین کے معاملے پر اشک بہاتے ہوئے مسلمان ممالک کی حکومتوں کو اسرائیل پر چڑھ دوڑنے کی ترغیب دیتے ہیں یا انفرادی طور پر مسلح یلغار کا پرچار کرتے ہیں۔ یقینا اس سوچ کے پیچھے حکمرانوں پر عدم اعتماد اور غصے و مایوسی ایسے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ لیکن درست لائحہ عمل اور منزل کے تعین کے بغیر کا عمل یا جذباتی ردعمل پہلے سے زیادہ بڑی بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مثلاً حماس کی کاروائی نے نظروں سے اوجھل ہو چکے ایشو کو پوری دنیا میں دوبارہ اجاگر تو کر دیا۔ لیکن کس قیمت پر؟ دسیوں ہزار لوگوں کا قتل عام، بچوں کی دھاڑیں، کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا غزہ، بھوک، قحط اور جبری ہجرت۔ آج غزہ کے بدنصیب باسی دہرے تہرے عذاب کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک طرف گولہ بارود کی تباہی ہے تو دوسری طرف بھوکوں مرنے کی اذیت ہے۔ یوں جذبات کی رو میں بہہ کر ایک دیوہیکل سامراجی ریاست پر انفرادی یا گروہی قسم کی مسلح یلغار بیشتر صورتوں میں کوئی دانش مندانہ اقدام ثابت نہیں ہوتی۔ مزید برآں ایسے اقدامات سے جنگوں کو مذہبی یا نسلی جواز مل جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک طبقاتی نظام میں جنگ سمیت ہر پالیسی کے پیچھے طبقاتی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ جنہیں عیاں کیے بغیر کوئی انقلابی حل پیش نہیں کیا جا سکتا۔

فلسطین میں دو ریاستی حل ناکام ہوا۔ ٹھوس انقلابی نظرئیے اور وسیع تر تناظر کے بغیر مسلح جدوجہد بھی خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ تو کیا اس کا مطلب ہے کہ فلسطین کی آزادی کسی دیوانے کا خواب ہے؟ ہرگز نہیں۔ دنیا بھر میں استحصال اور جبری قبضوں کی شکار دوسری محکوم قوموں کی طرح فلسطین کا مسئلہ بھی سامراجی سرمایہ داری کی ناگزیر پیداوار ہے۔ جس کے پیچھے اس نظام کا کئی صدیوں کا ارتقا کارفرما ہے۔ اس وسیع تر تناظر میں دیکھے بغیر اس مسئلے کو حل کرنا تو دور‘ سمجھنا بھی محال ہے۔ آخری تجزئیے میں اسرائیلی یلغار کے خلاف مزاحمت اور آزادی فلسطین کی راہ خطہ عرب، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے محکوم و محنت کش انسانوں کی جڑت اور اتحاد میں پنہاں ہے۔ جس میں اسرائیل کے صیہونیت مخالف محنت کشوں کو بھی شامل کرنا ہو گا۔ غزہ پر حالیہ اسرائیلی جارحیت کے بعد اس طبقاتی یکجہتی کی جھلک پوری دنیا میں نظر آئی ہے۔ لیکن اس اتحاد کو انقلابی سوشلزم کے نظرئیے سے لیس اور سیاسی طور پر منظم اور متحرک ہو کر سامراجی سرمایہ داری کے متروک نظام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کرنا ہو گا۔ اسی طور سے ان سامراجیوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے جو جنگوں اور بربادیوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہی فلسطین کی آزادی و خود مختاری کا راستہ ہے۔ جس پر آگے بڑھتے ہوئے سارے کرہ ارض کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔

Babar Patrus

بابر پطرس گزشتہ ایک دہائی سے شعبہ تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اردو ادب ان کا خاص مضمون ہے۔ بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر، اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ سیاسی فکر میں کارل مارکس سے متاثر ہیں۔