غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43 فیصد کمی، دسمبر میں 457 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری نکل گئی
لاہور(جدوجہد رپورٹ)جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 43 فیصد کی شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو حکومت کی بیرونی سرمایہ کاری کی امیدوں کیلئے بڑا دھچکا ہے۔
’ڈان‘ کے مطابق جولائی تا دسمبر مالی سال 2025-26 کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری 808 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 1.425 ارب ڈالر تھی۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کا کمزور اعتماد دسمبر میں واضح طور پر نظر آیا، جب ایف ڈی آئی منفی ہو گئی۔دسمبر میں کل 322.5 ملین ڈالر کی آمد ہوئی،مگر 457.3 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری نکل گئی،نتیجتاً خالص سرمایہ کاری 135 ملین ڈالر منفی رہی۔
مارکیٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق کسی بھی سطح کی کشیدگی میں اضافہ پاکستان کی تجارت متاثر کر سکتا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید کمزور کر دے گا۔
رپورٹ کے مطابق چین 423 ملین ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا سرمایہ کار رہا، جبکہ ہانگ کانگ نے 164 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔دونوں ممالک کی مجموعی سرمایہ کاری 587 ملین ڈالر بنتی ہے، جو کل ایف ڈی آئی کا 73 فیصد ہے۔دیگر نمایاں سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات (112 ملین ڈالر) اور سوئٹزرلینڈ (107 ملین ڈالر) سے آئی۔
سرمایہ کاری میں کمی کا اثر حکومتی منصوبوں پر بھی پڑا ہے۔ قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے لیے غیر ملکی خریداروں کی عدم دلچسپی جاری ہے۔
حکام نے حال ہی میں امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والے جنگی طیاروں کی ممکنہ برآمدات بیرونی ادائیگیوں میں مدد دے سکتی ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں ہو سکا۔