← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا

By جدوجہد • 2025-08-03 • 14 min read

جلبیر اشقر

(حال ہی میں برطانیہ، فرانس اور کینیڈا جیسے جی سیون کے رکن ممالک نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے ہم عرب دنیا کے معروف دانشور جلبیر اشقر کا مضمون قارئین کے لئے پیچ کر رہے ہیں)

’فلسطینی ریاست‘ نامی ایک فرضی وجود کو مزید ممالک کی جانب سے تسلیم کیا جانا علامتی طور پر مثبت ہے کیونکہ یہ فلسطینی عوام کے ریاست کے حق کو تسلیم کرنے کا اظہار ہے۔ یہ وہ حق ہے،جس سے صہیونی اسٹیبلشمنٹ کے اکثر عناصر، اورخاص طور پر موجودہ دور میں اسرائیل پر حکومت کرنے والے انتہائی دائیں بازو کے صہیونی دھڑے انکار کرتے ہیں۔

تاہم اس قسم کی تسلیم کرنے والی کوششوں کی معنویت اور ان کے اثرات وقت کے ساتھ بڑی حد تک بدلتے رہتے ہیں۔

1988 میں الجزائر میں فلسطینی قومی کونسل کے اجلاس میں ’فلسطینی ریاست‘ کے اعلان کے بعد جن ممالک نے اسے تسلیم کیا، وہ دراصل 1987 میں مقبوضہ علاقوں میں شروع ہونے والی عظیم عوامی انتفادہ کے تناظر میں فلسطینی جدوجہد کی ایک اہم کڑی کو سہارا دے رہے تھے۔ اس وقت یہ اعلان بظاہر ایک انقلابی اقدام لگتا تھا، حالانکہ درحقیقت یہ انتفادہ کو اس کے اصل راستے سے ہٹانے کی ایک چال تھی۔ یاسر عرفات اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی قیادت میں ان کے ساتھیوں نے اس عوامی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے ایک سفارتی عمل کے ذریعے ’آزاد فلسطینی

ریاست‘کے سراب کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا، اور وہ عمل امریکی سرپرستی میں ہونا تھا۔

چنانچہ 1988 کے اعلان ریاست کے فوری بعد عرفات نے امریکہ کی طرف سے مذاکرات کے لیے عائد کردہ شرط کو قبول کیا اور ایک شرمناک انداز میں یہ بیان دیاکہ ’ہم مکمل اور قطعی طور پر ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔‘(یہ بیان انہوں نے 14 دسمبر 1988 کو جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں دوبارہ دہرایا)۔

اگرچہ یہ اعلان ایک چیلنج آمیز سیاسی اقدام تھا، لیکن اس کی حمایت ان ممالک نے کی جو واقعی فلسطینی عوام کے اس حق کے حامی تھے کہ وہ 1967 کے مقبوضہ علاقوں میں صہیونی قبضے سے نجات حاصل کریں۔ اس وقت دنیا کے 88 ممالک نے نئی اعلان کردہ ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کیا۔ ان میں تقریباً تمام عرب ممالک شامل تھے (سوائے شام کی اسد حکومت کے، جو فلسطینی قیادت کی سخت مخالف تھی)، افریقہ اور ایشیا کے بیشتر ممالک بھی اس فہرست میں تھے (چند واضح استثناؤں کے ساتھ، جیسے جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت، جو صہیونی ریاست کی دیرینہ اتحادی تھی) اور سوویت یونین کے زیر اثر مشرقی بلاک کے ممالک بھی شامل تھے۔

اس وقت دنیا ایک نمایاں تقسیم کا شکار تھی۔ ترکی کے علاوہ امریکہ کی قیادت میں چلنے والے مغربی بلاک کے کسی بھی ملک نے اس وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔ لاطینی امریکہ میں بھی صرف کیوبا اور نکاراگوا نے اس اعلان کو تسلیم کیا، جو واشنگٹن کی بالادستی کے خلاف مزاحمت کے علمبردار تھے۔

1988 کے بعد بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا سلسلہ جاری رہا، اور وقت گزرنے کے ساتھ ایشیا، افریقہ (چند استثناؤں کے ساتھ، جیسے کیمرون اور اریٹیریا، مگر بالکل مختلف وجوہات کی بنا پر) اور لاطینی امریکہ کے باقی ممالک نے بھی اسے تسلیم کر لیا۔ نیٹو کے رکن ممالک میں سب سے پہلے آئس لینڈ نے 2011 میں اور سویڈن نے 2014 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔یہ واضح رہے کہ ترکی اور مشرقی یورپ کے وہ ممالک جو سوویت یونین کے زیر اثر تھے اور نیٹو میں شمولیت سے قبل ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے تھے۔ نیٹو کے باقی رکن ممالک نے تب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا جب تک کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں جاری نسل کشی کی جنگ کی مکمل ہولناکی دنیا پر عیاں نہیں ہو گئی۔ 2024 میں ناروے، اسپین اور سلووینیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا، جس کے بعد لاطینی امریکہ کے باقی ماندہ ممالک نے بھی ایسا کیا (سب سے حالیہ ملک میکسیکو ہے، جس نے یہ اقدام اس سال اٹھایا)۔

فرانسیسی صدر کی جانب سے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے کے اعلان سے قبل، جیوپولیٹیکل مغرب کی تمام بڑی طاقتیں، بالخصوص امریکہ، جرمنی، برطانیہ، اٹلی، جاپان اور آسٹریلیا ایسا کرنے سے انکار کرتی رہی ہیں اور آج تک اس سے گریزاں ہیں۔ وہ مختلف بہانوں کا سہارا لیتے ہیں، خصوصاً یہ انتہائی منافقانہ دلیل دی جاتی ہے کہ ایسا اقدام مبینہ طور پر’امن کے عمل میں رکاوٹ‘بن سکتا ہے۔

(یہ مضمون اس وقت لکھا گیا جب برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے یہ مشروط اعلان کیا تھا کہ اگر اسرائیل سیزفائر پر آمادہ نہیں ہوتا اور غزہ کی صورت حال میں بہتری نہیں آتی تو برطانیہ بھی ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔)

غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف ان مغربی ملکوں میں عوامی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جرم کی دانستہ نوعیت پوری دنیا کے سامنے کھل کر سامنے آ گئی ہے، جس کی موجودہ شکل منظم بھوک کے ذریعے غزہ کے عوام کو ہلاک کرنے کی کوشش ہے۔ یہ دباؤ مستقبل میں مزید ملکوں کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے اقدام اٹھانے کا باعث بن سکتا ہے، اور اسرائیل پر خوراک کی امداد غزہ جانے دینے کے لیے دباؤ میں پہلے ہی اضافہ ہو چکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو ملک گزشتہ تقریباً 60برس سے مغربی کنارے اور غزہ پر صہیونی قبضے میں درپردہ شریک رہے ہیں، اور جنہوں نے اس وقت تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا جب تک اسرائیل کی کھلی درندگی پوری دنیا کے سامنے ظاہر نہ ہو گئی، وہ دراصل اپنے خاموشی کے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم اور جرمن چانسلر کی آخری لمحے میں ’ضمیر کی بیداری‘اور ان کا اردن و متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر غزہ پر فضائی امداد گرانے میں شرکت کا فیصلہ کسی عزت کے لائق نہیں بلکہ قابل نفرت ہے۔یہ اقدام انسانی امدادی تنظیموں کے نزدیک بھی محض ایک بیکار اور نمائشی قدم ہے۔خاص طور پر اس لیے کہ یہ دونوں نیٹو ممالک امریکہ کے بعد اسرائیل کے سب سے بڑے فوجی معاون شمار ہوتے ہیں۔

جو چیز بالکل واضح ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ آج کل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششیں،جیسا کہ نیویارک میں فرانسیسی و سعودی سرپرستی میں منعقدہ کانفرنس،1988 میں ہونے والی تسلیم کرنے والی کوششوں کے مقابلے میں بالکل مختلف معنویت رکھتی ہیں۔ 1988 وہ سال تھا جب فلسطینی عوام کو 1948 کی نکبہ کے بعد شاید سب سے بہتر سیاسی حالات میسر آئے تھے۔ اس وقت کی انتفادہ نے دنیا بھر میں عوامی ہمدردی حاصل کی اور اسرائیلی سماج اور فوج کے اندر شدید اخلاقی و نفسیاتی بحران پیدا کیا۔ اسی نے وہ حالات پیدا کیے جن کے نتیجے میں صہیونی لیبر پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی اور یاسر عرفات کی قیادت میں اوسلو معاہدہ طے پایا۔ یہ ایک ایسا معاہدہ تھا،جس کا تصور اس وقت تک ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اس معاہدے میں فلسطینیوں کے لیے بہت سی غیر منصفانہ شرائط شامل تھیں، جنہیں یاسر عرفات نے محض ایک خام خیالی اور خوش فہمی میں قبول کر لیا۔

تاہم جو چیز 1988 میں، اور حتیٰ کہ 1993 میں بھی (حالانکہ اوسلو عمل شروع سے ہی ناکامی کی طرف گامزن تھا)،ایک مفروضہ لیکن قابل حصول فلسطینی ریاست معلوم ہوتی تھی، وہ آج صحرا میں ایک سراب سے بھی کم حقیقت پسندانہ دکھائی دیتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ غزہ کی پٹی کی آبادی کا 10واں حصہ یا اس سے بھی زیادہ قتل کیا جا چکا ہو، اور حالیہ ایک جغرافیائی سروے (جو یروشلم کی ہیبرو یونیورسٹی نے کیا) کے مطابق پٹی کی کم از کم 70 فیصد عمارات تباہ ہو چکی ہیں۔ان میں شمالی غزہ کی 84 فیصد اور رفح کی 89 فیصد عمارات شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس قسم کی فلسطینی ریاست کی بات کر رہے ہیں؟

ان میں سے جو سب سے فراخدلانہ خیال رکھتے ہیں، وہ ایسی ریاست کا تصور کرتے ہیں جو اوسلو معاہدے کے دائرہ کار کے تحت قائم ہو، یعنی ایسی فلسطینی اتھارٹی جو اسرائیلی نگرانی میں کام کرتی رہے،اور جس کی نام نہاد ’خودمختاری‘صرف مغربی کنارے کے پانچویں حصے سے بھی کم علاقے اور غزہ تک محدود ہو۔ دیگر افراد ایک اس سے بھی محدود اکائی کا تصور پیش کرتے ہیں، جو اس حقیقت کے بعد وجود میں آئے گی کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے بیشتر حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور مغربی کنارے میں صہیونی بستیاں مزید پھیل چکی ہیں۔

فلسطینی قومی اتفاقِ رائے نے 2006 میں جو شرائط طے کی تھیں (دی پریزن ڈاکومنٹ)، وہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کم سے کم شرائط تھیں۔ ان شرائط میں 1967 میں مقبوضہ تمام فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم سے اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کا انخلاء،اسرائیل کی جیلوں میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کی رہائی،اور فلسطینی پناہ گزینوں کے واپسی کے حق اور زرتلافی کی تسلیم شدہ ضمانت جیسی شرائط شامل تھیں۔آج ان شرائط کو’انتہا پسندانہ‘ مطالبات قرار دے کر فراموش کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہ ابتدا میں مفاہمت کی نیت سے رکھی گئی کم از کم شرائط تھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ کوئی بھی فلسطینی اکائی جو ان بنیادی شرائط کو نظرانداز کرے گی، دراصل اس عظیم الشان کھلے جیل خانے کا نیا نسخہ ہوگی جس میں صہیونی ریاست نے فلسطینی عوام کو 1967 کے مقبوضہ علاقوں میں قید کر رکھا ہے۔یہ ایک ایسا جغرافیائی علاقہ ہے جو وقت کے ساتھ سکڑتا جا رہا ہے اور ایک ایسی آبادی ہے جو نسل کشی اور نسلی صفائی کے نتیجے میں مسلسل کم ہو رہی ہے۔

Gilbert Achcar

جلبیر اشقر اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز لندن کے پروفیسر ہیں۔ وہ مذہب کے سیاسی کردار اور بنیاد پرستی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔