← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

فلسطینی بائیں بازو کی تحریک قومی تاریخ کا ایک اہم حصہ

By جدوجہد • 2025-07-04 • 18 min read

ڈینیئل فن

جیکوبن ریڈیو کی لانگ ریڈز پوڈکاسٹ کے تحت ہم نے ایک مختصر سیریز تیار کی ہے جس کا عنوان ’Red Star Over Palestine: Histories of the Palestinian Left‘ ہے۔ اس سیریز کی 6 اقساط میں 1920 کی دہائی سے لے کر آج تک فلسطینی سیاست اور ثقافت پر بائیں بازو کے نظریات کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

فلسطینی بائیں بازو کی مختلف شکلوں میں جو تجربات سامنے آئے، وہ فلسطینی قوم کی وسیع تر داستان کا ایک بنیادی حصہ ہیں۔ اسرائیلی قبضے کے سائے میں پچھلے 25برسوں سے فلسطین کی سیاسی فضا پر فتح اور حماس کے درمیان مقابلے نے غلبہ پایا ہوا ہے۔ تاہم 1980 کی دہائی کے آخر میں ہونے والے پہلے انتفادہ کے دوران فلسطینی قومی تحریک میں فتح کی قیادت کو حماس یا اسلامی جہاد جیسی تنظیموں کی بجائے سب سے بڑا چیلنج بائیں بازو سے درپیش تھا۔

بائیں بازو کی تنظیموں نے فلسطینی قومی تحریک پر اثر ڈالنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی ثقافتی زندگی کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بعض عظیم فلسطینی ادیب جیسے امیل حبیبی، غسان کنفانی اور محمود درویش اسی سیاسی ماحول سے ابھر کر سامنے آئے۔

دو روایتیں

یہ سیریز فلسطینی بائیں بازو کی تاریخ کی بجائے تاریخیں کہلاتی ہے، کیونکہ ایسی کوئی ایک تحریک یا جماعت نہیں رہی جو ان تمام انقلابی توانائیوں کو یکجا کر سکی ہو۔ یہ بکھراؤ خود فلسطینی عوام کی مختلف سیاسی و جغرافیائی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ اسرائیل کے اندر موجود فلسطینی اقلیت، مقبوضہ علاقوں کی آبادی، جو مزید غزہ اور مغربی کنارے میں بٹی ہوئی ہے، اور وہ مہاجر فلسطینی جو اردن، شام اور لبنان جیسے ممالک میں مقیم ہیں۔

ہماری پہلی قسط فلسطینی کمیونسٹ تحریک کی ابتدا اور اس کی ابتدائی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے، جو 1920 کی دہائی میں برطانوی نوآبادیاتی دور میں قائم ہوئی۔ فلسطین کمیونسٹ پارٹی میں یہودیوں اور عربوں دونوں کی شمولیت تھی۔ تاہم 1940 کی دہائی میں فرقہ وارانہ تناؤ کے دباؤ کے تحت یہ جماعت دو علیحدہ دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔

1948 میں فلسطینی نکبہ اور اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعداسرائیل کی حدود میں موجود کمیونسٹوں نے اسرائیلی کمیونسٹ پارٹی کے طور پر خود کو منظم کیا، جسے اس کے عبرانی مخفف’ماکی‘کے نام سے جانا گیا۔ یہ کمیونسٹ جماعت اسرائیل کی فلسطینی اقلیت میں خاصی مقبول ہوئی، کیونکہ یہی وہ واحد جماعت تھی جس نے ان پر 1960 کی دہائی تک مسلط کیے گئے مارشل لا کے نظام کی کھل کر مخالفت کی۔

ماکی (اسرائیلی کمیونسٹ پارٹی) کے پارلیمانی گروپ میں ناول نگار امیل حبیبی بھی شامل تھے، جنہوں نے برٹش مینڈیٹ کے دور میں کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ حبیبی ان کئی اہم ادبی شخصیات میں سے ایک تھے جو اس تحریک سے وابستہ تھیں، جن میں محمود درویش جیسی شخصیت بھی شامل ہے جنہیں فلسطین کا قومی شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس قسط میں حبیبی کے سب سے مشہور ادبی کام ’سعید بدقسمت و پرامید کی خفیہ زندگی‘ پر تفصیل سے بات کی گئی ہے ۔ یہ فلسطین کی حالت پر ایک طنزیہ تبصرہ ہے اور جدید عربی ادب کا ایک کلاسک بن چکی ہے۔

1967 کی جنگ اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور مغربی کنارے پر قبضے کے بعد فلسطینی بائیں بازو کی سیاست کی ایک نئی شکل ابھری، جس کی سب سے مضبوط بنیاد بیرون ملک مقیم فلسطینیوں کے درمیان تھی۔ ہماری دوسری قسط میں اس سوشلسٹ رجحان کے ارتقاء کا سراغ لگایا گیا ہے جو 1960 کی دہائی کے آخر میں فلسطینی گوریلا تحریک کے اندر ابھرا۔

یہ رجحان عرب قوم پرست تحریک (ایم اے این) سے ابھرا، جو 1950 کی دہائی میں بیروت میں قائم ہوئی تھی اور اس کے ارکان نے کویت سے یمن تک کئی عرب ممالک کی تاریخ پر اثر ڈالا۔ اگرچہ ابتدا میں ایم اے این نے کمیونزم اور مارکسزم کی سخت مخالفت کی، لیکن اس کے فلسطینی رہنما جارج حبش اور ان کے ساتھیوں نے 1967 میں ایک واضح مارکسسٹ لینن اسٹ تنظیم قائم کی جسے فلسطین کی آزادی کا عوامی محاذ (پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین،یا پی ایف پی ایل پی) کہا گیا۔

جہاں یاسر عرفات کی جماعت فتح عرب ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھی، وہیں پی ایف ایل پی کا موقف تھا کہ فلسطینی قومی جدوجہد کو عرب انقلابی تحریک کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس کے رہنما نے یہاں تک کہا کہ اردن کے دارالحکومت عمان کو ایک ’عرب ہنوئی‘ (ویتنام جنگ میں ویتنامی مزاحمت کا مرکز) میں تبدیل کیا جائے، اور وہاں کے بادشاہ حسین کو اقتدار سے ہٹایا جائے۔

اس وقت اردن فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے گوریلا جنگجوؤں کا مرکزی اڈہ تھا، جو اسرائیل پر حملے کرتے تھے۔ فطری طور پر بادشاہ اور اس کے مشیران ہاشمی بادشاہت کے خاتمے کو روکنے کے لیے پرعزم تھے، اور انہوں نے 1970 میں ایک پرتشدد کریک ڈاؤن کا حکم دیا، جسے بعد میں بلیک ستمبر کہا گیا۔

اردن سے لبنان تک

ہماری تیسری قسط میں ہم نے پی ایف ایل پی سے وابستہ دو نمایاں شخصیات غسان کنفانی اور لیلیٰ خالد کا قریب سے جائزہ لیا ہے۔ حبیبی کی طرح کنفانی بھی ایک اہم ادبی شخصیت تھے، اور ہم ان کے 1963 کے ناول’مین ان دی سن‘پر بات کرتے ہیں، جو 20ویں صدی کی فلسطینی ثقافت میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ کنفانی نے سیاسی مضامین بھی لکھے اور پی ایف ایل پی کے مجلے ’الہدف ‘کے مدیر بھی رہے ،یہاں تک کہ 1972 میں ایک اسرائیلی کار بم دھماکے میں مار دیے گئے۔

لیلیٰ خالد نے 1960 کی دہائی کے آخر میں دو طیارہ ہائی جیکنگ کی کارروائیوں میں حصہ لے کر کچھ عرصے کے لیے عالمی شہرت حاصل کی۔ پی ایف ایل پی نے طیارہ ہائی جیکنگ کو فلسطینی کاز کو اجاگر کرنے کا ایک طریقہ قرار دیا، لیکن اسے دیگر فلسطینی تنظیموں، خصوصاً فتح کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جس دوسری ہائی جیکنگ کارروائی میں لیلیٰ خالد شریک تھیں، اس نے 1970 کے بلیک ستمبر کے بحران کو بھڑکانے میں مدد دی۔اس کے بعد فلسطینی گوریلا فورسز کی اکثریت کو لبنان منتقل کر دیا گیا۔

ہماری چوتھی قسط 1970 کی دہائی کے دوران لبنان میں پیش آنے والے واقعات پر مرکوز ہے۔ اس وقت تک پی ایف ایل پی کے اندر نظریاتی اختلافات اور جارج حبش کی قیادت پر اعتراضات نے اسے تقسیم کر دیا، اور ایک نئی جماعت ’فلسطین کی آزادی کا جمہوری محاذ‘ (ڈی ایف ایل پی) وجود میں آئی، جس کی قیادت ایک اور ایم اے این کے سابق رکن نایف حواتمہ نے سنبھالی۔ڈی ایف ایل پی نے پی ایل او کے اندر فتح کے ساتھ ایک اتحاد قائم کیا، جس کا مقصد 1967 سے مقبوضہ علاقوں میں ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کرنا تھا ۔ یہ وہ قدم تھا جس نے دو ریاستی حل کے تصور کی بنیاد رکھی، جو بعد میں امن معاہدے کے خاکے کے طور پر ابھرا۔

ادھر لبنان میں فلسطینی گوریلا جنگجوؤں کی موجودگی ایک بڑے سیاسی بحران کی اہم وجوہات میں شامل تھی۔ دائیں بازو کے مارونی رہنما، جو آزادی کے بعد سے لبنان پر غلبہ رکھتے تھے، اب بائیں بازو سے چیلنج کا سامنا کر رہے تھے۔ فلسطینی تنظیموں نے کمال جنبلاط کی قیادت میں قائم لبنانی قومی تحریک (ایل این ایم) کے ساتھ اتحاد کر لیا، جو لبنانی سیاسی نظام کی ازسرنو تشکیل کا مطالبہ کر رہی تھی۔ جب یہ بحران 1975 میں خانہ جنگی کی صورت اختیار کر گیا، تو مغربی ذرائع ابلاغ نے اسے اکثر عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ تنازع کے طور پر پیش کیا، حالانکہ طبقاتی تضادات اور سیاسی نظریات کا کردار بھی اتنا ہی اہم تھا۔

اسی قسط میں ہم نے 1970 کی دہائی کے دوران اسرائیل کے اندر کمیونسٹ تحریک کی کہانی کو بھی آگے بڑھایا ہے۔ 1975 میں کمیونسٹ سیاستدان توفیق زایاد کو نصیرۃ کا میئر منتخب کیا گیا، جو فلسطینی آبادی کا بڑا مرکز تھا۔ اگلے سال توفیق زایاد اور ان کے ساتھیوں نے ’یوم زمین ‘کی احتجاجی تحریک کی قیادت کی، جو اسرائیلی عرب شہریوں کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ بن گئی۔ اس تجربے سے متاثر ہو کر کمیونسٹوں نے ایک وسیع بائیں بازو کا اتحاد قائم کیا، جو آج بھی اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں موجود ہے۔ اس کا نام ڈیموکریٹک فرنٹ فار پیس اینڈ ایکویلٹی (امن و برابری کے لیے جمہوری محاذ)ہے، جسے عبرانی میں حداش (Hadash) کہا جاتا ہے۔

انتفادہ

1982 میں اسرائیل نے لبنان پر بھرپور حملہ کیا تاکہ پی ایل او کو بیروت سے نکالا جا سکے۔ اس کے بعد فلسطینی سیاسی زندگی کا مرکز مقبوضہ علاقوں کی طرف منتقل ہو گیا، اور پہلی انتفادہ شروع ہوئی، جو ہماری پانچویں قسط کا موضوع ہے۔ یہ انتفادہ ایک عوامی بغاوت کی شکل میں تھی، جس میں ہڑتالیں، مظاہرے اور دیگر احتجاج شامل تھے، اور جس نے غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔

یہ انتفادہ ان تنظیمی سرگرمیوں پر مبنی تھی جو 1970 کی دہائی میں مقبوضہ علاقوں میں جاری تھیں۔ مغربی کنارے میں کمیونسٹوں نے اس طرح کے عوامی کام کی بنیاد رکھی۔ 1982 میں انہوں نے اردن کی کمیونسٹ تحریک سے علیحدگی اختیار کر کے نئی فلسطینی کمیونسٹ پارٹی (پی سی پی) قائم کی، جو پانچ سال بعد پی ایل او کا حصہ بن گئی۔تینوں تنظیموں پی سی پی،پی ایف ایل پی، اورڈی ایف ایل پی فتح کے ساتھ مل کر انتفادہ کی متحدہ قومی قیادت میں شامل ہو گئیں، جس نے اس تحریک کو سیاسی رہنمائی فراہم کی۔

بہت سے پہلوؤں سے دیکھا جائے تو پہلی انتفادہ فلسطینی سیاست میں بائیں بازو کے اثر و رسوخ کی معراج تھی، جہاں کمیونزم اور بائیں بازو کی قوم پرستی کی دو الگ الگ روایتیں ایک ہی تنظیمی ڈھانچے میں مل گئیں۔ تاہم اسی دور میں بائیں بازو اور فتح کو اس وقت ایک نئے چیلنج کا سامنا بھی ہوا، جب اسلامی تنظیم حماس نے 1987 میں احمد یاسین کی قیادت میں خود کو منظم کیا۔

یاسر عرفات کے گرد جمع جلاوطن پی ایل او قیادت نے انتفادہ کو استعمال کرتے ہوئے ایک نئی سفارتی حکمت عملی اپنائی ، جس میں 1988 میں اسرائیل کو تسلیم کرنا اور دو ریاستی حل کی طرف بڑھناشامل تھا۔ تاہم اس حکمت عملی کا نتیجہ 1993 کے اوسلو معاہدے کی صورت میں نکلا، جس میں فلسطینی خودمختاری اور مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کے مستقبل جیسے بنیادی سوالات کو آئندہ حل کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔یاسر عرفات نے حیدر عبدالشافی اور ایڈورڈ سعید جیسے ناقدین کی بات کو نظر انداز کر دیا، جنہوں نے اوسلو معاہدے کو فلسطینی عوام کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔

ہماری چھٹی اور آخری قسط میں اوسلو کے بعد کے دور سے لے کر آج تک کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اگرچہ پی ایف ایل پی اورڈی ایف ایل پی نے اوسلو معاہدے کی مخالفت کی، لیکن وہ 1990 کی دہائی میں فتح کا موثر متبادل بننے میں ناکام رہے۔ ان تنظیموں کے کئی کارکنان مغربی مالی امداد سے چلنے والی این جی اوز کے کام میں لگ گئے، جنہوں نے زمینی سطح پر اہم کام تو کیا، مگر انہیں اپنے مالی معاونین کے ایجنڈے کی پابندی بھی کرنی پڑی۔ اس دوران پورے مشرق وسطیٰ میں سیاسی اسلام کا عروج اور بائیں بازو کی جماعتوں کا زوال ہوا، جس کی وجہ سے حماس فتح کا سب سے طاقتور حریف بن کر ابھری۔
2000 میں کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کی ناکامی کے بعد دوسری انتفادہ شروع ہوئی، اور بائیں بازو کی تنظیمیں مزید حاشیے پر چلی گئیں۔ فلسطینی سیاست میں فتح اور حماس کی باہمی رقابت مرکزی عنصر بن گئی۔ 2006 کے انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتوں نے پروپوشنل لسٹ میں تقریباً 10 فیصد ووٹ حاصل کیے، مگر ان کا ووٹ تین دھڑوں میں بٹا ہوا تھا، اور ان کی کارکردگی حماس کی جیت کے سائے میں چھپ گئی۔ اگلے دو برسوں میں فتح اور حماس کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم ،جنہیں امریکہ کی شہہ بھی حاصل تھی ،کے نتیجے میں غزہ پر حماس کا قبضہ ہوا۔

اسی قسط میں مصر میں فلسطین سے اظہار یکجہتی کی تحریک کا جائزہ بھی لیا گیا ہے، جو 2000 کے بعد حسنی مبارک کی آمریت کے خلاف ابھری۔ مصری کارکنوں نے ان مظاہروں سے حاصل کردہ تجربے کو 2011 میں مبارک کو ہٹانے کی جدوجہد میں استعمال کیا۔ مبارک کی رخصتی کے بعد فلسطینیوں کے حق میں باقاعدہ مظاہرے ہونے لگے، اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مصری ریاست اسرائیل کے ساتھ اپنی پالیسی میں تبدیلی لا سکتی ہے۔ تاہم 2013 میں جنرل عبد الفتاح السیسی کی بغاوت نے اس امید کے دروازے بند کر دیے، اور احتجاج کی تمام شکلوں کو پہلے سے زیادہ سختی سے کچل دیا گیا۔

یکجہتی اور بقا

اگرچہ 1990 کی دہائی کے بعد فلسطینی سیاست میں بائیں بازو کے اثر و رسوخ میں کمی کے اپنے مخصوص اسباب ہیں، لیکن یہ رجحان مشرقِ وسطیٰ اور دنیا بھر میں ایک وسیع تر پیٹرن کا حصہ ہے، جس کے آثار ہمیں اٹلی سے لے کر بھارت تک ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ ایسے تناظر میں یہ حیرت کی بات نہیں کہ فلسطین میں بائیں بازو کے کارکنوں اور تنظیموں کو انتہائی مشکل سیاسی حالات میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔

ہم آج بھی اس سیاسی روایت کے وارثوں کو دیکھ سکتے ہیں جو غزہ کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھا رہے ہیں، خواہ وہ حداش کے رہنما ایمن عودہ ہوں یا کمیونسٹ پارٹی سے اپنا سیاسی سفر شروع کرنے والے فلسطینی نیشنل انیشی ایٹو کے سربراہ مصطفی برغوثی ۔

نسل کشی کے خطرے کے خلاف فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی آج بین الاقوامی بائیں بازو کا ایک امتیازی نشان بن چکی ہے، اور یہ یکجہتی تمام فلسطینیوں پر لاگو ہوتی ہے، چاہے ان کے سیاسی نظریات کچھ بھی ہوں۔ تاہم فلسطینی بائیں بازو کی تاریخوں میں خصوصی دلچسپی لینے کی بھی مضبوط وجہ موجود ہے ، اور ہمیں امید ہے کہ ’ریڈ اسٹار اوور فلسطین ‘ اس موضوع پر غور و فکر کے لیے ایک مفید نقطہ آغاز ثابت ہو گی۔

اس سیریز کی اقساط آپ اپیل اور سپاٹیفائی پر سن سکتے ہیں ، یا پر اس لنک پر کلک کر کے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

(بشکریہ:’جیکوبن‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Daniel Finn