← Back to Newsroom OS تعلیم

فوج اور جنگ

By جدوجہد • 2025-06-04 • 50 min read

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

انقلاب سے قبل کے مہینوں میں فوج میں ڈسپلن پہلے ہی بری طرح لرز چکا تھا۔ آپ کو ان دنوں میں افسروں کی بہت سی شکایات مل سکتی ہیں: سپاہیوں کی جانب سے کمان کی نافرمانی؛ گھوڑوں، فوجی املاک، حتیٰ کہ ہتھیاروں کے ساتھ اُن کا بے حد برا سلوک؛ فوجی ٹرینوں میں انتشار۔ صورتحال ہر جگہ یکساں طور پر تشویشناک نہیں تھی۔ لیکن ہر جگہ یہ ایک ہی طرف گامزن تھی، تباہی کی طرف۔
اب اس کے ساتھ انقلاب کا جھٹکا بھی شامل ہو گیا۔ پیٹروگراڈ گیریزن کی شورش نہ صرف افسروں کے بغیر بلکہ اُن کے خلاف برپا ہوئی تھی۔ فیصلہ کن لمحات میں فوجی کمان نے بس اپنا سر ہی بچایا۔ اکتوبر پارٹی کے دوما کے رکن شیڈلووسکی نے 27 فروری کو پریو برازنسکی رجمنٹ کے افسروں سے بات کی، جس کا مقصد دوما کی طرف اُن کے رویے کو جانچنا تھا، لیکن اُسے پتا چلا کہ جو کچھ ہو رہا تھا اس بارے میں امیر خاندانوں کے یہ گھڑسوار بالکل بے خبر تھے، یہ شاید ایک نیم منافقانہ قسم کی جہالت تھی کیونکہ وہ سب خوفزدہ شاہ پرست تھے۔
شیڈلووسکی کہتا ہے، ’’میں حیران رہ گیا جب اگلی صبح پریوبرازنسکی رجمنٹ ایک جتھے کی قیادت میں سڑک پر صفیں باندھ کر مارچ کر رہی تھی، اُن کا نظم و ضبط بالکل درست تھا اور وہ بھی کسی افسر کے بغیر!‘‘یقینا کچھ فوجی کمپنیاں اپنے افسروں کے ساتھ ٹاؤرائڈ محل پہنچیں، بلکہ زیادہ درست طور پر بات کی جائے تو وہ اپنے افسروں کو زبردستی ساتھ لے کر آئیں۔ لیکن افسران محسوس کر رہے تھے کہ اس فتح مند پیش قدمی میں اُن کی حیثیت قیدیوں کی سی تھی۔ بیگم کلین مچل اپنی گرفتاری کے دوران اِن مناظر کو دیکھتے ہوئے صاف کہتی ہے: ’’افسران ایسی بھیڑوں کی طرح لگ رہے تھے جنہیں ذبح کرنے کے لئے لے جایا جا رہا ہو۔‘‘
فروری کی شورش نے سپاہیوں اور افسروں-08 کے درمیان دراڑ پیدا نہیں کی بلکہ اسے صرف سطح پر لے کر آئی۔ سپاہیوں کے خیال میں بادشاہت کے خلاف سرکشی، سب سے پہلے افسروں کے خلاف سرکشی تھی۔ کیڈٹ نابوکوف ، جو اُس وقت فوجی افسر تھا، کہتا ہے، ’’28 فروری کی صبح کے بعد سے باہر جانا خطرناک ہو گیا تھا، کیونکہ افسروں کے کندھوں پر لگے اعزازی پھولوں کو پھاڑ کر اتارا جانے لگا تھا۔‘‘نئے اقتدار کے پہلے دن گیریزن کا منظر کچھ ایسا ہی تھا۔
مجلس عاملہ کی پہلی پریشانی سپاہیوں کی افسروں سے مصالحت کروانا تھی۔ اس کا مطلب سپاہیوں کو اُن کی سابقہ کمان کا مطیع بنانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ سوخانوف کے مطابق رجمنٹوں میں افسروں کی واپسی کا مقصد فوج کو ’’آفاقی انتشار اور تاریک اور بکھرے ہوئے سپاہیوں کی آمریت‘‘ سے بچانا تھا۔بالکل لبرلوں کی طرح یہ انقلابی بھی افسروں سے نہیں بلکہ سپاہیوں سے خوفزدہ تھے۔ دوسری طرف ’’تاریک‘‘ سپاہیوں کے ساتھ ساتھ مزدور بھی بالکل انہی شاندار افسروں کی صفوں میں اپنے لئے ہر ممکنہ خطرہ دیکھ رہے تھے۔ اس لئے مصالحت وقتی ثابت ہوئی۔
سٹینکیوچ ان الفاظ میں سپاہیوں کا نفسیاتی رویہ اُن افسروں کی طرف بیان کرتا ہے جو سرکشی کے بعد اُن میں واپس لوٹ آئے تھے: ’’سپاہیوں نے ڈسپلن کو توڑتے ہوئے بیرکوں سے نکل کر نہ صرف افسروں کے بغیر، بلکہ اکثر اوقات اپنے افسروں کے خلاف، حتیٰ کہ اُنہیں اُن کی جگہوں پر قتل کرنے کے بعد آزادی حاصل کرنے کا عظیم کام کیا تھا۔ اگر یہ عظیم کام تھا اور اگر خود افسروں نے اب اس کی توثیق کر دی تھی تو پھر انہوں نے شورش میں سپاہیوں کی قیادت کیوں نہیں کی؟ یہ زیادہ آسان اور کم خطرناک ہوتا۔ اب فتح کے بعد وہ خود کو اس کام کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ لیکن کتنی سنجیدگی سے اور کب تک؟‘‘ یہ الفاظ اس لئے بھی زیادہ بامعنی ہیں کہ ان کا مصنف خود ’’بائیں بازو کے‘‘ ان افسران میں شامل تھا جنہیں سڑکوں پر سپاہیوں کی قیادت کرنے کا خیال نہیں آیا۔
28 تاریخ کی صبح سیمپسونیوسکی شاہراہ پر انجینئروں کے ڈویژن کا کمانڈر اپنے سپاہیوں کے سامنے وضاحت کر رہا تھا کہ ’’جس حکومت سے ہر کوئی نفرت کرتا تھا وہ اکھاڑ دی گئی ہے،‘‘ اور ایک نئی حکومت قائم ہو چکی ہے جس کا سربراہ شہزادہ لووف ہے، اس لئے پہلے کی طرح افسروں کا حکم ماننا اب ضروری ہے۔ ’’اور اب میں سب سے کہتا ہوں کہ بیرکوں میں اپنی اپنی جگہوں پر چلے جائیں۔‘‘ کچھ سپاہی چلائے: ’’ٹھیک ہے جناب۔‘‘ لیکن اکثریت حیران نظر آ رہی تھی: ’’بس یہی کرنا تھا؟‘‘
یہ منظر اتفاقاً کائیوروف دیکھ رہا تھا۔ اِس نے اُسے جھنجھوڑ دیا۔ ’’کمانڈر صاحب مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیں… ‘‘ اور اجازت کا انتظار کئے بغیر کائیوروف نے سوال اٹھایا: ’’کیا پیٹروگراڈ کی سڑکوں پر تین دن تک مزدوروں کا خون صرف ایک زمیندار کی جگہ دوسرے زمیندار کو بٹھانے کے لئے بہہ رہا تھا؟‘‘ یہاں کائیوروف نے بیل کو سینگوں سے پکڑ لیا۔ اُس کے سوال نے آنے والے مہینوں کی ساری جدوجہد کا خلاصہ کر دیا۔ سپاہی اور افسر کے درمیان عداوت درحقیقت کسان اور زمیندار کی آپسی دشمنی کی ہی ایک شکل تھی۔
صوبوں میں افسران ، جنہیں ظاہر ہے اچھے دنوں میں ہی ہدایات ملی تھیں، نے بھی اسی طرح سے واقعات کو بیان کیا: ’’بادشاہ سلامت ملک کی بہتری کے لئے کی جانے والی دوڑدھوپ سے بہت تھک گئے ہیں اور مجبوراً حکومت کا بوجھ اُنہوں نے اپنے بھائی کے حوالے کر دیا ہے۔‘‘ کرائمیا کے دور دراز علاقے کا ایک افسر شکایت کرتا ہے کہ سپاہیوں کے چہروں پر جواب بالکل واضح تھا : ’’نکولس ہو یا میخائل، ہمارے لئے دونوں ایک جیسے ہیں۔‘‘ تاہم اگلی صبح جب اسی افسر کو انقلابی فتح کا اعلان کرنا پڑا تو وہ بتاتا ہے کہ سپاہیوں کا ردِ عمل بالکل مختلف تھا۔ اُن کے سوالات، اُن کے اشارے کنائے اور دیکھنے کے انداز ’’اس طویل اور پرعزم کام کی‘‘ گواہی دے رہے تھے ’’جو کوئی اِن تاریک اور ابرآلود دماغوں پر کر تا رہا تھا جو سوچنے کے بالکل بھی عادی نہیں تھے۔‘‘کتنی خلیج تھی اس افسر، جس کا دماغ کسی سعی کے بغیر پیٹروگراڈ سے آنے والے تار کے مطابق چلتا تھا، اور ان سپاہیوں کے درمیان جو اگرچہ سختی لیکن دیانتداری سے واقعات کی طرف اپنے رویے کا تعین کرتے تھے اور آزادانہ طور پر اپنی سخت ہتھیلیوں سے ان کا وزن ناپتے تھے۔
فوج کی بالائی کمان اگرچہ رسماً انقلاب کو پہچان رہی تھی لیکن اُس نے انقلاب کو محاذ تک نہ پہنچنے دینے کا فیصلہ کیا۔ چیف آف سٹاف نے تمام محاذوں کے سپہ سالاروں کو حکم دیا کہ انقلابی وفود، جنہیں جنرل الیگزیف مختصراً ’’گینگ‘‘ کہتا تھا، اگر ان کے علاقے میں آئیں تو اُنہیں فوراً گرفتار کر کے کورٹ مارشل کے لئے پیش کیا جائے۔ اگلے دن اِسی جرنیل نے ’’عزت مآب ‘‘ بڑے نواب نکولائی نکولائیوچ کی طرف سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’’فوج کے عقب میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے ختم کیا جائے‘‘، دوسرے الفاظ میں انقلاب کو ختم کیا جائے۔
کمان نے جہاں تک ممکن ہو سکا محاذ پر لڑنے والی فوج کو انقلاب کے بارے میں بتانے میں تاخیر کی، اس کی وجہ بادشاہت کے ساتھ وفاداری سے زیادہ انقلاب کا خوف تھا۔ کئی محاذوں کو واقعی مکمل طور پر کاٹ دیا گیا: پیٹروگراڈ سے آنے والے تمام خطوط اور افراد کو روک دیا گیا۔ اس طرح پرانی حکومت نے اپنے اَنت سے کچھ دن چرا لئے۔ انقلاب کی خبر محاذ کی صفوں میں 5یا 6 مارچ سے پہلے نہیں پہنچ سکی، اور کس شکل میں؟ تقریباً ویسی ہی جیسے اوپر بیان کی گئی ہے: ’’بڑے نواب کو سپہ سالار مقرر کر دیا گیا ہے؛ مادر وطن کی خاطر زار دستبردار ہو گیا ہے؛ باقی سب کچھ پہلے کی طرح ہی رہے گا۔‘‘ کئی مورچوں میں، بلکہ شاید اکثریت میں پیٹروگراڈ سے پہلے جرمنوں نے انقلاب کی خبر دی۔ کیا سپاہیوں کو کوئی ابہام ہو سکتا تھا کہ ساری کمان ان سے سچ چھپانے کی سازش میں شریک تھی؟ اور جب کچھ دنوں بعد ان افسروں نے سرخ فیتے چڑھا لئے تو کیا یہی سپاہی ان افسروں پر دو کوڑی کا بھی اعتبار کرسکتے تھے ؟
بحرِ سیاہ کے بیڑے (Fleet) کا چیف آف سٹاف ہمیں بتاتا ہے کہ پیٹروگراڈ میں واقعات کی خبروں نے پہلے پہل سپاہیوں پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا۔ لیکن جب دارالحکومت سے [انقلاب کے بعد] پہلے سوشلسٹ اخبار آئے تو ’’پلک جھپکتے ہی مزاج بدل گیا، جلسے شروع ہو گئے، مجرم ایجی ٹیٹر اپنی بِلوں میں سے باہر نکل آئے۔‘‘ اس ایڈمرل کی آنکھوں کے سامنے جو کچھ ہورہا تھا وہ اسے بالکل بھی سمجھ نہیں رہا تھا۔مزاج کی یہ تبدیلی اخباروں نے پیدا نہیں کی تھی۔ انہوں نے تو بس سپاہیوں کے شبہات کو انقلاب کی گہرائی تک بکھیر دیا تھا اور انہیں افسروں کی انتقامی کاروائی کے خوف کے بغیر اپنے حقیقی جذبات کا اظہار کرنے کا موقع دیا تھا۔بحرِ سیاہ کے افسران، جو اس کے اپنے آدمی تھے، کے سیاسی خدوخال کو یہی مصنف ایک جملے میں بیان کرتا ہے: ’’بیڑے کے افسروں کی اکثریت کا خیال تھا کہ زار کے بغیر وطن برباد ہو جائے گا۔‘‘ جمہوریت پسندوں کا بھی یہی خیال تھا کہ وطن برباد ہو جائے گا، جب تک کہ وہ اس طرح کی چمکدار روشنیاں ’’تاریک‘‘ جہازیوں تک نہ لے جائیں!
فوج اور بحری بیڑے میں افسران جلد ہی دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروہ نے انقلاب کے ساتھ مل کر اور سوشل انقلابیوں میں شامل ہو کر اپنی جگہوں پر رہنے کی کوشش کی۔حتیٰ کہ بعد میں انہی کے ایک حصے نے بالشویکوں میں بھی گھسنے کی کوشش کی۔ دوسرا گروہ کچھ وقت تک مزاحمت کرتا رہا اور نئے نظام کی مخالفت کرنے کی کوشش کی، لیکن جلد ہی ٹوٹ پھوٹ کر سپاہیوں کے سیلاب کے ساتھ بہہ گیا۔ یہ گروہ بندیاں فطری ہوتی ہیں اور ہر انقلاب میں دہرائی گئی ہیں۔ فرانسیسی بادشاہت کے ناقابل مصالحت افسران، جو اُن میں سے ایک کے الفاظ کے مطابق ’’جہاں تک ہو سکتا تھا لڑے‘‘، کو سپاہیوں کی حکم عدولی سے زیادہ نقصان اُن کے اپنے اشرافی ساتھیوں کے ہار مان لینے سے پہنچا۔آخر کار پرانی کمان کی اکثریت کو کچل دیا گیا یا نکال باہر کیا گیا اور ایک چھوٹے سے حصے کو ہی دوبارہ تربیت دے کر بچایا جا سکا۔ ایک زیادہ ڈرامائی شکل میں افسروں کا حشر بھی اُنہی طبقات والا ہوا جن میں سے اُنہیں بھرتی کیا گیا تھا۔
ایک فوج ہمیشہ اُسی سماج کی نقل ہوتی ہے جس کے لئے یہ کام کرتی ہے، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ مثبت اور منفی، دونوں خاصیتوں کو انتہا پر لے جا کر سماجی تعلقات کو ایک گاڑھا کردار عطا کرتی ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ جنگ نے روس میں کوئی ایک بھی ممتاز فوجی شخصیت پیدا نہیں کی۔ بالائی کمان کی خاصیتوں کو اس کا اپنا ہی ایک رکن بیان کرتا ہے۔ جنرل زیلسکی لکھتا ہے، ’’بہت مہم جوئی، بہت جہالت، بہت انا پرستی، سازشیں، کیرئیرزم، لالچ، اوسط درجے کی صلاحتیں اور دوراندیشی کی کمی… اور بہت تھوڑی آگاہی، قابلیت اور خواہش کہ اپنی زندگی کو، یا کم از کم اپنے آرام اور صحت کو ہی خطرے میں ڈال دیں۔‘‘ پہلا سپہ سالار نکولائی نکولائیوچ صرف اپنی بلند قدو قامت اور عالی شان اکھڑ پن کی وجہ سے ممتاز تھا۔ جنرل الیگزیف، اوسط صلاحیتوں والا ایک بوڑھا آدمی اور فوج کا سب سے معمر منتظم، صرف اپنی ثابت قدمی کی وجہ سے سپہ سالار بن گیا۔ کورنیلوف ایک جرات مند جوان کمانڈر تھا، جسے اُس کے اپنے مداح بھی تھوڑا سادہ مزاج سمجھتے تھے: کیرنسکی کے وزیر جنگ ورخووسکی نے بعد ازاں اُسے بھیڑ کے دماغ والا شیردل قرار دیا۔ بروسیلوف اور ایڈمرل کولچاک باقیوں کی نسبت ثقافتی طور پر کچھ بہتر تھے، لیکن اِس کے علاوہ کوئی فرق نہیں تھا۔ ڈینیکن کردار سے عاری نہیں تھا، لیکن اس کے علاوہ وہ بالکل عام فوجی جرنیل تھا، جس نے پانچ یا چھ کتابیں پڑھی ہوئی تھیں۔ اور ان کے بعد یوڈینک، ڈریگومیروف، لوکومسکی جیسے آتے ہیں، جو فرانسیسی بولتے تھے یا نہیں بولتے تھے، کم پیتے تھے یا زیادہ پیتے تھے، لیکن بالکل کسی کام کے نہیں تھے۔
یقینا نہ صرف جاگیردارانہ بلکہ بورژوا اور جمہوری روس کی نمائندگی بھی اِن افسران میں موجود تھی۔ جنگ نے دسیوں ہزار پیٹی بورژوا نوجوانوں کو افسروں اور فوجی انجینئروں کے عہدوں پر فوج کی صفوں میں شامل کیا۔ یہ حلقے ، جو حتمی فتح تک جنگ لڑنے کے کافی پکے حامی تھے، اصلاحات کے کچھ بڑے اقدامات کی ضرورت محسوس کرتے تھے، لیکن انہوں نے آخر کار رجعتی کمان سے ہار مان لی۔ زار کے تحت انہوں نے خوف کی وجہ سے اور انقلاب کے بعد احساس جرم کی وجہ سے ہار مانی، بالکل جیسے عقب میں جمہوریت نے بورژوازی سے ہار مان لی تھی۔ مصالحتی پارٹیوں والا ناخوشگوار انجام ہی افسروں کے مصالحتی دھڑے کا ہوا، فرق بس یہ تھا کہ محاذ پر صورتحال ہزار گنا زیادہ تیزی سے پیدا ہوئی۔ مجلس عاملہ پر ابہاموں کے ساتھ لمبے عرصے تک مسلط رہا جا سکتا تھا، لیکن سپاہیوں کے سامنے یہ اتنا آسان نہیں تھا۔
جمہوری اور شاہانہ افسروں کے درمیان عداوت اور رگڑ نے صرف گلنے سڑنے کے ایک اضافی عنصر کا کردار ہی ادا کیا۔ فوج کے خدوخال پرانے روس سے متعین ہوئے تھے اور یہ بالکل جاگیردارانہ تھے۔ افسران ابھی تک اس کسان نوجوان کو ہی بہترین سپاہی سمجھتے تھے جو مطیع اور سوچنے سمجھنے سے عاری ہوتا تھا اور جس میں انسانی شخصیت کا کوئی شعور ابھی بیدار نہیں ہوا تھا۔روسی فوج کی ’’قومی‘‘ روایت ایسی ہی تھی، سووروف [۱] کی روایت، جو قدیم زراعت، زرعی غلامی اور دیہات کے کمیون پر قائم تھی۔ اٹھارہویں صدی تک بھی سووروف اس مواد کے ساتھ معجزے کر رہا تھا۔ لیو ٹالسٹائی جاگیر دارانہ محبت سے اپنے ’پلیٹون کاراٹائیف‘کے کردار میں اس پرانی قسم کے روسی سپاہی کی تصور گری کرتا ہے جو صبر و شکر کے ساتھ فطرت، ظلم اور موت کو برداشت کرتا ہے (’’جنگ اور امن‘‘)۔ انقلابِ فرانس نے انسانی سرگرمی کے میدان میں انفرادیت پرستی (Individualism) کی شاندار فتح کا آغاز کر کے سووروف کے عسکری فن کا خاتمہ کر دیا تھا۔ پوری انیسویں صدی میں اور بیسویں صدی میں بھی، یعنی فرانس اور روس کے انقلابات کے درمیانی تمام عرصے میں زار کی فوج کو مسلسل شکست ہوتی رہی، کیونکہ یہ ایک جاگیردارانہ فوج تھی۔اِن ’’قومی‘‘ بنیادوں پر تشکیل پانے کی وجہ سے سپاہی کی شخصیت کی تضحیک، اپنے ہی کام سے ناواقفیت، شجاعت کی مکمل عدم موجودگی اور چوری چکاری کی غیر معمولی لت اس فوج کے افسروں کا خاصہ تھا۔ افسروں کے اختیار کا انحصار برتری کی بیرونی نشانیوں، ذات برادری کی رسم، جبر کے نظام، حتیٰ کہ سماجی امتیاز پر مبنی ایک خصوصی زبان پر تھا، یعنی غلام داری کی وہ مکروہ بولی جس میں سپاہی کو اپنے افسر سے بات کرنا ہوتی تھی [۲]۔ انقلاب کو زبانی کلامی تسلیم کر کے اور عبوری حکومت کی اطاعت کا حلف اٹھا کر زار کے سپہ سالاروں نے بڑے آرام سے اپنے گناہوں کا بوجھ منہدم ہو جانے والی بادشاہت پر ڈال دیا۔ انہوں نے بڑی مہربانی سے نکولس دوم کو سارے ماضی کے لئے قربانی کا بکرا قرار دئیے جانے کی منظوری دے دی۔لیکن اس سے آگے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا! وہ کیسے سمجھ سکتے تھے کہ انقلاب کی اخلاقی اساس اُن بے شمار عام انسانوں کی تقدیس میں مضمر تھی جن کی بے عملی پر اُن کی ساری اچھی قسمت کا انحصار تھا؟ ڈینیکن، جسے محاذ کی کمان پر تعینات کیا گیاتھا، نے منسک میں اعلان کیا: ’’میں مکمل اور اٹل طور پر انقلاب کو تسلیم کرتا ہوں۔ لیکن فوج کو انقلابی بنانے اور اس میں شورش داخل کرنے کو میں ملک کے لئے تباہ کن سمجھتا ہوں۔‘‘بڑے جرنیلوں کی کم عقلی پر مبنی ایک کلاسیکی کلیہ! جہاں تک عام جرنیلوں کا تعلق ہے تو زیلسکی کے مطابق انہوں نے صرف ایک مطالبہ کیا: ’’ بس ہم پر ہاتھ نہ ڈالو، ہمیں بس یہی فکر ہے۔‘‘ تاہم انقلاب اپنے ہاتھ اُن سے دور نہیں رکھ سکتا تھا۔ مراعت یافتہ طبقات سے ہونے کی وجہ سے اُن کے پاس جیتنے کو کچھ نہیں تھا، لیکن کھونے کو بہت کچھ تھا۔ اُنہیں نہ صرف افسروں والی مراعات بلکہ اپنی زمین بھی چھن جانے کا خطرہ تھا۔عبوری حکومت سے وفاداری کا لبادہ چڑھا کر اِن رجعتی افسروں نے سوویتوں کے خلاف انتہائی زہریلی مہم چلائی۔ اور جب اُنہیں یقین ہونے لگا کہ انقلاب عام سپاہیوں اور حتیٰ کہ اُن کی اپنی جاگیروں میں بھی بے انتہا سرایت کر رہا ہے تو وہ کیرنسکی، ملیوکوف، حتیٰ کہ روڈزیانکو کو بھی غدار سمجھنے لگے۔
بحری بیڑے کے حالات زندگی میں خانہ جنگی کے بیج فوج سے بھی زیادہ تیزی سے پک کر تیار ہو رہے تھے۔ سٹیل کے بنکروں میں کئی سالوں تک جبراً بند رکھے جانے والے جہازیوں کی زندگی خوراک کے معاملے میں بھی قدیم جہازی غلاموں سے مختلف نہیں تھی۔اُن کے بالکل پہلو میں افسران تھے، جو زیادہ تر مراعت یافتہ حلقوں سے تھے اور مصروفیت کے لئے بحریہ میں رضاکارانہ طور پر آئے تھے، زار کو مادروطن سمجھتے تھے، خود کو زار سمجھتے تھے اور جہازیوں کو جنگی جہاز کا سب سے غیر اہم حصہ سمجھتے تھے۔ یوں دو بیگانی اور بالکل جدا دنیائیں بالکل ساتھ ساتھ آباد تھیں اور ایک دوسرے کی نظروں سے اوجھل نہیں تھیں۔ بحری بیڑے کے جہازوں کی بنیاد صنعتی ساحلی شہروں میں تھی، جن کے مزدوروں کی وسیع آبادی جہاز بنانے اور ان کی مرمت کے لئے درکار تھی۔ مزیدبرآں انجینئرنگ اور مشین کوروں (Corps) کی طرح جہازوں پر بھی قابل مزدوروں کی کوئی کم تعداد درکار نہیں ہوتی۔ یہی حالات بحری بیڑے کو ایک انقلابی بارودی سرنگ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ تمام ممالک کے انقلابات اور فوجی شورشوں میں جہازی سب سے دھماکہ خیز مواد ہوتے ہیں؛ اُنہوں نے تقریباً ہمیشہ پہلا موقع ملتے ہی اپنے افسروں کے ساتھ حساب چکتا کیا ہے۔ روسی جہازی بھی مختلف نہیں تھے۔
کرونسٹٹ میں انقلاب کے ساتھ ہی اُن افسروں کے خلاف خونی انتقام کا سلسلہ پھوٹ پڑا تھا جنہوں نے خوف کے مارے جہازیوں سے انقلاب کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔ سب سے پہلا شکار ایڈمرل وائرن بنا، جس نے خوب نفرت کمائی تھی۔ کئی افسروں کو جہازیوں نے گرفتار کر لیا تھا۔ جنہیں گرفتار نہیں کیا گیا اُن سے ہتھیار چھین لئے گئے۔
ہلسنگفورس اور سویبورگ میں ایڈمرل نیپینننے پیٹروگراڈ کی سرکشی کی خبر 4 مارچ کی رات تک نہیں آنے دی، اس دوران وہ سپاہیوں اور جہازیوں کوجبر ی کاروائیوں سے ڈراتا رہا۔ اِن سپاہیوں اور جہازیوں کی سرکشی بھی اتنی ہی غضب ناک تھی۔ یہ تمام رات اور سارا دن جاری رہی۔ کئی افسروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ جو سب سے زیادہ نفرت انگیز تھے اُنہیں برف میں دفن کر دیا گیا۔ سوخانوف، جو کسی بھی طرح ’’تاریک سپاہیوں‘‘ سے شفقت نہیں رکھتا تھا، لکھتا ہے کہ ’’ سکوبیلیف نے بیڑے کے افسروں اور ہلسنگفورس کے حکام کا جو رویہ بیان کیا ہے اُس کے مقابلے میں [سپاہیوں اور جہازیوں کے] حد سے متجاوز اقدامات بہت کم تھے۔‘‘
لیکن زمینی افواج میں ایسے کئی خونریز تصادم ہوئے۔پہلے پہل یہ ماضی میں سپاہیوں کو دی جانے والی مکروہ اذیتوں کا انتقام تھا۔ زخموں کی طرح سلگنے والی یادوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ 1915ء میں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کوڑے مارنے کی سزا سرکاری طور پر زار کی فوج میں متعارف کروائی گئی تھی۔ افسران من مرضی سے سپاہیوں کو کوڑے مارتے تھے، ایسے سپاہی جو اکثر اوقات اپنے خاندانوں کے کفیل ہوتے تھے۔ لیکن یہ صرف ماضی کا معاملہ نہیں تھا۔ ’سوویتوں کے کُل روس اجلاس‘ میں فوج کی نمائندگی کرنے والے ایک مندوب نے بتایا کہ 15یا 17 مارچ کو بھی محاذ پر موجود فوج میں جسمانی سزا متعارف کروانے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ محاذ سے آنے والے دوما کے ایک رکن نے بتایا کہ افسروں کی غیرموجودگی میں کاسکوں نے اُسے کہا: ’’یہ دیکھو ، یہ ہے حکم۔ (شاید مشہور ’حکم نمبر 1‘، جس کے بارے میں ہم مزید بات کریں گے۔) ہمیں یہ کل ملا ہے اور آج پھر ایک افسر نے میرے منہ پر گھونسا مارا ہے۔‘‘ بالشویکوں نے سپاہیوں کو سخت گیر اقدامات کرنے سے روکنے کی مصالحت پسندوں جتنی ہی کوشش کی۔ لیکن انتقام کے یہ خونی اقدامات ایک بندوق کے جھٹکے جتنے ہی ناگزیر تھے۔ فروری انقلاب کو لبرلوں نے صرف اس لئے بے خون قرار دیا کہ اِس نے اُنہیں اقتدار دلوایا تھا۔
کچھ افسروں نے اُن سرخ فیتوں سے متعلق تلخ تنازعات پیدا کئے جو سپاہیوں کی نظر میں ماضی سے آزادی کا نشان تھے۔ سمسکی رجمنٹ کا کمانڈر اسی چکر میں مارا گیا۔ ایک اور کمانڈر جس نے نئی آنے والی کمک کو فیتے اتارنے کا حکم دیا، اُسے سپاہیوں نے گرفتار کر لیا اور چوکیدار کے کمرے میں بند کر دیا۔ زار کی تصویروں کی وجہ سے بھی کئی تصادم ہوئے، جو ابھی تک سرکاری دفاتر سے نہیں اتاری گئی تھیں۔ کیا ایسا بادشاہت سے وفاداری کی وجہ سے تھا؟ زیادہ تر صورتوں میں یہ صرف انقلاب پر بھروسے کی کمی کی وجہ سے ذاتی تحفظ کا ایک عمل تھا۔ لیکن اِن تصاویر کے پیچھے پرانی حکمرانی کا بھوت دیکھنے میں سپاہی غلطی نہیں کر رہے تھے۔
یہ اوپر سے کئے جانے والے سوچے سمجھے اقدامات نہیں بلکہ نیچے سے ہونے والی تیز اور فوری حرکات تھیں جنہوں نے نئے طرز حکومت کو فوج کے اندر استوار کیا۔ افسروں کی تادیبی طاقت (Disciplinery Power) کو ختم یا محدود نہیں کیا گیا۔یہ خود بخود مارچ کے پہلے ہفتوں میں ٹوٹ کر بکھر گئی۔ بحرِ سیاہ کے افسران کا سربراہ کہتا ہے، ’’یہ واضح تھا کہ اگر ایک افسر کوئی تادیبی سزا سپاہی کو دینے کی کوشش کرتا تو اس پر عمل درآمد کروانے والی طاقت ہی موجود نہ تھی۔‘‘ یہ حقیقی عوامی انقلاب کی یقینی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
تادیبی طاقت کے ٹوٹ کر بکھرنے سے افسروں کا عملی دیوالیہ پن بالکل بے نقاب ہو گیا۔ سٹینکیوچ، جو مشاہدے کی صلاحیت اور فوجی معاملات میں دلچسپی، دونوں رکھتا تھا ،افسروں کا افسوسناک حال بیان کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ جنگ کے تقاضوں سے بالکل لاتعلق، پرانے قاعدوں کے مطابق مشقیں بدستور جاری رہیں۔ ’’یہ مشقیں صرف سپاہیوں کی برداشت اور اطاعت کا متحان تھیں۔ ‘‘ ظاہر ہے افسروں نے اپنے دیوالیہ پن کا الزام انقلاب پر ڈالنے کی کوشش کی۔
اگرچہ فوری اور انتقامی کاروائیاں ہوئیں لیکن سپاہی بچوں جیسے اعتماد اور احسان مندی کے بے پروا اقدامات کی طرف بھی مائل تھے۔ مختصر وقت تک دوما کا رکن فیلومینکو، جو بیک وقت ایک پادری اور لبرل تھا، سپاہیوں کو آزادی کے خیال کا علمبردار اور انقلاب کا گڈریا محسوس ہوتا رہا۔ پرانے کلیسائی خیالات مضحکہ خیز طریقوں سے نئے یقین کے ساتھ مل گئے۔ سپاہیوں نے اس پادری کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا، اپنے کندھوں پر بٹھایا، اُس کو عزت سے اُس کی گاڑی میں سوار کیا۔ اور اُس نے بعد میں خوشی سے پاگل ہو کر دوما کو بتایا: ’’ہم اپنی الوداعی تقاریب ہی ختم نہیں کر سکے۔ وہ ہمارے ہاتھ اور پاؤں چوم رہے تھے۔‘‘ دوما کے اِس رکن کا خیال تھا کہ فوج میں دوما کی عملداری بہت زیادہ تھی۔ درحقیقت فوج میں جس چیز کی عملداری تھی وہ انقلاب تھا۔ اور یہ انقلاب ہی تھا جس نے اپنا یہ اندھا کر دینے والا عکس ایسی کئی حادثاتی شخصیات پر ڈالا۔
فوج کے بالائی حلقوں میں گچکوف کی جانب سے علامتی تطہیر، کچھ جرنیلوں کی معزولی نے سپاہیوں کو بالکل بھی مطمئن نہ کیا اور ساتھ ہی بالائی افسروں میں بے یقینی کی فضا بھی پیدا کر دی۔ ہر کسی کو ڈر تھا کہ وہ اپنے عہدے سے فارغ ہو جائے گا۔ اکثریت دھارے کے ساتھ تیرتی رہی، شائستگی سے بولتی رہی اور جیبوں میں مٹھیاں بھینچتی رہی۔ درمیانے اور نچلے افسروں کی حالت اس سے بھی بری تھی، کیونکہ وہ سپاہیوں کے سامنے کھڑے تھے۔ یہاں کوئی حکومتی تطہیر نہیں ہوئی۔ قانونی طریقہ کار کی تلاش میں ایک توپخانے کے سپاہیوں نے مجلس عاملہ اور ریاستی دوما کو اپنے کمانڈر کے بارے میں لکھا: ’’بھائیو، ہم عاجزی سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے داخلی دشمن ونچیخازا کو ہٹا دو۔‘‘ایسی درخواستوں کا کوئی جواب نہ پا کر سپاہی وہی ذرائع استعمال کرتے تھے جو اُن کے پاس تھے: حکم عدولی، زبردستی بے دخل کر دینا، حتیٰ کہ گرفتاری۔اِس کے بعد ہی کمان کو ہوش آتی تھی، وہ گرفتار یا حملے کا شکار ہونے والے افسر کو بازیاب کرواتے تھے، بعض اوقات سپاہیوں کو سزا دینے کی کوشش کرتے تھے، لیکن اکثر انہیں سزا دئیے بغیر چھوڑ دیتے تھے تاکہ مزید پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ اس نے افسروں کے لئے ناقابل برداشت صورتحال پیدا کر دی ، تاہم سپاہیوں کی صورتحال کو واضح نہ کیا۔
حتیٰ کہ کئی لڑنے والے افسران، جو واقعی فوج کے مقدر کے بارے میں پریشان تھے، نے فوجی کمان کی عمومی تطہیر پر زور دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس کے بغیر سپاہیوں کی لڑنے کی طاقت کو بحال کرنے کے بارے سوچنا بھی بیکار تھا۔سپاہیوں نے بھی دوما کے اراکین کو اس سے کم قائل کرنے والے دلائل نہیں دئیے۔ ماضی میں کہا جاتا تھا کہ اگر سپاہیوں کو کوئی شکایت ہے تو افسروں کے پاس درج کروائیں، جو عام طور پر اُن کی شکایت پر کوئی توجہ نہیں دیتے تھے۔لیکن اب وہ کیا کرتے؟ افسران تو وہی تھے، سپاہیوں کی شکایات کا انجام بھی وہی ہونا تھا۔ دوما کا ایک رکن اعتراف کرتا، ’’اس سوال کا جواب دینا بڑا مشکل تھا۔‘‘ تاہم یہ سوال فوج کے سارے مقدر اور مستقبل کا حامل تھا۔
پورے ملک میں ہر طرح کے فوجی دستوں اور تمام رجمنٹوں میں فوج کے حالات کو ایک ہی طرح سے پیش کرنا ایک غلطی ہو گی۔ فرق قابل ذکر تھا۔ جہاں بالٹک کے بحری بیڑے کے جہازیوں نے انقلاب کی پہلی خبروں کا جواب افسروں-08 کو قتل کر کے دیا، وہاں عین ان کے ساتھ ہلسنگفورس کے گیریزن میں اپریل کی شروعات سے ہی سپاہیوں کی سوویت میں افسران اہم عہدوں پر قابض ہو رہے تھے اور ایک مرعوب کن جرنیل تقریب میں سوشل انقلابیوں کی طرف سے خطاب کر رہا تھا۔ نفرت اور اعتماد کے درمیان ایسے کئی فرق موجود تھے۔ تاہم پھر بھی فوج ایک رگوں کے نظام کی طرح تھی اور سپاہیوں اور جہازیوں کے سیاسی مزاج کا جھکاؤ ایک واحد سطح کی طرف ہو رہا تھا۔
جب تک سپاہی ایک فوری اور فیصلہ کن تبدیلی کا انتظار کر رہے تھے، کسی نہ کسی طرح نظم و ضبط برقرار رہا۔ محاذ سے ایک مندوب کے مطابق، ’’لیکن جب سپاہیوں نے دیکھا کہ سب کچھ پہلے کی طرح ہی تھا، وہی جبر، غلامی، جہالت، بے عزتی… تو ایجی ٹیشن شروع ہو گئی۔‘‘ فطرت نے آدمیوں کی اکثریت کو گینڈے کی کھال تو نہیں پہنائی، لیکن اس نے سپاہی کو اعصابی نظام عطا کیا تھا۔انقلابات وقتاً فوقتاً ہمیں فطرت کی اس غیرذمہ داری کی یاددہانی کرواتے ہیں۔
عقب میں اور محاذ پر بھی حادثاتی وجوہات آسانی سے تصادموں میں تبدیل ہونے لگیں۔ سپاہیوں کو تھیٹروں، جلسوں اور موسیقی کی محفلوں وغیرہ میں جانے کا ’’تمام شہریوں کے برابر کا‘‘ حق دے دیا گیا۔ کئی سپاہیوں نے اسے مفت میں تھیٹر جانے کا حق سمجھ لیا۔ وزارت نے وضاحت کی کہ ’’آزادی‘‘ کو صرف ’خیالی‘ طور پر سمجھنے کی ضرورت تھی۔ لیکن سرکشی پر اترے عوام نے کبھی افلاطونیت یا کانٹی ازم (Kantianism)کی طرف رجحان ظاہر نہیں کیا ہے۔
ڈسپلن کا بوسیدہ کپڑا کئی طریقوں سے مختلف وقتوں پر مختلف گیریزنوں اور رجمنٹوں میں پھٹ گیا۔ ایک کمانڈر اکثر یہی سمجھتا تھا کہ اُس کی رجمنٹ میں سب ٹھیک چل رہا ہے کہ ایسے میں کوئی مخصوص اخبار نمودار ہو جاتا تھا یا باہر سے کوئی ایجی ٹیٹر آ جاتا تھا۔ یہ سب گہری بے رحم طاقتوں کا کام تھا۔
دوما کا لبرل رکن یانوشکیوچ محاذ سے اس عمومی تاثر کے ساتھ واپس آیا کہ کسانوں پر مشتمل ’’سبز‘‘ دستوں میں بدنظمی سب سے بد تر تھی۔ ’’زیادہ انقلابی رجمنٹوں میں سپاہی، افسروں کے ساتھ بڑی اچھی طرح چل رہے ہیں۔‘‘ درحقیقت ڈسپلن کا انحصار زیادہ تر دو بنیادوں پر تھا: نسبتاً مالدار کسانوں پر مشتمل مراعت یافتہ گھڑسوار فوج اور پڑھے لکھے لوگوں کی زیادہ شرح رکھنے والا توپخانہ یا تکنیکی شعبہ۔ زمین کی ملکیت رکھنے والے کاسک سب سے زیادہ دیر تک انقلابی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرتے رہے۔ وہ زرعی انقلاب سے خوفزدہ تھے، جس میں اُن کی اکثریت کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان تھا۔ انقلاب کے بعد ایک سے زیادہ مرتبہ کاسک ڈویژنوں نے تعزیری کاروائیاں کیں، لیکن بالعموم یہ فرق صرف ٹوٹ پھوٹ کی تاریخ اور رفتار میں تھے۔
اندھی جدوجہد میں اتار چڑھاؤ آئے۔ افسروں نے خود کو تبدیل کرنے کی کوشش کی؛ سپاہی پھر سے موقع ملنے کا انتظار کرنے لگے۔ لیکن عارضی صلح کے اِن دنوں اور ہفتوں میں وقتی سکون کے دوران پرانی حکومت کی فوج کو گلا سڑا دینے والی سماجی نفرت زیادہ سے زیادہ شدید ہوتی گئی۔ یہ ایک بے کڑک بجلی کی طرح زیادہ سے زیادہ چمکنے لگی تھی۔ ماسکو کے ایک تھیٹر میں معذور فوجیوں کا اجلاس بلایا گیا جس میں سپاہی اور افسران، دونوں موجود تھے۔ ایک معذور مقرر افسروں کو لعن طعن کرنے لگا۔ احتجاج کا شور بلند ہوا، جوتے، چھڑیاں اور بیساکھیاں زمین پر ماری جانے لگیں۔ ’’اور کتنی پرانی بات ہے کہ جناب افسر، جب تم گھونسوں اور کَوڑوں سے سپاہیوں کی تذلیل کرتے تھے؟‘‘یہ زخمی، گولہ باری سے اعصابی طور پر بیمار ، اعضا سے محروم لوگ ایک دوسرے کے سامنے دو دیواروں کی طرح کھڑے تھے۔ معذور افسروں کے خلاف معذور سپاہی، اقلیت کے خلاف اکثریت، بیساکھیوں کے خلاف بیساکھیاں۔ بیضوی تھیٹر میں یہ ڈراؤنے خواب جیسا منظر آنے والی خانہ جنگی کی وحشت کی پیش بینی کر رہا تھا۔

٭٭٭٭٭

فوج اور ملک میں اِن تمام تضادات اور اتار چڑھاؤ کے اوپر ایک دائمی سوال منڈلا رہا تھا، جس کا خلاصہ ’’جنگ‘‘ تھا۔ بالٹک سے لے کر بحرِ سیاہ تک، بحرِ سیاہ سے لے کرکیسپین اور اس سے پرے فارس کی گہرائیوں میں اس لا محدود محاذ پر پیادہ فوج کے 68 اور گھڑسوار فوج کے9 کور (Corps) کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ اب کیا کیا جائے؟ جنگ کا کیا کرنا تھا؟
فوجی رسد کے معاملے میں انقلاب سے قبل فوج کافی مضبوط ہو چکی تھی۔ اس کی ضروریات کی داخلی پیداوار میں اضافہ ہوا تھا اور اسی طرح مرمانسک اور آرکینجل کے راستے جنگی سامان، بالخصوص اتحادیوں سے توپخانے کے سامان کی درآمد میں بھی بہتری آئی تھی۔ جنگ کے پہلے سالوں سے کہیں زیادہ مقدار میں رائفلیں، توپیں اور گولیاں موجود تھیں۔ نئے پیادہ ڈویژنوں کی تنظیم کا عمل جاری تھا۔ انجینئرنگ کے کور بڑے کئے گئے تھے۔ اس بنیاد پر بعد ازاں کئی ناخوش جنگی سالاروں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ روس فتح کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا کہ انقلاب نے اس کا راستہ روک لیا۔ اس سے بارہ سال قبل [روس جاپان جنگ کے بارے میں] کروپاٹکن اور لائنوچ نے بھی ایسی ہی بنیاد پر کہا تھا کہ وِٹّ نے اُنہیں جاپانیوں کا صفایا نہیں کرنے دیا۔ درحقیقت 1917ء میں روس فتح سے ہمیشہ سے زیادہ دور تھا۔1916ء کے اواخر میں اسلحے میں اضافے کے ساتھ ہی فوج میں خوراک کی شدید قلت نمودار ہوئی۔ لڑائی سے زیادہ اموات کالے بخار اور اسکروی (Scurvy) کی وجہ سے ہو رہی تھیں۔ ذرائع نقل و حمل کی تباہ حالی نے افواج کی بڑے پیمانے پر از سر نو گروہ بندی کے سارے منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ علاوہ ازیں گھوڑوں کی شدید قلت کی وجہ سے گھڑسوار فوج اکثر ناکارہ ہو جاتی تھی۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی نہیں تھا؛ فوج کی اخلاقی حالت ہی مایوس کن تھی۔ آپ کہہ سکتے ہیں فوج بطور ایک فوج کے اپنا وجود کھو چکی تھی۔ شکستیں، پسپائیاں اور حکمران گروہ کی سڑن نے فوجیوں کو بالکل کھوکھلا کر دیا تھا۔ اس سب کو اب انتظامی طریقوں سے ٹھیک کرنا اتنا ہی ناممکن تھا جتنا کہ ملک کا اعصابی نظام تبدیل کرنا۔ سپاہی اب گولیوں کے ڈھیر کو اسی نفرت سے دیکھتا تھا جس سے وہ کیڑوں سے بھرے گوشت کو دیکھتا تھا؛ سب کچھ اُسے غیرضروری اور بے مقصد معلوم ہوتا تھا، ایک دھوکہ اور چوری لگتا تھا۔ اس کا افسر اسے قائل کرنے والی کوئی بھی بات کرنے سے قاصر تھا، نہ ہی اس پر ہاتھ اٹھانے کی جرات کر سکتا تھا۔ افسر خود یہ محسوس کرتا تھا کہ بالائی کمان اسے دھوکہ دے رہی ہے،مزید برآں اسے اپنے سے اوپر کے لوگوں کی وجہ سے اکثر اپنے سپاہیوں کے سامنے ذلت اٹھانا پڑتی تھی۔ فوج ناقابل علاج حد تک بیمار ہو چکی تھی۔ یہ انقلاب میں تو مداخلت کرنے کے قابل تھی، لیکن جہاں تک جنگ کا سوال تھا تو اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ کسی کو جنگ میں فتح پر یقین نہیں تھا، اِس معاملے میں افسروں کا حال بھی سپاہیوں والا ہی تھا۔ کوئی بھی مزید لڑنا نہیں چاہتا تھا، نہ تو فوج اور نہ ہی عوام۔
بلند ایوانوں میں عظیم جنگی کاروائیوں کے بارے میں، بہار کے موسم میں حملے کے بارے میں، ڈارڈینلس پر قبضے وغیرہ کے بارے میں صرف روایتی بکواس ہو رہی تھی۔کرائمیا میں تو انہوں نے اس مقصد کے لئے ایک بڑی فوج بھی تیار کی تھی۔ خبروں میں بتایا گیا کہ فوج کے بہترین عناصر کو اس محاصرے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ پیٹروگراڈ سے محافظ فوج کی رجمنٹیں بھیجی گئیں۔ تاہم انقلاب سے دو دن قبل 25 فروری کو ان سے مشقیں کروانے والے ایک افسر کے بیان کے مطابق یہ کمک ناقابل بیان حد تک فضول ثابت ہوئی۔ اِن سرد مزاج نیلی، بادامی اور سرمئی آنکھوں میں لڑنے کی معمولی سی امنگ بھی نہ تھی۔ ’’اُن کے تمام خیالات اور امنگیں صرف ایک چیز کے لئے تھیں: امن۔‘‘
اس طرح کی گواہیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انقلاب محض اُسی کو سطح پر لایا جو پہلے سے موجود تھا۔ اسی وجہ سے ’’جنگ مردہ باد!‘‘ کا نعرہ فروری کے دنوں کا سب سے اہم نعرہ بن گیا۔ یہ خواتین کے مظاہروں، وائبورگ کے علاقے کے مزدوروں، محافظ فوج کی رجمنٹوں میں بلند ہو رہا تھا۔ مارچ کے اوائل میں جب دوما کے اراکین نے محاذ کا دورہ کیا تو بالخصوص بڑی عمر کے سپاہی مسلسل اُن سے پوچھ رہے تھے: ’’زمین کے بارے میں وہ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ دوما کے اراکین نے بات کو گول کرتے ہوئے جواب دیا کہ زمین کے سوال کا فیصلہ آئین ساز اسمبلی کرے گی۔ لیکن ہر کسی کی چھپی ہوئی سوچ کی نمائندگی کرتی ہوئی ایک آواز بلند ہوتی تھی: ’’خیر، جہاں تک زمین کا سوال ہے، اگر میں زندہ نہ رہا تو مجھے اس کی ضرورت نہیں رہے گی۔‘‘ یہی درحقیقت انقلاب کا حقیقی سپاہی پروگرام تھا: پہلے امن پھر زمین۔
مارچ کے آخر میں ’سوویتوں کے کُل روس اجلاس‘ میں جہاں حب الوطن شیخیوں کی کافی بھرمار تھی، خندقوں میں موجود سپاہیوں کی نمائندگی کرنے والے مندوبین میں سے ایک نے بڑے بے لاگ انداز میں بتایا کہ محاذ نے انقلاب کی خبر کا استقبال کیسے کیا تھا: ’’تمام سپاہیوں نے کہا ’خدا تیرا شکر! شاید اب ہمیں امن مل جائے!‘‘‘ خندقوں کے سپاہیوں نے اپنے مندوبین کو ہدایت کی کہ اجلاس کو بتائیں، ’’ہم آزادی کے لئے اپنی جانیں دینے کو تیار ہیں، لیکن کامریڈ، ہم اسی قدر جنگ کا خاتمہ بھی چاہتے ہیں۔‘‘ یہ حقیقت کی،بالخصوص حقیقت کے دوسرے نصف حصے کی زندہ آواز تھی۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم کچھ انتظار کریں گے، لیکن تم اوپر بیٹھے لوگو! جلداز جلد امن قائم کرو۔
فرانس میں بالکل غیر فطری ماحول میں موجود زار کے دستے بھی اِنہی جذبات کے تحت ٹوٹ پھوٹ کے انہی مراحل سے گزرے۔ ایک ناخواندہ درمیانی عمر کا کسان سپاہی اپنے افسر کے سامنے وضاحت کرتا ہے، ’’جب ہم نے سنا کہ زار دستبردار ہو گیا ہے تو ہم سب نے سوچا کہ اس کا مطلب تھا کہ جنگ ختم ہو گئی تھی… زار نے ہی ہمیں جنگ میں بھیجا تھا، اب اگر مجھے مورچوں میں ہی سڑنا ہے تو اِس آزادی کا کیا فائدہ؟‘‘ یہ انقلاب کا حقیقی سپاہی فلسفہ تھا، جو باہر سے مسلط نہیں کیا گیا تھا۔ کوئی بھی ایجی ٹیٹر ایسے سادہ اور قائل کردینے والے الفاظ نہیں سوچ سکتا تھا۔
لبرلوں اور نیم لبرل سوشلسٹوں نے بعد میں انقلاب کو ایک حب الوطن سرکشی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ 2 مارچ کو ملیوکوف نے فرانسیسی پریس کو بتایا: ’’انقلابِ روس ان رکاوٹوں کو ہٹانے کے لئے برپا کیا گیا تھا جو روس کی فتح کے راستے میں حائل تھیں۔‘‘ یہاں منافقت اور خود فریبی ساتھ ساتھ چلتی ہیں، اِن دونوں میں سے منافقت کچھ زیادہ ہی تھی۔ صاف گو رجعت پسند چیزوں کو بالکل واضح دیکھ رہے تھے۔ وون سٹروف، جو ایک ہمہ سلاویت پسند (Pan-Slavist) ، ایک لوتھری یونانی آرتھوڈاکس اور ایک ’مارکسی شاہ پرست‘ تھا، نے اگرچہ رجعتی نفرت کی زبان میں، لیکن انقلاب کے حقیقی ماخذوں کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کیا ۔ ’’جہاں تک عام لوگوں اور بالخصوص سپاہیوں کا تعلق ہے تو عوام نے انقلاب میں حصہ لیا، یہ کوئی حب الوطنی کا دھماکہ نہیں تھا، بلکہ جنگ سے بدمست اور یکطرفہ سبکدوشی تھی، جو جنگ کی طوالت کے بالکل برخلاف تھی۔ یعنی یہ جنگ کو روکنے کے لئے تھی۔‘‘
سچ کے ساتھ ان الفاظ میں بہتان بھی موجود ہے۔ جنگ سے یہ بدمست سبکدوشی درحقیقت جنگ میں سے ہی برآمد ہو رہی تھی۔ انقلاب نے اسے پیدا نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس اس کی روک تھام کی۔ بھگوڑہ پن، جو انقلاب سے قبل حد سے زیادہ بڑھ چکا تھا، اس کے بعد کے ابتدائی ہفتوں میں بہت کم ہو گیا۔ فوج انتظار کر رہی تھی۔ اس امید میں کہ انقلاب امن دے گا، سپاہی نے محاذ پر لڑنے سے انکار نہیں کیا: اُس کا خیا ل تھا کہ بصورت دیگر نئی حکومت امن قائم کرنے کے قابل نہیں ہو گی۔
بم بردار ڈویژن کے سربراہ نے 23 مارچ کو بتایا، ’’سپاہی بالکل درست طور پر اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہم صرف اپنا دفاع ہی کر سکتے ہیں، حملہ نہیں کر سکتے۔‘‘ فوجی رپورٹوں اور سیاسی تقاریر میں اس خیال کو کئی جگہوں پر دہرایا گیا۔ حوالدار کرائلنکو، جو ایک پرانا انقلابی اور بالشویکوں کے تحت مستقبل کا سپہ سالار تھا، تصدیق کرتا ہے کہ اُن دنوں سپاہی کے لئے جنگ کا سوال اس کلیے سے حل ہوتا تھا: ’’محاذ کی معاونت کرو لیکن حملے میں شامل نہ ہو۔‘‘ زیادہ سنجیدہ لیکن بالکل کھرے الفاظ میں اس کا مطلب تھا: آزادی کی حفاظت کرو۔
’’ہمیں ہتھیار بالکل بھی نہیں ڈالنے چاہئیں۔‘‘ مبہم اور متضاد مزاجوں کے زیراثر سپاہی ان دنوں اکثر اوقات بالشویکوں کی بات سننے سے بھی انکار کر دیتے تھے۔ شاید کچھ اناڑیوں کی تقاریر کی وجہ سے وہ سوچتے تھے کہ بالشویکوں کو انقلاب کے دفاع سے کوئی غرض نہیں تھی اور وہ شاید حکومت کو امن قائم نہ کرنے دیں۔ سوشل انقلابی اخباروں اور ایجی ٹیٹروں نے زیادہ سے زیادہ یہ خیال سپاہیوں میں پروان چڑھایا۔تاہم بعض اوقات بالشویکوں کو تقریرکرنے سے منع کرنے کے باوجو د پہلے دنوں سے ہی سپاہی ایک حملے کے خیال کو فیصلہ کن انداز میں مسترد کر چکے تھے۔ دارالحکومت میں بیٹھے سیاستدانوں کی نظر میں یہ کوئی غلط فہمی تھی جو مناسب دباؤ ڈال کر ختم کی جا سکتی تھی۔ جنگ کے حق میں ایجی ٹیشن غیر معمولی بلندیوں پر پہنچ گئی۔بورژوا اخباروں نے دسیوں لاکھ شماروں میں انقلاب کے مسائل کی تصویر کشی ’’مکمل فتح تک جنگ‘‘ کی روشنی میں کی۔ مصالحت پسند بھی پہلے پہل دھیمی آواز میں، پھر زیادہ بے باکی سے یہی دھن گنگناتے رہے۔ جب ہڑتال کرنے کی سزا کے طور پر محاذ پر بھیجے گئے ہزاروں مزدور واپس آ گئے تو انقلاب کے وقت فوج میں بالشویکوں کا پہلے سے کمزور اثرورسوخ اور بھی کمزور پڑ گیا ۔ امن کی خواہش عین اسی وقت کوئی کھلا اور واضح اظہار نہ پا سکی جب یہ انتہائی شدید تھی۔ اس صورتحال نے کمانڈوں اور کمیساروں، جو پہلے ہی تسکین آمیز خوش فہمیاں ڈھونڈ رہے تھے، کے لئے ممکن بنا دیا کہ وہ حقیقی صورتحال کے بارے میں خود کو دھوکہ دے سکیں۔ان وقتوں کے مضامین اور تقاریر میں اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سپاہیوں نے حملہ کرنے سے اس لئے انکار کر دیا کیونکہ وہ ’’قبضوں یاجنگی ہر جانوں کے بغیر امن ‘‘ [۳] کا کلیہ ٹھیک سے نہیں سمجھے تھے۔ مصالحت پسندوں نے یہ وضاحت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ دفاعی جنگ نہ صرف جارحیت کی اجازت دیتی ہے بلکہ بعض اوقات اس کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ گویا یہ عالمانہ سوالات کا مسئلہ تھا! حملے کا مطلب جنگ کا دوبارہ سے آغاز تھا۔ محاذ کی معاونت کرنے کا مطلب جنگ کی طوالت تھا۔ سپاہیوں کا دفاعی جنگ کا نظریہ اور عمل جرمنوں کے ساتھ ایک طرح کا خاموش اور بعد ازاں کافی کھلا معاہدہ بن چکا تھا۔ ’’تم ہمیں نہ چھیڑو اور ہم تمہیں نہیں چھیڑیں گے۔‘‘ اس سے بڑھ کر فوج کے پاس جنگ کو دینے کے لئے کچھ نہیں تھا [۴]۔
سپاہی ابھی تک جنگی ترغیب کو زیادہ قبول نہیں کر رہے تھے، کیونکہ حملے کی تیاری کی آڑ میں رجعتی افسران اپنے ہاتھوں میں باگ ڈور لینے کی کوشش میں تھے۔ سپاہیوں کی گفتگو میں یہ فقرہ نمودار ہوا: ’’سنگین جرمنوں کے لئے، دستہ داخلی دشمن کے لئے۔‘‘ تاہم یہاں سنگین کی نوعیت دفاعی تھی۔ خندقوں میں موجود سپاہیوں کی ڈارڈینلس پر قبضہ کرنے کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ امن کی خواہش ایک طاقتور زیرزمین دھارا تھی جسے جلد ہی سطح کو چیر کے اوپر آنا تھا۔
اگرچہ ملیوکوف نے انکار نہیں کیا کہ فوج میں منفی علامات کا ’’مشاہدہ کیا جاسکتا‘‘ تھا، لیکن اُس نے انقلاب کے بعد لمبے وقت تک یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فوج ان فرائض کو ادا کرنے کے قابل تھی جس کا تعین اس کے لئے اتحادی ممالک نے کیا تھا۔ بطور تاریخ دان وہ لکھتا ہے، ’’بالشویک پراپیگنڈا فوراً محاذ تک پہنچ گیا۔ انقلاب کے ایک یا ڈیڑھ مہینے بعد تک تو فوج صحت مند تھی۔‘‘ وہ سارے سوال کو پراپیگنڈا کی سطح پر لے آتا ہے، جیسے اس سے تاریخی عمل ختم ہو جائے گا۔ بالشویکوں، جن کے ساتھ وہ سچ مچ جادوئی طاقتوں کو منسوب کرتا ہے، کے خلاف تاخیر زدہ جدوجہد میں ملیوکوف درحقیقت حقائق کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ فوج درحقیقت کیسی تھی۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ انقلاب کے بعد کے پہلے ہفتوں، بلکہ دنوں میں کمانڈروں نے اس کی لڑنے کی صلاحیت کی کیا جانچ کی۔
6 مارچ کو شمالی محاذ کے سپہ سالار جنرل رسزکی نے مجلس عاملہ کو اطلاع دی کہ سپاہیوں کی مکمل بغاوت شروع ہو رہی ہے، محاذ پر مشہور شخصیات بھیجی جائیں تاکہ فوج میں کچھ سکون پیدا کیا جا سکے۔
بحرِ سیاہ کے بیڑے کا چیف آف سٹاف اپنی یادداشتوں میں کہتا ہے: ’’انقلاب کے پہلے دنوں سے ہی میرے سامنے یہ واضح تھا کہ جنگ لڑنا ناممکن تھا اور ہم جنگ ہار چکے تھے۔‘‘ اس کے مطابق کولچاک کا بھی یہی خیال تھا اور اگر وہ محاذ پر بطور کمانڈر اپنے عہدے پر رہا تو یہ صرف سپاہیوں کے تشدد سے افسروں کو بچانے کے لئے تھا۔
نواب اگناٹیف، جو شاہی محافظ فوج کی بالائی کمان میں تھا، نے مارچ میں نابوکوف کو لکھا: ’’تمہیں واضح طور پر سمجھ لینا چاہئے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، ہم مزید لڑ سکتے ہیں نہ لڑیں گے۔ذہین لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ جنگ کو اذیت کے بغیر کیسے ختم کیا جائے، وگرنہ تباہی آئے گی… ‘‘اسی وقت گچکوف نے نابوکوف کو بتایا کہ اُسے اِس طرح کے خطوط ہزاروں کی تعداد میں مل رہے تھے۔ کچھ بظاہر حوصلہ افزا اطلاعات، جو بہر حال بہت نایاب تھیں، اپنی ہی ضمنی وضاحتوں کی نفی کرتی تھیں۔ دوسری فوج (2nd Army) کا کمانڈر ڈینیلوف کہتا ہے، ’’فوجیوں میں فتح کی امید ابھی باقی ہے۔ کئی رجمنٹوں میں تو یہ بہت مضبوط ہے۔‘‘ لیکن یہاں ہی وہ مزید کہتا ہے: ’’ڈسپلن بگڑ گیا ہے… بہتر ہو گا کہ صورتحال کے بہتر ہونے تک (مثلاً ایک سے تین مہینے تک) جارحانہ اقدام کو موخر کر دیا جائے ۔‘‘ اور پھر یہ غیر متوقع اضافہ: ’’صرف 50 فیصد کمک ہی آ رہی ہے۔ اگر مستقبل میں بھی وہ غائب ہوتے گئے اور ایسے ہی بدتمیز رہے تو ہم حملے کی کامیابی کی توقع نہیں کر سکتے۔‘‘
51 ویں پیادہ ڈویژن کا دلیر کمانڈر بتاتا ہے کہ ’’ہمارا ڈویژن دفاعی کاروائی کے لئے پوری طرح اہل ہے،‘‘ اور فوراً ہی کہتا ہے: ’’فوج کو سپاہیوں اور مزدوروں کے نمائندوں کے اثر و رسوخ سے بچانا ضروری ہے۔‘‘ لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا۔
182ویں ڈویژن کا سربراہ، کور کمانڈر کو بتاتا ہے: ’’ہر گزرتے دن کے ساتھ غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں، ویسے تو یہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہیں، لیکن اِن کا کردار بدشگون ہے۔ سپاہیوں کا اضطراب بڑھ رہا ہے اور افسروں کا اُن سے بھی زیادہ۔‘‘
یہ چند ایک بکھرے ہوئے ثبوت ہیں، تاہم اس طرح کے بہت سے مل جائیں گے۔ لیکن 18 مارچ کو فوجی صدر دفتر میں اعلیٰ افسران کا ایک اجلاس فوج کی کیفیت کے بارے میں ہوا۔ کمان کے مرکزی اداروں کا نتیجہ متفقہ تھا: ’’نقصانات کا ازالہ کرنے کے لئے محاذ پر کافی تعداد میں دستے بھیجنا ممکن نہیں ہو گا، کیونکہ تمام ریزرو یونٹوں میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ فوج بیمار ہے۔ افسران اور سپاہیوں کے درمیان تعلقات کی بہتری میں شاید دو یا تین مہینے لگیں گے۔‘‘ جرنیل سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ یہ بیماری صرف پھیل ہی سکتی تھی۔ فی الوقت وہ افسروں کے حوصلوں میں کمی، سپاہیوں میں ایجی ٹیشن اور بھاگ جانے کے خاصے رجحان کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ ’’فوج کی لڑنے کی صلاحیت کم ہو چکی ہے اور فی الوقت پیش قدمی کے امکان پر انحصار کرنا مشکل ہے۔‘‘ نتیجہ: ’’موسم بہار کے لئے جن کاروائیوں کا تعین کیا گیا ہے، اُن پر عمل درآمد ناممکن ہے۔‘‘
آنے والے ہفتوں میں صورتحال بدتر ہوتی گئی اور اس طرح کے اعتراف کئی گناہ بڑھ گئے۔ مارچ کے آخر میں پانچویں فوج کے کمانڈر جنرل ڈریگومیروف نے جنرل رسزکی کو لکھا: ’’لڑنے کا جذبہ پست ہو گیا ہے۔ نہ صرف سپاہیوں میں حملہ کرنے کی کوئی امنگ نہیں ہے، بلکہ دفاع کا عزم بھی اتنا کم ہو گیا ہے کہ جنگ میں فتح خطرے میں پڑ گئی ہے… فوج کی تمام پرتوں میں پھیل جانے والی سیاست نے ساری فوج کے سپاہیوں کو بس ایک خواہش پر لگا دیا ہے کہ جنگ ختم ہو اور وہ گھر جائیں۔‘‘
جرنل لوکومسکی ، جو رجعتی افسروں کا ایک ستون تھا، نے نئی کیفیت سے بیزار ہو کر کور کی کمان سنبھال لی اور جیسا کہ وہ خود بتاتا ہے کہ اُسے پتا چلا: صرف توپخانے اور انجینئرنگ ڈویژن میں ہی ڈسپلن باقی بچا تھا۔ ’’جہاں تک تین پیادہ ڈویژنوں کا تعلق تھا تو وہ مکمل انتشار کے راستے پر گامزن تھے۔‘‘
بھگوڑا پن، جو انقلاب کے بعد پیدا ہونے والی امید کی وجہ سے کم ہو گیا تھا، مایوسی کی وجہ سے پھر بڑھنے لگا۔ یکم سے 7 اپریل تک کے ایک ہفتے میں جنرل الیگزیف کے مطابق شمالی اور مغربی محاذوں سے تقریباً آٹھ ہزار سپاہی بھاگ گئے۔ وہ گچکوف کو لکھتا ہے: ’’میں نے انتہائی حیرانی سے فوج کے ’بہترین‘ مزاج کی غیرذمہ دارانہ اطلاعات پڑھیں۔ ان کا کیا فائدہ ہے؟ اس سے جرمن بیوقوف نہیں بنیں گے اور ہمارے لئے یہ جان لیوا خودفریبی ہے۔‘‘
یہاں تک یہ غور کرنا ضروری ہے کہ بالشویکوں کا شاید ہی کوئی حوالہ دیا گیا ہو۔ افسروں کی اکثریت نے شاید ہی یہ عجیب نام سنا تھا۔ جب وہ فوج کے انتشار کی وجوہات کا سوال اٹھاتے تھے تو یہ اخباریں، سوویتیں، شورش پسند اور بالعموم ’’سیاست‘‘تھی۔ ایک لفظ میں یہ وجہ ’فروری انقلاب‘ تھی۔
آپ کو پھر بھی انفرادی طور پر ایسے رجائیت پسند افسران ملیں گے جن کا خیال تھا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اُن سے بھی زیادہ ایسے تھے جنہوں نے جان بوجھ کر حقائق سے آنکھیں چرا رکھی تھیں، تاکہ نئی حکومت کو زحمت نہ ہو۔ دوسری طرف بالخصوص اعلیٰ ترین افسران دانستہ طور پر انتشار کی علامات کو مبالغہ آرائی سے پیش کرتے تھے، تاکہ حکومت کوئی فیصلہ کن کاروائی کرے، جس کا نام وہ خود لینے کو تیار نہیں تھے۔ لیکن بنیادی تصویر بالکل واضح ہے۔ بیمار ملنے والی فوج کی گراوٹ کے بے رحم عمل کو انقلاب نے سیاسی اشکال میں ملبوس کر دیا، جو ہر گزرتے ہفتے کے ساتھ واضح ہوتی گئیں۔انقلاب نے امن کی غضبناک پیاس کے ساتھ ساتھ سپاہیوں کی افسروں اور بالعموم حکمران طبقات سے عداوت کو بھی منطقی انجام تک پہنچایا ۔
اپریل کے وسط میں الیگزیف نے فوج کے مزاج کے بارے میں ذاتی رپورٹ حکومت کو دی، جس میں وہ حقیقت بیان کرنے سے ہچکچایا نہیں۔ نابوکوف لکھتا ہے، ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مایوسی اور دہشت کے کس احساس نے مجھے جکڑ لیا تھا۔‘‘ہم فرض کر سکتے ہیں اِس رپورٹ کے دوران ملیوکوف موجود تھا۔ قوی امکان ہے کہ اُسی نے الیگزیف کو بلایا ہو گا تاکہ اپنے ساتھیوں اور اُن کے ذریعے اپنے سوشلسٹ دوستوں کو بھی ڈرا سکے۔
درحقیقت اس کے بعد گچکوف نے مجلس عاملہ کے نمائندگان سے بات چیت کی۔اُس نے شکایت کی ، ’’ دشمن سے تباہ کن میل جول شروع ہو چکا ہے۔ کھلی نافرمانی کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ فوجی تنظیموں اور جلسوں میں احکامات پر عمل درآمد سے پہلے ان پر بحث کی جاتی ہے۔ فلاں فلاں رجمنٹوں میں سپاہی کاروائیوں کی بات سننا بھی گوارہ نہیں کرتے۔‘‘ گچکوف نے بڑی ذہانت سے مزید کہا، ’’جب عوام یہ امید لگائے ہوئے ہوں کہ کل امن آ جائے گا تو آپ اُن سے آج جانیں دینے کی توقع نہیں کر سکتے۔‘‘ یہاں سے وزیر جنگ نے نتیجہ اخذ کیا: ’’ہمیں امن کے بارے میں شور کو روکنا ہو گا۔‘‘ لیکن چونکہ انقلاب نے ہی عوام کو اُس چیز کا شور مچانا سکھایا تھا جس کے بارے میں پہلے وہ صرف خاموشی سے سوچتے تھے، لہٰذا اِس کا مطلب انقلاب کو روکنا تھا۔
ظاہر ہے سپاہی جنگ کے پہلے دن سے لڑنا چاہتا تھا نہ مرنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ اسی طرح ہی یہ سب نہیں چاہتا تھا جیسے توپخانے کا گھوڑا کیچڑ کے بیچ میں توپ کو کھینچنا نہیں چاہتا۔ گھوڑے کی طرح وہ بھی یہی سمجھتا تھا کہ وہ اس بوجھ سے نجات حاصل نہیں کر سکتا جو اُس پر لاد دیا گیا تھا۔ اُس کی خواہش اور جنگ کے واقعات میں کوئی ربط نہ تھا۔ انقلاب نے اُسے وہ ربط دکھایا۔ دسیوں لاکھ سپاہیوں کے لئے انقلاب کا مطلب اپنی مرضی سے زندگی جینے کا حق تھا، بلکہ اِس سے بھی پہلے بالعموم زندہ رہنے کا حق ، اپنی زندگیوں کو گولیوں اور گولوں سے بچانے اور اسی طرح اپنے چہروں کو افسروں کے گھونسوں سے بچانے کا حق۔ اسی لئے اوپر کہا گیا تھا کہ فوج میں جو بنیادی نفسیاتی عمل جاری تھا وہ شخصیت کی بیداری تھی۔ اکثر پرانتشار شکلیں اختیار کر جانے والے انفرادیت پسندی کے اس آتش فشانی دھماکے میں پڑھے لکھے طبقات کو صرف قوم سے غداری نظر آتی تھی۔ لیکن درحقیقت سپاہیوں کی طوفانی تقاریر، اُن کے بے اعتدال احتجاجوں، حتیٰ کہ اُن کے سخت گیر اقدامات میں قبل از تاریخ کے غیر شخصی خام مال میں سے ایک قوم کی تخلیق کا آغاز ہو رہا تھا۔ عوامی انفرادیت پسندی کا یہ سیلاب، جس سے بورژوازی شدید نفرت کرتی تھی، فروری انقلاب کے کردار کی وجہ سے اِس حقیقت کے پیش نظر تھا کہ یہ ایک بورژوا انقلاب تھا۔
لیکن یہی اس کا واحدمافیہ نہیں تھا۔ کیونکہ کسان اور اُس کے سپاہی بیٹے کے ساتھ مزدور بھی اِس انقلاب میں شریک تھا۔ نہ صرف جنگ سے نفرت بلکہ اُس کے خلاف جدوجہد کے پیش نظر مزدور کو بہت پہلے سے اپنی شخصیت کا ادراک تھا۔ انقلاب اُس کے لئے محض فتح حاصل کرنے کی عریاں حقیقت ہی نہیں بلکہ اُس کے نظریات کی جزوی کامرانی بھی تھا۔ بادشاہت کا خاتمہ اُس کے لئے محض پہلا قدم تھا، وہ یہاں رکا نہیں بلکہ دوسرے مقاصد کی طرف بڑھ گیا۔ اس کا کُل سوال یہ تھا: سپاہی اور کسان اُس کے ساتھ کہاں تک چلیں گے؟ سپاہی پوچھ رہا تھا کہ اگرمیں زندہ ہی نہیں رہوں گا تو مجھے زمین کا کیا فائدہ ؟ وہ تھیٹر کے بند دروازوں کے سامنے مزدور کے پیچھے دُہرا رہا تھا کہ مجھے ایسی آزادی کا کیا فائدہ جس کی کنجی آقا کے ہاتھ میں ہے؟ یوں فروری انقلاب کے بے انتہا انتشار میں سے اکتوبر کی فولادی کرنیں ابھی سے نظر آ رہی تھیں۔

٭٭٭٭٭

[۱]’الیگزینڈر سووروف‘ قدیم روس کا فوجی رہنما اور قومی ہیرو تھا۔
[۲]مصنف نے اس بولی کی جو مثالیں دی ہیں ان کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے: ’’ہاں‘‘ کی بجائے ’’بالکل ایسا ہی‘‘، ’ناں‘‘ کی بجائے ’’بالکل بھی نہیں‘‘، ’’مجھے نہیں معلوم‘‘ کی بجائے ’’میں بالکل بھی جان نہیں سکتا‘‘۔
[۳]جنگ مخالف سوشلسٹ نعرہ، یعنی غیرمشروط، فوری اور جمہوری بنیادوں پر امن۔
[۴]اس وقت تک جنگ ایک طرح کے ٹھہراؤ اور تعطل کا شکار ہو چکی تھی۔ دونوں اطراف ہزاروں میل لمبے محاذ پر خندقیں کھود کر آمنے سامنے بیٹھ گئی تھیں اور کوئی بھی فوج پیش قدمی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ ان خندقوں میں حالات انتہائی غیر انسانی اور اذیت ناک تھے۔ سپاہی تھک چکے تھے اور ایک بڑا جارحانہ حملہ کر کے جنگ میں دوبارہ جان نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔وہ مجبوراً دفاعی جنگ لڑ رہے تھے اور فوری جنگ بندی اور امن چاہتے تھے ۔