← Back to Newsroom OS پاکستان

فیڈرل کانسٹیبلری کی جموں کشمیر و گلگت بلتستان میں رسائی قبول نہیں: لبریشن فرنٹ

By جدوجہد • 2025-08-11 • 17 min read

مظفرآباد(نامہ نگار)جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے چند روز قبل ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے فرنٹیئر کانسٹیبلری کو فیڈرل کانسٹیبلری میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیڈرل کانسٹیبلری کو پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان تک رسائی دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ یہ آرڈیننس ایک کالا قانون ہے اور فیڈرل کانسٹیبلری کی جموں کشمیر اور گلگت بلتستان تک رسائی ایک سامراجی اقدام ہے جو پاکستان کے حکمرانوں او رریاست کے دعوؤں کی بھی قلعی کھول رہا ہے۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں ہیں اور پاکستان کے حکمرانوں اور ریاست کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر ایک آزاد علاقہ ہے، جبکہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ بھی دیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستانی ریاست مختلف امور میں جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو صوبوں کے طور پر تصور کرنے کا دعویٰ بھی کرتی ہے۔ تاہم جب صدارتی آرڈیننس کے ذریعے فیڈرل کانسٹیبلری کی کمپوزیشن کو وضع کیا گیا تو یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستانی وفاق کے زیر انتظام علاقوں کے طورپر تصور کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاروں صوبوں کے لیے 20فیصد، جبکہ جموں کشمیر کے لیے 10فیصد، گلگت بلتستان کے لیے 6فیصد اور اسلام آباد کے لیے 4فیصد کوٹہ مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ صدارتی آرڈیننس پاکستانی ریاست اور حکمرانوں کے اپنے ہی دعوؤں سے متصادم ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک کالا قانون ہے اور فیڈرل کانسٹیبلری کا قیام بنیادی طور پر پاکستان میں صوبوں کے اختیارات کو چھیننے کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں عوامی حقوق کو سلب کرنے کے لیے ایک سامراجی ہتھکنڈا ہے۔

یہ ماضی میں سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قائم ہونے والی فیڈرل سکیورٹی فورس(ایف ایس ایف) کی طرز کا ایک نیم فوجی ادارہ قائم کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف زیر قبضہ نوآ بادیاتی علاقوں کے داخلی مسائل سے نبرد آزماہونا اور عوامی تحریکوں کو کچلنا ہے، بلکہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے اندر تحریکوں کو کچل کر وفاقیت کو مسلط کرنا ہے۔جہاں اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کی جانب یہ ایک قدم ہے، وہیں یہ چھوٹے صوبوں اور محکوم قوموں کے وسائل کو لوٹنے کے عمل کا تحفظ کرنے کا بھی ایک ہتھکنڈا ہے۔ اس لیے ہم پاکستان کے چاروں صوبوں کے ترقی پسند عوام اور مظلوم قوموں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس آرڈیننس کے خلاف آواز بلند کریں۔ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان بلتستان کے عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اس کالے قانون اور سامراجی ہتھکنڈے کو بے نقاب کریں۔

صدارتی آرڈیننس کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور فیڈرل کانسٹیبلری کے قیام کی کوششیں ترک کی جائیں۔کسی صورت فیڈرل کانسٹیبلری کی جموں کشمیر اور گلگت بلتستان تک رسائی کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس عمل کی ہر سطح پر مزاحمت کریں گے۔
وہ مظفرآباد مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سیکرٹری جنرل راجہ مظہر اقبال، چیف آرگنائزر شعیب خان، برطانیہ و یورپ زون کے صدر مہتاب احمد خان ایڈووکیٹ اور ایس ایل ایف کے کنوینر راجہ شہباز بھی موجود تھے۔

سردارمحمد صغیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے حکمرانوں نے بھی رینجرز کے قیام کے لیے بھاری بجٹ مختص کر رکھا ہے۔ پہلے سے داخلی سکیورٹی کے لیے موجود پولیس فورس کے سپاہیوں کو تنخواہیں اور مراعات دینے سے قاصر یہ حکمران عوامی حقوق فراہم کرنے کی بجائے لوگوں کو دبانے اور سیاسی آوازوں کو کچلنے کے لیے نئی مسلح فورس بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رینجرز کے قیام کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور رینجرز کے قیام کے لیے مختص فنڈز کو عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔

انکا کہنا تھا کہ داخلی تحریکوں کو کچلنے کے لیے بنائے گئے ان نئے منصوبوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اسمبلی میں مہاجرین جموں کشمیر پاکستان کی نشستوں کو تحریک آزادی سے جوڑ کر ایک نئی بحث قائم کی جا رہی ہے۔ اسمبلی میں موجود حکمران اشرافیہ کے یہ نمائندے اس نام نہاد آئین کے تحفظ کے نام پر جانیں قربان کرنے اور آئین کے تحفظ کے لیے اسمبلی کی سیڑھیوں پر اپنی جان دینے کے نام نہاد دعوے کر رہے ہیں۔ ان حکمرانوں کو اس روز شرم سے ڈوب کر مر جانا چاہیے تھا، جب 12مئی 2024کو راولاکوٹ میں ان کی جگہ پاکستان کے خفیہ اداروں کے دو افسر مذاکرات کرنے کے لیے آئے اور اسلام آباد میں ایک خفیہ ادارے کے افسر نے پاکستان کی وفاقی حکومت کو ڈکٹیٹ کر کے مطالبات کی منظوری کے لیے بجٹ دینے پر رضامند کیا تھا۔یہ نام نہاد آئین، اس اسمبلی کا وقار اور ان53ممبران اسمبلی کی غیرت اور حمیت اسی روز خاک میں مل گئی تھی۔ آج یہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق آئین اور سیاست کے تحفظ کے دعوے کر رہے ہیں۔

مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نشستیں بھی اس خطے کے جمہوری، سیاسی اور معاشی حقوق پر ڈاکہ ہیں۔ ان نشستوں اور ملازمتوں پر کوٹے کا تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستانی ریاست اور مقامی حکمران اشرافیہ مسلسل دروغ گوئی، جعل سازی اور تضاد بیانی کے ذریعے اس خطے کے لوگوں کو الجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک طرف معاہدہ کراچی کے ذریعے مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی بحالی اور آبادکاری کی ذمہ داری حکومت پاکستان نے اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ یہ ایک ایسا غیر جمہوری اور غیر آئینی معاہدہ ہے، جوجموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں کی مرضی و منشاء کے بغیر نوآبادکار ریاست نے خود ہی اپنے ملازمین کے ساتھ کر رکھا ہے۔ تاہم اسی معاہدہ کی روشنی میں تحریک آزادی اور مہاجرین کی بحالی و آبادکاری کی ذمہ داری حکومت پاکستان کے حوالے کر کے اس معاہدہ کو اپنا کارنامہ قرار دینے والے یہ حکمران اشرافیہ کے نمائندے اب تحریک آزادی اور مہاجرین کے نام پر عوام کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان اب پاکستان کے شہری بن چکے ہیں، ان کو پاکستان میں ووٹ کا حق بھی میسر ہے، اور پاکستانی شہریوں کے برابر تمام حقوق حاصل ہیں۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بسنے والے عوام کو پاکستان میں ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے، وہ اگر پاکستان میں ووٹ کا اندراج کروائیں تو جموں کشمیر سے ووٹ خارج ہو جاتا ہے، لیکن مہاجرین کے لیے انوکھا قانون ہے کہ وہ جموں کشمیر کی اسمبلی کے رکن بھی بن سکتے ہیں اور پاکستان کی صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے رکن بھی بن سکتے ہیں اور ہر دو اطراف ووٹ بھی دے سکتے ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح اس خطہ بے آئین پر مسلط کیے گئے سامراجی ایکٹ1974ء کو عبوری آئین قرار دینے والے حکمران اشرافیہ کے ان نمائندوں نے اسی ایکٹ میں ایک طرف اس کا دائرہ کار نیلم سے بھمبر تک مقرر کر رکھا ہے اور دوسری طرف مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نشستوں کو بھی تیرہویں آئینی ترمیم میں شامل کیا گیا ہے۔ نہ وہ اس عبوری آئین کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، نہ اس اسمبلی میں بننے والے قانون ان پر لاگو ہوتے ہیں، نہ ہی الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار پاکستان کے صوبوں میں موجود ہے۔ ایسی کیفیت میں یہ انتخاب ایک جعل سازی اور نوآبادکار ریاست کی نوآبادیاتی جھکڑ بندی کا ایک اوزار ہے۔

اس کے علاوہ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے نام پر اس خطے کے عوام کے ٹیکسوں سے جمع ایک بھاری رقم پاکستان کے مختلف علاقوں میں منتقل کر کے لوٹ لی جاتی ہے۔ ترقیاتی بجٹ کا بھی ایک بڑا حصہ وہاں خرچ کیا جاتا ہے۔ نو ٹیکسیشن ود آؤٹ ری پریزنٹیشن کا اصول دنیا بھر میں اپنایا جاتا ہے، وہیں ودآؤٹ ٹیکسیشن ری پریزنٹیشن پھر کس طرح ہو سکتی ہے۔ جو لوگ اس علاقے میں ٹیکس نہیں دیتے، جو اس علاقے کے شہری نہیں ہیں، انہیں اس کے لوگوں کے ٹیکسوں سے پیدا ہونے والی ملازمتوں اور ترقیاتی بجٹ سے حصہ کیسے دیا جا سکتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی یہ نشستیں پری پول رگنگ، حکومتیں بنانے اور تبدیل کرنے کے لیے ایک سامراجی ہتھکنڈے اور بلیک میلنگ کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔

تاہم ان نشستوں کا خاتمہ یہ مظفرآباد کی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے کٹھ پتلی حکمران کسی صورت نہیں کر سکتے۔ یہ حق اور اختیار بھی سامراجی حکمرانوں نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ یہ سامراجی حکمران ریاست پاکستان کے حکمران ہیں۔ جو اس نام نہاد اسمبلی کو چلانے والے ایکٹ کے بنانے والے ہیں اور انہوں نے اس ایکٹ 1974میں ترمیم کا اختیار بھی اپنے پاس رکھا ہے اور 54سبجیکٹس میں سے تمام ہی میں براہ راست یا بالواسطہ قانون سازی کا اختیار بھی انہی کے پاس ہے۔

اس لیے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ معاہدہ کراچی اور ایکٹ1974ء کی موجودگی میں نہ تو حق حکمرانی اور حق ملکیت جموں کشمیر کے عوام کو مل سکتا ہے اور نہ ہی مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے نام پر اس لوٹ مار اور بلیک میلنگ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ اس خطے کے عوام نے لازوال قربانیاں دے کر مہاراجہ خاندان کے شخصی راج کو ایک محدود علاقے میں شکست دی اور 4اکتوبر کو جلاوطن حکومت اور بعد ازاں 24اکتوبر1947کو اعلان آزادی کے ذریعے ایک باغی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ جس اعلان آزادی میں واضح کیا گیا تھا کہ یہ حکومت آزاد ، آئین ساز،سیکولر ، جمہوری اور نمائندہ ہوگی۔ جموں کشمیر کے عوام کی رائے کو پاکستان کے حکمرانوں نے سلب کیا اور معاہدہ کراچی کیا۔ جموں کشمیر کے لوگوں کی اس تحریک کو بھی امریکی اور برطانوی سامراج کی ایماء پر پاکستان کے حکمرانوں نے قبائلی حملے کے ذریعے داغدار کیا اور عوامی جدوجہد کے نتیجے میں ملنے والے ثمرات کو بھی بتدریج ان سے چھین لیا گیا۔اس کے بعد1950کی بغاوت کے نتیجے میں حکومت پاکستان نے جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ کر کے اپنے فوجیوں کے چھینے گئے ہتھیار واپس حاصل کیے تھے کہ جموں کشمیر کے لوگوں کو آئین ساز اسمبلی کا حق دینے کے لیے الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا ، لیکن ایک بار پھر اس خطے کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ آج 78سال گزرنے کے بعد بھی اس خطے کے لوگ نہ صرف بے آئین ہیں، بلکہ آج بھی ایک بدترین نوآبادی کی صورت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ایکٹ 1974اور معاہدہ کراچی کو منسوخ کر کے جموں کشمیر کے عوام کو 24اکتوبر1947کے اعلان آزادی کے مطابق آئین ساز اسمبلی کے قیام کا حق دیا جائے، تاکہ اس خطے کے لوگ اپنی مرضی اور آزادانہ رائے دہی کے ذریعے ان نمائندوں کا انتخاب کر سکیں، جو اس خطے کے لیے آئین تحریر کریں اور ریاست اور شہری کے تعلق کو وضع کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان سمیت دیگر ملکوں کے ساتھ اپنے تعلق کی وضاحت کر یں۔ اس کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک کے حوالے سے بھی فیصلہ سازی کرنے کا اختیار حاصل کر سکیں۔

مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نشستیں اور کوٹہ فوری ختم کیا جائے اور یہ حق اور اختیار اس خطے کی آئین ساز اسمبلی کو فراہم کیا جائے، جو مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے مستقبل کا تعین کرنے کے حوالے سے فیصلہ سازی کر سکے۔

مہاجرین جموں کشمیر 1989کی بحالی اور آبادکاری کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ ان 5ہزار466خاندانوں کو مکانات کے لیے زمینیں الاٹ کی جائیں، مکانات ریاستی امداد سے تعمیر کر کے دیئے جائیں اور ان کے لیے مختص ملازمتوں کے 6فیصد کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں بلاسود قرضے دے کر اس معاشرے میں برابری کے شہری کا درجہ دیا جائے۔ ان مہاجرین کے ساتھ ہونے والی گزارہ الاؤنس کے نام پر خفیہ اداروں کی بلیک میلنگ اور نگرانی کا سلسلہ بھی فوری ختم کیا جائے۔

فیڈرل کانسٹیبلری کے قیام کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے، اسی طرح رینجرز کے قیام کی کوششیں بھی فوری ترک کی جائیں۔
حکمران اشرافیہ کی مراعات کا فوری خاتمہ کیا جائے، ججوں، ممبران اسمبلی اور بیوروکریٹوں کی عیاشیوں کے لیے مختص رقوم کر عوامی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔

13مئی2024کو مظفرآباد میں پاکستان رینجرز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے تین بچوں کے قتل کی ایف آئی آر سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی، کمانڈنگ آفیسر رینجرز، چیف سیکرٹری، وزیراعظم اور وزیر داخلہ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے خلاف درج کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ان مطالبات اور نکات کے حق میں آج سے عوامی آگاہی مہم کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف پروگرامات کا انعقاد کیاجائے گا اور ان مطالبات کی منظوری سمیت جموں کشمیر کی مکمل آزادی تک جدوجہد کا یہ سفر جاری و ساری رکھا جائے گا۔