قائد اعظم یونیورسٹی کے ہاسٹل خالی کروانے کے لیے پولیس کارروائی، 70 سے زائد طلبہ گرفتار
لاہور(جدوجہد رپورٹ)اسلام آباد پولیس نے منگل کے روز کارروائی کرتے ہوئے قائداعظم یونیورسٹی کے ہاسٹل طلبہ سے جبری طور پر خالی کروائے ہیں۔ اس کارروائی کے دوران 70سے زائد طلبہ کو گرفتار کیا گیا، جنہیں بدھ کے روز مقامی عدالت کے حکم پر جوڈیشل لاک اپ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کے مطابق گرفتار طلبہ کو وکلاء سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ایمان زینب مزاری کی مطابق گرفتار طلبہ کی تعداد72ہے، جبکہ پولیس کے مطابق 60طلبہ کو حراست میں لیا گیا ہے۔ طلبہ کی گرفتاری اورپولیس کارروائی کی مذمت کی جا رہی ہے اور طلبہ کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
’ڈان‘ کے مطابق اسلام آباد پولیس نے منگل کے روز قائداعظم یونیورسٹی کے ہاسٹل خالی کروانے کے لیے آپریشن کے دوران 70سے زائد طلبہ کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے اس اقدام پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو ہاسٹلوں کے باہر دیکھا جا سکا ہے، جن میں سے کچھ طالبعلموں کو گرفتار کر کے لے جا رہے ہیں۔ کچھ ویڈیوز میں پولیس اہلکاران طلبہ کو گھسیٹتے ہوئے اور کچھ میں طلبہ پر تشدد کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے بیان میں کہا کہ ’یونیورسٹی انتظامیہ کی درخواست پر اسلام آباد پولیس نے مدد فراہم کی۔ طلبہ نے 11ہاسٹل خالی کر لیے تھے، جبکہ 4ہاسٹل کے بارے میں یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ کچھ طلبہ یونیورسٹی ہدایات کے باوجود انہیں خالی نہیں کر رہے اور وہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔
پولیس کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی تحریری درخواست پر یونیورسٹی انتظامیہ اور سکیورٹی گارڈز کو مدد فراہم کی گئی۔ اس پرامن عمل کی مزاحمت کرنے والے طلبہ کو گرفتار کیا گیا اور اب یونیورسٹی انتظامیہ کی تحریری درخواست پر ہی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے معیاد ختم ہونے کے بعد ہاسٹل خالی کروانے کے لیے صبح کارروائی کی ہے۔
یاد رہے کہ قائداعظم یونیورسٹی نے گرمیوں کی تعطیلات کے دوران سالانہ مرمت ، دیکھ بھال اور تزئین و آرائش کے کاموں کا حوالہ دے کر 13جولائی سے ہاسٹل عارضی طور پر بند کرنے کا سرکلر جاری کیا تھا۔
ہر سال یونیورسٹی میں سمر سمسٹر ہوتے ہیں اور طلبہ ہاسٹلوں میں ہی رہائش پذیر بھی رہتے ہیں اور پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ تاہم جو طلبہ سمر سمسٹر نہیں لگاتے وہ گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ طلبہ یونیورسٹی انتظامیہ سے سمر سمسٹر شروع کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ طلبہ کو یہ خدشہ بھی تھا کہ ہاسٹل خالی کروانے کے بعد یونیورسٹی میں سکیورٹی پابندیوں کو سخت کرنے کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
یونیورسٹی کے سرکلر کے بعد اکثریتی طلبہ نے ہاسٹل خالی کر دیے تھے، تاہم کچھ ہاسٹلوں کے طلبہ نے احتجاج جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا۔ ہائی کورٹ نے اسے یونیورسٹی کا انتظامی اقدام قرار دے کر طلبہ کی درخواست کو خارج کر دیا۔
ایمان مزاری نے ایکس پر لکھا کہ قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے طلبہ کے خلاف کوئی درخواست نہیں دی ہوئی ہے۔ 70سے زائد طلبہ کو بغیر کسی ایف آئی آڑ کے حراست میں رکھا گیا ہے اور حکام ایف آئی آڑ کی کاپی شیئر کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ طلبہ سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔
سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے پولیس کریک ڈاؤن کو شرمناک قرار دیا ہے۔
آر ایس ایف، جے کے این ایس ایف سمیت دیگر ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے بھی قائداعظم یونیورسٹی میں پولیس کارروائی کو شرمناک قرار دیا ۔ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے اور یونیورسٹیوں کو ملٹرائز کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ طلبہ کو اس لیے تشدد کر کے گرفتار کیا گیا کہ وہ پڑھائی جاری رکھنے کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔