قومیتوں کا مسئلہ
(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
انسانی رابطے اور نتیجتاً صنعت کا سب سے اہم اوزار زبان ہے۔اشیا (Commodities) کا تبادلہ، جو قوموں کو یکجا کرتا ہے، جب غلبہ حاصل کر لیتا ہے تو زبان بھی قومی بن جاتی ہے۔ اِسی بنیاد پر سرمایہ دارانہ رشتوں کے سب سے موزوں، منافع بخش اور عمومی میدانِ عمل کے طور پر قومی ریاست کھڑی ہوتی ہے۔ اگر آپ ہالینڈ کی جدوجہد آزادی اور پانیوں میں گھرے برطانیہ کے مقدر کو چھوڑ دیں تو مغربی یورپ میں قومی ریاستوں کی تشکیل کا عہد عظیم انقلابِ فرانس کے ساتھ شروع ہوا اور بنیادی طور پر سو سال بعد جرمن سلطنت کی تشکیل کے ساتھ مکمل ہو گیا۔
لیکن جس عہد میں یورپ میں قومی ریاست پیداواری قوتوں کو مزید مقید رکھنے کے قابل نہیں رہی تھی اور پھیل کر ایک سامراجی ریاست میں تبدیل ہو چکی تھی، مشرق میں ایران، بالکان، چین اور ہندوستان میں 1905ء کے انقلابِ روس سے تحریک پکڑتے ہوئے قومی جمہوری انقلابات کا عہد ابھی شروع ہی ہو رہا تھا۔ 1912ء کی جنگ ِبالکان نے جنوب مشرقی یورپ میں قومی ریاستوں کی تشکیل کی تکمیل پر مہر ثبت کی۔ بعد کی سامراجی جنگ نے اتفاقاً یورپ میں قومی انقلابات کا ادھورا کام مکمل کر دیا اور آسٹریا -ہنگری کی علیحدگی، آزاد پولینڈ کے قیام اور زاروں کی سلطنت سے الگ آزاد سرحدی ریاستوں پر منتج ہوئی۔
روس ایک قومی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ قومیتوں پر مشتمل ریاست کے طور پر تشکیل پایا تھا۔ یہ اِس کے تاخیرزدہ کردار کی وجہ سے تھا۔ وسیع زراعت اور گھریلو صنعت کی بنیاد پر تجارتی سرمایہ گہرائی میں پیداوار کو یکسر تبدیل کرتے ہوئے نہیں بلکہ وسعت میں پیداوار کے حلقہ اثر کو بڑھاتے ہوئے ارتقا پذیر ہوا۔ نئی زمینوں اور محصولات سے آزادی کی تلاش میں زیادہ پسماندہ قبائل کے علاقوں میں سرایت کرنے والے کسان آباد کاروں کے پیچھے پیچھے تاجر، زمیندار اور حکومتی اہلکار بھی مرکز سے بیرونی علاقوں کی طرف بڑھے۔ریاست کا پھیلاؤ اپنی بنیاد میں زراعت کا پھیلاؤ تھا، جو اپنی تمام تر پسماندگی کے باوجود جنوب اور مشرق کے خانہ بدوشوں سے کچھ برتر تھی۔ ایک بڑی اور مسلسل وسیع ہونے والی اِس بنیاد پر تشکیل پانے والی افسرشاہانہ ریاست اِتنی مضبوط ہو گئی کہ مغرب میں کچھ ایسی اقوام کو مطیع کرسکے جو بلند تہذیب کی حامل تو تھیں لیکن اپنی کم تعداد یا داخلی بحران کی وجہ سے اپنی آزادی کا دفاع کرنے کے قابل نہ تھیں (پولینڈ، لتھوینیا، بالٹک ریاستیں، فن لینڈ)۔
ملک کی آبادی کا بڑا حصہ تشکیل دینے والے سات کروڑ دیسی روسیوں میں رفتہ رفتہ تقریباً نو کروڑ ’’بدیسیوں‘‘ کا اضافہ ہو گیا، جو واضح طور پر دو گروہوں میں تقسیم تھے: اپنی تہذیب میں روس سے برتر مغربی اقوام اور کم تر سطح پر کھڑی مشرقی اقوام۔ یوں ایک ایسی سلطنت تخلیق پائی جس کا صرف 43 فیصد حصہ حکمران قومیت پر مبنی تھا۔ باقی 57 فیصد میں 17 فیصد یوکرائنیوں، 6 فیصد پولینڈ والوں اور 4.5 فیصد سفید روسیوں سمیت مختلف سطحوں کی تہذیب اور محکومی کی قومیتیں شامل تھیں۔
ریاست کے لالچی مطالبات اور کسان بنیاد کی نقاہت نے استحصال کی بدترین اشکال کو جنم دیا۔ روس میں قومی جبر نہ صرف مغربی بلکہ مشرقی سرحدوں پر موجود ریاستوں سے بھی کہیں زیادہ تلخ تھا۔ حقوق سے محروم اِن قومیتوں کی وسیع تعداد اور اِن کی محرومی کی شدت نے زارشاہانہ روس میں قومی مسئلے کو دیوہیکل دھماکہ خیز قوت عطا کر دی۔
جہاں فرانس، اٹلی اور جرمنی جیسی قومی طور پر یکساں ریاستوں میں بورژوا انقلابات نے طاقتور مرکز مائل قوتوں کو ترقی دی، وہاں اِس کے برعکس ترکی، روس اور آسٹریا ہنگری جیسی قومی طور پر غیریکساں ریاستوں میں تاخیرزدہ بورژوا انقلاب نے مرکز گریز قوتوں کو جنم دیا۔ میکانکی اصطلاحات میں بیان کئے جانے پر متضاد ہونے کے باوجود اِن عوامل کا تاریخی فریضہ ایک ہی تھا۔ دونوں صورتوں میں یہ بنیادی صنعتی ذخیرے کے طور پر قومی یکجہتی کے استعمال کا سوال تھا۔ اِس مقصد کے لئے جرمنی کو متحد جبکہ آسٹریا ہنگری کو تقسیم کرنا پڑا۔
لینن بہت پہلے ہی روس میں مرکز گریز قومی تحریکوں کے پنپنے کی ناگزیریت کو بھانپ چکا تھا، اِسی لئے کئی سال تک بالخصوص روزا لکسمبرگ کے خلاف پرانے پارٹی پروگرام کے پیراگراف 9 کے لئے سختی سے لڑتا رہا، جو قوموں کے حق خود ارادیت یعنی ریاستوں کے طور پر اُن کی یکسر علیحدگی کے حق پر مبنی تھا۔ اِس طرح سے بالشویک پارٹی کسی طور پر بھی علیحدگی کی تبلیغ نہیں کر رہی تھی، بلکہ کسی قومیت کو بڑی ریاست کی حدود میں زبردستی مقید رکھنے سمیت قومی جبر کی ہر شکل کے خلاف بے رحم جدوجہد کا فریضہ اپنے لئے متعین کر رہی تھی۔ روسی پرولتاریہ صرف اِسی طرح سے محکوم قومیتوں کا اعتماد بتدریج حاصل کر سکتا تھا۔
لیکن یہ معاملے کا صرف ایک رُخ تھا۔ قومی میدان میں بالشویزم کی حکمت عملی کا ایک دوسرا رخ بھی تھا، جو بظاہر پہلے رخ سے متضاد تھا، لیکن درحقیقت اُسے مکمل کرتا تھا۔ پارٹی اور بالعموم تمام مزدور تنظیموں کے ڈھانچے میں بالشویزم ایک غیرلچکدار مرکزیت پر زور دیتا تھا اور قوم پرستی کے ہر اُس کلنک کے خلاف بے رحم جنگ کرتا تھا جو مزدوروں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرے یا اُنہیں غیرمتحد کرے۔ ایک قومی اقلیت پر لازمی شہریت یا ریاستی زبان مسلط کرنے کے بورژوا ریاستوں کے اختیار کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بالشویزم نے عین اسی وقت رضاکارانہ طبقاتی ڈسپلن کے ذریعے مختلف قومیتوں کے مزدوروں کو ہر ممکن حد تک مضبوطی سے یکجا کرنے کو حقیقی معنوں میں مقدس فریضے کا درجہ دیا۔ یوں بالشویزم نے پارٹی کی تعمیر میں قومی وفاق کے اصول کو یکسر مسترد کر دیا۔ ایک انقلابی پارٹی مستقبل کی مزدور ریاست کا نمونہ نہیں بلکہ محض اُس کی تخلیق کا اوزار ہوتی ہے۔ ایک اوزار کو پیداوار کی تخلیق کے لئے موزوں ہونا چاہئے؛اوزار میں ہی پیداوار کا شامل ہونا ضروری نہیں۔ یوں فریضہ اگر مرکزیت پر مبنی قومی جبر کو توڑنے کا بھی ہو تو ایک مرکزیت پر مبنی تنظیم ہی انقلابی جدوجہد کی کامیابی کی ضامن بن سکتی ہے۔
روس کی محکوم قومیتوں کے لئے بادشاہت کے دھڑن تختے کا ناگزیر مطلب اُن کا اپنا قومی انقلاب بھی تھا۔ تاہم اِس معاملے میں بھی تمام دوسرے شعبوں کی طرح ہم فروری کے نظامِ حکومت کی وہی چیز دیکھتے ہیں: سامراجی بورژوازی پر اپنے سیاسی انحصار میں جکڑی سرکاری جمہوریت پرانی زنجیروں کو توڑنے کے قابل نہیں تھی۔ دوسری قوموں کے مقدر کا فیصلہ کرنے کو اپنا مسلمہ حق گردانتے ہوئے اِس نے دولت، طاقت اور اثرورسوخ کے اُن ذرائع کی پہرہ داری جاری رکھی جنہوں نے عظیم روس [۱] کی بورژوازی کو اُس کا غالب مقام عطا کیا تھا۔ مصالحت پسندانہ جمہوریت نے محض زارشاہی کی قومی پالیسی کی روایات کا ترجمہ آزادی پسندی کی لفاظی میں کیا: اب یہ انقلاب کی یکجہتی کے دفاع کا سوال بن چکا تھا۔ لیکن حکمران اتحاد کے پاس ایک اور تیز دھار دلیل بھی تھی: زمانہ جنگ کی مجبوری۔ اِس کا مطلب تھا کہ انفرادی قومیتوں کی امنگوں کو دشمن کی سازش قرار دیا جائے۔ یہاں بھی کیڈٹوں نے پہلی اور مصالحت پسندوں نے دوسری سارنگی بجائی۔
ظاہر ہے نئی حکومت مکروہ قانونی پھندے کو بالکل چھیڑے بنا تو چھوڑ نہیں سکتی تھی۔ لیکن اِس کی خواہش اور کوشش تھی کہ بس انفرادی قوموں کے خلاف استثنائی قوانین کی منسوخی پر اکتفا کیا جائے، یعنی عظیم روس کی ریاستی افسر شاہی کے سامنے آبادی کے تمام حصوں کی برابری قائم کر دی جائے۔
اس باضابطہ برابری کا سب سے زیادہ فائدہ یہودیوں کو تھا، کیونکہ اُن کے حقوق کو محدود کرنے والے قوانین کی تعداد 650 تک پہنچ چکی تھی۔ مزید برآں شہری باشندے ہونے اور تمام قومیتوں میں سب سے زیادہ بکھرے ہونے کی وجہ سے یہودی کسی ریاستی آزادی یا پھر علاقائی خودمختیاری تک کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ جہاں تک پورے ملک میں یہودیوں کو سکولوں اور دوسرے اداروں کے گرد اکٹھا کرنے کے نام نہاد ’’قومی ثقافتی خومختیاری‘‘ کے منصوبہ کا تعلق ہے تو یہ ایک رجعتی یوٹوپیا تھا، جسے کئی یہودی گروہوں نے آسٹریائی نظریہ دان آٹو بائر سے مستعار لیا تھا۔ آزادی کے ابتدائی دنوں میں یہ بالکل ویسے ہی پگھل گیا جیسے سورج کی شعاعوں میں موم پگھل جاتی ہے۔
لیکن ایک انقلاب اِسی وجہ سے انقلاب ہوتا ہے کہ یہ نہ تو معمولی خیرات اور نہ ہی قسطوں میں ادائیگی سے مطمئن ہوتا ہے۔ زیادہ شرمناک قومی پابندیوں کے خاتمے نے قومیت سے قطع نظر شہریوں کی باضابطہ برابری تو قائم کر دی، لیکن اِس نے اتنی ہی شدت سے قومیتوں کی غیر مساوی صورتحال کو آشکار کر دیا، جن میں سے زیادہ تر کو عظیم روسی ریاست کے سوتیلے بچوں یا لے پالک بچوں کا درجہ حاصل تھا۔
فن لینڈ والوں کے لئے مساوی حقوق کا اعلان بے معنی تھا، کیونکہ وہ روسیوں کی برابری نہیں بلکہ روس سے آزادی چاہتے تھے۔ اِس نے یوکرائن والوں کو بھی کچھ نہ دیا، کیونکہ اُن کے حقوق پہلے ہی مساوی تھے اور اُنہیں زبردستی روسی قرار دیا جاتا تھا۔ جرمن جاگیردار اور روسی-جرمن شہر کے ستائے لیٹویا اور اسٹونیا والوں کی صورتحال میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اِس نے وسطی ایشیا کی پسماندہ اقوام اور قبائل کا مقدر بھی سہل نہیں بنایا، جنہیں قانونی پابندیوں میں نہیں بلکہ ثقافتی زنجیروں میں جکڑا گیا تھا۔ لبرلوں اور مصالحت پسندوں کے اتحاد نے اِن تمام سوالات پر غور کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ جمہوری ریاست اُنہی عظیم روسی منصب داروں والی پرانی ریاست ہی رہی جو اپنی جگہ کسی کو دینے کو تیار نہیں تھے۔
انقلاب جوں جوں سرحدی علاقوں [۲] کے عوام میں سرایت کرتا گیا، واضح ہوتا گیا کہ روس کی ریاستی زبان ہی وہاں کے ملکیتی طبقات کی زبان تھی۔ صحافت اور اجتماع کی آزادی سے باضابطہ جمہوریت کے نظام نے پسماندہ اور محکوم قومیتوں کو زیادہ دردناک انداز میں باور کروایا کہ انہیں کس حدتک ثقافتی ترقی کے انتہائی بنیادی ذرائع سے محروم رکھا گیا تھا۔ مستقبل کی آئین ساز اسمبلی کے حوالے اُنہیں زِچ ہی کرتے تھے۔ اُنہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ آئین ساز اسمبلی پر بھی وہی پارٹی حاوی ہو گی جس نے عبوری حکومت قائم کی تھی اور جو ابھی تک رسیفیکیشن [۳] کا دفاع کر رہی تھی۔
فن لینڈ شروع سے ہی فروری حکومت کے گوشت میں کانٹا بن گیا۔ زرعی سوال، جو فن لینڈ میں چھوٹے غلام مزارعوں کا سوال تھا، کی تلخی کی وجہ سے آبادی کا صرف 14 فیصد ہونے کے باوجود صنعتی مزدوروں نے دیہی آبادی کو اپنے ساتھ جوڑ لیا۔ فن لینڈ کی سیم (Seim) دنیا کی واحد پارلیمنٹ تھی جس میں سوشل ڈیموکریٹوں نے اکثریت حاصل کی: 200 میں سے 103 نشستیں۔ اپنے 5 جون کے قانون میں سیم نے ماسوائے جنگ اور خارجہ پالیسی کے سوال کے ایک خودمختیار اقتدار کا اعلان کر دیا۔ فن لینڈ کے سوشل ڈیموکریٹوں نے ’’روس کی کامریڈ پارٹی‘‘ سے حمایت کی استدعا کی۔ لیکن اُنہوں نے بالکل غلط پتے پر رابطہ کیا تھا۔ پہلے پہل عبوری حکومت ایک طرف ہو گئی اور ’’کامریڈ پارٹی‘‘ کو کاروائی کرنے کی اجازت دی۔ شکائدز کی قیادت میں ایک مشاورتی وفد ہلسنگفورس گیا اور خالی ہاتھ واپس آیا۔ پھر پیٹروگراڈ کے سوشلسٹ وزرا (کیرنسکی، چرنوف، سکوبیلیف، سریتیلی) نے ہلسنگفورس کی سوشلسٹ حکومت کو بزور طاقت تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ صدر دفتر کے عملے کے سربراہ، شاہ پرست لکومسکی نے فن لینڈ کے حکام اور آبادی کو تنبیہ کی کہ روسی فوج کے خلاف کسی کاروائی کی صورت میں ’’تمہارے شہروں اور سب سے پہلے ہلسنگفورس کو برباد کر دیا جائے گا۔‘‘ اِس تیاری کے بعد حکومت نے سیم کو تحلیل کرنے کا اعلان جاری کیا، جو اپنے ادبی انداز میں بھی بادشاہت کے اعلانوں کا چربہ تھا۔ حملے کے پہلے دن محاذ سے ہٹائے گئے روسی سپاہیوں کو فن لینڈ کی پارلیمنٹ کے دروازوں پر تعینات کر دیا گیا۔ یوں اکتوبر کی طرف بڑھتے روس کے عوام نے طبقاتی قوتوں کی جدوجہد میں جمہوریت کے اصولوں کو حاصل مستند مقام کا اچھا تجربہ حاصل کر لیا۔
حکمران طبقات کی اِس بے لگام قوم پرستی کے سامنے فن لینڈ کے انقلابی سپاہیوں نے قابلِ قدر طرز عمل اپنایا۔ ستمبر کے آغاز میں ہلسنگفورس میں ہونے والی سوویتوں کی علاقائی کانگریس نے اعلان کیا: ’’اگر فن لینڈ کی جمہوریت سیم کے اجلاسوں کو دوبارہ جاری کرنا مناسب سمجھتی ہے تو اِس میں رکاوٹ ڈالنے کی ہر کوشش کو یہ سوویت کانگریس ایک ردِ انقلابی اقدام سمجھے گی۔‘‘ یہ عسکری امداد کی براہِ راست پیشکش تھی۔ لیکن فن لینڈ کی جمہوریت، جس میں مصالحت پسندانہ رجحانات حاوی تھے، سرکشی کا راستہ اپنانے کو تیار نہیں تھی۔نئی تحلیل کی دھمکی کے سائے میں ہونے والے نئے انتخابات نے اُن بورژوا پارٹیوں کو 200 میں سے 180 کی اکثریت دی جن کی رضامندی سے حکومت نے سیم کو تحلیل کیا تھا۔
لیکن یہاں داخلی سوالات سامنے آگئے، ایسے سوالات جنہیں گرینائٹ کے پہاڑوں اور لالچی مالکان کی اِس سرزمین پر ناگریز طور پر ایک خانہ جنگی پر منتج ہونا تھا۔ فن لینڈ کی بورژوازی نیم پوشیدہ انداز میں اپنے عسکری کیڈر تیار کر رہی تھی۔عین اِسی وقت سرخ محافظوں کا خفیہ مرکزہ بھی تشکیل پا رہا تھا۔ بورژوازی نے ہتھیاروں اور فوجی انسٹرکٹروں کے لئے سویڈن اور جرمنی سے رجوع کیا۔ مزدوروں کو روسی سپاہیوں نے مدد فراہم کی۔ مزید برآں کل تک پیٹروگراڈ سے مفاہمت کی طرف مائل بورژوا حلقوں میں اب روس سے مکمل علیحدگی کی تحریک پنپ رہی تھی۔ اُن کے کلیدی اخبار نے لکھا: ’’روسی لوگ ایک انارکسٹ جنون کی لپیٹ میں ہیں… کیا اِن حالات میں ہمیں خود کو انتشار سے ہر ممکن حد تک دور نہیں کر لینا چاہئے؟‘‘ عبوری حکومت نے آئین ساز اسمبلی کا انتظار کئے بغیر رعایات دینے پر خود کو مجبور پایا۔23 اکتوبر کو ایک فرمان جاری کیا گیا جس میں عسکری اور خارجہ معاملات کے سوا ’’اصولی طور پر‘‘ فن لینڈ کی آزادی کو تسلیم کر لیا گیا۔ لیکن کیرنسکی کے ہاتھ سے ملنے والی ’’آزادی‘‘ کی کوئی خاص قدر نہیں تھی: اُس کے دھڑن تختے میں دو دن ہی باقی تھے۔
گوشت میں دوسرا اور کہیں بڑا کانٹا یوکرائن تھا۔ جون کے آغاز میں یوکرائنی پارلیمنٹ (Rada) کی طرف سے بلائی گئی یوکرائنی سپاہی کانگریس پر پابندی لگا دی تھی۔ یوکرائنیوں نے اطاعت سے انکار کر دیا۔ اپنی حکومت کی عزت بچانے کی خاطر کیرنسکی نے کانگریس کی اجازت دے دی اور ایک جذباتی تار بھی بھیجا، جس پر مندوبین نے ہتک آمیز قہقہے لگائے۔ اِس تلخ سبق کے باوجود کیرنسکی نے تین ہفتے بعد ماسکو میں مسلمانوں کی عسکری کانگریس پر پابندی لگا دی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ بے چین اقوام پر یہ جمہوری حکومت واضح کر دینا چاہتی تھی: تمہیں وہی ملے گا جو چھین لو گے۔
10 جون کو اپنے پہلے ’’اعلانِ عام‘‘ میں یوکرائنی پارلیمنٹ نے پیٹروگراڈ پر قومی آزادی کی مخالفت کا الزام عائد کرتے ہوئے واضح کیا: ’’ہم اپنی زندگی خود تعمیر کریں گے۔‘‘ کیڈٹوں نے یوکرائنی رہنماؤں پر جرمن ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا؛ مصالحت پسندوں نے جذباتی نصیحتیں کیں؛ عبوری حکومت نے ایک وفد کیف (Kiev) بھیجا۔ یوکرائن کے گرم ماحول کے پیش نظر کیرنسکی، سریتیلی اور ترشچینکو نے یوکرائنی پارلیمنٹ سے ملنے کے لئے کچھ قدم اٹھانے ضروری سمجھے۔ تاہم مزدوروں اور سپاہیوں پر جولائی کے حملوں کے بعد یوکرائن کے سوال پر بھی حکومت دائیں جانب مڑ گئی۔ 5 اگست کو یوکرائنی پارلیمنٹ نے وسیع اکثریت سے حکومت پر ’’روسی بورژوازی کے سامراجی رجحانات سے لبریز ہونے‘‘ اور 3 جولائی کا معاہدہ توڑنے کا الزام لگایا۔ یوکرائنی حکومت کے سربراہ وینی چینکو نے اعلان کیا، ’’جب وعدہ پورا کرنے کا وقت آیا تو پتا چلا کہ عبوری حکومت ایک گھٹیا دھوکے باز ہے، جو دھوکے بازی کے ذریعے ایک عظیم تاریخی مسئلے سے جان چھڑانے کی توقع کرتی ہے۔‘‘ یہ غیرمبہم زبان اُن حلقوں میں بھی حکومت کی عملداری کا مناسب پتا دیتی ہے جنہیں سیاسی طور پر اُس کے کافی قریب ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ آخر کار یوکرائنی مصالحت پسند وینی چینکو اور کیرنسکی میں اتنا ہی فرق تھا جتنا ایک اوسط درجے کے ناول نگار اور ایک اوسط درجے کے وکیل میں ہوتا ہے۔
یہ درست ہے کہ ستمبر میں حکومت نے آخر کار روس کی تمام قومیتوں کے ’’حق خود ارادیت‘‘، جس کی حدود کا تعین آئین ساز اسمبلی نے کرنا تھا، کو تسلیم کرنے کا فرمان جاری کر دیا۔ لیکن مستقبل کے اِس بالکل بے ضمانت اور متضاد وعدے پر کسی کو اعتبار نہیں تھا۔ عبوری حکومت کے کرتوت چیخ چیخ کر اُس کے خلاف گواہی دے رہے تھے۔
اِس دوران یوکرائنی مصالحت پسند اپنے پیٹروگراڈ کے بڑے کزنوں کے نسبت خود کو کہیں زیادہ محفوظ محسوس کر رہے تھے۔ اُن کی قومی حقوق کی جدوجہد کو میسر موافق ماحول سے قطع نظر، کئی دوسری محکوم اقوام کی طرح یوکرائن میں بھی پیٹی بورژوا پارٹیوں کے نسبتاً استحکام کی وجوہات معاشی و سماجی تھیں، جنہیں ایک لفظ میں بیان کیا جا سکتا ہے: پسماندگی۔ ڈونٹس اور کریووروگ (Krivorog) میں تیز صنعتی ترقی کے باوجود بحیثیت مجموعی یوکرائن ابھی تک عظیم روس سے پیچھے تھا۔ یوکرائنی پرولتاریہ کم یکساں اور کم پختہ تھا۔ معیار اور مقدار، دونوں لحاظ سے بالشویک پارٹی کمزور تھی، منشویکوں سے علیحدہ ہونے میں سست تھی اور سیاسی اور بالخصوص قومی صورتحال سے زیادہ بہتر انداز میں وابستہ نہیں تھی۔ حتیٰ کہ یوکرائن کے صنعتی مشرقی حصوں میں اکتوبر کے وسط میں جاکر بھی سوویتوں کے ایک علاقائی اجلاس نے معمولی مصالحت پسندانہ اکثریت کا مظاہرہ کیا!
یوکرائنی بورژوازی اِس سے بھی کہیں زیادہ کمزور تھی۔ جیسا کہ ہمیں یاد ہے کہ روسی بورژوازی کے سماجی عدم استحکام کی ایک وجہ یہ حقیقت تھی کہ اُس کا زیادہ طاقتور حصہ ایسے غیرملکیوں پر مشتمل تھا جو روس میں رہتے تک نہیں تھے۔ لیکن سرحدی علاقوں کی تو اپنی دیسی بورژوازی کا تعلق بھی اُس قوم سے نہیں تھا جس سے عوام کے کلیدی حصے کا تھا۔
اِن سرحدی علاقوں میں شہروں کی آبادی اپنے قومی اجزا میں دیہات کی آبادی سے بالکل مختلف تھی۔ یوکرائن اور سفید روس [۴] میں زمیندار، سرمایہ دار، وکیل اور صحافی ایک عظیم روسی، ایک پول ، ایک یہودی ، ایک پردیسی ہوتا تھا؛ دیہی آبادی مکمل طور پر یوکرائنی اور سفید روسی ہوتی تھی۔ بالٹک ریاستوں کے شہر جرمن، روسی اور یہودی بورژوازی کی جنت تھے؛ دیہات سارے کے سارے لیٹویائی اور ایسٹونیائی تھے۔ جارجیا کے شہروں میں روسی اور آرمینائی آبادی کا غلبہ تھا، جو نہ صرف اپنی زندگی اور ثقافت کے معیار بلکہ زبان کے لحاظ سے بھی عوام کے کلیدی حصے سے جدا تھی، جیسے ہندوستان میں انگریز ہیں۔ اپنی جائیدادوں اور آمدن کے لئے افسرشاہانہ تنظیم پر منحصر اور دوسرے تمام ممالک کے حکمران طبقات سے جڑے ہونے کی وجہ سے اِن سرحدی علاقوں کے زمینداروں، صنعتکاروں اور تاجروں نے اپنے گرد روسی اہلکاروں، کلرکوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، وکلا، صحافیوں اور کسی حد تک مزدوروں کا تنگ حلقہ جمع کر کے شہروں کو روسی ثقافت اور نوآبادکاری کے مراکز میں تبدیل کر دیا تھا۔
دیہات جب تک خاموش تھے، اُنہیں نظر انداز کرنا ممکن تھا۔ تاہم جب وہ زیادہ سے زیادہ بے صبری سے اپنی آواز بلند کرنے لگے تو شہر اپنے برتر مقام کے دفاع میں مزاحمت کرنے لگا۔عہدیدار، تاجر اور وکیل نے جلد ہی سیکھ لیا کہ بڑھتے ہوئے ’’شاونزم‘‘ کی مذمت کی آڑ میں صنعت اور ثقافت کے کلیدی شعبوں پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کی کوشش کو کیسے چھپایا جائے۔ ایک حکمران قوم کی مروجہ نظام کو برقرار رکھنے کی خواہش کو اکثر ’’قوم پرستی‘‘ سے ماورا ہونے کا لبادہ پہنایا جاتا ہے، بالکل جیسے ایک فاتح قوم کی مالِ غنیمت سے چمٹے رہنے کی خواہش بڑی آسانی سے امن پسندی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یوں گاندھی کے سامنے برطانوی وزیر اعظم میکڈونلڈ خود کو انٹرنیشنلسٹ گمان کرتا ہے۔ اِسی طرح جرمنی کی طرف آسٹریا والوں کی کشش فرانسیسی وزیر اعظم پونکارے کو فرانسیسی امن پسندی پر حملہ معلوم ہوتی ہے۔
عبوری حکومت میں یوکرائنی پارلیمنٹ کے وفد نے مئی میں لکھا، ’’یوکرائن کے شہروں میں رہنے والے لوگ اپنے سامنے روسی انداز میں ڈھلی ہوئی سڑکیں دیکھتے ہیں اور بالکل بھول جاتے ہیں کہ سارے یوکرائنی عوام کے سمندر میں یہ شہر صرف معمولی جزیرے ہیں۔‘‘ اکتوبر انقلاب کے خلاف اپنے مناظرے میں روزا لکسمبرگ نے دعویٰ کیا تھا یوکرائنی قوم پرستی پہلے صرف روایتی پیٹی بورژوا دانشوروں کی ’’تفریح‘‘ تھی، جسے حق خودارادیت کے بالشویک کلیے نے مصنوعی طور پر بڑھاوا دیا۔روزا لکسمبرگ یہاں اپنی درخشاں سوچ کے باوجود ایک تاریخی غلطی کا شکار ہو گئی۔ یوکرائنی کسانوں نے ماضی میں قومی مطالبات اِس لئے نہیں کئے تھے کہ یوکرائنی کسان بالعموم سیاسی وجود کی سطح تک بلند ہی نہیں ہوئے تھے۔ فروری انقلاب کا اہم ترین کام (شاید یہ اِس کا واحد مگر بہت اہم کام تھا) ہی یہی تھا کہ اِس نے روس کے محکوم طبقات اور اقوام کو آخر کار بولنے کا موقع دیا۔ تاہم کسانوں کی سیاسی بیداری اُن کی اپنی آبائی زبان کے ذریعے ہی ممکن تھی۔ اِس کی مخالفت کا مطلب کسانوں کو واپس عدم وجود میں ہانک دینا ہوتا۔
شہروں اور دیہاتوں کے درمیان قومیت کا فرق تکلیف دہ انداز میں سوویتوں میں بھی محسوس کیا گیا، جو زیادہ تر شہری تنظیمیں تھیں۔ مصالحت پسند پارٹیوں کے زیر قیادت سوویتیں اکثر بنیادی آبادی کے قومی مفادات کو نظرانداز کر دیتی تھیں۔ یوکرائن میں سوویتوں کی کمزوری کی یہ ایک وجہ تھی۔ ریگا اور ریوال کی سوویتیں لیٹویائی اور ایسٹونیائی لوگوں کے مفادات بھول گئیں۔باکو میں مصالحت پسندانہ سوویت نے بنیادی ترکمان آبادی کے مفادات کی تضحیک کی۔ انٹرنیشنلزم کے جعلی پرچم تلے سوویتیں اکثر یوکرائنیوں اور مسلمانوں کی دفاعی قوم پرستی کے خلاف مزاحمت کر کے شہروں کی جابر روسی تحریک کو آڑ فراہم کرتی تھیں۔ کچھ عرصے بعد بالشویکوں کے زیر قیادت اِن سرحدی علاقوں کی سوویتوں نے دیہاتوں کی زبان بولنا شروع کر دی۔
فطرت اور استحصال تلے دبے سائبیریائی بدیسیوں کو عمومی معاشی و ثقافتی پسماندگی نے اُس سطح تک بھی بلند نہ ہونے دیا جہاں قومی امنگوں کا آغاز ہوتا ہے۔ اطالوی جس بیماری کو فرانسیسی اور فرانسیسی جسے اطالوی برائی قرار دیتے تھے، سائبیریائی لوگ اُسے ’’روسی‘‘ کہتے تھے۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ تہذیب کے بیج کس ماخذ سے آئے تھے۔ فروری انقلاب اِتنی دور تک نہیں پہنچ پایا۔ قطبی میدانوں کے اِن شکاریوں اور رینڈیئر پالنے والوں کو ابھی اپنی سحر کا انتظار کرنا تھا۔
دریائے وولگا کے ساتھ شمالی قفقاز اور وسطی ایشیا میں آباد اقوام اور قبائل، جنہیں فروری انقلاب نے پہلی بار قبل از تاریخ کے وجود سے بیدار کیا تھا، کی ابھی تک نہ تو کوئی قومی بورژوازی تھی اور نہ ہی قومی پرولتاریہ۔ کسان اور گلہ بان عوام کے اوپر ایک باریک پرت نے دانشور طبقہ تشکیل دیا۔ یہاں ابھی تک قومی خود انتظامی کے پروگرام تک بلند نہ ہونے والی جدوجہد زیادہ تر اپنے حروف تہجی، اپنے اساتذہ، حتیٰ کہ بعض اوقات اپنے پادری رکھنے جیسے معاملات سے متعلقہ تھی۔ اِن طریقوں سے انتہائی کچلے ہوئے لوگ یہ سیکھنے پر مجبور ہو رہے تھے کہ ریاست کے تعلیم یافتہ آقا رضاکارانہ طور پر اُنہیں دنیا میں ابھرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یوں جو سب سے پسماندہ تھے وہ مجبور ہو گئے کہ سب سے انقلابی طبقے سے اتحاد کی سعی کریں۔ اپنے نوجوان دانشوروں کے بائیں بازو کے عناصر کے ذریعے اُنہیں بالشویکوں کی طرف کا راستہ ملنے لگا۔
زارشاہی کے تحت بشکیروں، بوریاتوں، کرغزوں اور دوسرے خانہ بدوش قبائل سے چھینی گئی بہترین زمینیں ابھی تک زمینداروں اور امیر روسی کسانوں کی ملکیت میں تھیں، جو مقامی آبادی کے درمیان نوآبادیاتی جزیروں میں بکھرے ہوئے تھے۔ یہاں آزادی کی قومی روح کی بیداری کا مطلب سب سے پہلے اِن نوآبادکاروں کے خلاف جدوجہد تھا جنہوں نے زمین کی ملکیت کا ایک مصنوعی پٹی دار نظام قائم کر رکھا تھا اور خانہ بدوشوں کو بھوک اور بتدریج معدومی میں غرق کر دیا تھا۔ دوسری طرف نوآبادکاروں نے ایشیائیوں کی ’’علیحدگی پسندی‘‘ کے خلاف روس کی وحدت، یعنی اپنے قبضوں کے تقدس کا بھرپور دفاع کیا۔ ٹرانسبیاکل میں مقامی تحریکوں سے نوآبادکاروں کی نفرت نے وحشت کا روپ دھار لیا۔دیہاتی کلرکوں اور محاذ سے لوٹنے والے نان کمیشنڈ افسران میں سے بھرتی کئے جانے والے سوشل انقلابیوں کی قیادت میں بوریاتوں کے خلاف بلوے زوروں پر رہے۔
مروجہ نظام کو جہاں تک ہو سکے برقرار رکھنے کی پریشانی میں نوآبادیاتی علاقوں کے تمام استحصالی اور غاصب طبقات اب آئین ساز اسمبلی کے حتمی اختیارات کا حوالہ دینے لگے۔ یہ لفاظی اُنہیں عبوری حکومت نے فراہم کی تھی، جسے یہاں اپنا یقینی تحفظ مل گیا تھا۔ دوسری طرف محکوم اقوام کے مراعت یافتہ حلقے بھی اب زیادہ سے زیادہ آئین ساز اسمبلی کا نام لینے لگے تھے۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کے مُلّا بھی، جو نیچے سے دباؤ ناقابل برداشت ہو جانے پر بیدار ہوتی ہوئی پہاڑی اقوام اور شمالی قفقاز کے قبائل پر شریعت کا سبز پرچم لہرا دیتے تھے، اب سوال کو ’’آئین ساز اسمبلی تک‘‘ موخر کر رہے تھے۔ یہ پورے ملک میں قدامت پسندی، رجعت ، خصوصی مفاد اور مراعت کا نعرہ بن گیا۔ آئین ساز اسمبلی سے استدعا کا مطلب تاخیر اور وقت کا حصول تھا۔ تاخیر کا مطلب تھا: اپنی قوتوں کو یکجا کرو اور انقلاب کا گلہ گھونٹ دو۔
قیادت صرف پہلے پہل ہی اور صرف پسماندہ اقوام میں ہی (تقریباً صرف مسلمانوں میں ہی) مذہبی پیشواؤں اور جاگیردار اشرافیہ کے ہاتھ آئی۔ بالعموم دیہاتوں میں قومی تحریک کی قیادت دیہی اساتذہ، دیہی کلرک، نچلے درجے کے حکام اور افسران اور کسی حد تک تاجر کر رہے تھے۔ زیادہ معزز اور خوشحال عناصر پر مشتمل روسی یا روسی رنگ میں رنگے دانشوروں کے ساتھ ساتھ سرحدی شہروں میں ایک نئی نوجوان پرت بھی تشکیل پائی، جو اپنے دیہی ماخذ سے جڑی ہوئی تھی اور سرمائے کی ضیافت تک رسائی نہیں رکھتی تھی۔ اِسی پرت نے بنیادی کسان عوام کے قومی اور کسی حد تک سماجی مفادات کی سیاسی نمائندگی کا بیڑا اٹھایا۔
قومی بنیادوں پر روسی مصالحت پسندوں کے مخالف ہونے کے باوجود اِن سرحدی علاقوں کے مصالحت پسندوں کا تعلق بھی اُسی بنیادی قسم سے تھا اور زیادہ تر اُنہی ناموں سے پکارے جاتے تھے۔ یوکرائنی سوشل انقلابیوں اور سوشل ڈیموکریٹوں، جارجیائی اور لیٹویائی منشویکوں اور لیتھوینیائی ’’ترودووکوں‘‘ نے اپنے عظیم روسی ہم ناموں کی طرح انقلاب کو بورژوا نظام کے ڈھانچے میں مقید کرنے کی کوشش کی۔ لیکن یہاں مقامی بورژوازی کی انتہائی کمزوری نے منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کو مجبور کیا کہ بورژوازی کے ساتھ اتحاد بنانے کی بجائے ریاستی اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ زراعت اور محنت کے سوالات پر مرکزی حکومت سے آگے بڑھنے پر مجبور اِن سرحدی علاقوں کے مصالحت پسندوں کو فوج اور ملک کے سامنے مخلوط عبوری حکومت کے مخالف نظر آنے کا فائدہ بھی حاصل تھا۔ یہ سب کچھ اگر روسی مصالحت پسندوں اور سرحدی علاقوں کے مصالحت پسندوں کا انجام مختلف نہیں بنا سکا تو کم از کم اُن کے عروج و زوال کی رفتار کو بدل دیا۔
جارجیائی سوشل ڈیموکریٹوں نے نہ صرف جارجیا کے غریب کسانوں کی قیادت کی بلکہ سارے روس کی ’’انقلابی جمہوریت‘‘ کی تحریک کی قیادت کا دعویٰ بھی کیا۔ انقلاب کے پہلے مہینوں کے دوران جارجیائی دانشوروں کے قائدین جارجیا کو ایک قومی مادرِ وطن نہیں بلکہ ایک گیرونڈ (Girond)، ایسا ایک مقدس جنوبی صوبہ تصور کرتے تھے جسے سارے ملک کو رہنما فراہم کرنے تھے۔ ماسکو کے ریاستی اجلاس میں جارجیا کے ایک نمایاں منشویک چینکیلی نے شیخی بگھاری کہ جارجیا والوں نے زارشاہی کے تحت بھی ہر اچھے برے وقت میں کہا تھا: ’’ایک واحد مادرِ روطن، روس۔‘‘ اِسی چینکیلی نے ایک ماہ بعد جمہوری اجلاس میں چلّا کر کہا، ’’میں جارجیائی قوم کے بارے میں کیا کہوں ؟ یہ مکمل طور پر عظیم انقلابِ روس کی خدمت کو حاضر ہے۔‘‘ یہ بالکل درست ہے کہ جب کبھی بھی انفرادی علاقوں کے قومی دعووں کو معتدل بنانے یا روکنے کی ضرورت پیش آتی تھی تو یہودی مصالحت پسندوں کی طرح جارجیائی مصالحت پسندبھی ہمیشہ عظیم روسی افسر شاہی کی ’’خدمت کو حاضر‘‘ ہوتے تھے۔
تاہم یہ سب تب تک ہی جاری رہا جب تک جارجیائی سوشل ڈیموکریٹوں کو انقلاب کو بورژوا جمہوریت کے ڈھانچے میں مقید کر پانے کی توقع تھی۔ جوں ہی بالشویزم کی قیادت میں عوام کی فتح کا خطرہ نمودار ہونے لگا، جارجیائی مصالحت پسندوں نے روسی مصالحت پسندوں سے دور ہٹتے ہوئے خود جارجیا کے رجعتی عناصر کے ساتھ مضبوط اتحاد بنا لیا۔ جب سوویتیں فتح یاب ہوئیں تو واحد روس کے یہ جارجیائی علمبردار فوراً علیحدگی کا ڈھنڈورا پیٹنے لگے۔
سماجی تضادات، جو سرحدی علاقوں میں بالعموم کم پکے ہوئے تھے، کا یہ ناگزیر قومی بہروپ مناسب طور سے بیان کرتا ہے کہ اکتوبر انقلاب کو مرکزی روس کی نسبت محکوم قومیتوں میں زیادہ مخالفت کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔ تاہم دوسری طرف قومیتوں کے مسئلے نے فطری طور پر فروری حکومت کو بے رحمی سے لرزا دیا اور مرکز میں انقلاب کے لئے موافق حالات پیدا کئے۔
اِن حالات میں قومی تضادات جب کبھی طبقاتی تضادات سے ہم آہنگ ہوتے تھے تو زیادہ تپ جاتے تھے۔ لیٹویائی کسانوں اور جرمن نوابوں کی زمانہ قدیم سے چلی آ رہی چپقلش نے جنگ کے آغاز میں کئی ہزار محنت کش لیٹویائی باشندوں کو فوج میں رضاکارانہ شمولیت کی تحریک دی۔ لیٹویائی دہقانوں اور کسانوں کی نشانچی رجمنٹوں کا شمار محاذ کے بہترین دستوں میں ہوتا تھا۔ تاہم مئی میں ہی وہ ایک سوویت حکومت کی حمایت کرنے لگے تھے۔ اُن کی قوم پرستی درحقیقت ایک نابالغ بالشویزم کا بیرونی خول تھی۔ ایسٹونیا میں بھی کچھ ایسا ہی عمل رونما ہوا۔
پولش یا پولش رنگ میں رنگے جاگیرداروں، شہروں اور چھوٹے قصبوں میں یہودی آبادی اور روسی حکام والے سفید روس میں دوہرے تہرے جبر سے دوچار کسانوں نے قریبی محاذ کے زیر اثر اپنے قومی اور سماجی غیض و غضب کو بالشویزم کے راستے پر گامزن کر دیا۔ آئین ساز اسمبلی کے انتخابات میں سفید روسیوں کی وسیع تعداد نے بالشویکوں کو ووٹ دیا۔
اِن تمام عوامل، جن میں سماجی غیض و غضب ایک بیدار قومی وقار سے جڑ گیا تھا، نے فوج میں اپنا تند و تیز اظہار کیا۔ یہاں قومی رجمنٹوں کی تشکیل کے لئے ایک حقیقی جوش اور ہیجان موجود تھا، جنہیں جنگ اور بالشویزم کی طرف اُن کے رویے کی مناسبت سے ایک وقت میں مرکزی حکومت نے سرپرستی سے نوازا، پھر ایک اور وقت میں برداشت اور آخر کار عتاب کا نشانہ بنایا۔ لیکن بالعموم وہ پیٹروگراڈ کی زیادہ سے زیادہ مخالف ہوتی چلی گئیں۔
انقلاب کی ’’قومی‘‘ نبض پر لینن کی مضبوط گرفت تھی۔ ستمبر کے آخر میں لکھے گئے ایک مشہور مضمون ’’بحران پک چکا ہے‘‘ میں اُس نے زوردار انداز سے نشاندہی کی کہ جمہوری اجلاس میں قومیتوں کی نمائندگی ’’ریڈیکلزم کے معاملے میں صرف ٹریڈ یونینوں سے پیچھے تھی اور مخلوط حکومت کے خلاف فیصدی ووٹوں میں سوویت نمائندگی سے آگے تھی۔‘‘ اِس کا مطلب تھا محکوم اقوام کو عظیم روسی بورژوازی سے مزید کسی بھلے کی امید نہیں تھی۔ وہ آزادانہ عمل کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کر رہی تھیں۔
دور دراز ورخنیوڈنسک میں بوریاتوں کی اکتوبر کانگریس میں ایک مقرر نے اعلان کیا کہ ایک بدیسی کی حالت زار میں ’’فروری انقلاب نے کچھ بھی نیا متعارف نہیں کروایا ہے۔‘‘ اُس کی جانب سے پیش کئے گئے صورتحال کے خلاصے نے اگر بالشویکوں کی حمایت نہیں تو کم از کم اُن کی طرف دوستانہ غیرجانبداری کا رویہ اپنانے کی ضرورت کا احساس دلایا۔
پیٹروگراڈ کی سرکشی کے دنوں میں منعقد ہونے والی کُل یوکرائنی سپاہی کانگریس نے یوکرائنی سوویت کو اقتدار کی منتقلی کے خلاف قرارداد منظور کی، لیکن ساتھ ہی عظیم روسی بالشویکوں کی سرکشی کو ’’جمہوریت مخالف عمل‘‘ سمجھنے سے انکار کر دیا اور وعدہ کیا کہ پیٹروگراڈ میں سرکشی کو کچلنے کے لئے یوکرائن سے سپاہی بھیجنے کی روک تھام کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔ قومی جدوجہد کے پیٹی بورژوا مرحلے کی غمازی کرنے والے اِس ابہام نے پرولتاریہ کے اُس انقلاب کو سہولت دی جس نے تمام ابہاموں کا خاتمہ کرنا تھا۔
دوسری طرف سرحدی علاقوں کے بورژوا حلقے، جو قبل ازیں مسلسل اور ہمیشہ مرکزی اقتدار کی طرف مائل تھے، اب ایسی علیحدگی پسندی کے پرجوش حامی بن گئے جس کی زیادہ تر صورتوں میں کوئی قومی بنیاد نہیں رہی تھی۔ بالٹک کی بورژوازی، جو رومانوف بادشاہت کی پہلی فصیل تھی اور کل تک پرجوش قوم پرستی کی کیفیت میں جرمن نوابوں کی پیروی کر رہی تھی، اب علیحدگی پسندی کے پرچم تلے بالشویک روس اور اپنے ہی عوام کے خلاف کھڑی ہو گئی۔ اِس راستے پر اِس سے بھی زیادہ دلچسپ مظہر نمودار ہوا۔ 20 اکتوبر کو ایک نئی ریاستی تشکیل کی بنیادیں رکھی گئیں، ’’کاسک دستوں، کاکیشیائی پہاڑی باشندوں اور میدانوں کی آزاد اقوام کی جنوب مشرقی یونین۔‘‘ ڈان، کوبان، ٹائیر اور استراخان کاسکوں کے سردار، جو شاہانہ مرکزیت کے سب سے بڑے محافظ تھے، چند ہی مہینوں میں وفاقیت کے پرجوش حامی بن گئے اور ان بنیادوں پر مسلمان پہاڑی اور میدانی باشندوں کے رہنماؤں کے ساتھ متحد ہو گئے۔ اِس وفاقی ڈھانچے کی سرحدوں نے شمال سے آنے والے بالشویک خطرے کے خلاف فصیل کا کردار ادا کرنا تھا۔ تاہم بالشویکوں کے خلاف خانہ جنگی کا تربیتی میدان تخلیق کرنے سے پہلے یہ ردِ انقلابی علیحدگی پسندی، حکمران اتحاد سے ٹکرائی اور اِسے مزید پست حوصلہ اور کمزور کر دیا۔
یوں دوسرے تمام مسائل کی طرح قومی مسئلہ بھی عبوری حکومت کے لئے میڈوسا [۵] کا سر ثابت ہوا، جس میں مارچ اور اپریل کی امیدوں کا ہر بال اب نفرت اور غضب کے سانپ میں تبدیل ہو چکا تھا۔