← Back to Newsroom OS تعلیم

لال خان: میں اس کے رنگوں میں سوچتا ہوں

By جدوجہد • 2026-02-24 • 9 min read

ڈاکٹر چنگیز ملک

آج سے قریب 18 سال قبل، جنوری 2006 کا ذکر ہے۔ راقم کا کلینک خوب ’مال‘بنا رہا تھا کہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جس نے زندگی کو زر کی چکا چوند سے چھٹکارا دلا کر، انفرادی بقا کے گھن چکر سے نکالا اور اجتماعیت کے راستے پر گامزن کر دیا۔ ایسا راستہ جس کی منزل ایک ایسے سماج کی تعمیر ہے، جہاں اونچ، نیچ کی ہر تفریق، امیر، غریب کا فرق اور جبر و استحصال، ماضی کی داستانیں بن جائیں گی۔ میرے طبقے کا ہر فرد، میری طرح، رائج اقدار سے بیزار ہو چکا ہے۔ اگر اس بے چینی کو کوئی درست سمت مل جائے، تو جینے کا بڑا مقصد ہاتھ لگ جاتا ہے، ورنہ زندگی بے معنی گزر جاتی ہے۔ ایک ایسا ہی شفیق ہاتھ تھا، جس نے انگلی تھامی اور جینے کا ڈھنگ سکھایا کہ اپنے لیے تو جانور بھی جیتے ہیں۔ دوسروں کے لیے زندگی وقف کرنا، انسان ہی کے شایان ہے۔ وہ ہاتھ کامریڈ پرویز ملک کا تھا۔ وہ کسی گڈریا کی طرح ہاتھ تھامے انڈس بار ہوٹل اٹک کے ایک ہال میں لے گئے۔ جہاں ایک گرج دار آواز گونج رہی تھی۔

وہ ماضی کے اسباق سے، حال کا تجزیہ کر کے، مستقبل کا تناظر تخلیق کر رہا تھا۔ اتنی پر اثر مدلل گفتگو کہ دلوں پر ایک سحر طاری تھا۔ یہ محض لفظوں کی جادوگری نہیں تھی، بلکہ روح کی گہرائیوں سے برآمد ہونے والا سچ تھا۔ وہ شخص سامعین کو ایک امید، ایک آشا اور روشن مستقبل کی نوید سنا رہا تھا۔ انداز ایسا کہ حرف نہیں گویا موتی بکھیر رہا تھا۔ وہ محنت کش طبقے کی 139 دن کی تاریخ کو یوں بیان کر رہا تھا کہ ہر شخص خود کو انہی انقلابی لمحات میں تلاش کر رہا تھا۔ وہ کوئی اور نہیں، اپنی ذات میں یگانہ کامریڈ لال خان تھے۔ ان کی گفت گو اس قدر عام فہم اور حقائق پر مبنی تھی کہ وہاں موجود ہر شخص دم بخود تھا۔ یہ اس لیے تھا کہ کامریڈ کے منہ سے نکلنے والا حرف حرف سچ تھا۔ تلخ معاشی حالات، نظریات سے عاری اور مفادات پر مبنی سیاست سے نالاں سامعین، اس گفتگو کو سننے کے بعد اپنے اندر ایک نیا جوش اور ولولہ محسوس کر رہے تھے۔ کچھ بڑا کر گزرنے کی تڑپ اور اندھیروں میں دیے جلانے کی امنگ جاگ اٹھی۔ اتنے صاف اور واضح پیغام نے دل و دماغ کے بند کواڑ وا کر دیے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ڈاکٹر چنگیز ملک، کامریڈ چنگیز ہو گیا۔

سرمایہ دارانہ نظام کی وحشتیں، برصغیر کے خونی بٹوارے، 69-68 کی انقلابی سرکشی، 1978 میں کالے دھن کا تیز پھیلاؤ اور پاکستان کے حکمران طبقات کی تاریخی نااہلیت کو اثر انگیز پیرائے میں بیان کرنا، کامریڈ لال خان کا ہی فن تھا۔ اس وقت سے تا دم تحریر یہ انقلابی سفر نہ رکا ہے، نہ رکے گا۔ معمول کے حالات اور پسماندہ سماجوں میں فرد کا کردار، مبالغے کی حد تک بڑھ جاتا ہے۔ اور ہم اس پر فخر بھی کرتے ہیں کہ ہمارا استاد لال خان تھا۔ جس کی شخصیت کا سیاسی پہلو، قابل تقلید ہے۔ افراد کی نجی زندگی کیا ہے، اور وہ کیا ہیں، میرے لیے سب بے معنی ہے۔ اہم ہے تو بس اتنا ہے کہ وہ اپنے مقصد حیات کے ساتھ کس قدر وفادار ہیں۔ غالب نے کہا تھا:

وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو

کامریڈ کی سیاسی زندگی اور نظریاتی وابستگی، ان کے لکھے ہوئے، ہر حرف سے جھلکتی ہے۔ یہی مقام ہے، جہاں مخالفین بھی نظریں جھکا لیتے ہیں۔ عاجزی و انکساری کسی بھی انقلابی کا شیوہ ہے،لال خان میں یہ دونوں خوبیاں موجود تھیں۔ ساتھیوں پر اعتماد کرنا، اور بھروسہ دینا، لال خان کا وطیرہ تھا۔ لال خان آج ہمارے ساتھ نہیں ہیں، لیکن ان کا کام، ان کی ناقابل مصالحت انقلابی جدوجہد، ہر انقلابی کی میراث ہے۔ ان کا جنوب ایشیا کی سوشلسٹ فیڈریشن کا خواب تمام انقلابیوں کے کندھوں پر رکھا بھاری قرض ہے، جس کو چکانا سیاسی فریضہ ہے، ورنہ انسانی نسل کی بقا خطرے میں ہے، اور ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ ہر فرد یکتا ہوتا ہے، جس کا دوسرا فرد نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کوئی دوسرا لال خان نہیں ہو سکتا، لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم سب لال خان ہیں۔

Dr. Changez Malik

ڈاکٹر چنگیز ملک مرکزی جوائنٹ سیکرٹری پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین و مرکزی کوارڈینیٹر آل پاکستان ایمپلائز پنشنرز لیبر تحریک ہیں۔