لاہور میں احتجاج: قرضوں کی معافی، ماحولیاتی انصاف کی فراہمی کا مطالبہ
لاہور ( پ ر) لاہور پریس کلب کے سامنے کسانوں، مزدوروں، خواتین ورکرز اور مختلف سماجی تنظیموں نے عالمی مالیاتی نظام، قرضوں کی معافی اور ماحولیاتی انصاف کے مطالبات کے ساتھ بھرپور احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی، لیبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن، تعمیرِ نو ویمن ورکرز آرگنائزیشن، جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور دیگر تنظیموں کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔ لاہور کا یہ مظاہرہ اُن عالمی احتجاجی سرگرمیوں کا حصہ ہے جو دنیا کے 41 ممالک میں اقوام متحدہ کی فنانسنگ فار ڈویلپمنٹ کانفرنس سے پہلے کی جا رہی ہیں، تاکہ عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جا سکے۔
مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھاکہ ‘‘قرض ختم کرو، موسمیاتی انصاف دو’’ اور‘‘غریب عوام پر نہیں، امیروں پر ٹیکس لگاؤ’’۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک قرضوں اور موسمی آفات کے دوہرے بحران کا شکار ہیں جبکہ طاقتور ممالک اور ادارے اس ظالمانہ مالیاتی نظام کا دفاع کر رہے ہیں۔
پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی نمائندہ صائمہ ضیا نے کہاکہ ‘‘ہم دہائیوں سے ایک ایسے نظام کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جس کا فائدہ امیر اور طاقتور طبقے کو ہوا ہے۔ قرضوں اور موسمیاتی تباہ کاریوں نے کسانوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قرضے معاف کیے جائیں اور ماحولیاتی نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔’’
لیبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر خالد محمود نے کہاکہ ‘‘ہر نیا آئی ایم ایف معاہدہ محنت کشوں کے لیے مہنگائی، تنخواہوں کی بندش اور عوامی سہولیات کی نجکاری لے کر آتا ہے۔ قرض معافی اور منصفانہ مالیاتی نظام محض نعرہ نہیں، بلکہ زندہ رہنے کی شرط بن چکا ہے۔’’
تعمیر نو ویمن ورکرز آرگنائزیشن کی رفعت مقصود نے کہا کہ ’’مہنگائی، بے روزگاری اور موسمیاتی آفات کا سب سے زیادہ اثر غریب خواتین ورکرز پر پڑتا ہے۔ جبکہ حکمران طبقے اور کمپنیاں دولت سمیٹ رہے ہیں، خواتین فیکٹریوں اور کھیتوں میں اپنا خون پسینہ بہا رہی ہیں۔ یہ خیرات نہیں، ہمارا حق ہے۔‘‘
مقررین نے مطالبہ کیا کہ قرض معافی، موسمیاتی فنڈز کا فوری اور بلا سود اجراء، اور اقوام متحدہ کے تحت قرض اور ٹیکس سے متعلق نئے شفاف اور جمہوری معاہدے کیے جائیں۔ مظاہرین نے عالمی مالیاتی نظام کی ناانصافی کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور کہاکہ ’’یہ جدوجہد صرف پاکستان کی نہیں، بلکہ افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا کے مظلوم عوام کی مشترکہ جنگ ہے۔ جب تک قرض ختم نہیں ہوتے اور موسمیاتی انصاف نہیں ملتا، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔‘‘