لندن میں انتہائی دائیں بازو کے ابھار کے خلاف مارچ میں 50 ہزار سے زائد افراد کی شرکت
لاہور(جدوجہد رپورٹ)برطانیہ میں انتہائی دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سیاست کے خلاف ہفتے کے روز وسطی لندن کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔ مظاہرے کا عنوان”مارچ ٹو اسٹاپ دی فار رائٹ“تھا، جس میں شرکا نے خاص طور پر بریگزٹ مہم کے سرکردہ رہنما نائیجل فراج کی جماعت ریفارم یوکے کی بڑھتی مقبولیت پر تشویش کا اظہار کیا، جو حالیہ عوامی سرویز میں سرفہرست ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق ٹریڈ یونینز اور سول سوسائٹی تنظیموں کی حمایت سے منعقدہ اس مارچ کو ٹوگیدر الائنس نے منظم کیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس اہلکاروں نے شرکا کی تعداد تقریباً 50 ہزار بتائی۔ مظاہرین نے ریفارم یوکے کی مہاجر مخالف پالیسیوں کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جبکہ مارچ میں ایرانی پرچم، فلسطین کے جھنڈے اور یکجہتی کے بینرز بھی نمایاں طور پر لہرائے گئے۔
حالیہ رائے شماریوں کے مطابق ریفارم یوکے وزیراعظم کیر اسٹارمر کی لیبر پارٹی سمیت دیگر روایتی برطانوی جماعتوں سے آگے ہے۔ برطانیہ کی گرین پارٹی کے سربراہ زیک پولانسکی نے بھی مارچ میں شرکت کی، جو لیبر کے متبادل کے طور پر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا کہ مارچ کے دوران اور اسی روز ہونے والے ایک علیحدہ پروفلسطین مظاہرے کے سلسلے میں 25 افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔