← Back to Newsroom OS ادارتی

لوگ سیلاب سے نہیں ریاستی نااہلی سے تباہ ہوتے ہیں

By جدوجہد • 2025-08-30 • 10 min read

اداریہ جدوجہد


رواں سال جاری مون سون نے پاکستان کو ایک بار پھر سیلاب کی تباہ کاریوں سے دوچار کر دیا ہے۔ دریاؤں کے لامحدود بہاؤ اور بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کی وجہ سے 14لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے،2لاکھ65ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقاموں پر منتقل کیا گیا، اور 1400 سے زائد گاؤں زیر آب آئے ہیں۔ پنجاب میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ پورے ملک میں اموات کی تعداد 800 سے زائد ہو چکی ہے۔

خیبرپختونخوا، زیر انتظام علاقوں گلگت بلتستان اور جموں کشمیر میں میں سیلاب اور لینڈسلائیڈز نے تباہی مچائی۔ بونیر میں 158 اموات ہوئیں، پورے خیبرپختونخوا میں 320 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ گھروں، پلوں، سڑکوں اور 10ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا، اور 45ہزار سے زائد افرادبے گھر ہوئے۔


اس تباہی نے فنڈز کے وعدوں، امدادی دعوؤں اور حکومتی اقدامات کو بے معنی ثابت کیاہے۔ 2022 کے سیلاب کے بعد عالمی برادری نے 11 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا، مگر آج تک اس میں سے صرف چند فیصد امداد ہی پاکستان تک پہنچ سکی، کیونکہ حکومت قابل عمل منصوبے پیش نہیں کر سکی۔ نتیجتاً آج ایک بار پھر متاثرین کو پناہ گاہوں یا خیموں میں گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، مکانات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، پینے کا صاف پانی اور خوراک میسر نہیں ہے۔


قدرتی آفات تباہ کن نہیں ہوتیں، بلکہ ریاستی ترجیحات یہ تعین کرتی ہیں کہ کس کی جان بچانی ہے اور کسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا جانا ہے۔ پاکستانی ریاست کی تاریخی زوال پذیری اور حکمران طبقات کی ترجیحات ہی ہیں، جو ہر کچھ سال بعد بڑے پیمانے پر قدرتی آفات سے تباہی اور بربادی کا موجب بنتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے موسموں میں آنے والی شدت اب ان بربادیوں کے تسلسل میں تیزی ہی لاتی جا رہی ہے۔


امریکہ جیسی ترقی یافتہ ترین سرمایہ دارانہ ریاست میں بھی 2005کے سمندری طوفان نے بھی یہ واضح کیا کہ قدرتی آفات کا شکار ہمیشہ کمزور اور پسماندہ پرتیں ہی بنتی ہیں۔ نیواورلینز کی سیاہ فام اور کم آمدنی والی بستیوں کو امریکی حکمران طبقات نے بھی طوفان میں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا تھا۔ بوسیدہ انفراسٹرکچر بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا موجب بنا تھا۔


دوسری جانب جاپان، چلی اور کیوبا کی مثالیں یہ واضح کرتی ہیں تھوڑی سے ریاستی منصوبہ بندی سے نقصان کو کم اور منظم کیا جا سکتا ہے۔ جاپان زلزلے کے خطرے میں رہتا ہے، مگر سٹرکچر، تربیت اور ایمرجنسی نیٹ ورک نے اموات کو محدود رکھا۔ چلی میں بھی زلزلے معمول ہیں، لیکن منصوبہ بندی اور بلڈنگ کوڈ پر سختی سے عملدرآمد نقصانات کو کم سے کم کرتا ہے، جبکہ ان تباہ کن زلزلوں میں ہلاکتیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ کیوبا بھی ایک پسماندہ ملک ہے، اور اکثر سمندری طوفانوں کی زد میں رہتا ہے۔ تاہم طوفانوں کے وقت بڑے پیمانے پر انخلا انتظامات، کمیونٹی سسٹم اور عوامی شعور کو فعال رکھنے کی دولت جانی نقصان انتہائی کم ہوتا ہے۔


پاکستان کی ریاست نے ہمیشہ ڈیموں کو حل کے طور پر پیش کیاہے۔ یہ سرمایہ داروں اور عالمی سامراجی اداروں، بالخصوص عالمی بینک کے منافعوں اور ٹھیکوں کا ذریعہ ہیں۔ ماہرین بار بار بتا چکے ہیں کہ ڈیم سیلاب کا حل نہیں، بلکہ نکاسی، جنگلات کی بحالی، کمیونٹی نظام، انفراسٹرکچر مرمت جیسے اقدامات درکار ہیں، مگر چونکہ ان میں کمیشن یا لوٹ مار کی اتنی گنجائش نہیں بنتی، اس لیے یہ پس پشت ہی رہتے ہیں۔


آفات خود طبقاتی نہیں ہوتیں، بلکہ طبقاتی ریاستی ڈھانچے ان آفات کے کردار کو طبقاتی بنا دیتے ہیں۔ امیر طبقہ محفوظ رہتا ہے، غریب، کسان، مزدور اور دور دراز دیہات فنڈز اور منصوبہ بندی سے محروم رہنے کے باعث قدرتی آفات میں سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ آج پنجاب اور خیبرپختونخوامیں آبادیاں پانی میں گھری ہوئی ہیں۔ لوگ بھوکے ہیں، بیمار ہیں، بے گھری میں ہیں۔ تاہم حکمران مزید قرضے، ڈیم کے دعوے، میڈیا بیانات کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف ہے۔ سیلاب کے نقصات سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی بجائے محض عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیچھے چھپنے اور امداد حاصل کرنے کی کوشش پر توجہ مرکوز رکھی جا رہی ہے۔ عالمی وعدے بھی بیانات کی حد سے آگے نہیں گئے۔


پاکستان میں سرمایہ داری کے تحت سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے آبادیوں کو محفوظ رکھنا اس لیے ممکن نہیں کہ یہاں ریاستی منصوبہ بندی منافع، اشرافیہ کے مفادات اور عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کے تابع ہے۔ وسائل عوامی ضرورت کی بجائے کرپشن، دفاعی اخراجات اور نمائشی منصوبوں پر ضائع ہوتے ہیں، اس لیے نہ مضبوط انفراسٹرکچر بنتا ہے، نہ ہی دیہی و غریب آبادیوں کو تحفظ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آفت کے بعد اربوں ڈالر کے وعدے اور اعلانات تو ہو جاتے ہیں لیکن وہ عوامی ریلیف اور بچاؤ کے لیے عملی منصوبوں میں ڈھل نہیں پاتے۔

ان حالات سے نکلنے کے لیے سوشلسٹ تبدیلی ناگزیر ہے، جہاں زمین، صنعت اور وسائل عوامی ملکیت میں ہوں، ریاستی ترجیح انسانی زندگی اور اجتماعی بھلائی ہو، سائنس و ٹیکنالوجی کو عوامی منصوبہ بندی کے تابع کر کے محفوظ رہائش، پائیدار انفراسٹرکچر اور موثر ایمرجنسی سسٹم بنایا جا سکے۔ سوشلسٹ بنیادوں پر ہی یہ ممکن ہے کہ قدرتی آفات کو اجتماعی تباہی کی بجائے ایک منظم اور عوام دوست نظام کے تحت قابو کیا جائے اور معاشرہ ان کے اثرات سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رہے۔