لینن نے مارکس کا مطالعہ کیسے کیا
لیون ٹراٹسکی
ترجمہ: عمران کامیانہ
لیون ٹراٹسکی نے لینن کی سوانح عمری لکھنے میں کئی سال وقف کیے۔ لیکن بدقسمتی سے وہ اس کام کو مکمل نہ کر سکے۔ تاہم انہوں نے وہ ابواب مکمل کر لیے تھے جو لینن کے لڑکپن اور ابتدائی زندگی بارے تھے۔ یہ ابواب 1936ء میں فرانس میں شائع ہوئے۔ لینن کے مارکسی مطالعے کے طریقہ کار سے متعلق یہ مضمون انہی میں سے ایک باب سے لیا گیا ہے۔ اس مضمون میں لینن کے لئے ’ولادیمیر‘ اور ’اولیانوف‘ کے نام بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے واضح رہے کہ لینن کا اصل اور مکمل نام ’ولادیمیر ایلیچ اولیانوف‘ تھا۔ اسی طرح لینن کی نوجوانی کے تناظر میں ’سمارا‘ کا ذکر کئی بار موجود ہے۔ سمارا دراصل دریائے وولگا کے کنارے روس کا ایک بڑا شہر ہے جہاں لینن 1889ء تا 1893ء مقیم رہا اور وہیں اس نے پہلی بار گہرائی میں مارکسزم کا مطالعہ کیا۔ زیر نظر ترجمے میں بریکٹوں کا استعمال مترجم کی جانب سے وضاحت کی غرض سے کیا گیا ہے۔
بدقسمتی سے ہمیں یہ کسی نے نہیں بتایا کہ لینن نے مارکس کا مطالعہ کس طرح کیا۔ اس بارے میں ہمارے پاس چند سطحی اور محدود مشاہدات ہی موجود ہیں۔ مثلاً یاسنیوا لکھتی ہے: ’’وہ پورا پورا دن مارکس کا مطالعہ کرتا رہتا تھا۔ خلاصے تیار کرتا، اقتباسات نقل کرتا اور نوٹس بناتا رہتا۔ اس دوران اسے کام سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔‘‘
’سرمایہ‘ (Das Kapital) کے وہ خلاصے جو لینن نے تیار کیے تھے‘ ہم تک نہیں پہنچ سکے۔ اس نوجوان فکری جہد کار کے مارکس پر کیے گئے کام کی ازسرِنو تشکیل کا واحد ذریعہ وہ نوٹ بکس ہیں جو اس نے بعد کے برسوں میں اپنے مطالعے کے دوران مرتب کیں۔ ولادیمیر ابھی ہائی اسکول میں ہی تھا جب وہ اپنے مضامین کا آغاز ہمیشہ ایسے کرتا کہ پہلے ایک مکمل منصوبہ تیار ہوتا، جس کے بعد دلائل اور مناسب اقتباسات اس میں شامل کیے جاتے۔ اس تخلیقی عمل میں وہ ایک ایسی خصوصیت کا اظہار کرتا جسے (جرمن سوشل ڈیموکریٹک تحریک کے بانی) فرڈیننڈ لاسال نے بجا طور پر ’’فکر کی جسمانی قوت‘‘ قرار دیا تھا۔
مطالعہ، جو محض میکانکی تکرار نہیں ہوتا، تخلیقی محنت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ لیکن ایک الٹی یا معکوس نوعیت کی تخلیقی محنت۔ کسی دوسرے کے کام کا خلاصہ تیار کرنا دراصل اس کی منطق کے ڈھانچے کو بے نقاب کرنا ہوتا ہے۔ یعنی دلائل، مثالوں اور ضمنی باتوں کو الگ کر کے اس کے بنیادی ڈھانچے کو سامنے لانا۔
ولادیمیر اس دشوار راستے پر خوشی اور جوش کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ وہ پڑھتا، سوچتا اور ہر باب‘ حتیٰ کہ بعض اوقات تو ایک صفحے کا بھی خلاصہ تیار کرتا۔ اور اس دوران منطقی ساخت، جدلیاتی تبدیلیوں اور اصطلاحات کو جانچتا اور پرکھتا جاتا۔ یوں وہ نتائج کو دسترس میں لیتے ہوئے طریقہ کار کو اپنے اندر جذب کر لیتا۔ وہ گویا کسی دوسرے کے فکری نظام کی سیڑھیوں پر یوں چڑھتا تھا جیسے اسے خود ازسرِ نو تعمیر کر رہا ہو۔ یوں یہ سب کچھ اس کے نہایت منظم اور مرتب دماغ میں پختگی سے راسخ ہو جاتا تھا۔
ابتدائی تشکیل کا مرحلہ
اپنی بعد کی زندگی میں لینن نے ان روسی سیاسی و معاشی اصطلاحات سے کبھی انحراف نہیں کیا جنہیں اس نے سمارا (میں نوجوانی) کے زمانے میں سیکھا یا خود وضع کیا تھا۔ یہ محض ضد کی وجہ سے نہیں تھا۔ اگرچہ فکری ضد اس کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک تھی۔ لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ اپنے ابتدائی برسوں ہی سے وہ اصطلاحات کے انتخاب میں نہایت احتیاط برتنے کا عادی ہو چکا تھا۔ وہ ہر اصطلاح کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتا۔ جب تک کہ وہ اس کے شعور میں تصورات کے ایک پورے سلسلے کے ساتھ مربوط نہ ہو جاتی۔
الاکائیفکا اور سمارا میں ولادیمیر کے لئے ’سرمایہ‘ کی پہلی اور دوسری جلد بنیادی درسی کتب کی حیثیت رکھتی تھیں۔ کیونکہ اس وقت تک تیسری جلد شائع نہیں ہوئی تھی۔ مارکس کے (تیسری جلد کے) مسودے کو اس وقت ضعیف العمر اینگلز ابھی مرتب کر رہا تھا۔ ولادیمیر نے ’سرمایہ‘ کا اس قدر گہرا مطالعہ کیا تھا کہ بعد میں جب بھی وہ اس کی طرف لوٹتا تو اس میں نئی باتیں دریافت کرتا۔ جیسا کہ وہ بعد کے برسوں میں خود بھی کہا کرتا تھا کہ سمارا ہی کے زمانے میں اس نے مارکس سے ’’مشورہ لینا‘‘ سیکھ لیا تھا۔
اس تبدیل شدہ اور گہری قدردانی کے حامل ذہن میں استاد کی کتابوں سے گستاخی یا چھیڑ چھاڑ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ مارکس کی فکری نشوونما کا سراغ لگانا، اس کی ناقابلِ مزاحمت قوت کو محسوس کرنا، سرسری جملوں یا ضمنی اشاروں سے منطقی نتائج اخذ کرنا، ہر مرتبہ مارکس کے طنز کی صداقت اور گہرائی پر اپنے یقین کو تازہ کرنا اور اس بے رحم ذہانت کے سامنے شکر گزاری کے ساتھ سر جھکا دینا… یہ سب کچھ ولادیمیر کے لئے محض ضرورت ہی نہیں بلکہ مسرت کا ذریعہ بھی بن گیا تھا۔ مارکس کو اس سے زیادہ چوکس اور متوجہ قاری کبھی نہیں ملا۔ نہ ہی کوئی ایسا جو اس کے ساتھ اس قدر ہم آہنگ ہو۔ اور نہ ہی مارکس کو اس سے بہتر اور اتنا حساس اور شکر گزار شاگرد نصیب ہوا۔
ووڈوسوف کے بقول ’’لینن کے لئے مارکسزم محض عقیدہ نہیں بلکہ مذہب تھا۔ اس میں یقین کی ایک ایسی شدت محسوس ہوتی تھی جو ایک حقیقی سائنسی نقطہ نظر سے مطابقت نہیں رکھتی۔‘‘ ظاہر ہے کہ ایک سطحی اور معمولی ذہنیت کے انسان کے لئے وہی سماجیات ’’سائنسی‘‘ کہلانے کی مستحق ہوتی ہے جو اسے اپنی رائے ہر وقت بدلتے رہنے کا حق دے۔ جیسا کہ ووڈوسوف خود کہتا ہے: اس میں کوئی شک نہیں کہ اولیانوف ’’مارکسزم کے خلاف اٹھائے جانے والے تمام اعتراضات میں گہری دلچسپی لیتا اور ان پر غور کرتا تھا‘‘ لیکن وہ ایسا ’’سچائی کی تلاش کے لئے نہیں‘‘ بلکہ اس لئے کرتا کہ ان اعتراضات میں کوئی ایسی غلطی دریافت کرے ’’جس کی موجودگی بارے وہ پہلے ہی سے قائل ہوتا تھا۔‘‘
اس بات میں کچھ حقیقت ضرور موجود ہے۔ اولیانوف نے مارکسزم کو انسانی فکر کے سارے سابقہ ارتقا کی سب سے پختہ پیداوار کے طور پر قبول کیا تھا۔ اس بلندی تک پہنچنے کے بعد وہ واپس کسی نچلی سطح پر نہیں اترنا چاہتا تھا۔ جن نظریات پر وہ غور و فکر کر چکا تھا اور جنہیں وہ اپنی روزمرہ زندگی میں پرکھتا رہتا تھا‘ ان کا وہ ناقابلِ تسخیر توانائی کے ساتھ دفاع بھی کرتا تھا۔ یوں وہ ایسے خود پسند جاہلوں اور علم و فکر کا لبادہ اوڑھے اوسط درجے کے لوگوں کی کوششوں کو پیشگی شک کی نظر سے دیکھتا تھا جو مارکسزم کی جگہ کوئی زیادہ ’’قابلِ قبول‘‘ نظریہ پیش کرنا چاہتے تھے۔
جب بات ٹیکنالوجی یا طب جیسے میدانوں کی ہو تو روایت پرستی، شوقیہ پن اور توہم پرستانہ بکواس وغیرہ کو بجا طور پر شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن سماجیات کے میدان میں اکثر اوقات یہی چیزیں ’’آزاد سائنسی فکر‘‘ کے بھیس میں سامنے آ جاتی ہیں۔ جن لوگوں کے لئے نظریہ محض ذہنی کھیل و تفریح کی چیز ہوتا ہے وہ آسانی سے ایک دریافت سے دوسری دریافت کی جانب پھدکتے رہتے ہیں۔ بلکہ مختلف دریافتوں یا انکشافات کا ملغوبہ سا بنا کے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس نظرئیے کو عمل کا رہنما سمجھنے والا انسان کہیں زیادہ سخت گیر، دقیق، باریک بین اور متوازن ہوتا ہے۔ ڈرائنگ روم کی بحثوں میں وقت گزارنے والا ایک شک پرست دانشور تو طب کا مذاق اڑا سکتا ہے۔ لیکن ایک سرجن کا گزارہ سائنسی غیر یقینی کی فضا میں نہیں ہو سکتا۔ جس قدر ایک انقلابی کو عمل کی رہنمائی کے لئے نظرئیے کی ضرورت ہوتی ہے‘ اسی قدر وہ اس کے دفاع میں غیر مصالحت پسند ہوتا ہے۔ ولادیمیر اولیانوف شوقیہ پن اور وقت گزاری پر یقین نہیں رکھتا تھا اور عطائیوں سے سخت نفرت کرتا تھا۔ مارکسزم میں وہ جس چیز کو سب سے زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا وہ اس کے طریقہ کار کا سخت ڈسپلن اور اتھارٹی تھی۔
1893ء میں وی وورونتسوف (وی۔وی۔) اور این ڈینیلسن (نیکولایون) کی آخری کتابیں شائع ہوئیں۔ یہ دونوں نارودنک معیشت دان بڑی ثابت قدمی کے ساتھ یہ دلیل دیتے رہے تھے کہ روس میں سرمایہ دارانہ ارتقا ممکن نہیں ہے۔ اور ایسا یہ عین اس وقت کہہ رہے تھے جب روسی سرمایہ داری ایک طاقتور جست لگانے کے لئے پر تول رہی تھی۔ غالباً اس زمانے کے زوال پذیر نارودنک بھی اپنے نظریہ دانوں کے ان تاخیرزدہ ’’انکشافات‘‘ کو اتنی توجہ سے نہیں پڑھتے تھے جتنی توجہ سے سمارا کا یہ نوجوان مارکسسٹ پڑھ رہا تھا۔ اولیانوف کو اپنے مخالفین کو صرف اس لئے نہیں جاننا تھا کہ وہ ان کی تحریروں کا رد کر سکے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر وہ جدوجہد کے لئے درکار داخلی اعتماد اور یقین حاصل کرنا چاہتا تھا۔ یہ درست ہے کہ وہ حقیقت کا مطالعہ ایک مناظراتی (Polemical) انداز میں کرتا تھا اور اس وقت اس کے تمام دلائل نارودنک نظریات، جو اپنی تاریخی مدت پوری کر چکے تھے، کے خلاف مرکوز تھے۔ لیکن اس شخص، جو مستقبل میں ستائیس جلدوں پر مشتمل مناظراتی تحریروں کا مصنف بننے والا تھا، کا بحث برائے بحث سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسے زندگی کو ویسے ہی جاننا تھا جیسی وہ اصل میں ہے۔
جوں جوں ولادیمیر‘ روسی انقلاب کے مسائل کے قریب آتا گیا اور پلیخانوف کے کام سے واقف ہوتا گیا‘ اس کی نظر میں پلیخانوف کی تنقیدی تحریروں کی قدر بھی بڑھتی گئی۔ آج روسی بالشویزم کی تاریخ کو مسخ کرنے والے پریسنیاکوف جیسے لوگ اس موضوع پر ضخیم جلدیں لکھتے ہیں کہ روس میں مارکسزم جلاوطن انقلابیوں اور پلیخانوف کے کسی براہِ راست اثر کے بغیر ’’ازخود‘‘ پیدا ہو گیا۔ بلکہ (اس منطق کی رو سے) انہیں چاہئے کہ (روسی مارکسزم میں سے) مارکس کا نام بھی نکال دیں۔ کہ ہجرت اور جلاوطنی کی زندگی گزارنا والا اس سے بڑا انقلابی کون ہو سکتا ہے۔ پھر یہ لوگ لینن کو اس مستند اور خالص مقامی روسی ’’مارکسزم‘‘ کا بانی بنا دیتے ہیں جس سے بعد میں ’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘ کا نظریہ اور عمل برآمد ہوا۔
روسی سرمایہ داری کی ترقی کے براہِ راست ’’عکس‘‘ کے طور پر مارکسزم کے ’’ازخود‘‘ جنم کا نظریہ درحقیقت مارکسزم کی نہایت گھٹیا اور مکروہ نقالی ہے۔ معاشی عمل کسی ’’خالص‘‘ شعور میں، جو اپنی فطرت میں جاہل ہوتا ہے، منعکس نہیں ہوتا بلکہ تاریخی شعور میں اپنا اظہار پاتا ہے۔ وہ تاریخی شعور جو نسل انسان کی پچھلی تمام فتوحات اور حاصلات سے مالا مال ہوتا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں سرمایہ دارانہ سماج کی طبقاتی جدوجہد مارکسزم تک صرف اس لئے پہنچ سکی کیونکہ جرمن کلاسیکی فلسفے کے ذریعے جدلیاتی طریقہ پہلے سے موجود تھا، کیونکہ انگلستان میں ایڈم سمتھ اور ڈیوڈ ریکارڈو کی سیاسی معیشت موجود تھی، کیونکہ فرانس کے عظیم انقلاب سے ابھرنے والے انقلابی اور سوشلسٹ نظریات موجود تھے۔ لہٰذا مارکسزم کی پیدائش میں ہی اس کا بین الاقوامی کردار مضمر ہے۔
دریائے وولگا کے خطے میں امیر کسانوں (کولاکوں) کی بڑھتی ہوئی طاقت اور یورال کے علاقوں میں دھات کاری کی ترقی بذاتِ خود ان سائنسی نتائج تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ (روسی مارکس وادیوں کی پہلی تنظیم) ’’انجمن برائے آزادی محنت‘‘ (Emancipation of Labor Group) بیرونِ ملک قائم ہوئی۔ روسی مارکسزم چقندر کی فصل یا سستے سوتی کپڑے کی طرح روسی سرمایہ داری کی خودکار پیداوار نہیں تھا۔ حتیٰ کہ روس میں سوتی کپڑے کی پیداوار کے لئے بھی مشینیں باہر سے درآمد کرنا پڑی تھیں۔ روسی مارکسزم نے روس میں انقلابی جدوجہد کے پورے تجربے اور مغرب میں ابھرنے والے سائنسی سوشلزم کے نظرئیے کے امتزاج سے جنم لیا۔ 1890ء کی دہائی کے مارکسسٹوں نے اپنا کام پلیخانوف کی رکھی ہوئی بنیادوں پر استوار کیا تھا۔
روحانی غربت کے مارے لوگ‘ لینن کی عظمت کو کیسے ’’بڑھاتے‘‘ ہیں
لینن کی تاریخی خدمات کے اعتراف کے لئے یہ ثابت کرنے کی کوشش بالکل ضروری نہیں کہ اسے شروع ہی سے ایک کنواری یا غیر آباد زمین میں خود ہل چلانا پڑا۔ کامینیف اور ایسے دوسرے لوگوں کی باتوں کو دہراتے ہوئے ایلیزارووا لکھتی ہے، ’’تقریباً کوئی جامع تصنیف دستیاب نہیں تھی۔ اسے (یعنی لینن کو) بالکل بنیادی تحریروں کا مطالعہ کرنا پڑتا تھا اور انہی سے اپنے نتائج اخذ کرنے پڑتے تھے۔‘‘ لینن کی سخت گیر سائنسی دیانت کے لئے اس دعوے سے زیادہ ناگوار بات کوئی ہو نہیں سکتی کہ اس نے اپنے پیش روؤں اور اساتذہ کو نظر انداز کیا۔ اور یہ بات بھی درست نہیں کہ 1890ء کی دہائی کے اوائل میں روسی مارکسزم کے پاس کوئی جامع تصانیف موجود نہ تھیں۔ ’انجمن برائے آزادی محنت‘ کی اشاعتیں اس وقت تک نئے رجحان کا مختصر انسائیکلوپیڈیا بن چکی تھیں۔ روسی دانشور طبقے کے تعصبات کے خلاف چھ برس تک شاندار اور جرات مندانہ جدوجہد کے بعد پلیخانوف نے 1889ء میں پیرس میں منعقد ہونے والی عالمی سوشلسٹ کانگریس میں اعلان کیا تھا: ’’روس میں انقلابی تحریک صرف اور صرف انقلابی مزدور تحریک کے طور پر ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہے‘ نہ ہو سکتا ہے۔‘‘ اس کے یہ الفاظ پچھلے پورے عہد کے سب سے اہم عمومی نتیجے کا خلاصہ تھے۔ اور اسی ’’جلا وطن‘‘ انسان کے مذکورہ نظریاتی نتیجے کو ولادیمیر نے دریائے وولگا کے کنارے اپنی تعلیم کی بنیاد بنایا۔
ووڈووسوف اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے: ’’لینن‘ پلیخانوف کا ذکر بڑی گہری وابستگی کے ساتھ کیا کرتا تھا۔ بالخصوص جب پلیخانوف کی کتاب ’ہمارے اختلافات‘ (Our Differences) کی بات ہوتی تھی۔‘‘ لینن نے اپنے جذبات کس شدت سے ظاہر کیے ہوں گے کہ ووڈووسوف انہیں تیس برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھول نہ پایا۔ ’ہمارے اختلافات‘ کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ اس میں انقلابی پالیسی کو تاریخ کے مادی تصور اور روس کی معاشی ترقی کے تجزیے کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اسی لئے سمارا میں نارودنکوں کے خلاف اولیانوف کے ابتدائی بیانات روسی سوشل ڈیموکریسی کے اس بانی کے کام کے لئے اس کی گرمجوش قدر شناسی سے جڑے ہوئے ہیں۔ مارکس اور اینگلز کے بعد ولادیمیر سب سے زیادہ پلیخانوف کا احسان مند تھا۔
1922ء کے اواخر میں 1890ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں کا سرسری ذکر کرتے ہوئے لینن لکھتا ہے: ’’اس کے کچھ ہی عرصے بعد (روسی) مارکسزم ایک رجحان کے طور پر پھیلنا شروع ہوا اور سوشل ڈیموکریٹک سمت اختیار کی۔ جس کا اعلان مغربی یورپ میں ’انجمن برائے آزادی محنت‘ بہت پہلے کر چکی تھی۔‘‘ یہ سطور، جو ایک پوری نسل کے نظریاتی ارتقا کی تاریخ کو سمیٹتی ہیں، لینن کی اپنی سوانح عمری کا بھی ایک حصہ ہیں۔ مارکسی رجحان میں معاشی اور تاریخی نظرئیے سے آغاز کرتے ہوئے وہ ’انجمن برائے آزادی محنت‘ کے خیالات کے زیرِ اثر ایک سوشل ڈیموکریٹ بن گیا۔ وہ خیالات جو روسی دانشور طبقے کے ارتقا سے بہت آگے تھے۔
روحانی غربت کے مارے ہی یہ تصور کر سکتے ہیں کہ لینن کی عظمت کو ’’بڑھانے‘‘ کے لئے اس کے والد، جو ایک ریاستی کونسلر تھے، کے ساتھ انقلابی نظریات کو منسوب کرنا ضروری ہے۔ حالانکہ وہ انقلابی افکار سے کبھی وابستہ نہیں رہے۔ جبکہ عین اسی وقت جلاوطن پلیخانوف، جسے خود لینن اپنا روحانی باپ سمجھتا تھا، کے انقلابی کردار کو کم کر کے دکھایا جانا چاہئے۔
قازان، سمارا اور الکائیفکا میں ولادیمیر اپنے آپ کو ایک شاگرد سمجھتا تھا۔ لیکن جس طرح عظیم مصور اپنی جوانی میں پرانے اساتذہ کی تصویریں نقل کرتے ہوئے بھی اپنے برش کی ایک الگ پہچان ظاہر کر دیتے ہیں‘ ولادیمیر اولیانوف نے اپنے شاگردی کے دور میں بھی فکر اور پیش قدمی کی ایسی قوت کا مظاہرہ کیا کہ یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس نے دوسروں سے کیا سیکھا اور خود کیا تخلیق کیا۔ سمارا میں تیاری کے آخری سال کے دوران یہ فرق بالکل ہی مٹ گیا۔ شاگرد اب ایک آزاد محقق بن چکا تھا۔
ایک تاریخی تنازعہ
نارودنکوں کے ساتھ بحث فطری طور پر موجودہ حالات کے میدان میں منتقل ہو گئی۔ یعنی یہ سوال کہ روس میں سرمایہ داری کی ترقی اب بھی جاری تھی یا نہیں۔ فیکٹریوں کی چمنیوں اور صنعتی مزدوروں کی تعداد کو ظاہر کرنے والی ڈایاگرامز اور کسانوں کے اندر طبقاتی تفریق کو ظاہر کرنے والے اعداد و شمار وغیرہ ایک خاص معنی اختیار کر گئے۔ اس عمل کی حرکیات کو سمجھنے کے لئے ضروری تھا کہ آج کے اعداد و شمار کا موازنہ گزرے کل کے اعداد و شمار سے کیا جائے۔ اس طرح معاشی شماریات گویا سائنسی علوم کی ماں بن گئی۔ روس، اس کے دانشور طبقات اور اس کے انقلاب کا مستقبل ایک معمہ تھا۔ جس کا حل اعداد و شمار کی طویل قطاروں میں پوشیدہ تھا۔ حتیٰ کہ فوجی انتظامیہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً کی جانے والی گھوڑوں کی مردم شماری کو بھی اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے استعمال کیا جانے لگا کہ زیادہ طاقتور کون ہے: کارل مارکس یا روسی دیہی کمیون؟
پلیخانوف کی ابتدائی تحریروں میں شماریاتی مواد زیادہ وسیع نہیں ہو سکتا تھا۔ زمستوو (یعنی زار کے دور میں مقامی سطح کی کونسلوں) کے اعداد و شمار، جو دیہی معیشت کے مطالعے کے لئے غیر معمولی اہمیت کے حامل تھے، دراصل 1880ء کی دہائی میں ہی باقاعدہ مرتب ہونا شروع ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ ان اعداد و شمار پر مشتمل اشاعتیں ایک ایسے مہاجر کے لئے شاذ و نادر ہی دستیاب تھیں جو ان برسوں میں تقریباً مکمل طور پر روس سے کٹا ہوا تھا۔ اس کے باوجود پلیخانوف نے پوری درستگی کے ساتھ اس سائنسی کام کی عمومی سمت کی نشاندہی کر دی تھی جو اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا جانا تھا۔ نئے مکتب فکر کے ابتدائی شماریات دانوں نے اسی راستے کی پیروی کی۔
روسی نژاد امریکی پروفیسر ایم اے ہوروچ نے 1886ء اور 1892ء میں روسی دیہات پر دو مقالے شائع کیے۔ ولادیمیر اولیانوف ان کو بہت اہم سمجھتا تھا اور بطور ماڈل استعمال کرتا تھا۔ لینن کبھی اپنے پیش روؤں کی کاوشوں کو تسلیم کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔