← Back to Newsroom OS تعلیم

لینن کی جان بچانے والا فرٹز پلاٹن، سٹالنزم کے ہاتھوں ہلاک ہوا - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-05-04 • 3 min read

الیکس ڈی یونگ

دنیا کی تاریخ شاید بالکل مختلف ہوتی اگر فرٹز پلاٹن (1883-1942) نہ ہوتے۔ یہ سوئس کمیونسٹ آج زیادہ تر اس بات کے لیے یادرکھے جاتے ہیں کہ پہلی عالمی جنگ کے دوران انہوں نے جرمنی کے راستے لینن اور ان کے ساتھیوں کو لے جانے والی اس ’سیلڈ ٹرین‘ (sealed train)کا انتظام کیا تھا جس نے لینن کو روسی انقلاب میں حصہ لینے کے لیے پیٹروگراڈ پہنچایا۔ کچھ ہی عرصے بعد پلاٹن نے غالباً لینن کو ایک قاتلانہ حملے سے بھی بچایا۔تاہم دیگر بے شمار کمیونسٹوں کی طرح پلاٹن کو بھی بالآخر اسٹالن ازم نے قتل کر دیا۔

ایک محنت کش گھرانے میں پیدا ہونے والے پلاٹن کم عمری ہی میں سیاسی طور پر سرگرم ہو گئے تھے۔ صنعتی کمپنی ”ایشر ویس اینڈ کمپنی“میں بطور شاگرد (اپرنٹس) کام کرتے ہوئے انہوں نے وہ ہڑتال منظم کی جسے شاگردوں کی پہلی ہڑتال کہا جاتا ہے۔ زیوریخ میں ”کلب آف انٹرنیشنل سوشلسٹس“ کے ذریعے پلاٹن کی ملاقات لٹویاکے انقلابی ساتھیوں سے ہوئی۔ جب 1905 میں زارِ روس کی سلطنت میں انقلاب بھڑک اٹھا تو انہی ساتھیوں نے پلاٹن سے کہا کہ وہ پستول اور انقلابی لٹریچر اسمگل کرکے رِیگا پہنچائیں۔ پلاٹن وہیں رِیگا میں رہے اور مئی 1907 میں پولیس کے چھاپے میں گرفتار ہوگئے۔ غیرقانونی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا رکن ہونے کے الزام میں انہیں 8 سے20 سال کی جبری مشقت کا سامنا تھا۔8 ماہ قید میں رہنے کے بعد ان کی حالت شدید بگڑ گئی، اور انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ضمانت لینا ہائٹ نے ادا کی، جو ایک متمول گھرانے کی رکن تھیں۔ بعد ازاں دونوں نے شادی کر لی۔ پلاٹن بالآخر ملاحوں کی مدد سے لٹویا سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ ملاحوں نے انہیں ہیمبرگ جانے والے ایک بحری جہاز میں چھپا دیا۔ 1908 میں ”پہلے روسی انقلاب میں حصہ لینے والے واحد سوئس سوشلسٹ“پلاٹن سوئٹزرلینڈ واپس پہنچ گئے۔

سوئٹزرلینڈ واپسی کے بعد پلاٹن نے سوشلسٹ اور مزدور تحریک میں مختلف قائدانہ کردار ادا کئے۔ مختلف تنظیموں کی قیادت کی۔ 1912 میں زیورخ میں اس وقت ایک روزہ عام ہڑتال ہوئی جب حکام نے پکٹنگ (ہڑتالی پہرے) پر پابندی لگانے کی کوشش کی۔ ہڑتال کے شرکاء نے بعد میں پلاٹن کو ”ہمارا جرنیل“کا خطاب دیا، جو واحد چلتی ہوئی ٹیکسی میں بیٹھ کر ایک پکٹ لائن سے دوسری تک جاتے رہے۔ نومبر 1918 کی ملک گیر عام ہڑتال میں بھی پلاٹن نے اہم کردار ادا کیا۔ سوئس سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے اکتوبر انقلاب کی پہلی سالگرہ منانے کے لیے عوامی اجتماعات اور ایک منشور جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ پلاٹن نے ہی وہ منشور تیار کیا تھا، جس میں سوئس مزدور طبقے سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ نئی انٹرنیشنل میں اپنا مقام سنبھالے، خطرے میں گھرے اکتوبر انقلاب کی مدد کو پہنچے، اور اپنے اوپر مسلط ظلم کا طوق اتار پھینکے۔

اس اعلامئے کے باعث زیورخ کی میونسپلٹی نے شہر میں فوج تعینات کرنے کی درخواست کی۔ جب فوج نے ایک مظاہرے کو منتشر کیا تو کئی مزدوروں کو گولیاں مار دی گئیں۔ 1978 کی ایک سوویت اشاعت نے بڑے جوش و خروش سے لکھا کہ ”زیورخ کے ہر فرد میں مقبول مزدور رہنما“ پلاٹن کس طرح ”بغیر ہتھیار، سر اونچا کیے، بے خوفی سے خطرے کی طرف بڑھتا ہوا“ فوجیوں کے پاس گیا تاکہ انہیں فائرنگ روکنے پر قائل کرے۔ پانچ دن بعد عام ہڑتال ختم کر دی گئی۔ کمیونسٹ انٹرنیشنل کی پہلی کانگریس میں پلاٹن نے تحریک کی ناکامی کی ذمہ داری ہڑتال کی قیادت کے تذبذب کا شکار رویے اور مزدور ملیشیا کی تشکیل کا مطالبہ نہ کرنے پر ڈالی۔ ہڑتال میں ان کے کردار کے سبب انہیں 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ سوئس مزدور تحریک میں پلاٹن کی آخری بڑی شراکت سوئس کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھنے میں ان کا کردار تھا۔

پلاٹن نے یہ قید کی سزا 1920 میں کاٹی، کیونکہ مقدمے کے وقت وہ روس میں تھے۔ لینن نے پیپلز کمیسار برائے فارن ٹریڈ اے ایم لژاوا سے درخواست کی تھی کہ وہ پلاٹن کو سوویت تجارتی نمائندہ مقرر کر دیں تاکہ انہیں سفارتی استثنا مل جائے، لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی۔ پلاٹن 1915 سے لینن کو جانتے تھے، یعنی زیمروالڈ اور کیئن تھال کی کانفرنسوں کے وقت سے۔ زیمروالڈ اجلاس میں سوئس سوشل ڈیموکریٹس نے سرکاری طور پر تو حصہ نہیں لیا تھا، لیکن اپنے ارکان کو ذاتی حیثیت میں شرکت کی اجازت دی تھی۔ اسی طرح پلاٹن نے 1916 کی کیئن تھال کانفرنس میں سوئس پارٹی کے نمائندے کے طور پر حصہ لیا۔ دونوں مواقع پر وہ انقلابی بائیں بازو کے ساتھ کھڑے تھے۔

فروری انقلاب کے بعد سوئٹزرلینڈ میں مقیم روسی سلطنت کے جلاوطن باشندوں نے ”سوئٹزرلینڈ میں روس سے آئے ہوئے سیاسی پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے مرکزی کمیٹی“ تشکیل دی۔ اس کمیٹی میں 560 جلاوطن شامل تھے، جو 10سے زیادہ مختلف تنظیموں سے تعلق رکھتے تھے، جن میں انارکسٹوں سے لے کر ٹراٹسکی کے ’ناشے سلوو‘ گروپ، مینشویکوں، بالشویکوں اور پوئلے صیون تک، جیسی تنظیمیں شامل تھیں۔ کمیٹی نے ایک اور سوئس سوشلسٹ رابرٹ گرم سے وطن واپسی میں مدد کی درخواست کی۔ مینشویکوں کے لیفٹ ونگ سے ہمدردی رکھنے والے رابرٹ گرم نے عارضی حکومت سے جلاوطنوں کی واپسی کے لیے قانونی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وقت گزرتا گیا تو لینن اور دوسرے انقلابیوں کو بے چینی بڑھتی گئی اور انہیں شبہ ہوا کہ شاید رابرٹ گرم اور مینشویک دانستہ طور پر ان کی واپسی میں تاخیر کر رہے ہیں چنانچہ انقلابی دھڑے نے پلاٹن سے کہا کہ وہ ذاتی حیثیت میں جرمنی کے راستے واپسی کا انتظام کریں۔کارل راڈیک خود بھی اس سفر میں شامل ہونے والے تھے، ان کے رابطوں کی مدد سے یہ طے پایا کہ جرمن حکام جلاوطنوں کو بغیر نام پوچھے گزرنے دیں گے اور ”جو لوگ اس ٹرانزٹ سے گزریں گے انہیں بین الاقوامی استثنا کا تحفظ حاصل ہوگا اور سفر کے دوران کوئی بھی شخص کسی بھی نوعیت کی بات چیت یا مذاکرات ان سے نہیں کرے گا۔ پلاٹن خود بھی جلاوطنوں کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے تاکہ ذاتی طور پر اس بات کی ضمانت دے سکیں کہ وہ تمام شرائط پر عمل کریں گے۔

اس سفر کے بعد پلاٹن کئی بار روس واپس گئے۔ 1918 میں پلاٹن اور لینن نے پیٹروگراڈ میں سرخ فوج کی ایک پریڈ میں شرکت کی۔ پریڈ کے بعد جس گاڑی میں وہ دونوں سوار تھے، اس پر لینن کی جان لینے کے لئے گولیاں چلائی گئیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ”پلاٹن نے یکایک ردعمل دیتے ہوئے،لینن کا سر نیچے دبا دیا، اور اسی لمحے ایک گولی پلاٹن کے اس ہاتھ کو چھو کر گزری، جو اس وقت لینن کے سر پر تھا“۔

1923 میں پلاٹن نے ولی مونزن برگ کی امدادی تنظیم انٹرناسیونالے اربائٹرہلفے (آئی اے ایچ) کے ساتھ کام شروع کیا۔”آئی اے ایچ“ کی سرگرمیوں میں سوویت زراعت میں جدت متعارف کرانا بھی شامل تھا۔ پلاٹن نووا لاوا میں ایک زرعی کوآپریٹو کے سربراہ مقرر ہوئے، جو ان سوئس کمیونسٹوں پر مشتمل تھا جو سوویت یونین منتقل ہو گئے تھے۔ یہ کوآپریٹو جدید تکنیک کے امکانات پرکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر وولگا کے سخت حالات میں اسے پیداواریت برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آتی رہیں۔ اگلے برس لینن کے اس تاریخی ریلوے سفر کی تفصیلی رپورٹ،جو پلاٹن نے لکھی تھی،مونزن برگ کے اخبار” نیوئی ڈوئچن فرلاگ“میں شائع ہوئی تاکہ اس الزام کا جواب دیا جا سکے کہ لینن اور دیگر بالشویک ”جرمنی کے ایجنٹ“ کے طور پر کام کر رہے تھے۔

30کی دہائی کے آغاز میں پلاٹن ماسکو میں رہتے تھے، جہاں وہ مترجم، زبان کے استاد اور زرعی انسٹی ٹیوٹ کے تحقیقی ماہر کے طور پر کام کرتے تھے۔ 1931 میں پلاٹن مختصر عرصے کے لیے واپس سوئٹزرلینڈ گئے،جو اپنے ملک میں ان کا آخری سفر ثابت ہوا۔ وہاں انہوں نے سوئس کمیونسٹوں کی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور سوویت یونین میں ”رہائش، صحت اور تعلیم“ کے مبینہ شاندار نتائج کی تعریف کی۔ اس زمانے میں ان کی ساتھی سوئس کمیونسٹ برتے زمرمان (1902-1937) تھیں، جو ماسکو میں کمیونسٹ انٹرنیشنل کے ”انٹرنیشنل لائیزان شعبے“ میں کام کر رہی تھیں۔ اسٹالن کے عہد دہشت میں زمرمان پر جاسوسی کا الزام لگا اور انہیں قتل کر دیا گیا۔ پلاٹن نے اپنی بیوی کے خلاف گواہی دینے سے انکار کیا، جس پر انہیں بھی مارچ 1938 میں گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں چار سال کی سخت مشقت کی سزا سنائی گئی۔

اس گرفتاری کا اصل بہانہ واضح نہیں۔ غیرملکی زبانوں کے انسٹی ٹیوٹ کے ایک سابق طالب علم نے بعد میں لکھا کہ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے اعلان کیا کہ پلاٹن ”گسٹاپو کا جاسوس“ ثابت ہو چکا ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق جاسوسی کا الزام واپس لے لیا گیا اور پلاٹن کو ”بغیر اجازت اسلحہ رکھنے“ کے جرم میں سزا دی گئی،ایک ایسے پستول کی وجہ سے جو انہوں نے خانہ جنگی کے زمانے کی یادگار کے طور پر رکھا ہوا تھا۔ ایک اور قیدی کی روایات کی بنیاد پر رائے میدویڈف نے اپنی کتاب”لیٹ ہسٹری جج“(Let History Judge)میں لکھا کہ پلاٹن پر ابتدائی الزام واقعی جرمن جاسوس ہونے کا ہی لگا تھا اور یہ سلسلہ 1917 سے شروع ہوا تھا، وہ لکھتے ہیں کہ ”شدید اذیت کے باوجود انہوں نے اعتراف پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ ایسا کرنا لینن پر سایہ ڈالنے کے مترادف ہوتا۔ آخرکار ان کا اور تفتیش کار کا ایک سمجھوتا ہوا کہ وہ جرمنی کے علاوہ کسی اور ملک کے لیے جاسوسی کا اعتراف کر لیں گے، وہ امریکہ تھا یا ارجنٹینا، میرے ماخذ کو درست یاد نہیں“۔

ایک غیر ملکی ہونے کے ساتھ ساتھ، اور قبل از انقلاب تحریک میں نمایاں کردار رکھنے والے شخص کے طور پر پلاٹن ان گروہوں میں شامل تھے، جنہیں اسٹالن کے عہد وحشت میں سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قطع نظر ان کا انجام شاید ویسے بھی طے تھا، کیونکہ ماسکو کے ”کلب آف جرمن کمیونسٹس“ کے سربراہ کی حیثیت سے پلاٹن نے 1928 میں لیفٹ اپوزیشن کی حمایت کی تھی، اگرچہ بعد میں انہیں اپنا موقف بدلنا پڑا۔

22 اپریل 1942 کو پلاٹن کوروس کے شمال مغربی علاقے نیاندوما کے ایک اسٹالن وادی قید خانے میں موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ سرکاری وجہ ’دل کا دورہ‘ بتائی گئی،جو اُس دور کا ایک عام بہانہ تھا۔ کئی سال بعد ان کے بیٹے کو بتایا گیا کہ فرٹز پلاٹن، وہ شخص جس نے لینن کی جان بچائی تھی، کو وہیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ 1956 میں پلاٹن کی حیثیت کو سرکاری طور پر بحال کیا گیا اور نیاندوما کی ایک سڑک کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔ یادگاری تختی میں انہیں ”لینن کا دوست اور فیلوفائٹر“ کہا گیا، مگر یہ ذکر نہ تھا کہ وہ کس طرح مارے گئے تھے۔


(ایلکس ڈی یونگ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ایجوکیشن،ایمسٹر ڈیم، کے شریک ڈائریکٹر ہیں)