ماحولیاتی انصاف: عالمی معاوضے کی بھیک مانگتے حکمرانوں کے داخلی ماحولیاتی جرائم
حارث قدیر
جاری مون سون میں پاکستان بھر میں ایک بار پھر عوام کو سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ ہمیشہ کی طرح ریاست اور حکمران اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کرتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چند سال سے حکومتوں کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تباہیوں کے سب سے زیادہ شکار ہونے والے 10بڑے ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔ گزشتہ دو سال سے عالمی سامراجی طاقتوں یا صنعتی ملکوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ رواں ماہ بھی وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے یہ مطالبات سامنے آئے ہیں۔
یہ بات بالکل درست ہے کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی بحران کی مرکزی وجہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے اور اس میں صنعتی ملکوں، بالخصوص گلوبل نارتھ کے ملکوں کا کلیدی حصہ شامل ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم، یعنی اندازاً0.8فیصد کے لگ بھگ ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی بحران کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے ملکوں میں ایک پاکستان بھی ہے۔ اس کے لیے عالمی سطح پر نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے فنڈز مقرر کرنے کا مطالبہ بھی درست ہے۔ تاہم یہ سب باتیں آدھے سچ کے مترادف ہیں۔ پاکستان میں موسموں کی شدت سے ہونے والے نقصانات میں جہاں عالمی ماحولیاتی بحران کا عمل دخل ہے، وہیں پاکستان کے حکمرانوں کی نااہلی، ریاست کی ناکامی، اور سرمایہ داروں، جاگیرداروں، وڈیروں اور طاقتور اداروں کی پالیسیوں کا بھی ایک بہت بڑا عمل دخل موجود ہے۔
بڑے ڈیم، سڑکیں، ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور صنعتیں ماحولیاتی اثرات کے تجزیے کے بغیر تعمیر کی جاتی ہیں۔ شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ جاری ہے اور جنگلات کی کٹائی بھی مسلسل جاری ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے قائم ہونے والے تمام ادارے آج بھی غیر فعال اور کمزور ہیں۔ جو اہداف ریاستی سطح پر کاربن کا اخراج کم کرنے کے لیے لیے گئے ان کے حصول کے لیے نہ تو بجٹ مہیا ہو سکا، نہ منصوبہ بندی کی جا سکی اور نہ ہی کوئی سنجیدگی اختیار کی جا سکی۔
لاہور، کراچی اور فیصل آبادجیسے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر ہے۔ یہ شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہیں۔ ندی نالوں پر غیر قانونی قبضے، قدرتی نکاسی کے راستوں کو بند کرنے جیسے عوامل پھر سیلابوں کے بپھرنے اور نقصانات کو بڑھانے کے باعث بنتے ہیں۔
پاکستان میں جنگلات کا رقبہ محض5فیصد کے قریب ہے، جبکہ عالمی اوسط30فیصد کے قریب ہے۔ درخت لگانے اور ماحولیاتی انصاف کے لیے بنائے جانے والے تمام منصوبے کرپشن، کمزور مانیٹرنگ اور سیاسی تشہیر کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو ریاست اور حکمران اشرافیہ نے ترقیاتی ماڈل کو ماحولیاتی توازن کے بغیر چلایا ہے، جس کا خمیازہ غریب محنت کش عوام بھگت رہے ہیں۔
ملک بھر میں ہاؤسنگ سوسائٹیاں مسلسل قائم ہوتی جا رہی ہیں۔ اس عمل میں جنگلات اور زرعی زمینوں پر قبضے، ندی،نالوں اور قدرتی نکاسی کے راستوں کو بند کر کے تجاوزات سمیت متعدد ایسے اقدامات کیے گئے ہیں، جس کا خمیازہ موسمی آفات کی صورت میں اس خطے کے عام عوام بھگت رہے ہیں۔ آج بھی ملکی دارالحکومت میں قائم ڈیفنس اور بحریہ جیسی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے ارد گرد دیہی اور شہری علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ پانی ان علاقوں میں اس لیے جمع ہوا ہے کہ اس پانی کے راستہ ان ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تعمیر کے دوران قبضے میں لے لیے گئے۔
’ڈان‘ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں تقریباً7لاکھ ایکڑجنگل کی زمین غیر قانونی قبضے میں ہے، جس میں سے بڑی مقدار کو ہاؤسنگ اور تجارتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
صرف پنجاب میں 1990سے2022کے دوران6لاکھ30ہزار776کنال زرعی زمین ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل کر دی گئی، جس سے زرعی زمین میں تقریباً 14فیصد کمی واقع ہوئی۔ صرف ڈی ایچ اے ملتان نے 6ہزار ایکڑ اراضی سے 5لاکھ سے زائد آم کے درخت کاٹ کر ہاؤسنگ کالونی قائم کی ہے۔
لاہور کی تقریباً70فیصد زرعی اراضی ہاؤسنگ کالونیوں میں تبدیل ہوئی ہے۔ فیصل آباد کی 30فیصد زرعی اراضٰ معدوم ہوگئی ہے۔ پشاور میں 2013سے2023کے دوران 3لاکھ2ہزار894ہیکٹر زرعی زمین ناقابل کاشت ہوئی ہے، جس میں سے 70فیصد غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے پاس ہے۔ پشاور میں کل 198ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں، جن میں سے 162غیر قانونی ہیں۔ اسی طرح چارسدہ میں 60ہزار کنال زرعی زمین ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی زد میں آچکی ہے۔
ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن جیسی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے جنگلات، زرعی زمینوں اور پانی کے قدرتی راستوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق ان دو سائٹیوں نے راولپنڈی کی تخت پڑی جنگلاتی زمین کا600ایکڑ سے زائد رقبہ قبضے میں لے کر ہاؤسنگ سوسائٹی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں بننے والی ہاؤسنگ سوسائٹیاں جنگلات کی اراضی پر تجاوزات میں ملوث ہیں۔ہری پور ڈویژن میں 39ایکڑ جنگلاتی اراضی کو ہاؤسنگ پروجیکٹس کے لیے غیرقانونی طور پر قبضے میں لے کر درخت کاٹے گئے ہیں۔ جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ پہاڑوں پر بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ شہروں اور دیہاتوں میں آبادیوں کے بے ہنگم پھیلاؤ کی وجہ سے بھی پانی کی قدرتی گزرگاہوں کا راستہ روکا گیا ہے، جس کی وجہ سے مون سون کی بارشوں میں سیلاب کے نقصانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
یوں عالمی ماحولیاتی بحران کے نقصانات کے ازالے کے لیے منافقانہ بیان بازی کرنے والے حکمران اپنی کارکردگی پر توجہ دینے سے مکمل طور پر اجتناب برت رہے ہیں۔ مقامی سطح پر اگر ماحول کو بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں تو ان نقصانات کو کئی گنا کم کیا جا سکتا ہے۔ شہروں میں فضائی آلودگی کو کم کیا جاسکتا ہے اور درختوں کی بے دریغ کٹائی کو روک کر جنگلات کا رقبہ بڑھانے جیسے اقدامات کر کے بھی ماحولیاتی آلودگی پر کافی حد تک کمی کی جا سکتی ہے۔
تاہم یہ حکمران اور ان کا نظام اس اہلیت اور صلاحیت سے عاری ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات سے اس ملک کی آبادی کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی بھی اقدامات کر سکیں۔ عالمی سطح پر کشکول لیے پھرنے والے یہ حکمران ملک کے اندر ماحول کو تباہ کرنے والے تمام منصوبوں کی سرپرستی کر رہے ہیں، یا جان بوجھ کر ان سے نظریں چرا رہے ہیں۔
