ماحولیاتی تبدیلی سے اموات کی تعداد میں 63 فیصد اضافہ
لاہور(جدوجہد رپورٹ) یونیورسٹی کالج لندن، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن اور 70 سے زائد تعلیمی و اقوام متحدہ کے اداروں کے اشتراک سے تیار کردہ تازہ ترین رپورٹ”دی لینسٹ کاؤنٹ ڈاؤن آن ہیلتھ اینڈ کلائمیٹ چینج 2025“میں انکشاف کیا گیاہے کہ ماحولیاتی تبدیلی پر عدم توجہ اور فوسل فیول پر انحصار نے دنیا بھر میں انسانی صحت پر تباہ کن اثرات ڈالے ہیں، جن کے باعث ہر سال لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
’کلائمیٹ اینڈ کپیٹل ازم‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گرمی، فضائی آلودگی، متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قلت نے دنیا بھر میں انسانی صحت اور معیشت دونوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید بدتر ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 20 میں سے 12 اہم صحت سے متعلق اشاریے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ 1990 کی دہائی کے بعد سے گرمی کے باعث اموات کی شرح میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور 2012 سے 2021 کے درمیان ہر سال اوسطاً 5 لاکھ 46 ہزار افراد شدید گرمی سے ہلاک ہوئے۔ 2024 دنیا کا تاریخ کا سب سے گرم سال ثابت ہوا، جس میں ایک سال سے کم عمر بچوں اور 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو 1986 سے 2005 کے مقابلے میں اوسطاً 300 فیصد زیادہ ہیٹ ویو ایام برداشت کرنا پڑے۔
شدید گرم اور خشک موسم نے جنگلوں کی آگ کے خطرات میں اضافہ کیا، اور صرف 2024 میں آگ کے دھوئیں سے وابستہ آلودگی کے نتیجے میں 1 لاکھ 54 ہزار اموات ہوئیں۔ اس دوران دنیا کی 60 فیصد زمینی سطح پر شدید بارشوں، اچانک سیلابوں، لینڈ سلائیڈز اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جنہوں نے زرعی پیداوار، رسد کے نظام اور خوراک کی سلامتی کو بری طرح متاثر کیا۔
رپورٹ کے مطابق بدلتا ہوا موسم مہلک متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو بھی بڑھا رہا ہے۔ ڈینگی وائرس کے پھیلنے کے امکانات میں 1950 کی دہائی سے اب تک 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ فوسل فیول کے مسلسل استعمال اور صاف توانائی کے نظام اپنانے میں تاخیر سے نہ صرف زمین گرم ہو رہی ہے بلکہ فضائی آلودگی کے باعث ہر سال لاکھوں افراد قبل از وقت موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ صرف برطانیہ میں 2022 کے دوران فضائی آلودگی سے 28 ہزار قبل از وقت اموات ہوئیں، جن میں سے 55 فیصد فوسل فیول کے استعمال سے پیدا ہونے والی آلودگی کی وجہ سے تھیں۔
کاربن سے بھرپور اور غیر صحت مند غذاؤں پر مبنی غیر پائیدار خوراک کا نظام2022 میں دنیا بھر میں 1 کروڑ 18 لاکھ غذائی امراض سے متعلق اموات کا سبب بنا۔ ماہرین کے مطابق اگر صحت مند اور ماحول دوست خوراک کا نظام اپنایا جائے تو ان اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوسل فیول سے وابستہ معیشتی نقصان بھی شدید ہے۔ 2024 میں شدید گرمی کی وجہ سے 639 ارب ممکنہ مزدوری کے گھنٹے ضائع ہوئے، جس سے عالمی معیشت کو 1.09 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا، جو دنیا کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 1 فیصد ہے۔ صرف برطانیہ میں 50 لاکھ ممکنہ مزدوری کے گھنٹے ضائع ہونے سے 103 ملین ڈالر کی آمدن متاثر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق 2023 میں فوسل فیول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومتوں نے مقامی سطح پر توانائی کو سستا رکھنے کے لیے مجموعی طور پر 956 ارب ڈالر کی خالص سبسڈی دی۔ یہ رقم COP29 میں کمزور ممالک کی امداد کے وعدے سے تین گنا زیادہ ہے۔
تاہم رپورٹ میں کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے۔ عالمی سطح پر صحت کے شعبے سے وابستہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2021 سے 2022 کے درمیان 16 فیصد کمی ہوئی، جبکہ قابل تجدید توانائی کی پیداوار تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ اندازہ ہے کہ صاف توانائی اور کوئلے کے کم استعمال سے ہر سال تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار قبل از وقت اموات سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔
رپورٹ کے شریک مصنف ڈاکٹر جیمز ملنر نے کہا کہ”تازہ ترین لینسٹ کاؤنٹ ڈاؤن رپورٹ واضح کرتی ہے کہ دنیا اب بھی ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اپنے وعدوں سے بہت پیچھے ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور پیرس معاہدے کے اہداف کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ تاہم اس کے باوجود ہمارے پاس ایسے بے مثال مواقع موجود ہیں جن کے ذریعے ہم توانائی کے نظام کو بدل کر، صاف ایندھن تک رسائی بڑھا کر اور کم کاربن ٹرانسپورٹ اپناتے ہوئے ایک ہی وقت میں ماحولیاتی بحران اور صحت کے بحران دونوں پر قابو پا سکتے ہیں۔“
ایک اور شریک مصنف پروفیسر کرس مرے نے کہا کہ”اب ہمارے پاس پہلے سے کہیں زیادہ واضح شواہد موجود ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی براہ راست انسانی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ آج ہم جو صحت کے مسائل دیکھ رہے ہیں، مثلاً شدید گرمی سے اموات، وہ انسانی سرگرمیوں کے بغیر ممکن نہ ہوتے۔ موسمیاتی تبدیلی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو بھی بڑھا رہی ہے، اور ڈینگی و وائبریو جیسی بیماریاں نئے علاقوں میں پہنچ کر ریکارڈ سطح پر پھیل رہی ہیں۔ اگرچہ صاف توانائی اور صحت مند غذائی نظام کی طرف کچھ پیش رفت ہوئی ہے، مگر یہ رفتار اب بھی ناکافی ہے، اور یہی تاخیر آج انسانی جانوں کے نقصان کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے۔“