مارکس بغیر داڑھی!
1882ء میں جب مارکس الجزائر گیا تو اس نے داڑھی مونڈھ ڈالی۔ اس بابت اس نے اینگلز کو لکھا:
’’میں نے اپنی پیغمبرانہ داڑھی سے نجات پا لی ہے، جو میری شان و شوکت کی علامت تھی، مگر ایک الجزائری حجام کے گھاٹ پر اپنے بال قربان کرنے سے قبل میں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اپنی تصور بنا لوں۔‘‘
بحوالہ: مارسیلو مستو(ٹویٹ)
ترجمہ: فاروق سلہریا