← Back to Newsroom OS خبریں

ماہ رنگ بلوچ اور ساتھیوں کا 4 مقدمات میں 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

By جدوجہد • 2025-07-09 • 9 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ) کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر کارکنوں کو 10 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیاہے۔ یوں ان کی تین ماہ سے جاری حراست میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔

’ڈان‘ کے مطابق رواں سال مارچ میں ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کریک ڈاؤن کے اگلے روز سول ہسپتال کوئٹہ پر حملہ کیا اور عوام کو تشدد پر اکسایا۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو کوئٹہ کی ہڈا ڈسٹرکٹ جیل میں 3ایم پی او کے تحت حراست میں رکھا گیا۔ یہ قانون حکام کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ایسے افراد کو گرفتار کر کے حراست میں رکھ سکیں، جنہیں عوامی نظم و ضبط کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔

ماہ رنگ بلوچ کے وکیل اسرار بلوچ نے بتایا کہ بی وائی سی کی رہنما اور دیگر پانچ کارکنوں کو جج سعادت بیزئی کے روبرو پیش کیا گیا۔ انہوں نے سرکاری وکیل کی جانب سے ان کے 10روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست منظور کر لی۔ ماہ رنگ کے ہمراہ دیگر کارکنوں میں گلزادی، بیبو بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، غفار بلوچ اور بیبرگ بلوچ شامل ہیں۔ عدالت میں ان کے وکیل کی حیثیت سے ایڈووکیٹ شعیب بلوچ بھی پیش ہوئے۔

اسرار بلوچ کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ان ارکان کو ایم پی او حراست میں آخری توسیع کے خاتمے کے بعد اب 4مختلف مقدمات میں عدالت میں پیش کیا گیا۔

جبران ناصر ایڈووکیٹ کے مطابق ماہ رنگ بلوچستان ہائی کورٹ کے مئی کے ایک فیصلے میں شامل معلومات کے مطابق ان مقدمات میں ایک 19مارچ کو سول لائنز تھانے میں سول ہسپتال پر دھاوا بولنے کے الزام میں درج کیا گیا تھا اور دوسرا 2مارچ کو بریوری تھانے میں ویسٹرن بائی پاس سڑک بلاک کرنے پر درج کیا گیا تھا۔

ماہ رنگ بلوچ کو 22مارچ کو ایم پی او کے تحت پہلی بار 30دن کے لیے حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد اپریل میں بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے ایک اور فیصلے کے تحت ان کی حراست میں مزید 30دن کی توسیع کی گئی۔ گزشتہ ماہ جب تین ماہ کی حراست مکمل ہوئی تو حکومت نے ایک چوتھا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ان کی قید میں مزید15دن کی توسیع کر دی۔

جبران ناصر کے مطابق جب ریاست ایم پی او جیسے نوآبادیاتی قوانین کو مزید استعمال نہ کر سکی تو اب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی آزادی کو انسداد دہشت گردی اور فوجداری قوانین کے ذریعے پامال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیاپر لکھا کہ ’’طویل ریمانڈز، ضمانت کی درخواستوں کی سماعت میں تاخیر، اے ٹی سی سے ضمانت کی ممکنہ مستردگی اور جب بالآخر ضمانت ہو بھی جائے تو کسی اور مقدمے میں دوبارہ گرفتاری اور کسی دوسرے ضلع کی جیل میں منتقلی کی توقع رکھیں۔‘‘

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’یہ ایک تشویش ناک امر ہے کہ کارکنوں کو بغیر کسی ثبوت کے عدالتوں میں لایا جا رہا ہے۔ایسے

اقدامات نہ صرف ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اس کے اپنے قانونی و عدالتی نظام کو بھی غیر موثر اور بے معنی بنا دیتے ہیں۔‘‘

یاد رہے کہ ماہ رنگ اور دیگر کارکنوں کی رہائی کے لیے دائر کی گئی آئینی درخواستیں بلوچستان ہائی کورٹ نے مئی میں مسترد کر دی تھیں۔ اس کے بعد ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے جون میں سپریم کورٹ میں بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ درخواست میں انہوں نے موقف اپنایا کہ ماہ رنگ کی بار بار غیر قانونی گرفتاری اور انہیں ’مسلح شدت پسندوں کی ہمدرد‘ قرار دینا ایک منظم کوشش ہے، تاکہ وہ لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھانہ بند کردیں۔