مجوزہ لیبر اصلاحات کے خلاف پرتگال میں مزدور یونینوں کی ملک گیر ہڑتال
لاہور(جدوجہد رپورٹ)پرتگال کی دو بڑی ٹریڈ یونین کنفیڈریشنز کی جانب سے دی گئی ملک گیر ہڑتال نے جمعرات کو معمولات زندگی کو شدید متاثر کیا، جس کے باعث سفری نظام درہم برہم ہو گیا اور بہت سے اسپتالوں میں طبی اپائنٹمنٹ اور اسکولوں کی کلاسیں منسوخ کرنا پڑیں۔ سرکاری اور بلدیاتی خدمات،جس میں کچرا اٹھانے کا نظام بھی شامل ہے،بری طرح متاثر ہوئیں۔
’اے پی‘ کے مطابق یونینوں کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ 10برسوں میں ملک کی سب سے بڑی ہڑتال ہوسکتی ہے۔ دونوں لیبر گروپس تقریباً 10لاکھ مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ سینٹر رائٹ کی حکومت کی مجوزہ لیبر ریفارمز کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان اصلاحات کو وہ مزدوروں کے حقوق پر حملہ قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ معیشت کومزید لچکداربنانے اور ترقی تیز کرنے کے لیے یہ تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔
حکومت کی جانب سے پیش کردہ مسودے میں کمپنیوں کے لیے ملازمین کو فارغ کرنا مزید آسان بنانا،معیشت کے مزید شعبوں میں ہڑتال کے حق کو محدود کرنا،اور ماؤں کے لیے دودھ پلانے کے وقفوں کو بچے کے پہلے دو سال تک محدود کرنا،جو اس وقت بغیر کسی مدت کے دستیاب ہیں، اور دیگر تجاویز شامل ہیں۔
ہڑتال کے باعث لزبن کے گلی کوچے معمول کے مقابلے میں سنسان رہے۔ بہت سے شہریوں نے یا تو ہڑتال میں حصہ لیا یا ٹرانسپورٹ کے تعطل کے باعث گھروں سے کام کرنے کو ترجیح دی۔ شہر کی عام چہل پہل کے مقابلے میں ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔
لزبن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پائلٹس، کیبن کریو اور بیگیج ہینڈلرز کے ہڑتال میں شامل ہونے سے درجنوں پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ اگرچہ ایئرپورٹ کھلا رہا، لیکن اندرزیادہ تر خاموشی اور ویرانی رہی۔
سرکاری ایئر لائن ٹی اے پی ایئر پرتگال نے قانون کے مطابق لازمی سروس برقرار رکھتے ہوئے 283 میں سے صرف 63 پروازیں چلائیں۔ملکی ریلوے اور بس سروس بھی نہ ہونے کے برابر چل سکی، جبکہ لزبن میٹرو نے بدھ کی شب 11 بجے سے خدمات معطل کردیں اور اعلان کیا کہ وہ جمعہ کی صبح ہی بحال ہوں گی۔
فیکٹریوں، گوداموں، اور مختلف نجی کمپنیوں میں بھی ملازمین کی بڑی تعداد نے کام چھوڑ دیا۔ لزبن کے کئی کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ 2013 کے بعد ملک کی دو بڑی یونینیں،جنرل ورکرز یونین اور جنرل کنفیڈریشن آف پرتگیز ورکرز،ایک ساتھ ہڑتال کی قیادت کر رہی ہیں۔
جنرل کنفیڈریشن آف پرتگیز ورکرز کے سربراہ تیاغو اولیویرانے کہا کہ”ہم دیکھ رہے ہیں کہ مزدور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ یہ لیبر ریفارم پیکیج واپس لے۔ یہ ہڑتال حکومت کے حملے کے خلاف مزدوروں کا مضبوط جواب ہے۔“
یورپی یونین کے 27 ممالک میں پرتگال کی معیشت سب سے چھوٹی معیشتوں میں شمار ہوتی ہے، جبکہ یہاں کے مزدور یونین کے مطابق تنخواہیں بھی یورپ میں سب سے کم ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس سے پہلے اوسط ماہانہ اجرت 1600 یورو،جبکہ کم از کم اجرت 870 یورو ہے،جسے لاکھوں کارکن وصول کرتے ہیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، 2 فیصد سے زائد مستقل افراط زر، اور جائیداد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
یورپی کمیشن کے مطابق اس سال پرتگال کی جی ڈی پی میں 2 فیصد کے قریب اضافہ متوقع ہے، جو یورپی اوسط 1.4 فیصد سے زیادہ ہے۔ بے روزگاری کی شرح تقریباً 6 فیصد ہے، جو یورپی یونین کے قریب ترین اوسط کے برابر ہے۔