← Back to Newsroom OS خبریں

محاصرے کے 30 دن مگر عوام ڈٹے ہوئے ہیں: جے کے این ایس ایف

By Roznama Jeddojehad • 2026-07-05 • 10 min read

جے کے این ایس ایف

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر 30 دن سے محاصرے میں ہے ، پھر بھی عوام کا عزم نہیں ٹوٹا۔ راولاکوٹ اور اس سے آگے تک، لوگ اب بھی دھرنا دئے بیٹھے ہیں، اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، اور سخت جبر، گرفتاریوں، چھاپوں، بارش، بھوک، بجلی کی بندش، اور خوراک و طبی سامان کی رکاوٹ کے باوجود شکست تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔

ریاست نے اپنی طاقت کا ہر طرح سے استعمال کر کے دیکھ لیا ہے: لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں، چھاپے، وارنٹ، کرفیو، بجلی کی بندش، اغوا، میڈیا میں سفید جھوٹ بولے گئے، سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ ہوا، ایک بڑی مہم چلائی گئی جس کا مقصد عوام کا عزم توڑنا تھا۔  جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 5 جولائی کو دنیا بھر میں احتجاج کی کال دی ہے۔ جے کے این ایس ایف اس کال کی حمایت کرتی ہے۔

ہمارے ساتھی جموں کشمیر میں پہلے ہی اس جدوجہد میں شامل ہیں جبکہ ہمارے ساتھی برطانیہ، امریکہ اور دنیا کے دوسرے حصوں میں احتجاج کاحتیٰ المقدور حصہ بنیں گے۔  پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں یہ تحریک محض بارہ نشستوں کے حوالے سے نہیں ابھری۔ یہ تحریک سب سے پہلے مہنگائی کے سوال پر شروع ہوئی۔

2024 میں لوگ سڑکوں پر آئے کیونکہ وہ اس صورتحال کو مزید برداشت کرنے پر تیار نہیں تھے جس میں گھروں کو بلوں کے بوجھ نے کچل دیا ہو جبکہ حکمران اپنی گاڑیاں، محافظ، دفاتر، فنڈز اور رعایتیں برقرار رکھے ہوئے ہوں۔ بعد میں، جب تحریک بڑھی اور بحران کی جڑیں واضح ہو گئیں، تو 12 مہاجر نشستیں ختم کرنے کی مانگ اس وسیع تر جدوجہد کا حصہ بن گئی۔

اس مانگ کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ یہ روٹی اور حکومت کے تعلق کو آشکار کرتی ہے۔ یہ نشستیں پاکستان کے صوبوں میں رہنے والے لوگوں کو اس علاقے کے قانون ساز ادارے کے فیصلوں کو متاثر کرنے کا حق دیتی ہیں جہاں وہ خود نہیں رہتے اور ریاست جموں کشمیر کے لوگ نتائج برداشت کرتے ہیں۔ عملی طور پر، یہ سیاسی انجینئرنگ کا آلہ بن گئی ہیں۔ یہ مخصوص نشستیں اسلام آباد کے لئے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں مینڈیٹ کی نفی کرنے اور اس کی سیاست کو بیرونی طور پر کنٹرول کرنے کا ذریعہ ہیں۔

ریاست نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کا جواب طاقت سے دیا۔ اس پر پابندی لگائی۔ گھروں پر چھاپے مارے، وارنٹ جاری کئے، پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کئے، مظاہرین پر فائرنگ کی، رابطے منقطع کیے، اور خوراک اور طبی امداد پورے خطے میں داخل ہونے سے روک دی۔ عوامی رپورٹس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 24 ہے اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ تقریباً 500 افراد کو ‘اٹھایا گیا’۔ اٹھائے جانے کو صحیح معنوں میں گرفتاریاں کہنا ریاست کو زیادہ کریڈٹ دینے کے مترادف ہے کیونکہ متعلقہ خاندانوں کو لاعلم رکھا جا رہا ہے، قانونی تقاضے نظر انداز کیے جا رہے ہیں، اور لوگ جبر کی مشینری کا شکار یوں بن رہے ہیں کہ گرفتاری کے وقت دستیاب قانونی تحفظات مفقود ہیں۔

ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن، شوکت نواز میر، کی یکم جولائی کے آس پاس گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے ساتھی عبدالوہاب، جو مرکزی کمیٹی کے رکن ہیں اور 4 جون سے زیر حراست ہیں، کی گرفتاری کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ ہم شوکت نواز میر، وکیل محمد ناصر مسعود، عبدالوہاب، اور اس کریک ڈاؤن میں نشانہ بنائے گئے دیگر سیاسی کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کی گرفتاری تحریک پر بڑے حملے کا حصہ ہے اور ریاست پورے جدوجہد کے میدان کو نشانہ بنا رہی ہے: منتظمین، طلبہ، وکیل، مزدور، تاجر، صحافی، مقررین، اور وہ لوگ جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں، سب نشانے پر ہیں۔

یہ ریاست اس خطے کو یہ سبق دینا چاہتی ہے کہ جو کوئی بھی آواز بلند کرے، اسے اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ واقعاتی تسلسل اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پچھلے عرصے میں جبر کا جواز مہیا کرنے کے لئے جو بہانے پیش کئے جا رہے ہیں، کتنے بودے ہیں۔  کریک ڈاؤن پہلے سے ہی جاری تھا۔ ریاست، اس کے حامی، اور نام نہاد خیر خواہ جو کسی تقریر، نعرے ، یا سیاسی مطالبے کا بہانہ بنا کر جبر کی تاویلیں پیش کر رہے ہیں، ان کی تاویلیں بے معنی ہیں۔

یہاں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کچھ حلقوں میں ایک خطرناک الجھن پھیل گئی ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر یہ تحریک اقتصادی مطالبات تک محدود رہتی اور سیاسی سوالات سے گریز کرتی تو اسے اس ریاستی تشدد سے بچایا جا سکتا تھا۔ اس دعوے کو رد کرنا ضروری ہے۔ ریاستی تشدد سیاسی تقریروں سے پہلے سے شروع ہو چکا تھا۔ گرفتاریاں پہلے ہوئیں۔ تقریریں بعد میں۔ یہ الزام بعد میں دستیاب ہوا۔ ہمارے ساتھی پہلے گرفتار ہو ئے۔

یہ کہنا کہ لوگوں نے سیاسی مطالبات اٹھا کر ریاستی جبر کو دعوت دی، ریاستی بیانئے کو بائیں بازو کی زبان میں بیان کرنے والی بات ہے۔ یہ تو وہی پرانا اکنامزم ہے جس کے خلاف لینن نے لڑائی لڑی۔ 1899 میں ‘رابوچایا میسل’ کے خلاف اپنی دلیل میں، لینن نے اس خیال کا مذاق اڑایا کہ جدوجہد کو صرف اس جدوجہد تک محدود ہونا چاہیے جو اس وقت ہو رہی ہو۔

لینن نے ‘رابوچایا مسل’ کے بیان کا حوالہ دیا ” ایسی جدوجہد کی خواہش کرنی چاہئے جو ممکن ہے، اور ممکن وہ جدوجہد ہے جو مزدور اس وقت کر رہے ہیں”۔ لینن نے اس بیان کو ‘بے معنی اور غیر اصولی موقع پرستی’ کہا۔ یہی نقطہ نظر اب ان لوگوں کے ذریعے دہرایا جا رہا ہے جو کہتے ہیں کہ چونکہ تحریک بجلی کے بل، گندم کی قیمتوں اور اعلیٰ طبقے کی مراعات کے خلاف شروع ہوئی تھی، اسے ان ہی مطالبات تک محدود رکھنا چاہئے تھا۔

چونکہ لوگ سب سے پہلے روٹی اور بل کی وجہ سے اٹھے تھے، انہیں طاقت، نمائندگی، ظلم، اور خودمختاری ایسے سوالات سے دستبرداری کے لئے کہا جا رہا ہے۔ لینن نے لکھا کہ اگر محنت کشوں کی صرف جدوجہد اپنی حالت بہتر کرنے کے لیے ہے، تو ‘محنت کشوں کو سوشلسٹوں کی ضرورت نہیں’۔ لینن نے اس لبرل بزدلی پر بھی تنقید کی جو ظلم و ستم کو اس بات کا ثبوت سمجھتی ہے کہ لوگ سیاسی جدوجہد کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لینن نے لکھا کہ پولیس کے ظلم و ستم سے لبرل یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ محنت کش ‘جدوجہد کے قابل نہیں’، جبکہ سوشلسٹ یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ پارٹی کو ‘مضبوط تنظیم’ بنانی چاہیے اور ‘قابل اور مدبر انقلابی’ تیار کرنے چاہئیں۔ محاصرے کا سبق یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو مضبوط تنظیم، تند رو سیاست، جمہوری حقوق کے مضبوط دفاع، اور پورے حکومتی نظام کے خلاف واضح پروگرام کی ضرورت ہے۔

ہم نے یہ بھی کہا کہ انتخاب کو جدوجہد کے میدان کے طور پر ترک نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارا یہ خیال کبھی نہیں تھا کہ صرف انتخابات ہی مسئلہ حل کر سکتے ہیں، اور نہ ہی یہ کہ انتخابی کام کو گلیوں، کام کی جگہوں، کیمپسز، محلے اور دیہاتوں میں تنظیم کی جگہ لے لینی چاہیے۔ اصل بات یہ تھی کہ انتخابات کو انہی حکمران جماعتوں اور سرپرستی کے نیٹ ورکس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑنا چاہیے جنہوں نے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کو اس نظام میں پھنسایا ہوا ہے۔

انتخابات میں شرکت، جہاں یہ مفید ہو اور جہاں کسی واضح پروگرام پر مبنی ہو، انتخابات سے ہٹ کر بھی عوامی تنظیم کاری سے منسلک ہونا چاہیے، اور اسے ایک الگ راستہ، شارٹ کٹ، یا جدوجہد کے متبادل کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔ ہم نے یہ بھی کہا ہے کہ تحریک کے اندر کچھ قوتوں نے ترقی پسند اور بائیں بازو کی قوتوں کو کونے سے لگانے کی کوشش کی، جبکہ پسماندہ، قدامت پسند اور موقع پرست عناصر نے جدوجہد کو محفوظ حد میں رکھنے کی کوشش کی، لیکن ایک زندہ عوامی تحریک میں عدم مساوات، نیچے سے دباؤ، اوپر سے دباؤ، جرات مند اقدامات، محتاط انداز میں پیچھے ہٹنا اور تیز موڑ شامل ہوتے ہیں۔

جب تحریک کا سامنا ریاست سے ہوا، تو سیاسی سوالات زمین سے ہی پیدا ہونے لگے۔ اسی لیے دو غلطیوں سے بیک وقت لڑنا ضروری ہے۔ ہم سیاسی مہم جوئی، خالی نعرے بازی اور لا پرواہی سے کئے گئے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں جو تحریک کو عوام اور دیگر قومیتوں سے الگ کر دیں، لیکن ہم ریاست کی اس کہانی کو بھی رد کرتے ہیں کہ تقریریں، نعرے اور سیاسی مطالبات معصوم شہریوں کے قتل اور نہتے لوگوں پر فائرنگ کا سبب بنے۔ الزام ان قوتوں پر ہے جنہوں نے فائر کیا، گھروں پر حملہ کیا، انٹرنیٹ بند کیا، اور شہروں کو قید خانہ بنا دیا۔ جو شخص بھی الزام بندوق چلانے والے سے نعرے کی طرف منتقل کرتا ہے، وہ حکمرانوں کو ان کے ہاتھوں سے خون دھونے میں مدد دیتا ہے۔

وہ حلقے جو اس لائن کو دہراتے رہے ہیں، انہیں اسے کھل کر اپنے اس موقف کا جائزہ لینا چاہئے اور خود سے یہ پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے جو جلد بازی تحریک کو مورد الزام ٹھہرانے میں کی، وہ ریاست کے جبر کے معاملے میں کیوں نہیں دکھائی۔ ساتھ ہی، انہیں اپنی ہی قومیتوں کے اندر موجود قومی شاونزم کو بھی چیلنج کرنا ہو گا۔ ریاست شاونزم، خاص طور پر پنجابی شاونزم، کو جموں و کشمیر کے عوام کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ ٹیلی ویژن، اخبارات، جعلی اکاؤنٹس، سوشل میڈیا مہمات، خریدی ہوئی آوازوں کا استعمال کر کے تحریک کو بیرونی حمایت یافتہ، مجرمانہ، اینٹی پنجابی، یا خطرناک ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس زہر کا بھرپور تریاق کرنا ضروری ہے اور پاکستان میں بائیں بازو کا یہ فرض ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بین الاقوامی مفادات کے تحت کھڑا ہو، جو جدوجہد پر مبنی ہے۔

بین الاقوامیت کا بوجھ مظلوم قومیت پر نہیں ڈالا جا سکتا جبکہ غالب قومیت اپنے ہی شاونزم کا محاسبہ کرنے سے بچتی رہے۔ لینن نے یہ سوال اس وقت اٹھایا جب وہ عظیم روسی شاونزم کے خلاف جدوجہد کر رہا تھا۔ جب اسٹالن نے مظلوم قومیتوں کے کمیونسٹوں کے خلاف ‘قومی سوشلسٹ’ ہونے کا الزام لگایا، تو لینن نے اس رویے پر سخت تنقید کی اور غالب قوم کے کمیونسٹوں پر زور دیا کہ وہ اپنی قوم کی شاونزم کے خلاف جدوجہد کریں۔ یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے۔ پاکستانی بائیں بازو کی پہلی ذمہ داری، خاص طور پر وہ لوگ جو غالب قومی ڈھانچے کے اندر ہیں، یہ ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے خلاف شاونزم، پروپیگنڈہ، اور ریاستی تشدد کے خلاف لڑیں۔

بار بار، عوامی تحریک کے اسٹیج سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ جدوجہد کسی خاص قومیت کے خلاف نہیں ہے۔ اس تحریک نے پورے پاکستان میں ورکنگ کلاس اور ترقی پسند عناصر کے ساتھ یکجہتی کا مطالبہ کیا ہے، بشمول پنجاب کے محنت کش طبقے اور بائیں بازو کے افراد کے۔ یہ بات نہ صرف محتاط آوازوں نے بلکہ عوامی تحریک کی قیادت کے کچھ سب سے جارح عناصر نے بھی کہی ہے۔ ہدف حکمران طبقہ اور وہ نظام ہے جو ایک مظلوم قوم کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرتا ہے اور جس کے پیچھے ملی پرستی کا زہر چھپا ہوتا ہے۔

محاصرہ اس نظام کی اصل حقیقت دکھا چکا ہے۔ ریاست چاہتی ہے کہ بھوک ہو بغیر گواہ کے، غم ہو بغیر ریکارڈ کے، موت ہو بغیر الزام کے، اور سرنڈر ہو بغیر شرائط کے جبکہ جموں و کشمیر کے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو لوگ کسی قانون کے تحت رہتے ہیں، انہیں اس قانون کو بنانے کا حق ہونا چاہیے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی زمین، پانی، بجٹ، وسائل اور سیاسی مستقبل اب اس نظام کے قبضے میں نہ ہوں جو ان سے بالا بالا تشکیل دیا گیا ہے۔

محاصرے کے 30 دنوں نے حکمرانوں کے چہرے سے نقاب نوچ ڈالا ہے لیکن محاصرے نے عوام کے ٹھوس عزم کو بھی ثابت کیا ہے۔ راولاکوٹ میں، فائرنگ، گرفتاریوں، چھاپوں، بجلی غائب ہونے، بھوک، خوف، اور ریاستی دباؤ کے باوجود، لوگ اب بھی بیٹھے ہیں، اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں، اور اب بھی جھکنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ اسی عزم کے ساتھ کھڑے رہیں، تحریک کو گہرا کریں، تعصب سے لڑیں، مہم جوئی کو مسترد کریں، جدوجہد کے ہر مفید میدان میں حصہ لیں، اور ریاستی جبر کو شکست دیں۔

جے کے این ایس ایف پاکستان بھر کے ترقی پسندوں، بائیں بازو، ٹریڈ یونین، طلبہ، اکیڈیمکس، مزدور تنظیموں کے علاوہ عالمی محنت کش طبقے سے اپیل کرتی ہے کہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں، آواز اٹھائیں اور جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔