مرجان ساتراپی: ڈرتے تھے آیت اللہ جس نہتی لڑکی سے! - روزنامہ جدوجہد
سیاوش شہابی
(ایرانی فلمساز اور سیاسی کارکن مرجان ساتراپی 4جون کو فرانس میں وفات پا گئیں۔ان کی وفات کی خبر صدارتی محل سے جاری کی گئی۔ 1969 میں ایران کے دارلحکومت تہران میں پیدا ہونے والی مرجان کے والدین مارکس وادی تھے۔ انہوں نے ویانا اورتہران میں فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی ۔1994 میں وہ فرانس میں آباد ہو گئیں۔ انہوں نے اپنی ہی کارٹون بک ـ ’’Perspolis‘‘ کو کارٹون فلم کی شکل دی جس نے دنیا بھر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ اس فلم میں مزاح کے ذریعے ایران پر مسلط مذہبی آمریت اور اس کی عورت دشمنی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس فلم کو کان فلمی میلے کے علاوہ آسکر کے لئے بھی نامزدگی ملی۔ مرجان ساتراپی انیمیٹڈ (animated) فلمز کے شعبے میں ،اکیڈمی ایوارڈ کے لئے نامزد ہونے والی پہلی خاتون ہدایت کار تھیں۔ انہوں نے مزید پانچ فلمیں بنائیں۔ مہسا امینی کی وفات کے بعد، جب ایران میں’’ زن زندگی ،آزادی‘‘ کی تحریک چلی تو وہ بے حد متحرک نظر آئیں۔ سال بھر قبل، ان کے خاوند ماتیاس ریپا کی موت کے بعد، وہ شدید صدمے کا شکار ہو گئیں۔ اسی غم نے ان کی جان لے لی۔ مندرجہ ذیل متن سیاوش شہابی کی فیس بک پوسٹ کا ترجمہ ہے۔ اس کی سرخی مترجم نے تجویز کی ہے۔ ترجمہ: فاروق سلہریا)۔
مجھے کہا گیا کہ مرجان ساتراپی بارے کچھ لکھ دو۔ لکھنے کو تو بہت کچھ تھا۔ـ’’پرسپولس‘‘،اس کی فلمیں، وہ کالی سفید لکیریں جن کی مدد سے دنیا ایران کا احاطہ کرتی ہے۔ایک وقت تھا میں مرجان ساتراپی کے ساتھ، ایران میں پھانسی کی سزا کے خلاف مل کر جدوجہد کر رہا تھا۔
۔۔۔لیکن میں مرجان ساتراپی پر لکھنے کے لئے جب بھی بیٹھا، میری سوچ کہیں اور جا نکلی۔ان بے لگام سوچوں کو درخور اعتنا سمجھے بغیر، میں خود بھی مرجان ساتراپی کی موت کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔
اس نے بچپن، خاندان ،خوف اور بدن کی آنکھ سے ایران کی منظر کشی کی۔اس نے اوپر کھڑے ہو کر، ریاست اور جھنڈے کی نظر سے ایران کو نہیں دکھایا۔اس نے ہمیں ہمیں سادہ سا سبق سکھایا۔ بڑی تاریخ کے علمبردار عام لوگ ہوتے ہیں۔
مرجان ساتراپی کے خاندان کا کہنا ہے کہ سال بھر قبل اس کے خاون کی موت سے جو صدمہ اسے پہنچا، وہ جان لیوا ثابت ہوا۔ اس نے بھی تو اپنے انسٹا گرام پر لکھا تھا:’’For I lost the love of my life‘‘ ۔
مجھے اس جملے نے ہلا کر رکھ دیا۔
ہمیں لگتا ہے گویا مضبوط انسانوں کی یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ ٹوٹ کر بکھرجائیں۔جلا وطن آرٹسٹ،بہادر عورت،صدائے آزادی۔ان علامتوں کے پیچھے ایک وہ مرجان ساتراپی بھی تو ہوتی ہے جو پیار کرتی ہے،تنہائی کا شکار ہو جاتی ہے،جو کبھی کبھی۔۔۔بہت بڑا دکھ سہنے کے بعد۔۔۔پہلے جیسی نہیں رہتی۔ہم اکثر یہ منظر نہیں دیکھ پاتے۔
ہمیں یہ تو پتہ ہے جبر،جلا وطنی اور آزادی کی بات کیسے کرنی ہے۔ہمارے لئے یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک مضبوط انسان کو بھی محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے بھی ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایسا سہارا جو تب میسر ہو جب ہر گھڑی سوزِ جاں بن جائے۔
سیاست زندگی کا متبادل نہیں ہوتی۔ جب سیاست زندگی کا متبادل بننے کی کوشش کرتی ہے تو زندگی ہی تباہ کر دیتی ہے۔
میں اکثر جب کسی سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو بیچ میں ایران چلا آتا ہے۔کسی اداسی کے سبب نہیں۔ایران ایک ختم نہ ہونے والا ذہی دباو ہے،ایک مسلسل خبر ہے،ایک ایسی پریشانی ہے جس کا ذکر نہ بھی ہو تو لاحق رہتی ہے۔انسان عام سی باتیں کرنا چاہتا ہے۔ کھانے کی، کسی مشغلے کی،تھکاوٹ کی مگر ایران بیچ میں در آتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ آپ کسی ایمر جنسی میں زندہ ہیں۔
میری ایک دوست ہے جو باورچن کا کام کرتی ہے۔اس کی ایک چھوٹی سی بیٹی بھی ہے۔اس کی نظر میں تعلق محض جذبات کا نام نہیں۔تعلق اس بات کا نام ہے کہ جب وہ خود بھی تھک کر چور ہو چکی ہو۔۔۔کام، ہجرت،پیسہ،بیٹی کی پریشانی۔۔۔پھر بھی تعلق بنا رہے۔
ایک اور دوست ہے۔ کوئر (queer) ہے۔فلسطین سے ہے۔عمر چالیس سال ہے۔اس کا کہنا ہے کہ جوں جوں اس کی عمر بڑھ رہی ہے توں توں کسی کے قریب آنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اس کی بات مجھے چھو گئی۔سیاست محض جلسے جلوس، سرحد اور جنگ کا نام نہیں۔یہ بدن میں بیٹھ سی جاتی ہے۔ہچکچاہٹ میں،کنارا کرنے میں،قریب ہونے کی خواہش میں اور یہ سب نہ کر پانے میں۔
تین سال سے ایتھنز میں رہتے ہوئے ،اب سیاسی اجلاسوں میں میری شرکت کم ہوتی جاتی ہے۔سیاست میرے لئے اب بھی اہم ہے۔مجھے لیکن یہ بات بھی سمجھ آ چکی ہے کہ ہر اس جگہ بسیرا ممکن نہیں ہوتا جس کا نام سیاست ہو۔سیاست سے اس دوری کی ایک قیمت بھی ہے۔دوستیاں اور قربتیں قائم نہیں رہتیں۔ہجوم بھی تھکا دیتے ہیں اور ان سے دوری کا نتیجہ بھی تنہائی کی شکل میں نکلتا ہے۔
مرجان ساتراپی کی موت کی خبر محض ایک آرٹسٹ کے مر جانے کی خبر نہ تھی۔مجھے اس کی موت نے یاد دلایا:دنیا جسے مزاحمت کی علامت سمجھتی ہے بہرحال ایک انسان ہوتا ہے جو پیار کرتا ہے اور محبوب کی جدائی کا روگ بھی پال سکتا ہے۔ مرجان ساتراپی نے ریاست، بارڈر اورعمر بھر کے سنسر شپ کا سامنا کیا مگر ایک انسان کی عدم موجودگی نے اس کی زندگی کا چراغ ہی گل کر دیا۔انسان یہی تو ہوتا ہے۔
کبھی کبھار سادہ سا سوال کسی بھی تجزئیے سے بہتر ہوتا ہے۔’’کیا حال ہے‘‘؟
اور کبھی کبھی سچ پر مبنی جواب یہ ہو سکتا ہے۔معلوم نہیں۔میں ایران،جلا وطنی،تھکاوٹ،محبت اور تنہائی کے راستے خود تک پھر سے پہنچنے کی کوشش کر رہا ہوں۔!