← Back to Newsroom OS خبریں

مسعود قمر کی یاد میں آنسوؤں بھرا قہقہہ

By جدوجہد • 2025-09-08 • 10 min read

سٹاک ہولم (نمائندہ جدوجہد) گزشتہ موسم بہار میں وفات پا جانے والے معروف اردو شاعر اور سیاسی کارکن مسعود قمر کی کتاب ’موت سے خالی ردی کی ٹوکری‘ کی تقریب رونمائی ہفتے کے روز سٹاک ہولم میں منعقدہوئی۔ یہ کتاب مسعود قمر کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔ مسعود قمر نے 4 اپریل کو سٹاک ہولم میں وفات پائی۔ انہوں نے اَسی کی دہائی میں سویڈن میں جلا وطنی اختیار کی۔ ان کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔

پسِ مرگ شائع ہونے والی ان کی کتاب ’موت سے خالی ردی کی ٹوکری‘ کی اس تقریب رونمائی کا انعقاد شہر کے وسط میں واقع تاریخی اے بی ایف ہاوس (ABF Huset) میں ہوا۔ اس ہائبرڈ تقریب میں بعض مقررین اور شرکاء آن لائن بھی شامل ہوئے۔ تقریب میں مسعود قمر مرحوم کی اہلیہ اشرف مسعود اور دیگر اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔ تقریب کا اہتمام سویڈش پاکستان کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند افراد نے کیا۔

تقریب کی میزبانی کے فرائض ریاض الحسن نے سر انجام دئیے۔ تقریب کا آغاز باسط میر کے مقالے سے ہوا۔ مصنف اور ادبی نقاد باسط میر نے اپنے مقالے میں یہ نکتہ اٹھایا کہ مسعود قمر کی شاعری کے دو ادوار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے ابتدائی دور میں انہوں نے ’خدا اور فوٹو گرافر‘ جیسی نظمیں لکھیں جن میں براہ راست مزاحمت کی بات ہے مگر بعد ازاں وجودیت پر مبنی موضوعات ان کی نظموں میں نمایاں رہے اور انہوں نے بالکل ایک منفرد اسلوب کے ساتھ شاعری کی۔

سائیں سچا (مشتاق احمد)سٹاک ہولم میں مقیم معروف شاعر، مصنف اور مترجم ہیں۔ انہوں نے مسعود قمر کی شاعری کو سیرئیل ازم کے حوالے سے سمجھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرئیل ازم کی تحریک نے ادب اور آرٹ کو لگ بھگ سو سال پہلے متاثر کرنا شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرئیل ازم کو ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح خواب میں بعض ناممکن باتیں ممکن ہو سکتی ہیں مثلا چڑیا گانا گاتی نظر آ سکتی ہے،اسی طرح ادب اور آرٹ میں بھی سرئیل اسٹ شاعری یا پینٹنگ روایت سے ہٹ کر کچھ ایسے خوابناک تصورات اجاگر کرتے ہیں جن کی تشریح ہم اپنے اپنے انداز میں کر سکتے ہیں۔ سائیں سچا کا کہنا تھا کہ مسعود کی نظمیں ایک خاکے کی طرح ہوتی ہیں،وہ خاکہ بنا کر قارئین کو پیش کر دیتا ہے جس میں ہر قاری اپنے موڈ اور سوچ کے مطابق رنگ بھر سکتا ہے۔

مدیر جدوجہد فاروق سلہریانے کہا کہ مسعود قمر کی شاعری اور شخصیت کو ان کی سوشلسٹ سیاست، سیکولر نظریات اور جمہوریت دوست کمٹ منٹ سے علیحدہ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عمر بھر سوشلسٹ نظریات پر قائم رہے اور ان کی مزاحمتی شاعری ہو یا وجودیت کے رنگ میں رنگی نظمیں، انہیں مسعود قمر کے سوشلسٹ شعور کی روشنی میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسعود قمر پاکستان کی سوشلسٹ تحریک کی پیداوار تھے جس نے انہیں جوانی میں ہی ایسا انقلابی شعور دیا کہ وہ ضیا آمریت سے ٹکرا گئے اور عمر بھر اس سوچ کے ساتھ گزاری کہ اپنے لئے تو سب زندہ رہتے ہیں، زندگی دوسروں کو جبر اور استحصال سے نجات دلانے کے لئے بھی وقف کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سویڈش پاکستان کمیونٹی کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اگر وہ سویڈن میں اسلاموفوبیا کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ نا انصافی کے خلاف بھی آواز اٹھائیں، اگر سویڈش پاکستانی سویڈن میں سماجی بہبود کا نظام بچانا چاہتے ہیں تو پاکستان میں بھی پی ٹی آئی، نواز لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی جماعتوں کی بجائے بائیں بازو کو مضبوط کریں کہ ہر جدوجہد دوسری جدوجہد سے جڑی ہوتی ہے۔

اس موقع پر احمد فقیہہ اور آصف شہکار نے مسعود قمر کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پنجابی کے شاعر افضل ساحر، شاعرہ اور مصنفہ سعدیہ بلوچ اور سنگت ہمیش کی منتظم انجلا ہمیش نے تقریب سے آن لائن خطاب کیا اور مسعود قمر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب کے اختتام پر مسعود قمر کی دو بیٹیوں نے اپنے مرحوم والد بارے ان کی ذاتی زندگی کے بعض واقعات سنائے جنہیں سن کر بعض شرکاء کی آنکھوں میں آنسو بھی آئے مگر ان کے بعض قصوں پر حاضرین ِمحفل کھلکھلا کر ہنستے بھی رہے۔