← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

مشرق وسطیٰ کی نئی بساط اور ایران کا کردار

By جدوجہد • 2026-03-02 • 16 min read

قمرالزماں خاں

جنگیں ہمیشہ تاریخ کا دھارا موڑنے کا باعث بنتی ہیں۔ تاریخ میں زیادہ ترپیچیدہ تنازعوں کے فیصلے جنگوں کے سبب ہوئے۔ کیا اب بھی ایسا ہی ہونے جارہا ہے؟ اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ 27اور 28 فروری کی رات ایران پر اسرائیل کا امریکی معاونت سے شروع ہونے والا حملہ ابھی تک جاری ہے۔ رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ امریکی امامت میں اسرائیلی جارحیت کا اولین اور بڑا ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔ خامنہ ای کی 37سالہ حکمرانی کا خاتمہ ایرانی حاکمیت کی گرفت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ یہاں سے ایران میں دہری حاکمیت کے غالب دھڑے کا امتحان شروع ہوگا۔ کیا خامنہ ای کی وراثت کی تثلیث ( ملائیت، پاسداران انقلاب، بسیج فورس) موجودہ کٹھن صورتحال میں اپنی گرفت مضبوط رکھ پائے گی؟ اس کا زیادہ تر انحصار تو مسلط کردہ جنگ کے نتائج پر ہے۔

سابق صدر احمدی نژاد اور ایران کی دفاعی قیادت کی اہم شخصیات، جن میں وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شمخانی، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور آرمی چیف شامل ہیں، مارے جا چکے ہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکتوں کا یہ سلسلہ ’رژیم چینج‘ (تبدیلی نظام) کی طرف ایک بڑی پیش رفت ہے۔یہ عین ممکن بھی ہے۔ رہبر اعلی کی کے قتل کے بعد جنگی مورال پر منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب حملہ آور قوتوں کا خصوصی ہدف ہے، کیونکہ ایرانی ملائیت کے اقتدار کا دارومدار اسی ادارے کی طاقت پر ہے۔

نفسیاتی اور جنگی برتری فی الوقت معروضی حالات پر حاوی ہے۔ امریکی-اسرائیلی جارحیت کا ایک بڑا طریقہ کار سویلین آبادیوں میں خوف و ہراس پھیلا کر من مانی کی فضا پیدا کرنا ہے، اسی لیے اسکولوں اور عوامی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس دوران ایرانی عوام اور حکومت مخالفین کو اقتدار پر قبضے اور ایرانی فورسز کو ہتھیار ڈالنے کے لیے اکسایا جا رہا ہے۔ یہ سب جنگی ہتھکنڈے ہیں، جن کے نتائج قوتوں کے توازن کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ یعنی بڑے پیمانے پر جنگی تباہی ایسا ممکن بھی بنا سکتی ہے۔

دوسری طرف ایران اور مقابل منہ زور سامراجی حملہ آوروں کے مابین جنگی قوت کا توازن مکمل طور پر یک طرفہ تو نہیں ہے مگر کمزور ضرور ہے۔ دنیا کی طاقت ور ترین جنگی صلاحیتوں، اسلحہ، انٹیلی جنس، تکنیکی مہارت سے مسلح امریکی اور اسرائیلی فوج کے مقابلے میں ایرانی قومی فوج اور پاسداران انقلاب کی صلاحیت کا سب سے اہم حصہ ان کا امریکہ مخالف جذبہ، دہائیوں سے جنگوں اور پراکسی جنگوں کا تجربہ، جبر کے نظام کو قائم رکھنے کے لیے درکار ڈسپلن اور تربیت ہے۔ ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ سپر سانک اور ہائپر سانک صلاحیت کے حامل میزائل پروگرام بھی فعال ہیں۔ ہزاروں میزائل مختلف رینج اور صلاحیتوں کے ساتھ اس کے دفاعی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی میں ایران نے خطے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایرانی میزائل ساز فیکٹریاں مسلسل کام کر رہی ہیں، جس سے اس کی اسٹرائیک صلاحیت مکمل طور پر مفلوج نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ ایران کے پاس مکمل جدید نیوی یا مغربی معیار کی ائیر فورس نہیں، لیکن اس کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی، میزائل نیٹ ورک، مسلح چھوٹی کشتیوں کا وسیع نیٹ ورک اور علاقائی اسٹریٹجک گہرائی اسے مکمل طور پر بے دست و پا نہیں ہونے دیتے۔ اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ فوجی توازن عدم مساوات کا شکار ضرور ہے، مگر صفر نہیں ہے۔

ایران 1979ء سے ہی مختلف قسم کی عالمی پابندیوں کی وجہ سے عالمی تکنیکی میدان سے باہر ہے۔ اسی طرح فرقہ ورانہ بنیادوں پر قائم ولائت فقیہہ اور ریجنل پراکسیوں کے باعث اردگرد کے ممالک سے معاندانہ تعلقات الگ سے ایک منفی پوائنٹ ہے۔ اس کے برعکس امریکی افواج کے بحری بیڑوں کے علاوہ اس کی افواج اور عسکری تنصیبات، میزائل سسٹمز اور ائیرفورس خلیجی ممالک میں تقریبا ہر ملک میں موجود ہیں۔ اس قسم کی کیفیات میں نام نہاد سفارتی کاوشیں، علاقائی مصالحت کاری حتی کہ اقوامِ متحدہ کا کردار کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ واویلا کہ’’ابھی مذاکرات ہو رہے تھے اور امریکہ نے خواہ مخواہ جنگ چھیڑ دی‘‘، بدمست طاقت اور سامراجی عزائم کی نفسیات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اگر معیار اخلاقیات یا مروجہ قانون کا ہی مقرر کریں تو دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیار جاپان کے دو شہروں پر پھینک کر لاکھوں بے گناہوں کو قتل کرنے والا ملک امریکہ خود ہے۔ اس کو کسی طور حق نہیں ہے کہ وہ ایٹمی اسلحہ ترک کیے بغیر کسی اور ملک سے ایسا مطالبہ کرے۔ نہ ہی اسے کسی ملک کی حکومت بدلنے یا کسی راہ نما کو قتل کرنے کا حق ہے۔

عام طور پر جنگوں کا فیصلہ طویل تجزیات، پالیسی سازی اور اعداد و شمار کے بعد ہوتا ہے، اسی طرح جنگ شروع ہونے کے بعد اس کے دورانیے اور خاتمے کا تعین کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ ایران کا نقصان کتنا شدید اور ناقابل تلافی ہوگا، یہ تو واضح ہے، مگر ضروری نہیں کہ طے شدہ اہداف کے حصول کے بعد امریکہ اور اسرائیل فتح کا جشن منا سکیں۔ ہمیشہ مختلف قسم کے تضادات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جہاں خود ایرانی حاکمیت میں تضادات موجود ہیں وہاں امریکہ اور اسرائیل مخالف جذبات مختلف دھڑوں میں موجود ہیں۔ موجودہ تباہ کن جنگ مختلف قسم کی صورتحال پیدا کرسکتی ہے، مگر قوی امکان یہ ہے کہ ایران اب ماضی کی طرح نہیں رہے گا۔ ایک طرف شیعہ ازم اور ولایت فقیہ کے لبادے میں بظاہر ایک مجسم شکل میں حاکمیت ہے تو وہیں اس کے اندر تضادات اور دراڑیں بھی ہیں۔موجودہ’ولایتِ فقیہ‘ کا نظام ملائیت، بسیج اور پاسدارانِ انقلاب کے ذریعے ایک دوہرے سیاسی ڈھانچے پر مبنی ہے۔ دہری معیشت کی طرح سیاسی و عسکری ڈھانچے بھی الگ الگ ہیں۔ اگر جنگ شدت اختیار کرتی ہے، بہت زیادہ بربادی جس سے ریاست کا انہدام یا تقسیم کی صورت غالب ہوجائے تو پھر سامراجی قوتوں کا براہ راست ہدف نہ ہونے والی ریاستی قوتیں الگ سے کردار بھی ادا کرسکتی ہیں۔ ایسی کسی بغاوت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، البتہ اس کا انحصار جنگی تباہ کاری اور نتائج پر ہے۔

ایک امکان کے طور پر دیکھا جائے کہ اگر ایرانی حاکمیت کا موجودہ نظام گر بھی جاتا ہے تو’’امریکی کنٹرول میں ایران‘‘کے امکانات کم ہیں۔ ہزیمت اور شکست کے گھاؤ کسی اور رنگ روپ میں ردِعمل دے سکتے ہیں۔ ایرانی اپنے زخم چاٹ کر اطمینان سے سو نہیں جائیں گے اور نہ ہی خطے کی دیگر استعمار مخالف قوتیں ختم ہوں گی۔ جبر کی اس لہر سے استحکام بہرحال ممکن نہیں ہے اور ایک طویل کشمکش کے امکانات زیادہ ہیں۔ اگر ہم ایران میں اٹھنے والی ماضی کی عوامی تحریکیں دیکھیں تو ان میں ایک یکساں کمزور ان کو متبادل قوت بننے نہیں دے رہیں، خاص طور پر ایک حاکمیت کے خاتمے کے بعد ایک نئی حاکمیت کے قیام کے طور پر۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ ہے کہ ایران میں ملائیت مخالف قوتیں کسی واضح متبادل نظام یا حاکمیت کے تصور سے محروم ہیں۔ خواتین کے حقوق کی انجمنیں، شہری آزادیوں کے طالب نوجوان، مذہب کی شدت پسندی سے بیزار پرتیں، استحصال زدہ قومیتیں، ٹریڈ یونینز اور ’مجاہدینِ خلق‘ سمیت درجنوں چھوٹے چھوٹے لیفٹ گروپس فکری یکسوئی سے دور ہیں۔ اس صورتحال میں ایرانی ’’تودہ پارٹی‘‘ کا طویل بیان پھر سے ظاہر کرتا ہے کہ سامراج کی مذمت سے آگے ان کی فکر’ولایتِ فقیہ‘ کے خاتمے کی پریشانی سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ ایک منجمد ارتقا ہے۔ گو کہ سامراجی حملوں کو ایک لمحے کے لیے بھی قبول نہیں کیا جا سکتا، مگر ولایتِ فقیہ کے لیے فکر مندی ’مرحلہ وار انقلاب‘ کی اسی دقیانوسی تھیوری کی زوال پذیری کا شاخسانہ ہے جس نے ہمیشہ محنت کش طبقے کی آزادانہ سیاست کو نقصان پہنچایا ہے۔

ایران میں ایک بڑے طاقتور فیکٹر کو ہمیشہ تجزیات میں نظر انداز کی جاتا ہے۔ یہ ہے ایران کا صنعتی مزدور۔ اگر ہم حالیہ سالوں میں دیکھیں تو ہمیں ایرانی محنت کشوں کی مختلف پرتوں کا تحرک صاف نظر آتا ہے۔ چند سیکٹرز کی ہڑتالیں اور احتجاج، احتجاج کا دورانیہ اور مانگوں کی فتح یابی کا ایک منظر نامہ ہمیں دکھا سکتا ہے۔ ہفت تپہ شکر کمپنی یونین کی ہڑتالیں جن کے سبب نہ صرف مزدوروں کی کئی مانگیں،جن میں اجرتوں کی ادائیگی اور بقایا جات کا حصول، ہفتہ وار اوقات کار میں کمی، برطرف مزدوروں کی بحالی اور مقدمات کی واپسی سمیت نجکاری کی منسوخی شامل ہے۔ اسی طرح ایران نیشنل اسٹیل انڈسٹری گروپ کے مزدوروں کی تحریک، جنوبی پارس گیس فیلڈ کے کنٹریکٹ ورکرز کی صنعتی ہڑتالیں ،اساتذہ کی قومی سطح کی منظم تحریکیں ،اورریٹائرڈ ورکرز کے احتجاج، شاندار مزدور تحریک اور ان کی روایات کے ایرانی سماج میں بطور متحرک پرت موجودگی کے ثبوت ہیں۔ مجموعی طور پر ان تحریکوں میں ہزاروں مزدوروں نے فعال کردار ادا کیا۔ یادش بخیر یہ مزدوروں کی تحریک ہی تھی جس نے 1979ء میں شاہ ایران کی حکومت کو اکھاڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ یہ کردار آج بھی محنت کش طبقہ ادا کرسکتا ہے۔

جب ہم اسرائیل ایران تنازعے کی مختلف جہتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو بہت پیچھے گئے بغیر ہمیں حالیہ سالوں کے کچھ واقعات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ موجودہ حملہ دراصل تسلسل ہے۔یہ سلسلہ دراصل اسرائیل کے دمشق کونسل خانے پر حملے سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ اسماعیل ہانیہ کا تہران میں قتل ایک واضح انتباہ تھا کہ صیہونی نیٹ ورک کی رسائی کہاں تک ہے۔ ایران کا محض زبانی ردِعمل فوجی اور تکنیکی عدم توازن کو ظاہر کر رہا تھا۔ 7 اکتوبر کا حملہ وہ ’ٹرننگ پوائنٹ‘ تھا جس نے مشرقِ وسطیٰ کی بساط الٹ دی۔ حزب اللہ کی قیادت کی ہلاکت اور شام میں بشار الاسد حکومت کا کمزور ہونا ایران کے ریجنل مفادات کے لیے بڑی زک تھی۔ یہاں سے اسرائیل امریکہ اتحاد سے صیہونی جنونیت اور قبضہ گیریت کو مہمیز ملی اور اس نے مسلسل جارحیت کی پالسیی اختیار کی۔ اس وقت ٹرمپ ایک ’پاگل ہاتھی‘ کی طرح اہداف کو روند رہا ہے، مگر یہ محض جنون نہیں بلکہ امریکی ڈیپ اسٹیٹ اور سرمایہ دارانہ بربریت کی ضرورت ہے۔مادورو کے اغوا کی کوشش ہو یا مسلط کردہ جنگیں، یہ سب سرمایہ داری کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ امن کی اپیلیں اس بدمستی کو نہیں روک سکتیں۔

ایران کے محنت کشوں پر تاریخ نے پھر ایک مرتبہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اپنی تاریخ کو زیادہ ایڈوانس سطح پر جاکر دھرائیں۔ انکے سامنے ایک ہی وقت میں دو اہداف ہیں۔ ایک سامراجیت جو ان کے عوام پر بم برسا رہی ہے اور اپنی طاقت کی رعونت سے ایرانی عوام کو ان کے حکمرانوں کی سزا دے رہی ہے۔ دوسری طرف ملائیت کی جنونیت ہے جس نے 1979میں انقلاب کو ہائی جیک کرکے رجعتی رد انقلاب میں بدل دیا۔ ایران کے عوام کو یرغمال بنا لیا اور ہزاروں انقلابیوں کو قتل کیا۔ جبر اور بربریت کے اندوہناک واقعات کی ذمہ دار ملائیت کسی ہمدردی کی مستحق نہیں ہے۔ اس کا خاتمہ ضروری ہے مگر یہ فریضہ ایران کے محنت کش طبقے کو ایرانی مزدروں کی قیادت میں کسانوں، نوجوانوں، خواتین، شہریوں، کچلی ہوئی قوموں اور سماجی حصوں کو ساتھ ملا کر کرنا چاہیے۔ ایران میں ایک آزادانہ عوامی طاقت ناگزیر ضرورت ہے۔ ملائیت اور سامرا جیت دونوں کو مسترد کرتے ہوئے ایرانی محنت کشوں کو عرب و عجم کی دیواریں گرانا ہوں گی۔ زبان، رنگ، نسل، قوم،علاقے اور ممالک کے تعصبات کو مشترکہ نصب العین گرا سکتا ہے۔ یہ بنیادیں ایک طبقاتی جڑت سے مل سکتی ہیں۔ ایک جدوجہد کا آغاز ضروری ہے جو جلد یا بدیر تمام رکاوٹوں کو پھلانگ کر سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمائے کی زنجیروں اورسامراجی جبر کو توڑ کرمشرق وسطی کے ایسے اشتراکی سماج کو جنم دے سکتا ہے ،جو پوری دنیا کو جینے کا نیا آہنگ، نیا راستہ فراہم کردے۔ مشرق وسطی کی سوشلسٹ فیڈریشن کی جدوجہد اور دنیا کی بقاء اب سرمایہ داری کی موت سے جڑی ہے۔ آج مارکس، اینگلز، لینن اور ٹراٹسکی کے نظریات کی روشنی میں ایک ’انقلابِ پیہم‘ ہی واحد راستہ ہے جو سامراجیت اور صیہونیت کا خاتمہ کر کے نسل انسانی کا طبقاتی و مذہبی تعصبات سے بلند اتحاد قائم کر سکے۔

Qamar Uz Zaman Khan

قمر الزماں خاں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین  کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں اور ملکی سطح پر محنت کشوں کے حقوق کی طویل جدوجہد کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔وہ تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے پرچم تلے مزدور تحریک میں سرگرم ہیں۔