مشکلات کا شکار پاکستانی کسان
شبیر شیخ
جنرل عاصم کا 6 کینال پراجیکٹ فی الحال روک دیا گیا ہے۔ پہلے سندھی اس کے خلاف کھڑے ہوئے اور اب بھارت نے 1960 میں جنرل ایوب اور نہرو کے درمیان طے پانے والے سندھ آبی معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد توہین میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف پنجاب میں گولڈن فصل کی کٹائی ہو رہی ہے، لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کم از کم امدادی قیمت (MSP) مقرر نہیں کی ہے۔ ایم ایس پی کی عدم موجودگی کی وجہ سے پچھلے سال گندم کے کاشتکاروں کو جو ’زخم‘ ملے تھے وہ ابھی تازہ ہیں اور ایک اور فصل دوبارہ انہیں پریشان کرنے کے لیے تیار ہے۔
سندھ 6 کینال کے معاملے پر ناراضگی سے بھڑک رہا ہے، اور اگر وفاقی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے 17 ملین ایکڑ رقبے پر کارپوریٹ فارمنگ کی وجہ سے دریائے سندھ کے پانی کو چولستان میں نکالنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی اور قدم اٹھاتی ہے تو یہ کسی بھی وقت ابل سکتا ہے۔ پاکستانی میڈیا صوبہ سندھ میں جاری شدید ترین کشیدگی کی خبر نہیں دے رہا ہے،جسے سندھی عوام نے بلاک کر رکھا ہے۔ سندھ کے بڑے شہروں اور قصبوں کو ملانے والی تمام اہم سڑکوں اور شاہراہوں پر ہزاروں کسانوں اور عام لوگوں کے مظاہرے اور دھرنے دیکھے جا رہے ہیں،جن کا کہنا ہے کہ وہ سندھ کا پانی چوری کرنے سے کسی کو روکنے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔
پاکستان میں پانی کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ یہ 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کے بعد سے برقرار ہے۔ ریکارڈ گواہ ہیں کہ سندھ کے کسان ہمیشہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی جانب سے منظور شدہ پانی سے کم پانی ملنے پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کئی دہائیوں سے شکایت کی کہ ٹیل اینڈ پر ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی زمینوں کو پانی دینے کے لیے ضرورت سے کم پانی مل رہا ہے۔ اب بات محض کم پانی تک محدود نہیں ہے،یہاں تک کہ موجودہ صورتحال سندھیوں کو مجبور کر رہی ہے کہ اگر چولستان کی نہریں بنتی ہیں تووہ اپنی زمینوں کو پانی کے بغیر ہی سمجھیں۔ ساتھ ہی زمینی حقیقت کا اندازہ محکمہ آبپاشی پنجاب کے ایک افسر کی بات سے لگایا جا سکتا ہے جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”ہمیں پنجاب میں ارسا کا زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کرنے اور کسی دوسرے صوبے کے لیے صرف اضافی پانی چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے“۔
پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق نے 23اپریل کو گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”دریائے سندھ سندھیوں کی لائف لائن ہے، وہ اپنی لائف لائن بچانے کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ وہ اب براہ راست ایکشن لے رہے ہیں، وہ باہر نکلے ہیں اور اس عزم کو حاصل کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے کہ ان کی لائف لائن برقرار رہے گی۔ دریں اثنا، پنجاب میں کسان بھی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ گندم کی امدادی قیمت کی تلاش میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پنجاب میں کسانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ پختون خوا کے شہر جیسے مردان، مالاکنڈ، باجوڑ وغیرہ سبھی پریشان ہیں، لیکن حکومت تمام جائز مطالبات پر کان نہیں دھر رہی ہے۔“
(پاکستان کسان رابطہ کمیٹی تقریباً 30 قومی اور بین الاقوامی زرعی تنظیموں کی رکن ہے،جن میں لا ویا کیمپسینا بھی شامل ہے۔ یہ کسانوں کی فلاح و بہبود، موسمیاتی تبدیلی، کاشتکاری کے قرضوں، زمینی اصلاحات، ایم ایس پی اور خواتین کے حقوق سمیت متعدد مسائل پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔)
ایک سوال کے جواب میں فاروق نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر گندم کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنا چاہتی ہے،جو کہ بے رحم سرمایہ داروں کے مفادات کو بچانے اور بیڑیوں میں جکڑے مزدور طبقے کو کچلنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔ اس منظر نامے میں، ذخیرہ اندوز اور بڑے زمیندار زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرتے ہیں کیونکہ غریب کسانوں کے پاس اپنی پیداوار کو ذخیرہ کرنے کے ذرائع نہیں ہیں۔ یہاں انہوں نے صدر آصف علی زرداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گندم کے ذخیروں کی اکثریت ان کے پاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”حکومت کیا کر سکتی ہے اگر لوگ ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور اس کا راستہ روکیں۔ اوکاڑہ ملٹری فارمز (OMF) کا واقعہ یاد رکھیں جس میں کرایہ دار اپنی جانوں کے نذرانے دینے تک گئے تھے۔ یہ معاملہ 2000 میں مشروف دور میں سامنے آیا تھا، اور 2003 میں 13 لوگ شہید ہو چکے تھے۔انجمن مزارعین پنجاب کے سربراہ مہر عبدالستار اور ان کے کئی ساتھیوں کو من گھڑت دہشت گردی، بغاوت اور چوری کے مقدمات میں جیل کا سامنا کرنا پڑا۔ جب 2003میں اکاڑہ کے چک 10میں پولیس والوں کو مقامی خواتین نے زدوکوب کیا تو اوکاڑہ ملٹری فارمز کے اہلکار ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی وجہ سے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے پر مجبور کرنے کی حد تک چلے گئے۔یہاں تک کہ 16اپریل2016کو اوکاڑہ میں سادہ اور غیر مسلح لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے فوجی ٹینک بھی تعینات کیے گئے، لیکن انہیں کچھ نہیں ملا۔ اگر قطار میں ہزاروں افراد ہوں تو فوج کتنے شہریوں کو مار سکتی ہے اور اس وقت اوکاڑہ کے کرایہ دار اوکاڑہ ملٹری فارمزکو ایک پیسہ بھی نہیں دے رہے ہیں اور بغیر کسی خوف کے اپنی زمینوں پر کاشتکاری کر رہے ہیں۔ اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ وہ چٹان کی طرح متحد ہیں۔“
گزشتہ ہفتے لاہور میں گندم کے کسانوں کے احتجاج کی قیادت کرنے والی صائمہ ضیاء نے کہا کہ وہ نہ صرف لاہور بلکہ خوشاب، کلور کوٹ اور دیگر شہروں میں مزید احتجاج کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ”اگر حکومت گندم کے لیے ایم ایس پی کا اعلان نہیں کرتی ہے تو کسان برباد ہو جائیں گے۔ اس سے وہ نقدی کی تنگی کا شکار اور بالآخر بے روزگار ہو جائیں گے۔ وہ روزی کمانے کے لیے شہروں کا رخ کرنا شروع کر دیں گے۔ یہ تباہ کن ہو گا کیونکہ وہ مزید گندم نہیں اگائیں گے جس سے آنے والے دنوں میں ملک میں خوراک کا بحران پیدا ہو جائے گا۔“
ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ فی الحال سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کسانوں کے احتجاج پرامن ہیں۔ وہ قانون کے مطابق اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن آنے والے دنوں میں مظاہروں کو روکنے کے لیے حکومتی کارروائی کی شکل میں تشدد دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ مقامی میڈیا پر پانی اور گندم کے مظاہروں کو اجاگر نہ کرنے کے لیے حکومتی دباؤ ہے، لیکن عالمی میڈیا کو پاکستان میں کٹھ پتلی حکومت کو بے نقاب کرنے سے روکنے کے لیے زیادہ مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا بھی ہے جو دنیا کی تمام حکومتوں کے لیے رکاوٹ بن گیا ہے۔ لہٰذا اگر پاکستان میں حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو ہمیشہ کے لیے روک سکتی ہے تو یہ غلط ہے۔
پچھلے سال، حکومت نے گندم کے لیے ایم ایس پی 3,800 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی تھی لیکن حکومت نے گندم خریدی نہیں۔ کوئی اور چارہ نہ ہونے کے باعث کسانوں کو اپنی اجناس 1800سے2000روپے فی 40کلوگرام کے حساب سے پرائیویٹ پارٹیوں کو بیچنی پڑی۔کم نرخوں پر گندم نہ بیچنے والوں کو اپنی پیداوار گوداموں میں سڑتی ہوئی دیکھنا پڑی۔ لالہ موسیٰ کے ایک کسان نے کہاکہ ”یہ نرخ کسانوں کے لیے کیسے قابل عمل ہو سکتے ہیں،جب کہ ان کی 40 کلو پر لاگت ہی تقریباً 3,000 روپے ہے۔“
وہ کہتے ہیں کہ ”ہم پورے ملک میں کسانوں کی مزید ریلیاں منعقد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم ہمیشہ پرامن اور قانونی طریقے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن جب حکومت ہمارے مردوں اور عورتوں کو دبانے کی کوشش کرتی ہے تو ہم اپنے گوریلوں کو بھی متحرک کرتے ہیں۔ ہم نے مزارین عورت تھاپا فورس بنائی ہے جو پیشہ ور پولیس اور سپاہیوں کو بھی پیچھے دھکیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔“
(بشکریہ: ’دی ہیوسٹن ٹائم‘، ترجمہ: حارث قدیر)