← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

مظفر آباد میں ہزاروں کا اجتماع، مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ

By جدوجہد • 2025-05-26 • 18 min read

حارث قدیر

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ دو سال سے چلنے والی ‘عوامی حقوق تحریک’ نے ہفتے کے روز دارالحکومت مظفرآباد میں ایک بڑا اجتماع منعقد کرتے ہوئے حکومتی وعدہ خلافیوں پر نہ صرف شکوہ کیا ہے، بلکہ ردعمل کے طورپر چارٹر آف ڈیمانڈ میں اضافے کا بھی اعلان کیا ہے۔

مظفرآباد کا یہ اجتماع ‘شہداء عوامی حقوق تحریک’ کی برسی کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔ اجتماع میں تمام اضلاع سے بڑی تعداد میں ایکشن کمیٹیوں اور سیاسی کارکنوں کے قافلے مظفرآباد پہنچے۔ ہزاروں لوگوں کا یہ اجتماع قریب 8گھنٹے تک چلتا رہا، جس سے 31رکنی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اکثریتی اراکین سمیت چند ایک سیاسی رہنماؤں اور انجمن تاجران کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

لوگوں کی خواہش تھی کہ ایکشن کمیٹی کی قیادت چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں حتمی احتجاج کا اعلان کرے گی۔ تاہم قیادت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے کا وقت 8دسمبر کو پورا ہورہا ہے۔ لہٰذا اس وقت کے ختم ہونے کے بعد ہی جلاس منعقد کر کے بڑے احتجاج کی کال دی جائے گی۔ قیادت میں شامل اہم رہنماؤں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ ایک بار پھر مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی جاسکتی ہے۔ ایک رہنما نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اب کی بار اسمبلی کا نہ صرف گھیراؤ کریں گے، بلکہ اس پر قبضہ بھی کیا جائے گا۔

اعلامیہ میں کیا ہے؟

جاری کردہ اعلامیہ میں ‘شہدائے جموں کشمیر ’اور ‘شہدائے عوامی حقوق تحریک’ کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ شہداء نے جس مقصد کے لیے جانیں قر بان کیں، اس مقصد کے حصول تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ کمیٹی پر امن سیاسی جدوجہد پر یقین کامل رکھتی ہے ۔ کمیٹی پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والی جنگ میں ریاست جموں کشمیر کے دونوں اطراف ہونے والی ‘شہادتوں’ اور املاک کے نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔

اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین اور جنوبی ایشیا میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا، جب تک مسئلہ جموں کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حق خودارادیت دیا جائے۔ عوامی خواہشات کے برعکس کوئی فیصلہ کیا گیا، یا جنگ مسلط کی گئی تو سیز فائر لائن کو پر امن طور پر توڑنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔اعلامیہ میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ، افغانستان، ایران سمیت دیگر ملکوں کے شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ پاک بھارت ایٹمی جنگ کا ایندھن بننے سے بچنے کے لیے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے آواز بلند کریں۔

گلگت بلتستان کی عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کی مذمت اور رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بار بار کی وعدہ خلافیوں کی روش کو ترک کر کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر طے کیے گئے معاہدہ کے مطابق 8جون سے پہلے عملدرآمد کیا جائے۔ بصورت دیگر 8جون کے بعد میرپور ڈویژن میں اجلاس طلب کر کے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ اشرافیہ کی مراعات میں حالیہ اضافے کو مذاق قرار دیا گیا اور مراعات ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

یاسین ملک سمیت دیگر رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ جبری گمشدگیوں کی مذمت کی گئی اور تمام گمشدہ افراد کو بازیاب کر کے پولیس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ خلاف میرٹ تقرریوں کی بھی مذمت کی گئی اور انہیں منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ لوڈشیڈنگ کی مذمت کی گئی اور علاقے کو لوڈشیڈنگ فری زون قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا، بصورت دیگر احتجاج کی دھمکی بھی دی گئی۔

حکومت کی وعدہ خلافیوں کو جواز بنا کر 16نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کے اضافے کا اعلان کیا گیا۔ ماضی میں حکومت کے ساتھ متعدد مذاکرات میں زیر بحث لایاجانے والا 10نکاتی چاٹر آف ڈیمانڈ اس کے علاوہ ہوگا۔

نئے چارٹر آف ڈیمانڈ میں مفت علاج، مفت اور یکساں تعلیم، بین الاقوامی ایئرپورٹ، پینے اور آبپاشی کے لیے پانی کی فراہمی، کرپشن، رشوت اور سفارشی کلچر کے خاتمے سمیت مختلف نکات شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مہاجرین مقیم پاکستان کے نام پر قانون ساز اسمبلی میں موجود 12نشستوں ، اور ملازمتوں میں مہاجرین مقیم پاکستان کا کوٹا ختم کرنے کا مطالبہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

حکومتی رد عمل اوررہنماؤں کے شکوے

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر بھر سے بڑی تعداد میں لوگوں کی مظفرآباد کے اس اجتماع میں شمولیت نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ابھی بھی تحریک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ جہاں حکومت نے شرکاء کی تعداد کم دکھانے کی کوشش کی ہے، وہیں ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے تاجر تنظیموں کو غیر فعال کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔سرکاری ریلیوں کے انعقاد کے ذریعے سے عوام کی جانب سے مسترد شدہ قیادت کو دوبارہ مسلط کرنے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

تحریک کی قیادت کو ایک بار پھر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ اجتماع میں جانے والے سیاسی کارکنوں، تحریک میں ہر اول کردار ادا کرنے والے رہنماؤں سمیت کلونیل ازم کو چیلنج کرنے والی آوازوں کو سٹیج سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ تحریک میں متحرک کردار ادا کرنے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ایک مقبول رہنما کوسٹیج پر مدعو نہ کیے جانے کی وجہ سے سوشل میڈیاپر دو روز سے شدید رد عمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، اور ایک کھلا خط بھی قیادت کے نام لکھا گیا ہے۔ ایک اور متحرک رہنماکو اسٹیج پر بلائے جانے کی وجہ سے ایکشن کمیٹی کی قیادت کی آپسی لڑائی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ کئی تاجر رہنما اور تحریک میں متحرک کردار ادا کرنے والے رہنما بھی سٹیج پر جگہ نہ ملنے پر شکوہ کناں نظر آئے۔

قیادت نے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ سٹیج پر صرف ایکشن کمیٹی کی مرکزی قیادت کے رہنماؤں کو ہی مدعو کیا جائے گا، جن کی تعداد31ہے۔ تاہم ضلع حویلی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے بھی مشاورتی عمل میں اور سٹیج پر جگہ نہ ملنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

دو سالہ حاصلات

یہ تحریک ابتدائی طور پر بجلی کی پیداواری لاگت پر فراہمی، آٹے پر سبسڈی کی فراہمی اور اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے کے تین بنیادی مطالبات پر شروع ہوئی تھی۔ چند ماہ کے بعد 10نکاتی چاٹر آف ڈیمانڈ جاری کیا گیا، جس کے کچھ ذیلی مطالبات بھی تھے۔

تاہم گزشتہ سال مئی میں ہونے والے لانگ مارچ کے نتیجے میں پاکستان کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈروں کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آٹے پر سبسڈی کی فراہمی کا ہنگامی انتظام کیا گیا۔ تحریک میں عوام کی بھرپورمداخلت نے اس کے کردار کو اینٹی کلونیل اور اینٹی نیو لبرل میں تبدیل کر دیا تھا، جسے ریاستی مداخلت کے نتیجے میں مبہم نعروں تک محدود کرنے کی کوشش تاحال جاری ہے۔

تاحال ریاستی گرڈ اسٹیشن کا قیام عمل میں لانے کے لیے کوئی اقدام حکومت کی طرف سے نہیں کیا جا سکا، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر انتہائی سستے داموں پیدا ہونے والی بجلی براہ راست لوگوں کو فراہم کی جا سکتی ہے۔ ہنگامی انتظام کی صورت میں پاکستان کے نیشنل گرڈ سے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے فراہم کردہ بجلی کو سستے داموں فراہم کرنے کے لیے ان کمپنیوں کو 104ارب روپے سبسڈی اور ٹیرف ڈیفرنشیل کے نام پر ادا کیے جا رہے ہیں۔ یہ رقم بالواسطہ طور پر اسی خطے کے عوام کے جمع کیے گئے ٹیکسوں سے منہا کی جا رہی ہے۔

اسی طرح آٹے پر حکومت پاکستان سے گلگت بلتستان کی طرز پر سبسڈی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو ہنگامی بنیادوں پر پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے حکومتی بجٹ سے ہی ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بجلی اور آٹا سستا فراہم کرنے کے عوامی فلاح کے دیگر منصوبوں میں کٹوتی کر دی گئی ہے۔ اس خطے میں پیدا ہونے والی بجلی کی حکومت پاکستان کو فراہمی کے لیے معاہدے کرنے کی بات بھی نہیں کی جا سکی ہے۔

حکومت پاکستان سے کیے جانے والے درج بالا مطالبات کو بتدریج تحریک کا ضابطہ اخلاق بنانے کے نام پر مقامی حکومت تک مرکوز کر لیا گیا ہے۔ ‘ایس او پیز’ کے نام سے جاری ضابطہ اخلاق میں بالواسطہ طورپر واضح کیا گیا کہ حکومت پاکستان اور پاکستان کے اداروں کے خلاف کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ حقوق کے غاصب البتہ مظفرآباد کی اسمبلی میں موجود 53ممبران اسمبلی کو ہی قرار دیا جائے گا۔ یوں مظفرآباد میں موجود حکمرانوں اور نوآبادیاتی حکمران آقاؤں کے خلاف ابھرنے والی تحریک کو دانستہ طور پر معنی خیز انداز میں مظفرآباد تک ہی محدود کرنے کے بعد حق حکمرانی اور حق ملکیت کی مانگ مبہم انداز میں کی جا رہی ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ اس خطے کا حق حکمرانی معاہدہ کراچی اور نوآبادیاتی عبوری آئین ایکٹ1974ء کے ذریعے چھینا گیا ہے۔ اسی ایکٹ کے تحت ہی وسائل کا حق ملکیت بھی چھینا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے مطابق مظفرآباد میں بیٹھے حکمران محض میونسپل کارپوریشن کے برابر اختیارات کے حامل ہیں۔ قانون سازی کے تمام تر اختیارات حکومت پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ تاہم حکومت پاکستان کے خلاف بات کیے بغیر حق حکمرانی کی بحالی کی جدوجہد جاری ہے۔

حکومت کو البتہ ٹیبل پرلانے کے لیے بنیادی آئینی اور جمہوری آزادیوں جیسے حقوق کو ‘بارگیننگ چپ’ کے طورپر استعمال کرنے جیسے اقدامات ضرور کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات میں ‘اعلان آزادی’ کے مطابق آئین ساز حکومت کی بحالی ، مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے اور مہاجرین کے کوٹے کے خاتمے جیسے مطالبات شامل ہیں۔آئین ساز حکومت کی بحالی کے مطالبہ سے جلد ہی دستبرداری اختیار کر لی گئی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مہاجرین سے متعلق مطالبات کا مستقبل کیا ہوگا۔

قیادت کا بحران

عوامی تحریکیں قیادتوں کا امتحان ہوتی ہیں۔نظریات سے عاری، موقع پرست اور عامیانہ صلاحیتوں کی حامل قیادتیں تحریکوں کو اپنے مذموم اور انتہائی سطحی عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ترقی پسند قوتوں کی عددی طور پر محدود اور معیاری طور پر نہ ہونے کے برابر موجودگی نے درمیانے طبقے کے موقع پرست عناصر، دوسرے درجے کے تنگ نظر قوم پرست رہنماؤں اور تاجر قیادتوں کے لیے تحریک کی قیادت کے طو رپر غلبہ حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک کو آگے بڑھانے کی بجائے مصلحت پسندی اور حکمرانوں و ریاستی اداروں کے ساتھ ساز باز کے ذریعے تحریک کو تھکانے اور تحلیل کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ تاہم دوسری جانب عوامی ابھار ہے کہ جس نے نہ صرف ماضی میں کمپرومائز اور مصلحت کی ہر کوشش کو اپنی طاقت کے ذریعے ناکام بنایا ہے، بلکہ اب بھی عوام اپنی بھرپور شمولیت کے ذریعے تحریک کے زور کو ٹوٹنے نہیں دے رہے۔

اس تحریک نے جہاں تمام روایتی سیاست کو مسترد کر دیا ہے، وہیں سیاسی کارکنان اور نام نہاد انقلابی بھی تحریک کے بہاؤ کے سامنے اپنا اعتماد کھو کر موقع پرستی کی انتہاء تک پہنچنے پرمجبور ہو چکے ہیں۔ خودنمائی اور سیاسی موقع پرستی کی وجہ سے ہنگامی طریقے سے ابھر کر سامنے آنے والی قیادت کی ہر مصلحت اور تحریک مخالف پالیسی کی تشہیرپر مجبور یہ نام نہاد ترقی پسند قیادتیں بھی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے سے خوفزدہ دکھائی دے رہی ہیں۔

آگے کیسے بڑھا جائے؟

تحریک کو آگ بڑھانے کے لیے مطالبات کو سیاسی پروگرام کے ساتھ جوڑنا اور نوآبادیاتی نظام کو چیلنج کرنا ضروری ہے۔ آئین ساز اسمبلی کے قیام، اورغیر ملکی زرمبادلہ سمیت خطے میں موجود تمام قدرتی وسائل اور بجلی کے منصوبوں کے حق ملکیت کے حصول کے لیے پروگرام کا تشکیل دیا جانا بھی ناگزیر ہے۔ موجودہ قیادت اس اہلیت اور صلاحیت سے نہ صرف عاری ہے، بلکہ وہ تحریک کے ابھار اور ریاست کی طاقت سے خوفزدہ بھی دکھائی دیتی ہے۔

ظلم کو ظلم کہے بغیر اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ قابل قبول الفاظ کے لبادے میں مطالبات اور پروگرام کو لپیٹنے کا عمل مصالحت اور کمپرومائز کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ بکھری ہوئی، اور نسبتاًغیر منظم تحریکوں میں دائیں بازو کی موقع پرست قیادتوں کی موجودگی میں داخلیت کے ذریعے قیادت کے حصول کا راستہ درحقیقت خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ دوسری جانب ریاست کے ساتھ ساز باز کے ذریعے تاجروں کو درپیش چھوٹے موٹے مسائل تو حل کروائے جا سکتے ہیں، لیکن دو سال کے تجربے سے یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ نوآبادیاتی نظام کو چیلنج کرنے والے مطالبات کی منظوری کے لیے یہ طریقہ کارگر نہیں ہوسکتا۔

حکمران اشرافیہ، ریاستی اداروں اور یہاں تک کہ نام نہاد قیادت کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ تحریک اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ تاہم صبر کے ساتھ نہ صرف وضاحت کرنے بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ عوام کی درست رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینے کی ضرورت ہے۔ بار بار کے تجربات سے تحریک میں شامل عوام نہ صرف خود نتائج اخذ کریں گے، بلکہ اپنے اندر سے ہی قیادت بھی تراش لائیں گے۔ وقتی طور پر اگر تحریک کو کمپرومائز، یا کسی بھی طرح سے مایوسی کا شکار بنا بھی لیا جاتا ہے تو جلد ایک نئے ابھار اور نئے جذبے کی صورت میں اس خطے کے عوام پھر بغاوت کا علم تھام کر باہر نکلیں گے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔