← Back to Newsroom OS پاکستان

مفتی شمائل ندوی کے نام پاکستان سے ایک خط

By جدوجہد • 2025-12-28 • 11 min read

فاروق سلہریا

آداب عرض ہے۔امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے آپ پاکستان میں اہل ایمان کی سب سے پسندیدہ شخصیت بنے ہوئے ہیں۔ انگریزی میں بولیں تو وائرل ہیں۔وجہ محض یہ نہیں کہ آپ نے مکرمی جاوید اختر کو مناظرے میں مبینہ طور پر شکست دیدی۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جاوید اختر مطالعہ الباکستانی حضرات میں شدید نا پسند کیے جاتے ہیں۔

آپ کے نام میرے اس نامے کی وجہ البتہ آپ کا مناظرہ نہیں۔ یقین کیجیے میں نے بوجوہ یہ مناظرہ دیکھا تک نہیں۔ میں توآپ کا وہ بیان پڑھ کر خط لکھنے پر مجبور ہوا جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ آپ پاکستان کو اسلامی ملک نہیں سمجھتے۔

آپ نے بھلے جاوید اختر اور دنیا بھر کے ملحدین کو اپنی باتوں سے ناکوں چنے چبوا دیے ہوں لیکن پاکستان بارے آپ کا استدلال نہ تو ملحدین کو قائل کر سکے گا نہ اہل ایمان کو۔ اور تو اور ہم ایسے کمزور ایمان والے بھی آپ سے متفق نہیں۔

پاکستان اسلامی ہے یا نہیں، اس بابت ہماری مذہبی اقلیتوں سے پوچھیے۔ ابھی دو چار دن پہلے کرسمس کا تہوار تھا۔ 70-80 سال سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ تہوار امن و عافیت سے گزر جاتا تھا۔ بھلا ہو سوشل میڈیا کا! امسال پتہ چلا کہ کرسمس منانا اللہ کے خلاف بغاوت ہے۔ معلوم نہیں باقی مسلمان ملکوں میں کیا ہوتا ہے۔ ہماری اسلامی جمہوریہ میں اللہ سے بغاوت پر لنچ(lynch) کر کے ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر ویسے ہی وائرل کر دیے جاتے ہیں جیسے آپ کا مناظرہ وائرل رہاہے۔گاہے بگاہے اسلام کو زندہ رکھنے کے لیے مسیحی بستیاں بھی جلا دی جاتی ہیں۔ جو تھوڑے بہت ہندو بچے ہیں، انہیں مسلمان کیا جا رہا ہے۔ ہندوؤں کو مسلمان بناتے وقت جینڈر سینسٹیویٹی کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ صرف نوجوان ہندو لڑکیوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا جا تا ہے۔

پاکستان اسلامی ہے یا نہیں، اس بابت دائرہ اسلام میں داخل ہونے والی ہندو لڑکیوں کے علاوہ مسلمان خواتین سے بھی پوچھیے۔ ذرا پوچھیے زنا آرڈیننس پوری طرح اسلامی ہے یا اس پر ابھی بھی ہندو دھرم کے اثرات پائے جاتے ہیں؟

حضور! ہم تو اس قدر اسلامی ہیں کہ ہم نے عید کا چاند دیکھنے کے لیے کسی میٹیریالوجسٹ کی بجائے کروڑوں روپے کے خرچ پر ایک مولوی صاحب کو رکھا ہوا ہے۔ ہماری تو کرکٹ ٹیم بھی کرکٹ کم کھیلتی ہے،تبلیغ زیادہ کرتی ہے۔ ہمارے سکولوں کالجوں میں فزکس،کیمسٹری اور بائیالوجی پڑھانے والے بھی دینیات ہی پڑھا رہے ہوتے ہیں۔ہمارے طلبہ بھی یہی کچھ پڑھنا چاہتے ہیں۔ میری ایک دوست کوہاٹ کے ایک کالج میں ریاضی پڑھاتی تھیں۔ ان کے طلبہ مُصر رہتے تھے کہ میری دوست علم اعداد کی مدد سے وجود خدا ثابت کرنا سکھائیں۔ ہماری تو اداکارائیں کیٹ والک کے بعد سیدھا رمضان ٹرانسمشن کرنے پہنچ جاتی ہیں۔ہمارے ہاں بنکنگ بھی اسلامی ہے۔ہمارا آئین بھی اسلامی ہے۔ اور تو اور مولانا قوی کی صورت میں اسلامی رنگین پسندی کا بھی اہتمام موجود ہے۔

ہمارے ہاں تو بھٹو صاحب اوران کی پیپلز پارٹی نے سوشلزم کو اسلامائز کر دیا۔ بھٹو صاحب تو چلیے کچے پکے سوشلسٹ تھے۔ ہمارے ہاں تو سکہ بند عوامی ورکرز اور حقوق خلق کے علمبردار اپنے انتخابی پوسٹرز میں اللہ کاذکر خیر کیے بغیر انتخاب نہیں ہارتے۔

چند روز پہلے،میری یونیورسٹی میں ایک کانفرنس تھی۔ کانفرنس میں شریک قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک سکالرنے ایک مدرسے بارے اپنی تحقیق پیش کی۔ یہ تحقیق انہوں نے برطانیہ کی جامعہ رائل ہالووئے میں دورانِ پی ایچ ڈی کی۔ ان کی تحقیق کا موضوع ملتان کا ایک معروف مدرسہ تھا۔مدرسے کے بانی تقسیم کے وقت ہندوستان سے ہجرت کر کے لائلپور آن بسے۔ اہلِ ملتان کو ان کی پاکبازی کا علم ہو اتو ملتان بلا لیا۔ 70 سال میں پاکستان میں اسلام نے کتنی ترقی کی اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ اس مدرسے کے اثاثے اب لگ بھگ 6 ارب روپے ہیں۔ مدرسے کے 15-20 بیس بنک اکاونٹ ہیں،جن میں ہر سال زکوۃ خیرات کے نام پر ہی نہیں، ”مغیر حضرات“ بھی کروڑوں روپے ماہانہ جمع کراتے ہیں۔ اگر آپ ہمارے مدارس کی آمدن بارے جان جائیں تو یقین کیجئے اپنے آباء و اجداد کو ہجرت نہ کرنے پر سخت سست قرار دیں۔یہ تو ایک مدرسے کی کہانی ہے۔ ہمارے ہاں ایسے سینکڑوں مدرسے ہیں۔ اگر ہمارے ہاں اسلام نہ ہوتا تو ایمانداری سے بتایے ہمارے مولوی حضرات ارب پتی کیسے بنتے؟ ایران اور سعودی عرب کے علاوہ کون سا اسلامی ملک ہے جہاں علما حضرات اس قدر خوشحال اور اتنی بڑی تعداد میں ارب پتی ہیں۔ یقین کیجیے! میں تو اپنے مارکس وادی دوستوں سے کہوں گا کہ پاکستانی بورژوازی کے باریش سیکشن بارے کسی نئے کانسیپٹ کو ڈویلپ کریں۔

دولت ہی نہیں، ہمارے ہاں اسلام کی بالا دستی کا اندازہ ہمارے علما ء حضرات کی طاقت سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ہمارے سب سے بڑے صوبے کے گورنر کا دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔مقتول کے جنازے میں سربراہ مملکت، وزیر اعظم،اورفوج کے سربراہ سمیت کسی طاقتور شخصیت نے خوف کے مارے شرکت نہیں کی۔ معلوم نہیں گورنر سلمان تاثیر کی قبر پر ان کے گھر والے بھی پھول چڑھانے کی جرأت کرتے ہیں یا نہیں،البتہ ممتاز قادری کے مزار سے کروڑوں روپے کی ماہانہ آمدن کی خبریں ہیں۔ ان کے نام پر بننے والی ٹی ایل پی ملک کی چوتھی بڑی جماعت بن چکی ہے۔ اور تو اور جب ہمارے بہادر سپہ سالار کے دلوں میں شیطان کبھی کوئی خوف ڈال دے تو وہ سب سے پہلے علما مشائخ کانفرنس بلاتے ہیں۔ ہمارے سب سے مقبول سیاسی رہنما طالبان خان کہلاتے ہیں۔ ہمارے شریف ترین رہنما ملک میں طالبان کا نظام نافذ کرنا چاہتے تھے۔ باچہ خان کی وراثت کا دعویٰ کرنے والی،ہماری سیکولر جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے مرحوم رہنما،غلام احمد بلور، گستاخانِ مذہب کو واصل جہنم کر تے ہوئے جام شہادت نوش کرنے کے متمنی تھے مگر آپ ہیں کہ ہمیں اسلامی ملک تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔

ہم تو اس قدر اسلامی ہو چکے ہیں کہ ا نجینئر مرزا جیسے لوگوں کو جیل بھیج رہے ہیں جبکہ علامہ غامدی کو ملک بدر کر رکھا ہے۔ آپ خود تو ہندوستان میں رہتے ہیں (جہاں ہندو طالبان کے باوجود آپ مناظرے کر کے زندہ ہیں) مگر ہمارے ہاں مزید اسلام کے متمنی ہیں۔ اگر یہ خط ہمارے معزز دوست سہیل وڑائچ لکھ رہے ہوتے تو ان الفاظ پر اختتام کرتے: کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

اپنا خیال رکھیے گا اور یاد رکھیے گا کہ لوگوں کو غیر اسلامی ہونے کا فتویٰ ہم اہل پاکستان نے اپنے ذمے لے رکھا۔آپ اس کام میں مداخلت مت کریں۔


خیر اندیش۔

فاروق سلہریا

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔