ممتاز دانشور بیرسٹر عبدالحمید باشانی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس، اہم سیاسی و سماجی رہنماؤں کی شرکت
راولاکوٹ(نامہ نگار) ممتاز ترقی پسند دانشور، مصنف اور کالم نگار بیرسٹر عبدالحمید باشانی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ریفرنس میں مختلف اضلاع سے سیاسی و سماجی رہنماؤں،صحافیوں، ادیبوں اور ترقی پسند حلقوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
مقررین نے عبدالحمید باشانی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ تعزیتی ریفرنس کااہتمام آزادی پسند اور ترقی پسند تنظیموں نے ’حمید باشانی یادگاری کمیٹی‘ کے زیر اہتمام کر رکھا تھا۔
تعزیتی ریفرنس سے سابق ضلعی صدر جموں کشمیر پیپلزپارٹی و سابق امیدوار اسمبلی سردار جاوید نثار ایڈووکیٹ، پہاڑی ادیب اور برطانوی کونسلر علی دالت، مصنف و کالم نگار شمس رحمان، سابق مرکزی صدر نیشنل عوامی پارٹی سردار لیاقت حیات، ممتاز قانون دان و سیاسی و سماجی رہنما سردار جاوید ناز ایڈووکیٹ، پیپلز ریولوشنری فرنٹ کے رہنما و ممتاز دانشور پروفیسر (ر) ساجد نعیم، چیئرمین لبریشن فرنٹ(ر)سرداررؤف کشمیری، سابق مرکزی صدر این ایس ایف عمران مسعود، سابق چیئرمین پیپلز یوتھ آرگنائزیشن سردار ببرک خان، جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار طارق اسحاق، مرکزی آرگنائزرنیشنل عوامی پارٹی اظہر کاشر، جنرل سیکرٹری پی آر ایف اوورسیز عرفان یعقوب، مرکزی رہنما نیشنل عوامی پارٹی صغیر چوہدری، اسرار یوسف، واجد علی واجد ایڈووکیٹ، سجاد افضل، سعید اسد، ذوالفقار شاہین، مصطفی خان، یاسر ارشاد، نثار عادل اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ سابق صدر این ایس ایف فاران مشتاق نے نظامت کے فرائض سرانجام دیے اور فاروق حسین صابر نے ترانہ پیش کیا۔
مقررین نے کہا کہ بیرسٹر عبدالحمید باشانی اس خطے کی ایک ترقی پسند آواز تھے۔ انہوں نے جموں کشمیر کے مسئلے کے سفیر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ زمانہ طالبعلمی میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نظریات کے دفاع کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ وسیع مطالعہ کی حامل شخصیت تھے اور انہوں نے جموں کشمیر کی قومی آزادی اور سماجی انصاف سمیت عالمی سامراجی تعلقات کے حوالے سے نہ صرف جموں کشمیر کے لوگو ں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا، بلکہ برصغیر پاک و ہند سمیت دنیا بھر میں ابھرتے مسائل پر وہ گہرا تجزیہ رکھتے تھے۔ ان کی تصانیف، مضامین اور انٹرویوز آج نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہیں۔
مقررین کا کہنا تھا کہ بیرسٹر عبدالحمید باشانی نے جواں مردی کے ساتھ نہ صرف کینسر جیسے موذی مرض کا دفاع کیا،بلکہ آخری سانس تک وہ آزادی، امن اور حریت کا درس دیتے رہے۔ مقررین نے بیرسٹر عبدالحمید باشانی کی جدوجہد اور ان کے دانشورانہ کام کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ بیرسٹر عبدالحمید باشانی کے کام کو نئی نسل تک پہنچانے اور خطے کی قومی آزادی اور سماجی انصاف کے لیے جدوجہد کو استوار کرنے کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انقلابی قیادتوں کی تیاری کا عمل تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس خطے میں طویل عرصے سے چلنے والی تحریکوں میں جس چیز کی کمی نظر آرہی ہے، وہ پھر ایک متبادل قیادت کی کمی ہے، جس کو پورا کیے بغیر منطقی نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بیرسٹر عبدالحمید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کو سیاسی اور علمی بنیادوں پر جاری و ساری رکھا جائے گا۔