← Back to Newsroom OS کالم

ممدانی ٹرمپ ملاقات پر سوشلسٹ تبصرہ: اصلاح پسندی ایک بند گلی ہے

By جدوجہد • 2025-11-24 • 19 min read

ایشلے سمتھ

خود کو جمہوری سوشلسٹ کہنے والے زہران ممدانی اور زخمی، مگر آمر بننے کی خواہش رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی یہ غیر ڈرامائی مگر نہایت معنی خیز ملاقات سے کیا سمجھنا چاہیے؟

اول، مامدانی کے بارے میں یہ یاد رکھیں کہ وہ ایک کمزور پوزیشن میں ہیں۔ انہیں صرف 50 فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ ملے، وہ بھی اس طرح کہ دو انتہائی دائیں بازو کے امیدواروں،کوومو (جنہیں ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی) اور سلوا،نے مل کر 49 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ان کا عہدہ بظاہر طاقتور ہے، مگر اس کا انحصار نیویارک سٹی کونسل پر ہے، یعنی ریاستی حکومت پر جو ہاچل جیسی بدترین گورنر اور البانی کی ڈیموکریٹک پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں ہے، اور وفاقی حکومت پر جو ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے اور جو حقیقی یا فرضی دشمنوں کے خلاف بے رحمی سے استعمال کی جاتی ہے۔

ان سیاسی رکاوٹوں سے آگے ایک اور حقیقت ہے۔ وہ یہ کہ سرمایہ دار ریاست کے حکومتی عہدے سے کوئی بھی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب کارپوریشنوں میں ترقی اور منافع بڑھے، خاص طور پر فنانس کیپیٹل میں، جس کا عالمی صدر دفتر نیویارک ہے،کیونکہ اسی سے ٹیکس کی آمدنی پیدا ہوتی ہے۔

ان حالات میں ایک اصلاح پسند کے طور پرممدانی کے پاس زیادہ گنجائش نہیں،جوعوامی جدوجہد کا حوالہ دینے کے باوجودیہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری عہدہ ہی سماجی تبدیلی کا راستہ ہے۔ اس لیے انہیں طاقت ور حلقوں کو خوش رکھنے اور ان سے رعایتیں لینے کے لیے سودے بازی کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ڈیموکریٹک اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات کی، ان کی حمایت لینے کی کوشش کی، رئیل اسٹیٹ کے بڑے مالکان کی مخالفت کو کمزور کرنے کے لیے ان سے مذاکرات کیے، اور حتیٰ کہ بدنام زمانہ ارب پتی پولیس کمشنر جیسیکا ٹش کو دوبارہ اپنے عہدے پر برقرار رکھا،جو ٹرمپ کی قریبی دوست اور سخت گیر دائیں بازو کی قانون و نظم پرست ہیں۔

اسی منطق کی وجہ سے ممدانی اور اے او سی نے ڈی ایس اے کے ہی ایک رکن کی جانب سے حکیم جیفریزکے خلاف چلنے والی پرائمری چیلنج کی مخالفت کی،جو مکمل طور پر نیولبرل اور صیہونی سیاست دان ہیں۔ اگر نیچے سے ہونے والی طبقاتی جدوجہد نہ ہو تواصلاح پسندی کی منطق سرمایہ دار طبقے اور اس کے سیاستدانوں سے مطابقت اختیار کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔یوں بہترین صورت میں معمولی لبرل اصلاحات کی جا سکتی ہیں، اور بدترین صورت میں موجودہ نظام کا انتظام، جیسا کہ فرانسوا میتران (ریڈ تھیچر) نے کیا تھا۔

یہ تمام حقیقتیں اور اصلاح پسندی کی یہی منطق بتاتی ہے کہ ممدانی نے ٹرمپ سے ملاقات کیوں کی۔ انہوں نے اس حکومت کے سربراہ سے ٹکراؤ کا کوئی بہانہ باقی نہ رکھا جو اندرون ملک ایک متعصب طبقاتی جنگ چلا رہی ہے، یعنی یونین حقوق چھیننے سے لے کر مہاجرین کے خلاف ریاستی دہشت گردی تک،اور بیرون ملک لاطینی امریکہ میں قتل و غارت پر مبنی گن بوٹ ڈپلومیسی سے لے کر فلسطین اور یوکرین میں ایسے سامراجی ”امن معاہدے“تک،جو اسرائیل اور روس جیسے نوآبادیاتی جارحوں کو نوازنے کا باعث بنتی ہے۔ان میں سے کسی چیز کا ممدانی نے نام تک نہ لیا۔انہوں نے ٹرمپ کو آمر، فاشسٹ یا نسل کش جنگی مجرم کہنے کا حوصلہ تک نہ دکھایا۔

اس کی بجائے وہ ٹیپ ریکارڈر کی طرح ”افورڈیبلٹی“ پر شراکت داری کی درخواست دہراتے رہے۔ وہ ٹرمپ کو خوش کرنے، نرم بنانے، اور اپنے خیال میں انہیں رام کرنے میں لگے رہے، تاکہ نیویارک شہر کے خزانے میں وفاقی ڈالر کی آمد جاری رہے۔ ممدانی کے مشیروں میں سے بہت سے کہیں گے کہ وہ تین یا چار جہتی شطرنج کھیل ر ہے ہیں اور ٹرمپ کو مات دے دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی دلیلیں اصلاح پسندی کی اسی منطق کو جواز فراہم کرتی ہیں جسے وہ خود ”فاشزم“ کہنے سے نہیں ہچکچاتے۔

یہ حکمت عملی ٹرمپ کو روک نہیں سکتی۔وہ پہلے ہی نیویارک پر حملہ آور ہیں۔ آئیس چھاپے مار رہی ہے، اوباماکیئر پر انحصار کرنے والے لوگ سبسڈیز کھو رہے ہیں، میڈی کیڈ میں کٹوتیاں مزدور طبقے کو مار رہی ہیں، ٹرانس کمیونٹی وفاقی محاصرے میں ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اگر نیچے سے دباؤ کے باعث ممدانی ان میں سے کسی مسئلے پر ٹرمپ کے سامنے کھڑے ہونے کی کوشش کریں گے تو ٹرمپ ان پر اور شہر کے لوگوں پر آسمان گرا دیں گے۔یہ ویسے بھی ہو سکتا ہے۔

لہٰذا یہ حکمت عملی مزدوروں اور مظلوموں کے لیے بہت مہنگی ہے۔ اس کی مثالیں پہلے سے نظر آ رہی ہیں۔ ملاقات میں ممدانی نے پولیس کمشنر اور اس کے 35 ہزار اہلکاروں کی ”گسٹاپو“ جیسی فورس کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا، یہ وہ فورس ہے جو نیویارک کے نسل پرستانہ طبقاتی نظام کو نافذ کرتی ہے۔ ٹرمپ نے جب ”ٹف آن کرائم“ ایجنڈے پر ہم آہنگی کی بات کی تو ممدانی نے ذرا تامل نہ کیا۔اگر یہ سلسلہ رہا تو یہ صرف پہلی بڑی قیمت ہے، آگے مزید آئیں گی،جب تک کہ مزدور اور مظلوم وہی مطالبات اٹھا کر نہ کھڑے ہو جائیں جن پر ممدانی نے اپنی مہم چلائی تھی۔

آخر میں یہ مزاحمت تعمیر کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ ڈیبس جیسے سیاسی رہنما ٹرمپ کے سامنے انہیں للکارتے، اور اسی وقت وائٹ ہاؤس کے باہر بڑی ریلی بلانے کا اعلان کرتے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ عوامی طبقاتی جدوجہد ہی واحد راستہ ہے جو ٹرمپ کو روک سکتی ہے اور اصلاحات جیت سکتی ہے۔

ٹرمپ کو نہ للکار کر ممدانی نے بائیں بازو کو یہ پیغام دیا کہ ہمیں ٹکراؤ نہیں بلکہ طبقاتی مفاہمت، یعنی ٹریڈ یونین افسر شاہی کی پرانی ”مشترکہ“ پالیسی،اختیار کرنی چاہیے۔ ایسا اس امید پر کیا جانا چاہیے کہ ایک ارب پتی آمر، ڈیموکریٹک اسٹیبلشمنٹ، رئیل اسٹیٹ کے مالک اور وال اسٹریٹ مل کر مزدور طبقے کے لیے ”افورڈیبلٹی“ فراہم کریں گے۔

یہ محض ایک غیر حقیقی حکمت عملی ہے۔ اس میں بائیں بازو کو کمزور کرنے، اور انتخابی عمل کے بارے میں مزید بہکی ہوئی امیدیں پیدا کرنے کا شدید خطرہ موجود ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت جب سینٹر اسٹ ڈیموکریٹس، جیسے کہ انتہائی قابل نفرت گیون نیوسم، مزاحمت کرنے والوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ممدانی اور چند دیگر ڈی ایس اے امیدواروں کے پیچھے نہیں، بلکہ ان سینٹراسٹ نیشنل سکیورٹی مامز کے پیچھے یکجا ہوں جنہوں نے نیو جرسی اور ورجینیا میں افورڈیبلٹی، لاء اینڈ آرڈر، اور سامراجیت پر مبنی سینٹر رائٹ پروگرام کے تحت کامیابی حاصل کی۔

بائیں بازو کو اس سب کو مسترد کر دینا چاہیے۔ اس کے برعکس ہمیں ممدانی پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ طاقت ور حلقوں سے صلح جوئی یا سازباز نہ کریں، بلکہ ڈٹ کر مزاحمت کریں۔ وہ اس کوشش کو خود مختار طبقاتی تنظیم اور جدوجہد کے ذریعے مضبوط کریں، تاکہ وہ اپنی انتخابی مہم کے مطالبات کے لیے لڑ سکیں، ہماری کمیونٹیز کو آئیس کے خلاف دفاع فراہم کریں، اور ٹرمپ کے خلاف عوامی مزاحمت کو بڑھا سکیں۔ صرف ایسا ہی وسیع عوامی دباؤ اصلاحات جتوا سکتا ہے، نہ کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ایک عفریت سے چاپلوسی کے ذریعے کچھ حاصل کرنے کی امید۔

اب ٹرمپ کی طرف آئیں۔ آخر انہوں نے ممدانی کے ساتھ نرمی کیوں برتی،صرف اس لیے کہ وہ بھی کوئنز سے ہے؟ وہ پہلے ممدانی کو پاگل کمیونسٹ قرار دینے سے طرح طرح کی اسلاموفوبک گالیاں دینے کے بعد اب کیوں ان کی تعریفیں کرتے رہے؟ بظاہر وجوہات تو واضح ہیں۔ ٹرمپ ایک ”فاتح“کو پسند کرتے ہیں، تعریف پسند کرتے ہیں،جو ممدانی نے انہیں بار بار”مسٹر پریزیڈنٹ“ کہہ کر وافر مقدار میں دی،اور انہیں کیمروں کے سامنے رہنے کا شوق ہے۔ یہ سب ان کے لیے اچھا ٹی وی شوہے۔

زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ممدانی نے نہ ٹرمپ کو چیلنج کیا نہ ان کے مفادات کو۔ نومنتخب میئرپہلے ہی ٹرمپ کے پسندیدہ سیاسی اور معاشی طاقت ور حلقوں سے مصالحت کر چکا ہے۔ ممدانی نے پولیس کمشنر کو برقرار رکھا ہے،جو ٹرمپ اور ان کی بیٹی ایوانکا کی قریبی دوست ہے۔ ٹرمپ واضح طور پر ممدانی کو استعمال کرنا چاہتے ہیں،اور اگر ممدانی مزاحمت کریں گے تو وہ انہیں روند ڈالیں گے۔انہیں بخوبی معلوم ہے کہ جی او پی اور ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت ان کے ساتھ اس سلسلے میں کھڑی ہے،جن کے جیفریز سمیت ایوان نمائندگان کے اراکین”سوشلزم کی ہولناکیوں“کی مذمت کرنے والے مکارتھی طرز کے بل کے حق میں متحد ہو گئے تھے۔

ٹرمپ کے ممدانی کا خیرمقدم کرنے کی بڑی وجہ ان کی اپنی کمزوریاں اور اپنی حکومت کو بچانے کے لیے کسی قسم کی سمت کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حالیہ انتخابات میں ٹرمپ اور جی او پی کو بری طرح شکست ہوئی۔ ڈیموکریٹس نے ہر سطح پر انہیں مات دی، یہاں تک کہ بیشتر سینٹر رائٹ امیدوار بھی ہار گئے،جن کی مہم کا مرکزی نعرہ مہنگائی/افورڈیبیلٹی تھا، جسے انہوں نے دائیں بازو کے موقف کے ساتھ ملا کر پیش کیا تھا۔

اس کے علاوہ ٹرمپ ایپسٹین اسکینڈل میں بری طرح دھنسے ہوئے ہیں، اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور سمگلنگ میں شریک جرم ہونے کے مزید انکشافات متوقع ہیں۔ یہ معاملہ کلنٹن اور لیری سمرز جیسے کئی ڈیموکریٹس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گا جو ایپسٹین کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے رہے۔ تاہم ٹرمپ کی حالت یہ ہے کہ اس اسکینڈل نے ان سے ری پبلکن پارٹی پران کا کنٹرول چھین لیا ہے، اور ان کے اپنے میگا (MAGA) حامی بھی اس سکینڈل پر ان سے دور ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی ہے، اور وہ اپنے سیاسی تاثر کو بحال کرنے کے لیے بے تاب ہیں، خصوصاً مہنگائی پر قابو پانے کی اپنی صلاحیت دکھانے کے لیے۔ یہ وہی بنیادی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ان کے ووٹرز نے بائیڈن اور ہیریس کو چھوڑ کر ان کی طرف رجوع کیا تھا۔

ٹرمپ جانتے ہیں کہ ان کی حکومت بحران میں ہے۔ وہ دھڑے بندی جسے وہ کسی نہ کسی طرح متحد رکھے ہوئے تھے، اب ٹوٹ رہی ہے۔ٹیک برو اور اجنبی دشمن گروہ (xenophobes) آپس میں ٹکر میں ہیں،نیولبرلز اور نیشنل پاپولسٹس میں تناؤ ہے،سامراجیت پسند اور تنہائی پسند آمنے سامنے کھڑے ہیں،اور ٹیریفس اور مہنگائی سے نقصان اٹھانے والے چھوٹے کاروبار اور دائیں بازو کے مزدور حفاظتی تجارتی پالیسیوں کے حامیوں سے ٹکرا رہے ہیں۔

پس، ٹرمپ اس وقت ایک دو راہے پر کھڑے ہیں۔ یا تو وہ اپنی تقسیم شدہ جماعت کو مزید جارحانہ آمرانہ پاپولزم کے ذریعے یکجا کریں، یا پھر وہ وقت سے پہلے ہی بے بسی کا شکار ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں ایک سنگین جانشینی کا بحران پھوٹ پڑے گا، اور وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی تقریباً یقینی ہو جائے گی۔ ایسی جیت ٹرمپ کے مواخذے کی راہ ہموار کرے گی اور ریاست کو ایک اور بڑے بحران میں دھکیل دے گی۔ جیسا کہ بینن نے اپنے ساتھیوں کو خبردار کیا تھاکہ ”اگر ٹرمپ ڈوبا تو ہم میں سے بہت سے لوگ جیل میں ہوں گے۔“

یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے افورڈیبیلٹی کے مسئلے پر زور دینے کے لیے ممدانی کو استعمال کیا۔ وہ بے تاب ہیں کہ لوگ دوبارہ اس کی طرف لوٹیں۔ وہ ممدانی کے ساتھ دکھاوے کی مصافحہ آرائی کو موقع پرستانہ طریقے سے استعمال کریں گے، تاکہ اپنے لیے فائدہ سمیٹ سکیں (ٹرمپ: ”میرے بہت سے ووٹر ممدانی کو ووٹ دے چکے ہیں“؛ ممدانی: ”ہر 10 میں سے ایک“)،اور وہ اپنے سپورٹ بیس کو خوش کرنے کے لیے مزید شدت اختیار کریں گے۔تارکین وطن پر حملوں،ٹرانس افراد کے خلاف مہم جوئی،اعلیٰ تعلیم میں ”کلچرل مارکسسٹوں“ کے خلاف تطہیری مہم چھیڑنے،وغیرہ جیسے اقدامات میں تیزی لائی جائے گی۔اور اگر یہ سب کام نہ آیا تو وہ امریکہ کے اندر فوج تعینات کرکے اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں کہ انہوں نے ممدانی سے ملاقات سے کچھ ہی پہلے 6 ڈیموکریٹس کو سزائے موت دینے کی دھمکی دی تھی،صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے فوجیوں کو غیر آئینی احکامات نہ ماننے کی ترغیب دی تھی۔

تاہم، ٹرمپ کی یہ صلاحیت کہ وہ ان میں سے کچھ بھی کر سکیں،ان کے اپنے ہی”کی اسٹون کاپس“ جیسے مشیروں کے ہاتھوں مفلوج ہے، جن میں نیو نازی اسٹیفن ملر،شرابی پیٹ ہیگستھ،مسلسل بکھرے دماغ والے کاش پٹیل،وغیرہ شامل ہیں۔پورے نظام میں واحد سخت گیر حکمت عملی رکھنے والی شخصیت رس ووٹ ہیں، لیکن یہ اتنا نہیں کہ وہ اس قسم کے آمرانہ اقدامات کروا سکیں جن کی انہیں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ٹرمپ کو فوجی قیادت کی وفاداری حاصل ہے، ریاستی بیوروکریسی کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں بڑی عوامی مزاحمت بھی موجود ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود وہ آمرانہ موڑ لینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو پھر ان کا سیاسی مستقبل ختم ہے۔

آخر کار، اس صورت حال میں بائیں بازو کا کام کیا ہے؟وہی جو ہمیشہ رہا ہے۔ ہمیں آزاد طبقاتی اور سماجی جدوجہد کو تعمیر کرنا ہوگا۔ یہی وہ محرک قوت ہے جو ممدانی کے دور میں اصلاحات جتوانے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہی ہمارے حقوق، ہماری کمیونٹیز، ہماری ملازمتوں، اجرتوں، اور مراعات کو ٹرمپ کی تعصب پر مبنی طبقاتی جنگ سے بچانے کا بہترین دفاع بھی ہے۔ ہمارا ماڈل وہی ہے جو آئیس کے خلاف لاس اینجلس سے شکاگو تک اور اب شارلٹ تک ملک بھر میں مزدوروں کی جانب سے منظم عوامی مزاحمت رہی ہے۔ طلبہ کے واک آؤٹ، ممکنہ اساتذہ کی ہڑتالیں، اور عوامی دفاع کی اجتماعی کوششیں ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔

مزاحمت اور بائیں بازو کے سامنے ایک خطرہ یہ ہے کہ وہ ممدانی کی طرح کی اصلاح پسند انتخابی حکمت عملی کے پیچھے قطار بندی کر بیٹھیں۔ ایک اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ ایک بار پھر ڈیموکریٹک پارٹی کے پیچھے گر پڑیں،جو آج کے امریکہ کی سب سے مربوط سرمایہ دار جماعت ہے،چاہے 2026 ہو یا 2028۔ اس سے ہماری مزاحمت غیر متحرک ہو جائے گی، کیونکہ یہ وہم پیدا ہوگا کہ ڈیموکریٹس (جن میں چند سوشلسٹ شامل کر دیے گئے ہیں) ٹرمپ کو روک لیں گے،حالانکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا،یا وہ سرمایہ دارانہ نظام کی ساختی ناہمواریوں کا خاتمہ کر دیں گے،جو وہ نہ کر سکتے ہیں، نہ کرنا چاہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ 2026 اور 2028 میں جو بھی حکومتی طاقت حاصل کرے گا، اسے ایک بے کار ریاست ورثے میں ملے گی اور ایک سرمایہ دارانہ معیشت جو بہترین حالت میں سست روی کا شکار ہوگی اور بدترین صورت میں بڑی اے آئی ببل کے پھٹنے کے بعد شدید کساد بازاری میں دھکیلی جا چکی ہوگی۔ہم ایک نئے عہد میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ بحرانوں کا عہد ہے،جہاں بے مثال پولرائزیشن (نک فوئنٹس اس حقیقی فاشسٹ دائیں بازو کی محض جھلک ہے جو جنم لینے کو تیار ہے)، شدید جغرافیائی سیاسی عدم استحکام، اور بڑھتے ہوئے سامراجی تصادم ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔

ایسے خوفناک حالات میں ہمیں مزاحمت کی تعمیر، آزاد طبقاتی اور سماجی جدوجہد کی تنظیموں اور ایک نئی مزدور پارٹی کی تشکیل کی ضرورت ہے،جو اصلاحات کے لیے لڑ سکے، اور سیاسی اور سماجی انقلاب کے راستے کو کھول سکے۔

 

(نوٹ: ایشلے سمتھ امریکی مارکس وادی ہیں، اور ٹیمپسٹ میگزین کے ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے زہران ممدانی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور ان کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے انگریزی زبان میں یہ مضمون لکھا ہے، جس کا اردو زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے)