← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

مودی کے دورہ اسرائیل کے لیے جنسی مجرم جیفری اپسٹین نے لابنگ کی

By جدوجہد • 2026-02-04 • 11 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکی سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری اپسٹین کی تحقیقات سے متعلق دستاویزات کی حالیہ ریلیز میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے امریکی انتظامیہ سے تعلقات سے دورہ اسرائیل تک متعدد معاملوں سے متعلق فیصلوں میں جیفری اپسٹین کا کردار بھی موجود رہا ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق جمعہ کے روز جاری ہونے والی دستاویزات میں دکھایا گیا ہے کہ بھارت کے ارب پتی صنعت کار انیل امبانی اور اپسٹین کے درمیان متعدد بار گفتگو اور پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ انیل امبانی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور ان کی اپسٹین سے یہ تمام بات چیت 2008میں اپسٹین کو سنائی جانے والی پہلی سزا کے بعد کی ہے۔

دونوں کے درمیان ہونے والی ای میلز میں امریکہ کے بھارت آنے والے سفیروں کے بارے میں تبادلہ خیال سے لے کر مودی کے لیے امریکہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں تک کے پلان شامل تھے۔انیل امبانی بھارت کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کے بھائی ہیں، جو مودی کے اور بھی زیادہ قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

16 مارچ 2017 کوانیل امبانی نے اپسٹین کو پیغام بھیجا کہ ”قیادت“ کو ٹرمپ کے قریبی حلقوں، خصوصاً جیرڈ کشنر اور اسٹیو بینن تک رسائی درکار ہے۔ یہ ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور کے ابتدائی ماہ تھے۔ انیل امبانی نے پیغام میں مودی کے ممکنہ دورہ امریکہ کے بارے میں بھی اپسٹین سے مشورہ مانگا۔

29مارچ2017کو اپسٹین نے امبانی کو ایک پیغام میں لکھا کہ ”اسرائیل سے متعلق حکمت عملی پر بات چیت مودی کے شیڈول پر غالب ہے۔“

دو دن بعد امبانی نے اطلاع دی کہ مودی جولائی میں اسرائیل جائیں گے اور پوچھا کہ ”آپ’ٹریک ٹو‘کے کن لوگوں کو جانتے ہو؟“

26 جون 2017 کو مودی نے واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملاقات کی۔6 جولائی 2017 کو مودی اسرائیل کے سرکاری دورے پر جانے والے بھارت کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران فلسطینی اتھارٹی سے ملاقات نہ کر کے شدید تنقید مول لی۔اسی سال بھارت نے اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بننے کا ریکارڈ قائم کیا، اور تقریباً715ملین ڈالر کے اسلحہ کی خریداری کی گئی۔یہ دفاعی تعلقات غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے باوجود مسلسل مضبوط ہوتے گئے۔

مودی کے دورے کے فوری بعد اپسٹین نے ”جابوروائی“ نامی شخص کو لکھا کہ ”بھارتی وزیراعظم مودی نے مشورہ مانا۔۔۔اور امریکی صدر کی خوشنودی کے لیے اسرائیل میں بھی ناچ گانا کیا۔۔۔یہ کامیاب رہا!“

اسی سال امبانی کی ریلائنس ڈیفنس نے اسرائیل کی ایک ریاستی دفاعی کمپنی کے ساتھ 10 ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبے کا معاہدہ کیا۔بعدازاں لیری سمرز نے اپسٹین سے پوچھا کہ کیا وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ ہیلری کلنٹن سے بہتر صدر ثابت ہوئے؟

اپسٹین نے جواب دیاکہ ”جی ہاں، بالکل۔۔۔مثال کے طو رپر بھارت، اسرائیل۔۔۔۔بہت اچھا ہے اور یہ سب ان کا ہی کارنامہ ہے۔“

اپسٹین نے 2019 کے بھارتی انتخابات میں مودی کی بھاری فتح کے فوراً بعد مودی اور اسٹیو بینن کی ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش بھی کی۔ دستاویزات کے مطابق 23 مئی 2019 کو اس نے نیویارک میں امبانی سے ملاقات کی۔بعد میں اس نے بینن کو پیغام میں لکھا کہ ”مودی ملاقات انتہائی دلچسپ رہی۔۔۔۔اس کے آدمی نے کہا کہ اس کا سب سے بڑا دشمن چین اور پاکستان ہیں۔۔۔وہ 2022میں جی20کی میزبانی کریں گے۔۔۔اور مکمل طور پر آپ کے ویژن کو قبول کرتے ہیں۔“

اپسٹین نے امبانی سے پوچھا کہ کیا مودی بینن سے ملنا پسند کریں گے، جس پر امبانی نے ”Sure“ کہا۔اپسٹین نے بعد میں بینن کو لکھاکہ ”مودی آن بورڈ ہو چکے ہیں۔“

اپسٹین فائلز میں شامل ایک اور بڑا بھارتی نام ہردیپ سنگھ پوری ہے، جو بھارتی خارجہ سروس سے ریٹائر ہو کر 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے۔دستاویزات کے مطابق ہردیپ اور اپسٹین کے درمیان ای میل کا سلسلہ جون 2014 میں شروع ہوا، جب اپسٹین نے سوشل میڈیا سائٹ’لنکڈ ان‘ کے شریک بانی ریڈ ہافمین سے متعلق بات کی اور ان کی بھارت آمد کا بندوبست کرنے کی کوشش کی۔

ای میل کے تبادلوں کے بعد ہردیپ نے اپسٹین اور ہافمین کے لیے بھارت میں سرمایہ کاری کے مواقع پر ایک مفصل پریزنٹیشن تیار کی، جس میں مودی حکومت کے معاشی منصوبوں کی وضاحت تھی۔دستاویزات یہ بھی بتاتی ہیں کہ پوری نے اپسٹین سے کم از کم تین مرتبہ ملاقات کی۔ 4فروری2015، 6جنوری 2016، اور19مئی2017کو یہ ملاقاتیں اپسٹین کی مین ہٹن رہائش گاہ پر ہوئیں۔

دسمبر 2014 میں ہردیپ نے دوبارہ اپسٹین کو لکھا کہ”برائے مہربانی جب آپ اپنے غیر معمولی جزیرے سے واپس آئیں تو مجھے ضرور مطلع کریں۔“اور ایک ملاقات کا بھی کہا تاکہ وہ ایپسٹین کو ”بھارت میں دلچسپی پیدا کرنے والی کتابیں“ دے سکیں۔

یاد رہے کہ جیفری اپسٹین کی فائلوں کی یہ نئی کھیپ جمعہ کے روز جاری کی گئی ہے، جس میں 30لاکھ سے زائد صفحوں پر مشتمل دساویزات ہیں۔ گزشتہ سال صدر ٹرمپ کی حکومت نے ایک قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت یہ دستاویزات جاری کرنا لازمی قرار پایا اور یہ اب تک کی سب سے بڑی ریلیز ہے۔

واضح رہے کہ اپسٹین کو 2008 میں جنسی جرائم کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی، لیکن وہ وفاقی مقدمات سے بچ گئے، جو انہیں تاحیات قید تک پہنچا سکتے تھے۔ استغاثہ کے ساتھ ایک ڈیل کے نتیجے میں انہیں صرف 18 ماہ کی سزا ملی، جس میں انہیں روزانہ 12 گھنٹے، اورہفتے میں 6 روز اپنے دفتر جانے کی اجازت تھی۔ وہ 13 ماہ بعد پروبیشن پر رہا ہو گئے تھے۔

2019 میں جیفری اپسٹین کو دوبارہ گرفتار کیا گیا، اس بار کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات بھی شامل تھے۔ تاہم وہ اپنے مقدمے کے آغاز سے قبل ہی نیویارک کی مین ہٹن جیل میں مردہ پائے گئے۔

اب نئے جاری کردہ دستاویزات اور ای میلز میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ ایپسٹین نے نوجوان لڑکیوں کے ساتھ جنسی ظلم و زیادتی کے علاوہ، برطانیہ، آسٹریلیا، ناروے، سلوواکیہ اور بھارت سمیت کئی ممالک کے طاقتور اور بااثر افراد کے ساتھ تعلقات استوار کر رکھے تھے۔

جیفری اپسٹین پر اسرائیلی خفیہ ادارے کا اثاثہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ جیفری اپسٹین کے ساتھ کام کرنے والی گیسلین میکس ویل کے والد کا تعلق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ ثابت شدہ ہے۔ گیسلین میکس ویل جیفری اپسٹین کی معاونت کا جرم ثابت ہونے پر 20سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ ان پر جیفری اپسٹین کے ساتھ ہنی ٹریپ اور بلیک میلنگ میں ملوث ہونا ثابت ہوچکا ہے۔