← Back to Newsroom OS صحت

موسمیاتی بحران کی شدت: ایک دہائی میں 25 کروڑ افراد بے گھر، امیر ممالک سرحدیں مزید سخت کرنے لگے

By جدوجہد • 2025-11-22 • 7 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)برازیل کے شہر بیلیم میں جاری COP30 کلائمیٹ سمٹ میں دنیا بھر سے آنے والے رہنماؤں اور ماہرین نے موسمیاتی آفات سے متاثرہ مہاجرین کے لیے مضبوط بین الاقوامی تحفظات کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تازہ تخمینوں کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں تقریباً 25 کروڑ افراد شدید خشک سالی، طوفانوں، سیلابوں اور غیر معمولی گرمی جیسی آفات کے باعث اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے ہیں۔ ان بے گھر ہونے والوں کی بڑی تعداد گلوبل ساؤتھ کے ممالک سے ہے، جہاں پہلے ہی جنگوں، غربت اور بار بار آنے والی قدرتی آفتوں نے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو غیر مستحکم کر رکھا ہے۔

’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق اس کے برعکس، گلوبل نارتھ کے وہ امیر ممالک جو تاریخی طور پرسب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ہیں، مہاجرین، پناہ گزینوں اور کلائمیٹ ریفیوجیز کے خلاف سخت پالیسیاں اپنا رہے ہیں۔ سرحدوں کی بندش، نگرانی میں اضافہ اور قانونی رکاوٹیں ایسے وقت میں بڑھائی جا رہی ہیں جب سب سے زیادہ متاثرہ افراد سلامتی اور بقا کے لیے ہجرت پر مجبور ہیں۔

گوئٹے مالا کے نائب وزیر برائے قدرتی وسائل و موسمیاتی تبدیلی ایڈون جوسے کاسٹیانوس لوپیز نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ”اصل مسئلہ ہمیشہ غربت اور مواقع کی کمی رہی ہے، اور موسمیاتی تبدیلی ان مسائل کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا رہی ہے۔“

سنٹر فار انٹرنیشنل انوائرمنٹل لا کی کلائمیٹ و توانائی ڈائریکٹر نکی رائش نے بھی واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی ہجرت کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ حقیقی انسانوں کی بقا کا سوال ہے۔ ان کے مطابق”یہ انسانی حقوق اور وقار کا معاملہ ہے، اور آخرکار انصاف کا معاملہ بھی۔“

COP30 کی مذاکراتی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رائش نے بتایا کہ اس سال اہم نکات میں توانائی کی منتقلی اور موافقت کے لیے مالی مدد، فوسل فیولز کے مرحلہ وار خاتمے کا مضبوط لائحہ عمل، اور جنگلات کے تحفظ سے متعلق پالیسیوں پر پیش رفت شامل ہے۔ ان کے بقول”آلودگی کا موجب بننے والے بڑے ممالک کو اخراج کم بھی کرنا ہوگا اور نقصان و موافقت کے لیے ادائیگیاں بھی بڑھانا ہوں گی۔“