مے میل مین: ٹرمپ انتظامیہ کے ہارورڈ اور دیگر ایلیٹ یونیورسٹیوں پر دباؤ کے پس پردہ اہم کردار
لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت میں اعلیٰ تعلیم کے منظرنامے کو ازسر نو تشکیل دینے کی جارحانہ پالیسیوں کے پیچھے ایک نسبتاً غیر معروف مگر نہایت طاقتور شخصیت موجود ہے۔ یہ طاقتور شخصیت37 سالہ ہارورڈ سے فارغ التحصیل وکیل، مے میل مین ہیں۔
یہ خاتون وکیل وائٹ ہاؤس میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر کی قریبی ساتھی اور پالیسی اسٹریٹیجسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے بارے میں ’نیویارک ٹائمز‘نے انکشاف کیا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں پر حکومتی دباؤ ڈالنے کے تقریباً ہر بڑے اقدام میں کلیدی کردار ادا کر چکی ہیں، چاہے وہ وفاقی فنڈنگ کی بندش ہو، بین الاقوامی طلبہ کے ویزے روکنے کی کوشش، یا شہری حقوق کی تحقیقات۔
انتظامیہ نے کولمبیا یونیورسٹی کے ساتھ 22 کروڑ 21 لاکھ ڈالر کا معاہدہ طے کیا ہے، جبکہ براؤن یونیورسٹی کے ساتھ بھی معاملات نمٹائے گئے ہیں۔ تاہم اصل ہدف ہارورڈ یونیورسٹی ہے، جو اس وقت 50 کروڑ ڈالر کے ممکنہ تصفیے پر بات چیت کر رہی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے ہارورڈ کے پیٹنٹس پر نئی تحقیقات شروع کر کے دباؤ مزید بڑھا دیا، جسے یونیورسٹی نے ’انتقامی کارروائی‘قرار دیا ہے۔
میل مین نے صدر ٹرمپ کے پہلے ہی دن کے ایگزیکٹو آرڈرز لکھے جن میں صنفی تعریف کو صرف مرد اور عورت تک محدود کر دیا گیا اور ’تنوع، مساوات اور شمولیت‘سے متعلق پالیسیوں کو ختم کر دیا گیا۔ اس پالیسی نے پنسلوینیا یونیورسٹی کو مجبور کر دیا کہ وہ ٹرانس جینڈر خواتین کو خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے سے روک دے۔
انہوں نے براہ راست کوشش کی کہ ہارورڈ بین الاقوامی طلبہ کو داخلہ نہ دے، جو فی الحال عدالت نے روک رکھی ہے۔ ان اقدامات پر انسانی حقوق کے کارکنان نے تنقید کی اور طلبہ و اساتذہ گروپوں نے اسے تعلیمی آزادی پر حملہ قرار دیا۔
ان کے ساتھیوں کے مطابق میل مین وائٹ ہاؤس میں ’خیالات کو عملی منصوبوں میں ڈھالنے‘کی ماہر ہیں۔ وہ سخت گیر مذاکرات کار ہونے کے ساتھ ساتھ عملی سمجھوتوں کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں، جس کا اعتراف بعض یونیورسٹی نمائندے بھی نجی طور پر کرتے ہیں۔
کینساس کے ایک چھوٹے شہر میں پرورش پانے والی میل مین نسلی اقلیت میں تھیں اور اسکول میں تعصب کا سامنا کرنا پڑا، مگر اپنی حاضر جوابی سے اس کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کینساس یونیورسٹی میں صحافت کی تعلیم حاصل کی، جارج بش کی انتخابی ریلی سے متاثر ہو کر سیاست میں دلچسپی لی، اور بعد میں ہارورڈ لا اسکول سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
پہلی ٹرمپ انتظامیہ میں چار سال تک صدر اور قریبی مشیروں کے ساتھ کام کیا، مگر 6 جنوری 2021 کے بعد عہدہ چھوڑ دیا۔ بعد میں انڈیپنڈنٹ ویمنز لا سینٹر کی ڈائریکٹر بنیں، جہاں ٹرانس جینڈر حقوق کی مخالفت اور یونیورسٹی پالیسیوں کو چیلنج کرنے والے مقدمات میں سرگرم رہیں۔
اس وقت وہ کارنیل، نارتھ ویسٹرن اور ہارورڈ سمیت کئی ایلیٹ اداروں سے براہ راست مذاکرات کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہم یونیورسٹیاں چلانا نہیں چاہتے، ہم صرف بڑی اور بنیادی تبدیلیاں چاہتے ہیں جو صحیح سمت طے کر دیں۔‘
ٹرمپ انتظامیہ اور مے میل مین کی یہ پالیسی نہ صرف امریکی اعلیٰ تعلیم میں بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکی یونیورسٹیوں کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ نقادوں کے مطابق، یہ اقدامات تعلیمی آزادی، تحقیقی خودمختاری، اور تنوع کے اصولوں پر ضرب ہیں، جبکہ حامیوں کے نزدیک یہ اداروں کو’سیاسی تعصب‘سے پاک کرنے کی کوشش ہے۔