← Back to Newsroom OS پاکستان

نجی یونیورسٹیوں کی نفسیات: طلبہ کو کسٹمر، اساتذہ کو ٹیوٹر سمجھو

By جدوجہد • 2025-04-21 • 14 min read

فاروق سلہریا

نجی اور پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں تعلیم کے فرق کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان تعلق کو دیکھنا ضروری ہے۔ نجی یونیورسٹیوں میں طلبہ اور اساتذہ کا تعلق طالبعلم اور استاد والا نہیں ہے۔ نجی یونیورسٹیوں میں تعلیم کو کموڈیفائی(جنس، جسے خریدا اور بیچا جا سکتا ہے) کر دیاجاتا ہے۔ تعلیم جنس نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم پاکستان میں ہائیر ایجوکیشن کی نیو لبرلائزیشن کے نتیجے میں تعلیم ایک جنس بن گئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلبہ اساتذہ کو ٹیوٹر سمجھتے ہیں، لیکن سارے طلبہ ہی ایسے نہیں ہیں، یا ایسا بھی نہیں ہے کہ طالبعلم اور استاد کا تعلق بالکل ہی غائب ہو گیا ہے، لیکن مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو نجی یونیورسٹیوں میں ایسا ہی ہے۔

جن یونیورسٹیوں میں طلبہ بہت زیادہ فیسیں ادا کر کے تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہاں ایک طرف یونیورسٹی انتظامیہ ہے، جو انہیں طالبعلم نہیں بلکہ کسٹمر(گاہک) سمجھتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے میکڈونلڈز، بڑے شاپنگ مالوں یا ریسٹورنٹوں میں گاہک آتے ہیں۔ جس طرح بزنس سٹڈیز کے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ ’کسٹمر از آلویز رائٹ‘(گاہک ہمیشہ درست ہوتا ہے)، اس کاروباری اصول کا یونیورسٹی انتظامیہ بھی پورا خیال رکھتی ہے۔ طالب علم کوئی الٹا سیدھا مطالبہ بھی کرے تو اسے ماننے پر زور دیا جاتا ہے، کیونکہ ’کسٹمر از آلویز رائٹ‘۔

اس طرح طلبہ اور اساتذہ کے درمیان جو ایک نام نہاد روحانی تعلق، یعنی علم کا رشتہ ہونا چاہیے تھا، اس کی جگہ ایک گاہک اور سروس دینے والے کا تعلق بن جاتا ہے۔ اساتذہ ایک سروس دینے والے گروپ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا کام طلبہ کو خوش رکھنا ہوتا ہے، اس کے لیے چاہے انہیں کچھ بھی کرنا پڑے۔ اگر طالبعلم کو گریڈز اچھے نہیں لگ رہے تو ان کے گریڈز بہتر کر دیئے جائیں، چاہے وہ معیار پر پورا اترتا بھی ہے یا نہیں۔ اگر طالبعلم پڑھنے کے موڈ میں نہیں اور وہ کچھ اور کرنا چاہتا ہے تو اس کا خیال رکھا جائے، اسے خوش رکھیں، کسی صورت اسے ناراض نہ ہونے دیں۔ یوں نجی یونیورسٹیوں میں طالبعلم اور استاد کے تعلق کی جگہ کسٹمر اور سروس دینے والے کا تعلق قائم ہو جاتا ہے۔

دوسرا، نجی یونیورسٹیاں غیر جمہوری ہوتی ہیں۔نتیجے کے طور پرفیکلٹی اور نان فیکلٹی سٹاف غیر محفوظ رہتے ہیں۔ انہیں یہ خوف رہتا ہے کہ ان کی نوکری نہ چلی جائے۔ وہ ہر وقت اسٹیبلشمنٹ، یعنی چانسلر اور وائس چانسلر وغیرہ کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا کلچر جنم لیتا ہے جو اکیڈمک لائف کے لیے اچھا نہیں ہے۔ ایک اکیڈمک کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کو روٹی، روزگار کا مسئلہ نہیں ہوگا۔ وہ بے فکر ہو کر اپنی تحقیق کرے، پڑھائے، کھل کر بحثوں اور تحقیقات کو سامنے لائے، یا خود ایسی تحقیق کرے جس سے ملک کو فائدہ ہو اور یونیورسٹی کا اصل مقصد پورا ہو۔

پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں سے موازنہ کر کے اگر اس غیر جمہوری ڈھانچے کو دکھا جائے تو نجی یونیورسٹیوں میں بورڈ آف گورنرز ہوتا ہے۔ اسے کوئی منتخب نہیں کرتا، یہ کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک نام نہاد بورڈ آف گورنرز ہوتا ہے، جس میں بنیادی طور پر اسی کے نامزد کردہ لوگ بیٹھتے ہیں، جس نے پیسہ لگا کر یونیورسٹی بنائی ہوتی ہے۔ فیکلٹی یا نان فیکلٹی سٹاف کی کوئی نمائندگی نہیں ہوگی، نہ ہی طلبہ کی کوئی نمائندگی ہوتی ہے۔

دوسری طرف پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں سینیٹ ہوتی ہے، جس میں ہر پرت کی نمائندگی ہوتی ہے۔ فیکلٹی کے اندر پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر اور لیکچرر کی نمائندگی ہوتی ہے، نان فیکلٹی ممبر کی نمائندگی ہوتی ہے، شہریوں اور حکومت کی نمائندگی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جب یونینیں موجود ہوتی تھیں تو طلبہ کی نمائندگی بھی موجود ہوتی تھی۔

یہ درست ہے کہ اتنے جمہوری ادارے اتنے کوئی جمہوری ادارے وہ بھی نہیں ہیں۔ حکومتیں مداخلت کرتی ہیں اور دیگر طرح کے مسائل بھی ہوتے ہیں۔ تاہم کم از کم کتابی حد تک وہ نجی یونیورسٹیوں سے بہت زیادہ جمہوری ہیں۔ وائس چانسلر کو اپنے تمام اہم پالیسی میکنگ کے فیصلے سینیٹ سے منظور کروانے ہوتے ہیں۔

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کم از کم ہر بڑی پبلک یونیورسٹی میں آپ کو اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنیں دکھائی دیں گی۔ یہ یونین کی طرح کام کرتی ہیں اور ان کی وجہ سے اکیڈمک اسٹاف ایک تحفظ کے ساتھ نوکری کر سکتا ہے۔ عدم تحفظ کا عنصر آپ کی نفسیات کو بہت بری طرح متاثر کرتا ہے۔ جو لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوں گے تو وہ تحقیق اور دانشورانہ کام نہیں کر سکتے۔

تیسرا پہلو طبقاتی نقطہ نظر ہے۔ عام طور پرنجی یونیورسٹیوں میں جانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک امیر گھر سے تعلق رکھتے ہیں، بالائی طبقے سے، یا اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح آپ طبقاتی نفسیات کو انٹرنلائز کرتے ہیں۔ آپ کے اندر احساس برتری پیدا ہوتا ہے۔ آپ کے ارد گرد بھی جو طالبعلم ہیں، ہم جماعت ہیں، یا فیکلٹی ممبر ہیں ان کی اکثریت بھی بالائی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ یوں آپ اپنی کلاس کے اندر یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے ارد گرد طاقتور لوگ ہیں اور آپ خود بھی طاقت کے حامل ہیں، یعنی آپ کے گرد طاقت کا ارتکاز ہے۔

پنجاب یونیورسٹی یا گورنمنٹ کالج ایک وقت میں لاہور کے پریمیئر تعلمی ادارے تھے، لیکن اب نجی یونیورسٹی بالائی طبقے کی علامت ہیں۔ یوں طبقاتی نفسیات لمز اور اس طرح کی نجی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والوں اور پبلک یونیورسٹیوں میں پڑھنے والوں کے مابین تقسیم کو جنم دیتی ہے۔ مثال کے طور پر پشاور یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبہ، جہاں سٹاف کوبروقت تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں، یا پھر شانگلہ یونیورسٹی کے طلبہ، جو مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے سوات یونیورسٹی کے کیمپس میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اب بھی اس کا کوئی ریگولر بجٹ نہیں ہے اور پراجیکٹ کی بنیاد پر یہ کیمپس چلتا ہے۔ اس طرح کی یونیورسٹیوں میں جو طالبعلم پڑھتے ہیں، وہ پہلے سے ہی نام نہاد نواحی علاقوں (پیریفریز) سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی نفسیات پر دہرا اثر پڑتا ہوگا۔ ایک تو طبقاتی اثر ہے، کیونکہ ان علاقوں کے امیر لوگ تو لاہور یا کراچی چلے جائیں گے، لیکن غریب اور متوسط گھرانوں کے طلبہ کو وہیں پڑھنا ہوگا۔ یوں وہ ایک طرف طبقاتی احساس کمتری کا شکار ہوں گے، دوسری طرف اس خطے میں شدید ہوچکی علاقائی عدم مساوات کی نفسیات کو انٹرنلائز کریں گے۔

عام ذہنوں میں یہ بات آتی ہے کہ نجی یونیورسٹیاں اچھی ہوتی ہیں،اور پبلک یونیورسٹیاں معیار میں نجی یونیورسٹیوں سے کم تر ہیں۔ یہ بالکل ایک غیر منطقی بات ہے۔ جب ہم نجی یونیورسٹیوں کی بات کرتے ہیں تو وہی یونیورسٹیاں ذہن میں آتی ہیں، جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ ملک میں مجموعی طور پر 300کے لگ بھگ یونیورسٹیاں ہیں، جن میں سے نصف نجی اور نصف پبلک یونیوسٹیاں ہیں۔ ان میں سے ٹاپ ٹین نجی یونیورسٹیوں کے نام کوئی نہیں بتا سکتا، بعض یونیورسٹیوں کے تو نام ہی اکثر لوگوں نے سنے ہی نہیں ہوئے۔ نجی یونیورسٹی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اچھی یونیورسٹی ہوگی۔ ہمیں معلوم ہے کہ تین چار نام نہاد ایسی یونیورسٹیاں ہیں، جہیں اچھا سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ بھی اچھی یونیورسٹیاں نہیں ہیں۔

یہ تمام تر نام نہاد اچھی یونیورسٹیاں کراچی، لاہور یا کسی حد تک اسلام آباد میں نظر آئیں گی۔ ان شہروں میں امیر لوگوں کی ایک اچھی تعداد رہتی ہے۔ یہاں باآسانی بہتری فیکلٹی بھی مل جاتی ہے اور ایسے طالبعلم بھی مل جاتے ہیں جو نام نہاد اچھی سکولنگ کر کے آئے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں اچھی سکولنگ کا مطلب انگریزی ہی سمجھا جاتا ہے۔

نجی یونیورسٹیوں کے مالکان بھکر میں لمز نہیں کھولیں گے، جیکب آباد میں سکول آف اکنامکس نہیں شروع کریں گے اور نہ ہی تربت میں میڈیکل کالج بنائیں گے۔ یہ لاہورمیں یونیورسٹیاں بنائیں گے، کیونکہ ان کے پیش نظر تعلیم نہیں بلکہ منافع ہے۔ یوں پاکستان کے مجموعی طبقاتی نظام اور مرکزی دھارے اور نواحی علاقوں کی تقسیم کا فائدہ اٹھا کر یہ نام نہاد یونیورسٹیاں کامیاب بن سکی ہیں۔

دوسری بات، یہ یونیورسٹیاں میڈیکل کی تعلیم نہیں دیتیں، انجینئرنگ کی بہت اچھی تعلیم نہیں دیتیں، فلسفہ نہیں پڑھاتیں۔ ایسا اس لیے نہیں کیا جاتا کہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری زیادہ اور منافع کم ہوتا ہے۔ آج بھی پنجاب یونیورسٹی فلسفہ پڑھاتی ہے اور پنجاب کی واحد یونیورسٹی ہے جو فلسفے میں پی ایچ ڈی بھی کرواتی ہے۔ اسی طرح گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں فلسفہ ایم فل تک پڑھایا جاتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی میں فیکلٹی کو بروقت تنخواہیں نہیں ملتیں لیکن وہاں فلسفہ پڑھایا جاتا ہے۔ نجی یونیورسٹیوں میں کم از کم ایم اے اور پی ایچ ڈی سطح تک نہ فلسفہ پڑھایا جاتا ہے اور نہ ہی میڈیکل اور انجینئرنگ پڑھائی جاتی ہے۔ صرف لمز نے انجینئرنگ فیکلٹی شروع کی ہوئی ہے۔

آج بھی بہترین انجینئرز یو ای ٹیز، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ یا پھر اسی طرح کے دیگر پبلک سیکٹر اداروں سے گریجویٹ ہوتے ہیں۔ آج بھی بہترین ڈاکٹر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، ڈاؤ میڈیکل کالج، خیبر میڈیکل کالج، یا بولان میڈیکل کالج سے سامنے آتے ہیں۔ اس لیے یہ جو نفسیات بنی ہوئی ہے کہ نجی یونیورسٹیاں اچھی ہوتی ہیں، یہ تجرباتی طور پر ایک احمقانہ قسیم کی بات ہے، یہ منطقی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔