← Back to Newsroom OS تعلیم

نظام تعلیم نہ تعلیم دے نہ امید تو طلبہ خودکشی ہی کر سکتے ہیں

By جدوجہد • 2026-06-17 • 10 min read

حسن فلک

تین دن پہلے پتہ چلا کہ میرے ساتھ اسلامیہ کالج کے ایچ ایس ٹی ہاسٹل میں ایک سال گزارنے والے ایک طالب علم نے ٹرائبل ہاسٹل کے کمرہ نمبر 29 میں خودکشی کر لی ہے۔ یہ جان کر میں بہت آزردہ ہوا۔ پھر یاد آیا کہ اسی کالج میں پچھلے سال بھی ایک اور طالب علم نے خودکشی کی تھی۔

پھر یاد آیا کہ یہ کالج پختونخوا کے نمائندہ کالجوں میں سے ہے۔ تاریخی اہمیت کے حوالے سے ہو بھی، تعلیم کے حوالے سےبھی۔

پھر مجھے کچھ عرصہ پہلے لاہور یونیورسٹی میں پیش آنے والے اس نوعیت کے دو واقعات یاد آگئے۔ مجھے فوراً اس حقیقت کا ادراک ہو گیا کہ جہاں پوری دنیا میں تعلیمی ادارے محقق، مصنف، سائنسدان، ٹیکنیشن، ادیب، اور مفکر پیدا کر رہے ہیں وہاں وہاں پاکستان میں موجود پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں ذہنی مریض تیار کر رہی ہیں۔

کوئی ہے جو ان یونیورسٹیوں میں جائے اور صورتحال پر نظر ڈالے اور ہمیں بتائے کہ ہمارے تعلیمی ادارے واقعی میں ذہنوں کی تعمیر کر رہے ہیں؟

میرا ماننا تو یہی ہے کہ جس نظام کے اساس میں بحران ہو، اس کا اظہار بالائی ڈھانچے میں کئی طریقوں سے ہوگا جن میں سے ایک خود کشی کے المئے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

یہ جملہ شاید تلخ ہے کہ پاکستان میں تعلیمی ادارے ذہنی مریض پیدا کر رہے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ تلخ وہ حقیقت ہے جو ہر چند ماہ بعد کسی یونیورسٹی کے ہاسٹل، کسی فلیٹ یا کسی کمرے سے خبر بن کر سامنے آتی ہے : ایک طالب علم نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

حسب معمول میڈیا پر چند روز کے لیے تعزیت، افسوس اور بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری ہوتا ہے اور پھر یونیورسٹی کے منتظمین کے بیانات سامنے آ کر چیزیں پرانے معمول پر واپس آجاتی ہیں۔ سوائے اس ایک طالب علم کے جو نظام کے ہتھے چڑھ گیا اور جس کی موت کا ذمہ دار شاید پورا سماج ہوتا ہے۔

پاکستان میں جب طالب علم کالج یا یونیورسٹی میں داخل ہوتا ہے تو اپنے ساتھ معاشی اور سماجی دباؤ لے کر آتا ہے۔ اس کے والدین کی امیدیں، خاندان کی قربانیاں، معاشرے کی توقعات، اور مستقبل میں ذریعہ معاش کا غم، سب اس کے کندھوں پر سوار ہوتے ہیں۔ ہر کوئی اس کو بتاتا ہے کہ اس کی کامیابی کا راز سی-جی-پی-اے کے اندر پوشیدہ ہے اور اگر اس نے اتنے نمبرحاصل نہ کئے تو ناکامی اس کا مقدر ہے وغیرہ وغیرہ۔

اسی وجہ سے سرمایہ دار معیشت کے اندر تعلیم سے لے کر روزگار تک، سب کچھ مقابلہ بازی میں بدل جاتا ہے۔ اور اس کا انسانی ذہن پر اتنا شدید دباؤ ہوتا ہے کہ اگر وقت پر ان مسائل کا حل تلاش نہ کیا جائے تو انجام خودکشی کی صورت میں نکل آتا ہے۔ ایک زمانے میں جب تعلیم کبھی فکری اور عملی سرگرمی ہوتی تھی وہ اب چیٹ-جی-پی-ٹی کے اس دور میں دم توڑ رہی ہے۔

دوسری طرف اس بحران کو مزید سنگین بنانے والی چیز یونیورسٹیوں کا ذہنی مسائل کی طرف غیر سنجیدگی ہے۔

جن یونیورسٹیوں میں کونسلنگ سنٹرز موجود بھی ہیں وہ برائے نام ہی ہیں اور ہاسٹل کے اندر طلبہ کی حالت دن بدن تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔

ہاسٹل کے وارڈن اور یونیورسٹیوں کے منتظمین ان کے تعلیم کی نگرانی تو کرتے ہیں لیکن ان کے ذہنی نشونما پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ اسلامیہ کالج میں دو سال پڑھنے کے بعد میں یقین سے کہتا ہوں کہ وہاں کوئی نہیں ہے۔

ایسے میں اگر طالب علم کسی کونسلنگ سنٹرسے اپنے ذہنی مسائل کے بارے میں بات کرتا ہے تو عموما اس کو بتایا جاتا ہے کہ وہ یا تو نماز باقاعدگی سے نہیں پڑھتا یا پھر وہ قرآن پاک کی تلاوت شروع کردے تو ہی وہ ٹھیک ہوگا۔

مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے سماجی روایات پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہیں۔ دوسری طرف منتظمین تب متحرک ہوتے ہیں جب کوئی طالب علم اپنی زندگی ہار جائے۔ تعزیتی بیانات جاری کیے جاتے ہیں۔ انکوائری کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں اور بہت بڑا کارنامہ ہو جائے تو ذہنی صحت کے حوالے سے دو چند سیمینار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن سوال وہیں کا وہیں کھڑا ہے کہ اگر طلبہ کی ذہنی صحت واقعی انتظامیہ کے لیے اہم ہے تو پھر اس کے لئے مستقل نظام کیوں نہیں ہے؟

یہ کوئی ناقابل حل بحران نہیں ہے۔ ضرورت کے مطابق تمام یونیورسٹیوں میں ذہنی صحت کے لیے کونسلنگ سنٹرزہونے چاہیے۔ طلبہ یونین کو فورا بحال کرنا چاہئے تاکہ طالب علموں کی آواز پالیسی بنانے والوں تک پہنچ سکے اور سب سے بڑھ کر ہمیں ذہنی مسائل کو مذہب کے ترازوں میں تولنے کے بجائے اسے سنجیدگی کے ساتھ بیماری کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے، جس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ ہم یونیورسٹی یا کالج میں صرف پڑھنے نہیں جاتے، بلکہ جینے بھی جاتے ہیں۔ اگر یہ تعلیمی نظام تعلیم دے سکتا ہے مگر جینے کی امید نہیں تو ایسے تعلیمی نظام کا کوئی مستقبل نہیں۔